Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
81 - 144
شرح نقایہ میں کافی سے ہے:
دارالاسلام مایجری فیہ حکم امام المسلمین ۲؎۔
دارالاسلام وہ ہوتا ہے جس میں امام المسلمین کا حکم جاری ہو ۔(ت)
(۲؎ شرح نقایہ المعروف جامع الرموز    کتاب الجہاد مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ، ایران   ۴/ ۵۵۶)
فصول عمادی میں ہے :
ان دارالاسلام لا تصیر دارالحرب اذابقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل الاسلام ۱؎۔
جب احکام اسلامی کچھ نہ کچھ باقی ہوں دارالاسلام دارالحرب نہیں بن سکتا اگر چہ اہل اسلام کا وہاں غلبہ حاصل نہ رہے ۔ (ت)
(۱؎ فصول عمادی)
اسی طرح کتب کثیرہ سے مستفاد ہے:
وبالجملۃ یشترط لدار الاسلام ابتداء اعنی صیرورۃ دارالحرب دارالاسلام جریان حکم سلطان الاسلام فیھا وبقاء مجرد ظہور شعائر الاسلام ولو بعضا وان لم یبق الحکم والاسلطان واﷲ المستعان وعلیہ التکلان ۔
الغرض دارالاسلام ابتداءً بننے کے لئے یہ شرط ہے یعنی دارالحرب کا دارالاسلام بننے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہاں سلطان اسلام کا حکم جاری ہو اور دارالاسلام کو باقی رہنے کے لئے شعائر اسلامی کا باقی رہنا ضروری ہے خواہ وہ کچھ ہی کیوں نہ ہو ں اگر چہ وہاں حکم اور سلطان باقی نہ ہوں اور اﷲ تعالٰی  ہی مددگار ہے اور اسی پر بھروسہ ہے ۔(ت)
درر وغرر میں ہے :
تصیر دارالاسلامی دارالحرب باجراء احکام الشرک واتصال بدارالحرب بحیث لایکون بینہما مصرللمسلمین ۲؎ الخ
دارالاسلام اس وقت دارالحرب بن جاتا ہے جب وہاں احکام شرک جاری ہوجائیں اور اس کا اتصال کسی دارالحرب سے ایسا ہو کہ ان کے درمیان مسلمانوں کا کوئی شہر نہ ہو۔ (ت)
 (۲؎ دررالحکام فی شرح غررالحکام    باب المستامن  مطبوعہ مطبعۃ کامل الکاملیہ فی دارسعادت مصر    ۱/ ۲۹۵)
درمنتقی میں ہے :
البحر المالح ملحق بدارالحرب ۳؎
 ( نمکین سمندر دارالحرب کا حکم رکھتا ہے ۔ت)
 (۳؎ درمنتقی علی ہامش مجمع الانہر   فصل فی مابقی من احکام المستامن  مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱/ ۶۵۹)
ردالمحتار میں ہے :
یلحق بھا البحر الملح ونحوہ کمفارۃ لیس ورائھا بلاد اسلام نقلہ بعضھم عن ا لحموی فی حاشیۃ ابی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم درالحرب ۔۴؎
نمکین سمندر دارالحرب کے ساتھ ملحق ہے، اور ہر وہ جنگل بھی جس سے آگے مسلمانوں کا شہر نہ ہو ، یہ بات بعض نے حموی کے حوالے سے نقل کی ہے اور حاشیہ ابی سعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے ۔ (ت)
 (؂۴ رد المحتار    کتاب الجھاد     باب استیلاء الکفار۔۔الخ    مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت        ۶/ ۲۵۵ )
