Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
78 - 144
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
فی تحفۃ الفقہاء عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھو الاصح ۱؎۔
تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی ہے شہر وہ ہوگا جو بڑا ہو اس میں سڑکیں ، بازار ، سرائے ہوں وہاں کوئی ایسا والی ہو جو اپنے دبدبہ ، اپنے علم یا غیر کے علم کی وجہ سے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلاسکیں، حوادثات میں لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے ۔(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ الصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۵۰)
ہاں اتنا ضرور ہے کہ جمعہ اسلامی حکم ہے اس کے لئے اسلامی شہر کا ہو نا ضروری ہے ولہذا دارالحرب میں اصلاً جمعہ نہیں اگر چہ کتنے ہی بڑے امصار عظام کبار ہوں جس میں دس دس لاکھ آدمیوں کی آبادی ہو، نہ اس وجہ سے کہ وہ شرعاً شہر نہیں، اصطلاحِ شرع میں وہ گاؤں ہیں، حاشایہ محض غلط ہے قیامت تک کوئی ثبوت نہیں دے سکتا کہ شرع مطہر نے کفار کے امصار کبار کو مصر و مدینہ سے خارج اور دِہ گاؤں بتایا ہو اس بنا پرکہ وہاں اقامتِ حدود وتنفیذِ احکام شرع نہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی مکمہ معظمہ بلکہ تمام دنیا میں جیسا کہ کفر و کا فرین کا تسلط وغلبہ تھا ظاہر وعیاں ہے اور اکثر مرسلین کرام اصحاب شرائع جدیدہ علیہم الصلٰوۃ والسلام ایسے ہی شہروں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں کے ساکن ہوکر انھیں پر مبعوث ہوتے اب کیا معاذ اﷲ یہ کہا جائے گا کہ شرعاً یہ مرسلین صلوات اﷲ تعالٰی  وسلامہ علیہم اجمعین دیہاتی تھے حالانکہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
واما ارسلنا من قبلک الارجالا نوحی الیھم من اھل القری ۲؎۔
ہم نےتم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد اور شہر ی  ہی تہے۔
(۲؂ القرآن         ۱۲/ ۱۰۹)
ان میں کوئی عورت نہ تھی نہ کو ئی گنوار بھی خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت  غلبہ کفار کے سبب مکہ معظمہ سے ہجرت کی ضرورت ہوئی اس وقت بھی قرآن عظیم نے مکہ مکرمہ کو شہر ہی فرمایا
وکاین من قریۃ ھی اشدقوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلا ناصر لھم ۳؎ ۔
بہتیرےشہرکو تمھارے اس شہر سے جس نے تم کو نکالا زیادہ قوت والے تھے ہم نے ہلاک کردئے تو ان کا کوئی مدد گار نہیں،
(۳؎ القرآن      ۴۷/ ۱۳)

بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ دارالحرب کے شہر کفر کے شہر ہیں اور اقامت جمعہ کو اسلامیہ شہر درکار ، اسی طرف نظرکرم فرماکر کلام قدماء میں جبکہ اسلام کا دوردورہ تھا اور اسلامی شہر اسلامی احکام کے پابند تھے
لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود
( وہاں کوئی امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ اور جاری کر سکے۔ت) واقع ہو اس سے مقصود وہی تھا کہ اسلامی شہر کہ اُس وقت اسلامی شہر ایسے ہی ہوتے تھے، یہ معنی نہ تھے کہ تنفیذ احکام واقامت حدود سنخ حقیقت شہر میں داخل ہے، یہ نہ ہو شہرشرعاً شہر ہی نہ رہے گا گاؤں ہو جائے گا حالانکہ فتنہ بلوائیان مصر میں خاص زمانہ خلافت راشدہ میں چند روز تنفید احکام نہ ہوئی کیا اُس وقت مدینہ طیبہ گاؤں ہوگیا تھا اور اس میں جمعہ پڑھنا حرام باطل ہوا تھا؟ حاشا ہر گز ایسا نہیں ، خودیہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایام فتنہ میں اقامت جمعہ ہوگی اور شہر شہریت سے خارج نہ ہوگا ،
ولہذا رد المحتار میں ہے :
