Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
83 - 144
مسئلہ ۱۳۳۲تا۱۳۳۳: ازخیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے مدرسہ عربیہ قدیم مرسلہ مولوی سید فخر الحسن صاحب ۱۲ذیقعدہ ۱۳۲۶ھ

خطبہ جمعہ واعیاد کا سوائے زبان عربی خواو فارسی ہو یا دیگر زبان ہو پڑھنے کی نسبت جناب مفتی سعداﷲ صاحب مرحوم اپنے فتاوی سعدیہ میں فرماتے ہیں: نزد امام ابوحنیفہ جائز ومکروہ بکراہت تنزیہی است۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی  کے نزدیک یہ جائز مگر مکروہ تنزیہی ہے ۔ (ت)

اور اسی جواب میں اختتام عبارت میں ہے :

اگر کسے خطبہ بقدر واجب کہ نذد صاحبین بقدر تشہد است بعربی اداکردہ باشد خواندن ماورایش درفارسی وغیر آں نزد ایشان مضائقہ ندارد کما فی منح الغفار شرح تنویر الابصار۔

اگر کوئی شخص خطبہ بمقدار واجب جوصاحبین کے نزدیک تشہد کی مقدار عربی میں پڑھ لے اور اس کے علاوہ خطبہ کسی اور زبان میں پڑھ لے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، جیسا کہ منح الغفار شرح تنویر الابصار میں ہے۔(ت)

جناب مولوی عبدالحی صاحب اپنے مجموعہ فتاوی کے جلد دوم میں بہت شد ومد کے ساتھ خطبہ کو عربی زبان عربی میں سنت مؤکدہ اور غیر زبان میں پڑھنے کو مکروہ تحریمی وبدعت ضالہ تحریر فرماتے ہیں، مگر اُسی فتاوٰی کے جلد سوم میں مکروہِ تنزیہی تحریر فرماتے ہیں، لہذا جو خطبہ کُلاًّ غیر زبان  میں ہو یا بعضاً مخلوط بزبان عربی وزبانِ دیگر میں ہو پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور بدعت ضالہ یا مکروہِ تنزیہی یا جائز بلاکراہت ، جو حکم ہو اس سے ہدایت فرمائی جائے ، بینواتو جروا

(۲) خطبہ جمعہ مصنفہ حضرت مخدوم سعد الدین عرف مخدوم شیخ سعد قدس سرہ، خیر اباد ی خلیفہ حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہ اﷲ العزیز جو منسلکہ ہذا ہے منجملہ عبارت خطبہ مذکور کے :

چوں گفتہ حضرت محمد مصطفے صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم بار خدا اگر گلیم برسر کشم کوئی
یایھا المزمل قم الیل الاقلیلا نصفہ
واگر بیروں آرم گوئی
واھجرھم ھجرا جمیلا ،
مراچہ باید کرد فرمان آمد اے توراحت می طلبی وما ازتوسر گردانی میخواہم تومیخواہی کہ بامن حساب حسنات بسر بری بوگوشہ نشینی ومامی خواہم کہ مرا با تو وترا بامن صدہزار گونہ حساب بود تو کیستی کہ خاص جمع میخواہی حکم برانبیا ہائے اولین کردیم بپریشانی ،اگر شادت بینم گویم
ان اﷲ لا یحب الفرحین ۱؎
  واگر دل تنگت بینم گویم
ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون ۲؎
زہے مسرگردانی کہ مشتِ خاک راست کیست کہ دریں، ماتم ومصیت وقوف دارد فریادداز محمد برخاست یالیت رب محمد لم یخلق محمدا وفریاد عاشقاں بریں نوع ست اے کاش نزادے پسرے مادر عالم ÷ خودنہ بدی نام ونشان پدرمن ÷ عاقبت ایں دینائے مکارہ وغدارہ پابستہ نداری کہ سلطانِ مرسلاں ایں معاملہ بودہ است۔ جب حضرت محمد مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نےبار گاہ خداوندی میں عرض کیا اے اﷲ ! اگر میں کملی سر پر لیتا ہوں تو آپ فرماتے ہیں '' اے چادر اوڑھنے والے رات کو تھوڑا قیام کرنصف رات''اگر میں باہر آتا ہوں توآپ فرماتے ہیں،'' ان کو احسن طریقے سے چھوڑدے '' مجھے کیاکرنا چاہئے ؟ا ﷲ تعالٰی  کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے محمد!  آپ راحت کے طلبگار ہیں اور ہم آپ سے محنت وپریشانی چاہتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ میری نیکیوں کا حساب ہو اور گوشہ نشین رہوں، اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم تیرے ساتھ اور آپ میرے ساتھ سوہزار قسم کا حساب رکھیں، آپ کو ن ہیں جو دل کا اطمینان چاہتے ہیں ہم نے تو سابقہ انبیاء کو پریشانی کاحکم دیا اگر میں تجھے خوش دیکھوں گا تو کہوں گا'' یقینا اﷲ تعالٰی  خوش ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا'' اور اگر تیرے دل کو تنگ پاؤں تو کہوں گا '' ہم جانتے ہیں اس بات کو کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہے'' وہ پریشانی کتنی اچھی ہے جو مشت خاک کو حاصل ہوئی ہے کون ہے جو اس معاملہ میں ماتم مصیبت کا اظہار کرے ، محمد کی طرف سے یہ فریاد ہوئی اے رب محمد ! کاش محمد کو پیدا ہی نہ کرتا، عشاق کی فریاد اسی طرح کی ہوتی ہے، کاش اس کائنات میں کوئی ماں بیٹا ہی نہ جنتی، یا خود ،میرے باپ کا نام ونشان تک نہ ہوتا ، اس مکار و غدار دنیا کے پاؤں تو نہیں باند ھ سکتا جبکہ رسولوں کے سربراہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا یہ معاملہ تھا۔ (ت)
  (۱؎ القرآن    ۲۸ /۷۶)   (۲؎ القرآن        ۱۵ /۹۷)
اس عبارت پر ایک صاحب کو جو بنظر حالت زمانہ حال ذی علم خیال کئے جاتے ہیں یہ اعتراض ہے کہ اس عبارت میں اہانت وبے حرمتی حضرت نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہے جو باعثِ تکفیر قاری وسامعین خطبہ ہے کیونکہ اس مضمون کا استنباط نہ کیسی آیتِ قرآنی سے ہے نہ کسی حدیث سے ، یہ اعتراض معترض کا صحیح ہے یا غلط؟ اور اگر غلط ہے تو معترض کے اعتراض کا کیا جواب ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب

