من ھو مقیم بالمدینۃ لا یبلغ قدر الحاجۃ وعند اجتماع جملتھم یشاھد اتساع المسجد الشریف فی اطرافہ، وانما شدۃ الزحام فی الروضۃ الشریفۃ وماقاربھا للرغبۃ فی زیادۃ الفضل والقرب من المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کذا فی الشرح ۱؎
جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں ان کی تعداد جمعہ کے لئے مذکورہ ضرورت کو پورا نہیں کرتی تمام اہل مدینہ کے اجتماع کے باوجود مسجد نبوی شریف کی اطراف کو خالی دیکھا جاتا ہے ، ریاض الجنۃ اور اس کے آس پاس کی جگہ پر لوگوں کا ازدحام اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے مصطفٰی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قرب اور مزید فضل نصیب ہوتا ہے، اسی طرح شرح میں ہے ،(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح با ب الاستسقاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۰۱)
غنیہ میں ہے:
الفصل فی ذلک ان مکۃ والمدینۃ مصر ان تقام بھما الجمع من زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیر لا یصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی التعریف الذی اختارہ جماعۃ من المتأ خرین کصاحب المختار روالو قایۃ وغیرھما وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم فانہ منقوض بھما اذا مسجد کل منھما یسع اھلہ وزیادۃ ۲؎۔
فیصلہ اس میں یہ ہے کہ مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہر ی حیات سے لے کرآج تک جمعہ ادا کیا جاتا ہے تو ہر وہ مقام جوان دونوں میں سے کسی ایک کی طرح ہوگا وہ شہر کہلائے گا اور جو تعریف شہر ان دونوں میں سے کسی ایک پر صادق نہ آئے گی وہ غیر معتبر ہوگی حتی کہ وہ تعریف جیسے متاخرین کی ایک جماعت مثلاً صاحب مختار او رصاحب وقایہ وغیرہ نے اختیار کی کہ ( ہر مقام شہر ہوگا)''اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے لوگ جمع ہوجائیں او رمسجد میں ان کے لئے گنجائش نہ رہے '' ان دونوں مکہ ومدینہ کی وجہ سے محل اعتراض ہیں کیونکہ ان کی مساجد وہاں کے مقیم بلکہ اس سے زائد لوگوں کی گنجائش رکھتی ہیں ۔(ت)
(۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰)
لاجرم علمانے تصریح کی فرمائی کہ یہ تعریف محققین کے نزدیک صحیح نہیں ۔
ملتقی الابحر میں ہے :
وقیل مالواجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم ۱؎۔
بعض نے شہر کی یہ تعریف ہے کہ وہاں کے تمام لوگ اگر جمع ہوں تو وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے کافی نہیں۔ (ت)
(۱؎ ملتقی الابحر باب الجمعۃ مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱/۱۴۳)
مجمع الانہر میں ہے :
انما اورد بصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین ۲؎۔
''قیل'' لایا گیا ہے اس لئے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی لابحر باب الجمعۃ مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱ /۱۴۳)
اسی طرح شرح نقایہ وغیرہ میں ہے معہذا معلوم ہے او رخود اس تعریف کے اختیار کرنے والوں کو اقرار ہے کہ وہ روایت نادرہ خلاف ظاہر الروایۃ ہے اور علما تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہرا لروایہ کے خلاف ہے وہ ہمارے ائمہ کا قول نہیں وہ سب مرجوع عنہ اور متروک ہے ،
بحر الرائق میں ہے :
ماخرج عن ظاھر الرویۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۳؎ ۔ ملخصا
جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ امام کا قول نہیں رہے گا ۔ملخصاً (ت)
(۳؎ بحرالرائق فصل یجوز تقلید من شاء الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۷۰)
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
صرحوابہ ان ماخرج عن ظاھرالروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ ولا قولا لہ ۴؎۔
فقہا ءنے تصریح کی ہے کہ جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ نہ امام صاحب کا مذہب ہوتا ہے اور نہ قول (ت)
(۴؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ /۵۲)
ردالمحتارمیں ہے :
ما خلف ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا ۵؎۔
جو ظاہر الروایہ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب ( احناف) کا مذہب نہیں ہوتا ۔(ت)
(۵؎ ردالمحتار کتاب احیاء الموات مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۸)
تو ظاہر الروایہ مصح معتمد معمول علیہ مختار جمہور مؤید ومنصور کے خلاف ایک روایت نادرہ پر عمل وفتوی کیونکر روا۔
درمختار میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۱؎۔
جو قول مرجوح ہو اس پر حکم وفتوی جاری کرنا جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقو وجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھر الروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول الموجوع عنہ ۲؎انتھی ح۔
جیسا کہ امام ابویوسف کے قول کے موجودگی میں امام محمد کے اس قول پرفتوی جائز نہیں جس کی تصحیح نہ ہوئی ہو یا اس قول کی وجہ قوی نہ ہو اور اس کی نسبت ظاہر روایت کے خلاف فتوٰی دینا اور بھی باطل ہے جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ ہو اور یوں ہی اس قول پرجس سے رجوع کرلیا گیا ہو فتوٰی ناجائز ہے انتہٰی ، ح ۔(ت)
