Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
82 - 144
مسئلہ۱۳۲۹ :از گوالیار ضلع مندسور قصبہ جادو مرسلہ عبدالملک خاں ۷ ربیع الاول شریف۱۳۲۳ ھ

کیا حکم ہے شرع شریف کا اس مسئلہ میں کہ جادو  ایک قصبہ ہے جہاں تین مسجدیں اباد ایک ہی محلہ میں قریب قریب واقع ہیں جمعہ کے روز ہر مسجد والے اپنی اپنی مسجد میں مانند صلٰوۃ خمسہ کے جمعہ پڑھا کر تے ہیں ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس طرح جمعہ پڑھنا صحیح نہیں کیونکہ جمعہ کی شرائط سے حضور سلطان ہے یا نائب یا ماذون باقامۃ جمعہ تو یہ شرط یہاں پر مفقود ہے اور ایسے مقام پر مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک شخص کو اپنا قاضی و سردار بنا کر اس کے پیچھے جمعہ پڑھا کریں، دوسرے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اقامت کے واسطے سلطان یا اس کے نائب مامور کا ہونا شرط نہیں، اگر ان سے ایک بھی نہ ہو تو بھی جمعہ صحیح ہے اور مسلمانوں کو قاضی بنانا اور اُس کے پیچھے نماز پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں اسی طرح اپنی اپنی مسجدوں میں بھی جمعہ پڑھنا کچھ حرج نہیں بلکہ ایک جگہ جمع ہونے میں حرج ہے امید وار قولِ فیصل ہوں ، بینوا توجروا
الجواب

فی الواقع ادائے جمعہ کے لئے سلطان یا اس کا نائب یا ماذون یا ماذون الماذون وھلم جرا ( اسی طرح اگے چلے چلو۔ ت) کا اقامت کرنا باتفاق ائمہ حنفیہ شرط ہے
کتب المذھب طافحۃ بذلک
( کب مذہب اس سے مامور ہیں ۔ت) مگر یہ ان شرائط سے ہے کہ محلِ ضرورت میں بخلفیت بدل ساقط ہوجاتی ہیں جیسے صحت نماز کے لئے وضو شرط ہے اور پانی پر قدرت نہ ہو تو تیمم اس کا خلیفہ وبدل ہے اور اس سے واضح ترا ستقبالِ خطبہ ہے کہ قطعاً شرط ہے اور بحال تعذر جہت تحری اس کی نائب، یوں ہی اقامت سلطان بمعنی مذکور ضرور شرط جمعہ ہے اور یہاں بوجہ تعین مسلمین قائم مقام تعین سلطان ہے تو اسے شرط نہ کہنا بھی غلط اور اس کے نہ ہونے کے سبب یہاں جمعہ صحیح نہ ماننا اس سے زیادہ باطل وغلط اورمذہب صحیح ومعتمد ومفتی بہ میں تعددِ جمعہ مطلقاً جائز ہے ۔
 کما نص فی غیر ماکتاب واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم بالصواب
مسئلہ۱۳۳۰: از پیلی بھیت مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت پنجگانہ وامامت جمعہ وعیدین کا ایک ہی حکم ہے کیا ؟ فقط
الجواب

جمعہ وعیدین وکسوف امامت نماز پنجگانہ سے بہت تنگ تر ہے، پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان صحیح القرائۃ صحیح الطہارۃ مرد عاقل بالغ غیر معذور امامت کرسکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اگر چہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو
تجوز الصلٰوۃ خلف کل بروفاجر
( ہر نیک وبد کے پیچھے نماز جائز ہے۔ت)  کے یہی معنی ہیں مگر جمعہ وعیدین وکسوف میں کوئی امامت نہیں کرسکتا اگر چہ حافظ قاری متقی وغیرہ وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہوکہ بالعموم ان پر استحقاقِ امامت رکھتا ہو یا ایسے امام کا ماذون ومقرر کردہ ہو اور یہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتا ہے :

اوّلاً : وہ سلطانِ اسلام ہو۔

ثانیاً: جہاں سلطنتِ اسلام نہیں وہاں یہ امامتِ عامہ اس شہر کے اعلم علمائے دین کو ہے۔