اس تحقیق سے تمام صورِ مستفسرہ کا حکم واضح ہوگیا جو آبادیاں پر گنہ ہے اور اُن میں کوئی کچہری ہے ( نہ فقط تھانہ یا ڈاک خانہ یا شفا خانہ فصلِ مقدمات کے لئے نہیں ہوتے) اور وہاں سلطنت اسلام ہے یا پہلے تھی اور جب سے غیر مسلم کا قبضہ ہو بعض شعائر اسلام بلامزاحمت اب تک جاری ہیں جیسے تمام بلاد ہندوستان وبنگالہ ایسے ہی ہیں وہ سب اسلامی شہر ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اور جو آبادی پر گنہ ہیں اُس میں کوئی کچہری نہیں یا کچہریاں ہیں پرگنہ ہے مگر اُس میں سلطنت کبھی نہ ہوئی یاتھی مگر اس کے بعد کفار نے شعائر اسلام یکسر بند کردئے گوبعد کو پھر اجازت بھی دے دی ہو، وہ سب یا گاؤں ہیں غیر اسلامی شہر ، اُن میں جمعہ وعیدین جائزنہیں، پڑھنے سے گناہ ہوگا اور جمعہ سے ظہر کافرض ساقط نہ ہوگا ، اب فقط یہ سوال رہا کہ ایک آبادی کے چند حصے ہیں اور اُن میں باہم بوجہ زراعت فاصلہ ہے آیا وہ ایک ہی آبادی متصور ہوگی یا متعدد ؟ ظاہر اً اس سوال سے سائل کا مقصود مردم شماری کا لحاظ ہے کہ ان سب کے ساکنین ملاکر اُس بستی کی مردم شماری سمجھی جائے گی یا جُداجُدا؟ جیسا کہ تمام سوال میں اس نے تعداد ساکنان کا ذکر کیاہے ، مگر تحقیق جواب سے واضح ہوگیا کہ مردم شماری وتعداد سکان پر اصلاً نظر نہیں، جو بستی پر گنہ نہیں اُس میں فیصلہ مقدمات کا کوئی حاکم نہیں مطلقاً گاؤں ہے اس کی مردم شماری کسی قدر ہو، اور جو پرگنہ ہے اس میں کچہری مقرر ہے وہ شہر ہے اگر چہ مردم شماری میں کم ہو، ہاں جو آبادی شرعاً شہر قرار پائے اور اس میں جمعہ فرض صحیح ٹھہرے اور اس کے گرد اور آبادیاں میل ڈیڑھ میل کی مسافت پر واقع ہوں بیچ میں زراعت ہوتی ہوں وہاں ایک یہ سوال متوجہ ہوتا ہے کہ اُن ساکنانِ حوالی پر بھی جمعہ فرض ، اور ان مواضع میں اس کی ادا صحیح ہے یا نہیں؟ اس کا جواب قولِ محقق پر یہ ہے کہ شہرکے گردا گرد جہاں تک کوئی موضع مصالح شہر کے لئے معین کیا گیا ہو مثلاً کیمپ یا عیدگاہ یا شہر کا قبرستان ، وہاں وہ سب فنائے مصر ہے اس میں جمعہ صحیح اور اس کے اہل پر جمعہ فرض اگر چہ بیچ میں زراعت کا فاصلہ ہو اور اگر مصالح شہر سے اسے تعلق نہیں اور بیچ میں فصل ہے تو وہ توابع شہر سے نہیں نہ اُس میں جمعہ صحیح نہ اُس کے ساکنوں پر فرض۔
ردالمحتار میں ہے :
قدنص الائمۃ علی ان الفناء مااعد لدفن الموتٰی وحوائج المصرکرکض الخیل ولدواب وجمع العساکر والخروج للرمی وغیر ذلک ، وبہ ظھر صحتھا فی تکیۃ السلطان سلیم بمرجۃ دمشق وکذافی مسجدہ بصالحیۃ دمشق فانھا من فناء دمشق وان انفصلک عن دمشق بمزارع ۱؎ اھ مختصرا
ائمہ نے تصریح کی ہے کہ فناء سے مراد وہ جگہ ہے جو اموات کی تدفین او رشہری ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلاً گھوڑے اور چارپایوں کے دوڑانے کی جگہ لشکر گاہ اور نشانہ بازی سیکھنے کے لئے جگہ وغیرہ۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مقام مرجہ دمشق میں سلطان سلیم کے تکیہ میں جمعہ صحیح ہے اس طرح مقام صالحیہ دمشق پر ان کی مسجد میں بھی کیونکہ وہ فنائے دمشق ہے اگر چہ دمشق سے کاشتی زمینوں کی وجہ سے الگ ہے ۔ اھ مختصرا (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۹۱)