یہ تحقیق مسئلہ ہے اور بحمد اﷲ اہل انصاف وعلم صاف جانیں گے کہ حق اس سے متجاوز نہیں، ہم نہ اس کے خلاف عمل کرسکتے ہیں نہ زنہار زنہار مذہب ائمہ چھوڑ کر دوسری پر فتوٰی دے سکتے ہیں مگر دربارہ عوام فقیر کا طریق عمل یہ ہے کہ ابتداءً خود انھیں منع نہیں کرتا نہ انھیں نماز سے باز رکھنے کی کوشش پسند رکھتا ہے ایک روایت پر صحت ان کے لئے بس ہے، وہ جس طرح خدا اوررسول کا نامِ پاک لیں غنیمت ہے ، مشاہدہ ہے کہ اس سے روکیے تو وہ وقتی چھوڑ بیٹھتے ہیں، اﷲ عز وجل فرماتا ہے:
ارأیت الذی ینھٰی o عبدا اذا اصلٰی ۳؎ o
کیا تم نے اسے نہیں دیکھا جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز ادا کرتا ہے۔(ت )
(۳؎ القرآن ۹۶/۱۰)
سید نا ابوداؤد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
شیئ خیر من لا شیئ ۴؎۔
(کچھ ہونا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے)
(۴؎ کنز العمال ذیل ادب الصلٰوۃ حدیث ۲۲۵۵۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث بیروت ۸ /۲۰۲)
حضرت ابوداؤد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیاکہ آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نہ نماز کا رکوع صحیح اداکررہا تھا نہ سجود، تو آپ نے فرمایا: کچھ ہونا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہوتا ہے۔(ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ عبدالرزاق ذیل الصلٰوۃ حدیث ۲۲۵۵۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث ۸/ ۲۰۲)
امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے ایک شخص کو بعد نماز عید نفل پڑھتے دیکھا حالانکہ بعد عید نفل مکروہ ہیں، کسی نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! آپ نہیں منع کرتے ۔ فرمایا:
اخاف ان ادخل تحت الوعید قال اﷲ تعالٰی ارأیت الذی ینھی o عبداً اذا صلّٰی o۲؎۔ ذکرہ فی الدرالمختار۔
میں وعید میں داخل ہونے سے ڈرتا ہوں، اﷲ تعالٰی فرماتاہے: کیاتونے اسے نہیں دیکھا جو منع کرتا ہے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے، اسے درمختار میں ذکر کیا گیا۔
(۲؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۵)
اُسی سے بحرالرائق میں ہے :
(ھذاللخواص) اما العوام فلا یمنعون من تکبیر ولاتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات۳؎۔
یہ خواص کامعاملہ ہے، باقی عوام کو تکبیرات کہنے اور نوافل پڑھنے سے بالکل منع نہیں کیا کرتے، کیونکہ انھیں نیکیوں کا بہت کم شوق ہوتاہے ۔(ت)
(۳؎ بحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۶۰)
کتاب التجنیس والمزید پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
سئل شمس الائمۃ الحلوانی ان کسالی العوام یصلون الفجر عند طلوع الشمس افتز جرھم عن ذلک قال لا لانھم اذامنعوا عن ذلک ترکوھا اصلا واداؤھا مع تجویز اھل الحدیث لھا اولی من ترکھا اصلا ۴؎۔
شمس الائمہ حلوانی سے سوال ہوا کہ عوام سستی کرتے ہوئے طلوع شمس کے وقت نماز فجر ادا کرتے ہیں کیا ہم انھیں زجرو توبیخ کریں؟ فرمایا: ایسا نہ کرو کیونکہ اگر تم اس سے ان کو روکو گے تو نماز بالکل ترک کردیں گے نمازکا ادا کرلینا چھوڑ دینے سے بہتر ہے اور محدثین اسے جائز بھی سمجھتے ہیں۔ (ت)
(۴؎ بحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۶۰)
درمختارمیں ہے :
لایجوز صلٰوۃ مطلقا مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترک کما فی القنیۃ وغیرھا ۱؎ ۔ ( ملخصاً)
طلوعِ آفتاب کے وقت کوئی نماز جائز نہیں مگر عوام کو نماز پڑھنے سے فقہا ءنے نہیں روکا ورنہ وہ بالکل ترک کردیں گے، ہر وہ عمل جس کی ادا بعض کے نزدیک جائز ہو اس کا بجا لانا ترک سے بہتر ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے ۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فلا یمنعون افادان المستثنی المنع لا الحکم بعدم الصحۃ عند نا قولہ کما فی القنیۃ وعزاہ صاحب المصفی الی الامام حمید الدین عن شیخہ الامام المحبوبی والی شمس الائمۃ الحلوانی وعزاہ فی القنیۃ الی الحلوانی والنسفی ۲؎ ۔(ملخصاً)
قولہ '' عوام کو منع نہ کیا جائے '' بتلا رہا ہے کہ استثناء ''نہ روکنے کا '' ہے نہ یہ کہ ہمارے نزدیک عدم صحت کا حکم نہیں ہے قولہ '' جیسا کہ قنیہ میں ہے'' صاحب مصفی نے اس کی نسبت امام حمید الدین کی طرف کی ہے ا ورنھوں نے اپنے شیخ امام محبوبی سے بیا ن کیاہے اور اس کی نسبت شمس الائمہ حلوانی کی طرف کی ہے اور قنیہ میں اس کی نسبت حلوانی اور نسفی دونوں کی طرف کی ہے ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب 0الصلوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۷۳)
ہاں جب سوال کیا جائے تو جواب میں وہی کہا جائے گا جوا پنا مذہب ہے وﷲ الحمدیہ عوام کالانعام کے لئے ہے البتہ وہ عالم کہلانے والے کہ مذہب امام بلکہ مذہب جملہ ائمہ حنفیہ کو پس پشت ڈالتے تصحیحات جماہیر ائمہ ترجیح وفتوی کو پیٹھ دیتے اور ایک روایت نادرہ مرجوعہ عنہا غیر صحیح کی بنا پر ان جہال کوردہ میں جمعہ قائم کرنے کا فتوی دیتے ہیں یہ ضرور مخالفتِ مذہب کے مرتکب او ران جہلا ءکے گناہ کے ذمہ دار ہیں
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
( ہم اﷲ تعالٰی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم