Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
80 - 144
مسئلہ ۱۳۲۸: از مدرسہ اسلامیہ امروہہ مرسلہ مولوی عبدالشکور صاحب ارکانی     ۱۳محرم ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بستی میں قریب تین چار سو مسلمان مرد مکلف اور اُس کےقریب قریب بھی اتنے مرد مقیم ہیں اُس بستی میں منصفی تھانہ ڈاک خانہ شفاخانہ بازار بھی ہیں اب یہ مصر ہے یا قریہ؟ اس بستی والے پر جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب نہیں تو یہاں جمعہ ادا کرنے سے صلٰوۃظہر ذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں؟ ہمارے ملک برہما کی آبادی میں کہیں کہیں تومسلمان مرد مکلف ہزار دوہزار تلک مقیم ہیں ایسی بستی کم ہے اور ادنٰی  درجے میں بعض بستیوں میں دس بیس مرد مسلمان مکلف مقیم ہیں البتہ جن بستیوں میں سو دوسو چار پانچ سو مرد مکلف ہیں بہت ساری ہیں بعض بسیتوں میں سات آٹھ سو مکلف مقیم ہیں، اب ان آبادیوں میں سے کوئی شہر کہلا سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر سب کو گاؤں مانیں گے تو کوئی بڑے گاؤں میں بھی جمعہ اورعیدین فرض یا واجب ہے یا نہیں؟ اور اگر واجب نہیں تو ان بستیوں میں سے کسی میں جمعہ ادا کرے تو صلٰوۃ ظہرذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں؟ اگر آپ بڑے گاؤں میں جمعہ درست بتائیں تو ان بستیوں میں کون سی بستی بڑی کہلائے گی؟ اس کی تشریح فرمادیں، جن آبادیوں میں کئی ایک حصے ہیں فقط زراعت وغیرہ کی میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک دوسرے سے بسا ہے ہر ایک کانام بھی آپس میں جداگانہ ہے مگر اطراف میں ایک ہی نام مشہور ہے اب کیا سب کو ملا کر ایک بڑی بستی ماننا پڑے گی یا ہر ایک کا حکم جداگانہ ہے حتی الامکان جواب مفصل اور مدلّل سے ہم نابیناؤں کو ہدایت فرمائیں۔
الجواب

فرضیت وصحت وجوازِ جمعہ سب کے لئے اسلامی شہر ہونا شرط ہے ، جوجگہ بستی نہیں جیسے بَن سمندر یا پہاڑ ، یا بستی ہے مگر شہر نہیں جیسے دیہات، یا شہر ہے مگر اسلامی نہیں جیسے روس فرانس کے بلاد ، اُن میں جمعہ فرض ہے نہ صحیح نہ جائز بلکہ ممنوع وباطل وگناہ ہے اس کے پڑھنے سے فرض ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا ، شہر ہونے کے لئے یہ چاہئے کہ اس میں متعدد کوچے متعدد دائمی بازار ہوں، وہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں کہ موضع فلاں فلاں وفلاں پرگنہ شہر فلاں اور اُس میں کوئی حاکم یا فیصلہ مقدمات کا اختیار من جانب سلطنت رکھتا ہو دونوں باتیں عادۃً متلازم ہیں سلطنت جسے پر گنہ قرار دیتی ہے ضرور اس میں کوئی حاکم لااقل منصف یا تحصیلدار رکھتی ہے اور جہاں سلطنت کوئی کچہری قائم کرتی ہے اسے ضرور ضلع یا کم از کم پرگنہ بتاتی ہے اور عادۃً پہلی دو باتیں بھی ان دو کو لازم ہیں، جو پر گنہ ہوتا ہے جہاں کچہری مقرر ہوتی ہے وہاں ضرور متعدد بازار متعدد کوچے ہوتے ہیں،
ولاعکس فقد تتعدد ولاحاکم ولا رساتیق فذکر الاولین لایغنی عن الاخیرین بخلاف الاخیرین ففیھما الکفایۃ ولذا انما بنی الامر علیھما فی اقرب الاقاویل الی الصواب۔
اس کا عکس نہیں ( یعنی جہاں بازار ہوں وہاں کچہری کا ہونا ضروری نہیں ) اور کبھی کوچے بازار متعدد ہوتے ہیں مگر حاکم اور متعلقہ دیہات نہیں ہوتے تو پہلے دو کاذکرآخری دو کے ذکر سے کفایت نہیں کرتا برخلاف آخری دونوں کا ذکر وہ کفایت کرتا ہے اسی لئے صحت کے قریب ترین قول میں معاملہ کی بنا ان دونوں پر کی گئی ہے ۔(ت)