خطبہ میں غیر عربی زبان کا خلط کرنا ضرور مکروہ تنزیہی وخلافِ سنت رسول متوارثہ ہے اور بالکل خطبہ غیر عربی زبان میں ہونا اور زیادہ مکروہ کما حققناہ فی فتاوٰنا( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) مگر اسے مکروہ تحریمی وبدعت ضلالت کہنا محض غلط وباطل وبے دلیل ہے واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) یہ خطبہ پڑھنا حرام اور محض بدخواہی عوام الاسلام ہے، یہ مخاطبہ ہائلہ کہ اس میں مذکور ہوا اصلا کسی آیت یاحدیث یا اثر یا کسی کتاب معتمد معتبر میں اس کا پتانہیں، نہ حضرت سید نا مخدوم شیخ سعد بدھن رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے بروجہ صحیح اس کا ثابت  ہونا معلوم اگر ایسی ہی حکایت بے سروپا ہے جب تو اس کا واجب الرد ہونا خود ظاہر،اور اگر خطائے نساخ نہ ہو تو اس کی بے ربطی عبارت خود اس کے بطلان نسبت پر دلیل زاہر مثلاً صدر خطبہ میں
افمن شرح اﷲ صدرہ للاسلام ومن تاب توبۃ نصوحامن التابعین
 ( کیا وہ شخص جس کا سینہ اﷲ تعالٰی  اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور وہ شخص جس نے خالص توبہ کرلی وہ تابعی ہے۔ ت)
خطبہ ثانیہ میں نشھدان محمد اعبدہ ورسولہ خصوصا علی افضل الصحابۃ وافضلھم بالتحقیق
( ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضرت محمد اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں خصوصا صحابہ سے افضل اور بالیقین ان سے صاحبِ فضیلت پر ۔ت) پھر اصل مقصود خطبہ کہ لوگوں کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے یعنی اعمال صالحہ کی ترغیب دینا ، معاصی سے روکنا ، یہ خطبہ اس سے اصلاً بحث نہیں رکھتا بلکہ صراحۃً اس کے خلاف ہے، جب ہر جمعہ جاہل لو گ سنیں گے کہ اﷲ عزوجل فرماچکا ہے کہ ہر کہ گواہی د ہد مرابوحدانیت ومرترابرسالت درآید بہ بہشت برہر کاریکہ اوباشد ( جو میری وحدانیت اور آپ کی رسالت کی گواہی دے دے وہ جنت میں داخل ہوگا اسکے عمل جیسے بھی ہوں) اس کا کیسا برا اثر ان پر پڑے گا وہ سمجھ لیں گے کہ بس کلمہ پڑھ لینا کافی ہے اعمال فضول ومہمل ہیں، پھر عوام کے سامنے یہ تین مصلحات خاصہ صوفیائے کرام مثل قمار بازی وقلندری وچاک دامنی وعیاری کا تذکرہ کس قدر خلاف مقاصد خطبہ ہے اور ان سب سے بدتر اور کروروں درجہ بدتر وہ تذکرہ کہ مصطفی سید المرسلین اکرم الاولین والآخرین صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے خطاب ہو تو کیستی کہ خاطر جمع می خواہی حکم برانبیائے اولین کہ دیم بہ پریشانی ( آپ کون ہیں جو دل کا اطمینان چاہتے ہیں ہم نے تو سابقہ انبیاء کو پریشانی کا حکم دیا ۔ت) اس سے صاف صاف انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم کی معاذ اﷲ حضور پر نورسید یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے افضلیت ٹپکتی ہے،ایسے محاورات میں اعلٰی  ہی سے استشہاد کیا کرتے ہیں ، مثلاً کسی امیر سے کہیں تیری کیا حقیقت ہے سلاطین تو اس سے محفوظ نہ رہے ، اور اگر تنزل بھی کیجئے تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا اگلے انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء سے افضل نہ ہونا تواس کا صاف کہنا ہے یہ کیا گمراہی نہیں، پھر سید عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی طرف راحت کی نسبت ، اور وہ بھی یوں مرضیِ الہٰی  کے خلاف ، اور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی طرف اس فریاد کا انتساب کہ یالیت رب محمد لم یخلق محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (اے ربِ محمد! کاش محمد کو پیدا ہی نہ کرتال،ت) جہال کی نگاہ سے معازاﷲ سقوط عظمت کا باعث ہوگا اور عیاذاً باﷲ یہ عقیدہ ہو تو ایمان ہی گیا کہ ایمان تو صرف ان کی تعظیم و محبت کا نام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی لتؤمنوا باﷲ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ ۱؎۔
اﷲ تعالٰی  نے فرمایا اﷲ تعالٰی  پرایمان لاؤ اوراس کے رسول پر ، اور ان کی خوب تعظیم وتوقیر کرو، (ت)
 (۱؎ القرآن  ۴۸ /۹)
غرض کسی طرح گمان نہیں کیا جاتا کہ حضرت مخدوم قدس سرہ الکریم نے یہ خطبہ تصنیف فرمایا ہو اور اگر بالفرض حضرت ممدوح سے اس کا ثبوت صحیح بروجہ معتمد ہو کہ حضرت نے یہ مخاطبہ کہیں ذکر فرمایا تواب نظر اس میں ہوگی کہ آیا برسبیل نقل وحکایۃ ہے یا بربنائے کشف والہام ، برتقدیر اول جبکہ مدار روایت پر رہا تو مسئلہ علوم ظاہرہ کے دائرہ میں آگیا صحتِ سند درکار ہوگی اور کسی ولی معتمد کا کوئی نا معتمد حکایت کسی سے نقل فرمانا اس کی روایت کو صحیح و واجب الاعتماد نہ کردے گا،
وھذا مااعتذ روابہ عن الامام محمد الغزالی قدس سرہ العالی فی ایرادہ الاحادیث الواھیۃ فی الاحیاء مع جلالۃ قدرہ فی العلوم الظاہرۃ الباطنۃ،
یہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ اہل علم نے امام محمد غزالی کی طرف سے اس بات پر عذر کے طورپر پیش کیا جو انھوں نے باوجود علوم ظاہری وباطنی میں عظیم ماہر ہونے کے اپنی کتاب '' احیاء علوم الدین'' میں احادیث موضوعہ ذکر کی ہیں ،(ت)