نیز دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ بستی شہر ہو یا نہ ہو جب اُس کا ساکن تین منزلہ کے ارادے سے سفر کو چلا تو آیا جب اپنی خاص آبادی سے نکل جائے گا اس وقت سے مسافر ٹھہرائے گا اور قصر کرے گا اگر چہ وہ دوسری آبادیاں ہنوز راہ میں آنے والی ہوں یا جب ان سب ابادیوں سے نکل جائے گا اس وقت سے مسافر ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب بیچ میں فاصلہ ہے زراعتیں ہوتی ہیں تو ان سے گزرجانے کا لحاظ نہ ہوگا اگر چہ وہ مصالح شہر ہی کے لئے مقرر کی گئی ہوں، جب اپنی آبادی سے نکل جائے گا مسافر ہوجائے گا، ہاں جہاں تک آبادی متصل چلی گئی ہو وہ موضع واحد ہے اس سے تجاوز ضرور ہوگا،
ردالمحتار میں ہے:
امام الفناء وھوالمکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتی والقاء التراب فان اتصل بالمصرا عتبر مجاوزتہ وان انفصل بغلوۃ اومزرعۃ مجاوزتہ وان انفصل بغلوۃ اومزرعۃ فلا کما یاتی بخلاف الجمعۃ فتصح اقامتھا فی الفناء ولو منفصلا بمزارع ۲؎ ۔
فناء وہ جگہ ہے جو شہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلاً چوپایوں کے دوڑنے ، اموات کی تدفین اور مٹی وغیرہ پھینکنے کےلئے ہو اگر شہر کے ساتھ متصل ہو، تو پھر مسافر کا اسی سے گزر جانا معتبر ہے اور اگر بمقدار غلوۃ( تیرمارنے کا انتہائی فاصلہ) یا مزرعہ ( کھیت) جدا ہے تواس کا گزرنا ضروری نہیں جیسا کہ آرہا ہے بخلاف جمعہ کے اس کا قیام فناء میں جائز ہوتا ہے خواہ وہ مزارع کی مقدار جدا ہو ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ المسافر      ۱/۵۷۸)
نیز تیسرا سوال یہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ فلاں آبادی میں نہ رہوں گا پھر اپنی خاص آبادی جس میں رہتا تھا چھوڑ کر گرد کی کسی آبادی میں سکونت اختیار کی تو آیا قسم سچی ہوئی یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اُن آبادیوں کے خاص خاص نام جدا ہیں اور سب ملاکر ایک جدا نام سے تعبیر کی جاتی ہیں تو اگر اس نے وہ نام لے کر قسم کھائی جو خاص اس کی آبادی کا تھا اور اُسے چھوڑ کر دوسری آبادی میں جارہا جس پر وہ نام اطلاق نہیں کیا جاتا اور اس کا ساکن عرف میں اُس آبادی کا ساکن نہیں ٹھہرتاتو قسم پُوری ہوئی اور اگر وہ نام لیا تھا جس میں یہ سب داخل ہیں جس ابادی میں اب آیا وہ اسی پہلی آبادی کا حصہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے ساکن کو اُسی کا ساکن تصور کیا جاتا ہے تو قسم پوری نہ ہوئی کفارہ دے۔
وذلک لان مبنی الایمان علی المعنی المتفاھم فی العرف فعلیہ یدارالحکم ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم
یہ اس لئے ہے کہ اقسام کا مدار اس معنی پر ہوتا ہے جو عرفی ہولہذا حکم کا مدرار اسی پر ہوگا ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم ۔ (ت)
Flag Counter