فتاوٰی  غیاثیہ پھر غنیہ شرح منیہ میں ہے:
لوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع و القریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال حاکم جازت الجمعۃ بنواالمسجد اولم یبنوا و ھوقول ابی القاسم الصفار وھذا اقرب الاقاویل الی الصواب ۱؎۔
اگر جمعہ بغیر جامع مسجد کے قریہ میں پڑھ لیا حالانکہ وہ قریہ بڑا تھا او راس کے اردگرد متعدد دیہات تھے اور وہاں والی وحاکم بھی تھا تو جمعہ جائز ہے خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں، شیخ ابوالقاسم الصفا ر کا یہی قول ہے اور یہ تمام اقوال میں سے صواب کے زیادہ قریب ہے ۔ (ت)
 (۱؎ غنیہ المستملی        فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۱)
غنیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا:
وھو لیس ببعید مماقبلہ والمسجد الجامع لیس بشرط۲؎ انتھی واراد بما قبلہ ما قدم عن تحفۃ الفقھاء للامام علاء الدین السمرقندی عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال قال فی التحفۃ ھذا ھو الاصح ۳؎ اھ
یہ قول اپنے ماقبل قول سے دور نہیں اور مسجد جامع ہونا جمعہ کے لئے شرط نہیں انتہی اور ماقبل قول سے وہی مراد ہے جو امام علاء الدین سمرقندی نے تحفۃا لفقہاء میں امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے حوالے سے لکھا کہ وہ مقام شہر ہے جو نہایت بڑا ہو، اس میں کوچے بازار ہوں او راس سے متعلقہ دیہات ہوں او راس میں کوئی والی ہو، تحفہ میں کہا یہی اصح ہے اھ
 (۲؎ غنیہ المستملی   فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۱)

(۳؎ غنیہ المستملی  فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۰)
وانما لم یکن بعیدامنہ لما قدمنا ان السکک والا سواق تلزم عادۃ للامرین المذکورین کما قال فی الغنیۃ ایضا بعد نقل مافی التحفۃ ، الاان صاحب الھدایۃ ترک ذکر السکک والرسایتق بناء علی الغالب ان الامیر والقاضی شانہ القدرۃ علی تنفیذ الاحکام واقامۃ الحدود ولایکون الا فی بلدکذلک قال فالحاصل ان اصح الحدود ماذکر فی التحفۃ لصدقہ علی مکۃ والمدینۃ و ھما الاصل فی اعتبار المصریۃ۱؎اھ
اس قول کی ماقبل قول سے بعید نہ ہونے کی وجہ  یہ ہے کہ عادۃً کوچے اوربازار مذکورہ دونوں امور کو لازم ہوتے ہیں جیسا کہ غنیہ میں بھی قنیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد کہا البتہ صاحب ہدایہ نے کوچے اور دیہات کے ذکرکو ترک کردیا اس بناء پر کہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ امیر اور قاضی جو احکام کے نفاذ اور اقامتِ حدود کی شان رکھتے ہیں وہ اسی طرح کے شہر میں ہی ہوتے ہیں پھر کہا اصح تعریف وہی ہے جو تحفہ میں ہے کیونکہ مکۃ المکرمہ اورمدینہ طیبہ میں سے ہر ایک پر صادق آرہی ہے اور وہ دونوں شہر کے حوالے سے اصل کا درجہ رکھتے ہیں اھ (ت)
 (۱؂غنیۃ المستملی فصل فی صلوۃ الجمعۃ      مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور 	ص۵۵۱)