مولٰی  بحر العلوم ملک العلماء قدس سرہ، فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں:
 (قیل کثیرا مایوجد عدول فی غیر الائمۃ علم من عادتھم انھم لایروون الاعن عدل) فارسالھم ایضا یقتضی تعدیل من روواعنہم فیکون حجۃ کارساکل الائمۃ فلا فوق  اقول لانسلم وجود العدول بالصفۃ المذکورۃ فی غیرالائمہ ، بل العدول من غیرھم لایبالون عمن أخذ وا و  رووا  ألاتری) ان الشیخ علاء الدولۃ السمنانی قدس سرہ کیف اعتمد علی الرتن الھندی وأی رجل یکون مثلہ فی العدالۃ ( ولو سلم فذلک بزعمھم وکثیرامایخطؤن) فیظنون غیر العدل عدلا ۱؎ ( ملخصاً)
(کہا گیا ہے کہ غیر ائمہ میں جو اکثر عادل پائے جاتے تو ان کے معمول سے معلوم ہے کہ وہ کسی عادل ہی سے روایت کرتے ہیں) لہذا ان کا ارسال بھی ا س کا مقتضی ہے کہ جن سے انھوں نے روایت کی ہے وہ عادل ہیں لہذا ان کی روایت مرسلہ ، ائمہ کے ارسال کی طرح ہی حجت ہوگی اور ان میں کوئی فرق نہ ہوگا (اقول) ہم غیر ائمہ میں صفت مذکورہ کے ساتھ عدل تسلیم نہیں کرسکتے بلکہ غیر ائمہ میں جو عادل ہیں وہ اس بات کی پرواہ نہیں