ثالثاً: جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں، بغیر ان صورتوں کے جو شخص نہ خود ایسا امام نہ ایسے امام کا نائب وماذون ومقرر کردہ اس کی امامت ان نمازوں میں اصلاً صحیح نہیں، اگر امامت کرے گا نماز باطل محض ہوگی، جمعہ کا فرض سرپر رہ جائے گا، ان شہروں میں کہ سلطان اسلام موجود نہیں اور تمام ملک کا ایک عالم پر اتفاق دشوار ہے، اعلم علمائے بلد کہ اُس شہر کے سنی عالموں میں سب سے زیادہ فقیہ ہو نماز کے مثل مسلمانوں کے کاموں میں ان کا امام عام ہے اور بحکم قرآن اُن پر اس کی طرف رجوع اور اس کے ارشاد پر عمل فرض ہے جمعہ وعیدین وکسوف کی امامت وہ خود کرے یا جسے مناسب جانے مقرر کرے، اُس کے خلاف پر عوام بطورِ خود اگر کسی کو امام بنالیں گے صحیح نہ ہوگا کہ عوام کا تقرر بمجبوری اُس حالت میں روارکھا گیا ہے جب امام عام موجود نہ ہو اُس کے ہوتے ہوئے ان کی اقرار داد کوئی چیز نہیں،
 تنویر الابصار و درمختار باب الجمعہ میں ہے:
یشترط لصحتھا سبعۃ اشیاء الاول المصر وفناء والثانی السلطان اومامورہ باقامتھا ۱؎۔
صحت ِجمعہ کے لئے سات  چیزیں شرط ہیں: ایک یہ شہر اور فناء شہر، دوسری سلطان یا اقامت جمعہ پر اس کی طرف سے کوئی مامور ہو(ت)
(۱؎ درمختار    باب الجمعہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۰۹)
فتاوٰی  امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبوعہ مصر جلد اول صفحہ ۲۴۰میں ہے:
اذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامورموکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم ۔۱؎
جب کامل سلطان سے زمانہ خالی ہو تو معاملات علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہے کہ وہ علماء کی طرف رجوع کرے اور اس وقت علماء ہی والی ہوجائیں گے اور جب ان کا کسی معاملہ پرجمع ہونا مشکل ہوجائے تو ہر علاقہ کے لوگ اپنی طرف کے علماء کی اتباع کرلیں، اور اگر اس علاقہ میں علماء زیادہ ہوں تو ان میں زیادہ علم والے کی اتباع کریں اور اگر وہ برابر ہوں توقرعہ ڈال لیا جائے (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریۃ المحمدیۃالنوع الثالث من انواع العلوم الثلثۃ الخ    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/۳۵۱)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
اطیعوا اﷲ واطیعو الرسول واولی الامر منکم۲؎۔
اﷲ کی اطاعت کرو، رسول اﷲ کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو صاحب امر ہیں ،(ت)
(۲؎ القرآن   ۴/۵۹)
ائمہ دین فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ آیہ کریمہ میں اولی الامر سے مراد علمائے دین ہیں
نص علیہ العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب وغیرہ فی غیرہ
( علامہ زرقانی نے شرح المواہب میں اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں اس پر تصریح کی ہے ۔ت)
درمختار میں ہے :
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ۳؎۔
مذکورہ لوگ( سلطان وغیرہ) ہوں تو لوگوں کا خطیب کو مقرر کرنا درست نہ ہوگا اور ان کی عدم موجودگی میں ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا۔(ت)
  (۳؎ درمختار     باب الجمعۃ   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰)
فتاوٰی  قاضی خاں وردالمحتار میں ہے :
خطب بلا اذن الامام والامام حاضر  لم یجز الا ان یکون الامام امرہ بذالک۴؂ ۔واللہ تعالی اعلم
اگر کسی نے امام کی اجازت کے بغیر خطبہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تو یہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب امام نے اسے اجازت دی ہو ۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔(ت)
 (۴؎ ردالمحتار      باب الجمعۃ       مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۵۹۴)
مسئلہ۱۳۳۱  : از ریاست جادرہ مکان عبدالمجید خاں صاحب سر رشتہ دار تاریخ ۱۸  ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ گاؤں میں درست ہے یا نہیں؟
الجواب

جمعہ وعیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ، مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اﷲ ورسول کا نام لے لیں غنیمت
کما فی البحرالرائق والدر المختار میں والحدیقۃ الندیۃ وغیرھا
 ( جیسا کہ بحرالرائق، درمختار اور  حدیقۃ ندیہ  وغیرہ میں ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم ۔
Flag Counter