اور شہر کے اسلامی ہونے کے لئے یہ ضرور ہے کہ یا تو فی الحال اُس میں سلطنت اسلام ہو خود مختار ، جیسے بحمد اﷲ تعالٰی  سلطنت علیہ عالیہ عثمانیہ ودولت خداد اد افغانستان حفظہما اﷲ تعالٰی  عن شہر ورالزمان یا کسی سلطنت کفر کی تابع جیسے اب چند روز سے سلطنت بخارا ، وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ( ہمیں اﷲ تعالٰی  کافی ہے اور وہی سب سے بہتر کارساز ہے ۔ ت) اور اگر فی الحال نہ ہو تو دو باتیں ضرور ہیں : ایک یہ کہ پہلے اُس میں سلطنت اسلامی رہی ہو ، دوسرے یہ کہ جب سے قبضہ کافر میں آئی شعارِاسلام مثل جمعہ وجماعت واذان وقامت وغیرہا کلاًّ یا بعضا برابر اُس میں اب تک جاری رہی ہوں جہاں سلطنت اسلامی کبھی نہ تھی نہ اب ہے وہ اسلامی شہر نہیں ہوسکتے نہ وہاں جمعہ وعیدین جائز ہوں اگر چہ وہاں کے کافر سلاطین شعائر اسلامیہ کونہ روکتے ہوں اگر چہ وہاں مساجد بکثرت ہوں اذان واقامت جماعت علی الاعلان ہوتی ہو اگر چہ عوام اپنے جہل کے باعث جمعہ و عیدین بلامزاحمت اداکرتے ہوں جیسے کہ روس فرانس وجرمن وپرتگال وغیرہا اکثر بلکہ شاید کل سلطنت ہائے یورپ کا یہی حال ہے ،یونہی اگر پہلے سلطنت اسلامی تھی پھر کافر نے غلبہ کیا اور شعائر کفر جاری کر کے تمام شعائر اسلام یکسر اٹھا دئے تو اب وہ شہر بھی اسلامی نہ رہے اور جب تک پھر از سر نو ان میں سلطنت اسلامی نہ ہو وہاں جمعہ و عیدین جائز نہیں ہوسکتے اگر چہ کفار غلبہ یا فتہ ممانعت کے بعد پھر بطور خود شعائر اسلام کی اجازت دے دیں خواہ اُن کافروں سے دوسرے کافر چھین کراجرائے شعائر اسلام کردیں کہ کوئی غیر اسلامی شہر مجرد جریان شعائر اسلام سے اسلامی نہیں ہوجاتا، ہاں اگر اسلامی سلطنت کے کسی کافر صوبہ نے بغاوت کرکے کسی اسلامی شہر پر تسلط کیا اور شعائر اسلام بالکل اٹھا دئیے مگر وہ صوبہ سے سلطنت اسلامیہ میں محصور ہے تو وہ شہر شہر اسلامی ہی رہے گا کہ اگر چہ کافرنے شعائر اسلام یکسر اٹھادئے مگر چارسمت سے سلطنت اسلامیہ میں محصور ہونے کے اُ س کی یہ تاریک حالت محض عارضی ہے۔
وھذہ بحمدہ تعالٰی  فوائد نفیسۃ سمح بھا البراع لو استرسلنا فی الکلام علی  دلیلھا و تفاصیلھا لخرجنا عن القصد مع ان اکثرھا جلیلۃ عند من لہ اجالۃ نظر فی الکتب الفرعیۃ واجادۃ فکر فی الاصول الشرعیۃ فلنقتصر علی نقل بعض نصوص فقھیۃ۔
بحمد اﷲ تعالی  یہ نہایت ہی قیمتی فوائد ہیں جسے ہر صاحب فہم عزت کی نظر سے دیکھے گا اور اگر دلائل اور تفاصیل میں جائیں تو مقصود سے دور چلے جائیں گے ۔علاوہ ازیں ان لوگوں پر آشکار ہیں جو کتب نفیسہ میں نظر اور اصوال شرعیہ میں عمدہ فکر رکھتے ہیں ہم، یہاں چند مخصوص فقہیہ کے نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔(ت)
جامع الفصولین ومبسوط ومعراج الدرایہ وہندیہ وردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے :
الحکم اذا ثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ فلما صارت بلدۃ دارالاسلام باجراء احکامہ فما بقی شیئ من احکام و اثارہ تبقی دارالاسلام وکل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیھم واماطاعۃ الکفرۃ فھی موادعۃ ومخادعۃ واما فی بلاد علیھا ولادۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد ۱؎ الخ
جب کوئی حکم کسی علت کی بناء پر ہوتو جب تک علت رہتی ہے حکم بھی باقی رہے گا تو جب کوئی شہر احکام اسلامی کے اجراء سے دارالاسلام بن گیا تو جب تک احکام و آثار میں سے کچھ نہ کچھ باقی ہوگا وہ شہر دارالاسلام ہی رہے گا اور ہروہ شہر جس میں کفار کی طرف سے مسلمان والی ہو وہاں جمعہ اور عیدین کا قیام ، خراج لینا، قضا کے نفاذ اور بیوگان کا نکاح جائز ہوگا کیونکہ وہاں مسلمان غالب ہیں لیکن کفا ر کی طاعت غلط اور دھوکا ہے  وہ نشہرجہاں کفار والی ہیں وہاں جمعہ اور عیدوں کا قیام مسلمانوں کے لئے جائز ہے الخ (ت)
 (۱؎ جامع الفصولین        فصل فی القضاء        مطبوعہ اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۱۳)
Flag Counter