کرتے کہ وہ کس سے روایت لے رہے ہیں، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شیخ علاؤالدولہ سمنانی قدس سرہ نے رتن ہندی پر کیسے اعتماد کرلیا، حالانکہ ان کی مثل عدالت میں کون ہے؟ ( اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے تو یہ ان کے زعم کے مطابق ہے حالانکہ عام طور پر وہ خطا کرتے ہیں) پس وہ غیر عادل گمان کرلیتے ہیں (ملخصا)(ت)
(۱؂ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی، مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ مطبعۃ امیر قم ایران  ۲/۱۷۵)
مخاطبہ ذکر فرمایا بحمد اﷲ ہم غلامانِ بارگاہِ اولیاء ان میں نہیں کہ کشف والہام باطل یا نا معتبر ٹھہرائیں احتمال خطا کشف مبتدین واوساط میں ہوتا ہے اکا برواصلین نفعنا اﷲ تعالٰی  ببر کاتہم فی الدنیا والآخرۃ والدین کاکشفِ متین والہام مبین حق وصحیح ہوتا ہے، مولٰی  بحر العلوم ملک العلماء قدس سرہ، فواتح میں فرماتے ہیں:
ان تاملت فی مقامات الاولیاء وموجیدھم واذوا قھم کمقامات الشیخ محی الدین وقطب الوقت السیدمحی الملۃ والدین الیسد عبدالقادر الجیلانی الذی قدمہ علی رکا ب کل ولی والشیخ سھل بن عبداﷲ التستری والشیخ ابن مدین المغربی والشیخ ابی یزید البسطامی وسید الطائفۃ جنید البغدادی والشیخ ابی بکر الشبلی والشیخ عبداﷲ الانصاری والشیخ احمد التامقی الجامی وغیرھم قدس اسرارھم علمت ان ما یلھمون بہ لا یتطرق الیہ احتمال وشبہۃ بل ھوحق حق حق مطابق لما فی نفس الا مرویکون مع علی خلق علم ضروری انہ من اﷲ تعالٰی لکن لاینالون ھذا لوعاء من العلم الابالمدد المحمدی و تأییدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا بالذات من غیر وسیلۃ اصلا ۱؎ الی اٰخرما افاد و اجاد علیہ رحمۃ الملک الجواد۔
اگر آپ اولیاء کے مقامات ، وجدان اور اذواق میں غورو فکر کریں مثلاً مقاماتِ شیخ محی الدین ، قطب وقت السید محی الملۃ والدین السید عبدالقادر جیلانی جن کا مبارک قدم ہر ولی کی گردن پر ہے، شیخ سہل بن عبداﷲ تستری، شیخ ابومدین المغربی، شیخ ابویزید بسطامی، سید الطائفہ جنید بغدادی، شیخ ابوبکر شبلی، شیخ عبداﷲ انصاری اور شیخ احمدا لنامقی الجامی وغیرہ تو آپ بالیقین جان لیں گے کہ جو کچھ انھیں الہام کیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا احتمال وشبہ راہ نہیں پاسکتا بلکہ وہ حق حق حق اور نفس الامر کے مطابق ہوتا ہے، اور اس میں انھیں اس بات کا بھی علم یقینی ہوتا کہ یہ اﷲ تعالٰی  ہی کی طرف سے ہے اور وہ یہ علمی مقام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد وتائید سے پاتے ہیں بغیر واسطہ اور وسیلہ کےنہیں پاتے الٰی  آخرہٖ جیسا کہ انھوں نے خوب بیان کیا اور ان پر مالک وجواد اﷲ کی رحمت ہو ۔(ت)
 (۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بزیل المستصفی   ھل کان یجوزلہ علیہ السلام الاجتہاد الخ مطبوعہ مطبعۃ امیر قم ایران    ۲/۳۷۲)
Flag Counter