لومات الوالی اولم یحضر الفتنۃ ولم یوجد احد ممن لہ حق اقامۃ الجمعۃ نصب العامۃ لھم خطیبا للضرورۃ کما سیأتی مع انہ لا امیر والا قاضٰ ثمہ اصلا، وبھذا ظھر جھل من یقول لاتصح الجمعۃ فی ایام الفتنۃ مع انھا تصح فی البلاد التی استولی علیہا الکفار کما سنذکرہ فتامل۱؎۔
اگروالی فوت ہوگیا یا فتنہ کی وجہ سے آنہیں سکتا اور وہاں کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جو جمعہ کی امامت کا حقدار ہے تو پھر ضرورت کی وجہ سے خطیب مقرر کرسکتے ہیں جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ،ا س کے ساتھ ساتھ کہ وہاں کبھی قاضی یا امیر نہ ہو، اس سے اس شخص کی جہالت بھی واضح ہوگئی جو کہتاہے کہ فتتہ کے دنوں میں جمعہ صحیح نہیں حالانکہ جمعہ ان شہروں میں درست ہے جن پر کفار کی ولایت ہو جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے پس غور کیجئے ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۵۹۰)
اس تعریف میں الفاظ ینفذ ویقیم ( نافذ کرے اور قائم کرے ۔ت) موہم فعلیت تھے جس سے بعض کبراء کو دھوکا ہو جسے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے ارشاد یقدر علی الانصاف ( وہ انصاف پر قادرہو۔ ت)نے زائل کردیا کما بینہ فی الغنیۃ
وردالمحتار وغیرھما من الاسفار
( جیسے کہ یہ بات غنیہ اور ردلمحتار وغیرہ جیسی کتب میں ہے ۔ت) اورحقیقۃ غور کیجئے تو ارشاد امام میں علمہ اوعلم غیرہ ( اپنے یاغیر کے علم کی بناء پر ۔ت )کہ مفید تقیید اسلام والی ہے یہ بھی اُس زمانے کی حالت کے مطابق تھا اس وقت میں اور اس کے بعد صدہا سال تک اس کی نظیر قائم نہ ہوئی تھی کہ شہر دارالاسلام ہو اور حاکم کافر ولہذا نظر بحالت موجودہ اسلامیت شہر واسلام شہریار میں تلازم تھا ان بندگان خدا کے خواب میں بھی یہ خیال نہ گزرتا ہوگا جو آج آنکھوں کے سامنے ہے کہ شہر دارالاسلام اور اس پر کفار حکام ورنہ حقیقۃً صرف اُسی قدر درکا ہے کہ اسلامی شہر ہو اگر چہ والی کافرہی ہو، ولہذا جامع الرموز میں زیر قول ماتن
شرط الادئھا المصر والسلطان
 ( ادائے جمعہ کے لئے شہر اور سلطان کاہونا شرط ہے ۔ت) فرمایا :
الاطلاق مشعر بان الاسلام لیس بشرط ۲؎۔
اطلاق بتاتاہے کہ اسلام شرط نہیں۔ (ت)
 (۲؎ جامع الرموز    فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۶۳)
مبسوط ومعراج الدرایہ وجامع الفصولین وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے :
فلو  الولاۃ کفارا یجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ۱؎۔
اگر چہ والیِ شہر کافرہو مسلمانوں کےلئے جمعہ کا قیام جائز ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الجمعہ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۹۵)
تو آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ صرف اسلامی شہر ہونا درکار ہے تنفیذ احکام یا اقامت حدودیا اسلام والی کچھ شرط نہیں اور بحمد اﷲ تعالٰی  ہم نے اپنے فتاوٰی  میںدلایل قاہرہ سے ثابت کیا ہے کہ تمام ہندوستان سرحد کابل سے منتہائے بنگالہ تک سب دارالاسلام ہے تو یہاں جتنے شہر وقصبات میں (جن کو شہر کہتے ہیں اور وہ نہ ضرور ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں متعدد محلے ، متعدد ودائمی بازار ہیں ، وہ پرگنہ ہیں ، ان کے متعلق دیہات ہیں ، اُن میں ضرور کوئی حاکم فصل مقدمات کےلئے مقرر ہوتا ہے جسے ڈگری ڈسمس کا اختیار ہے نہ فقط تھانہ دار کہ وہ کوئی حاکم نہیں صرف حفاظت اور تحقیقات یا چالان کا مختار ہے) وہ ضرور سب اسلامی شہر ہیں اور ان میں جمعہ فرض ہے اور انھیں میں جمعہ صحیح ہے ان کے علاوہ جتنی ابادیاں ہیں گاؤں ہیں اگر چہ مکانات پختہ اور مسلمان ومساجد بکثرت ہوں ان میں نہ جمعہ فرض نہ جائز نہ صحیح، یہ حق تحقیق وتحقیق حق ہے جس سے سرمُوحق متجاوز نہیں، یہ تعریف کہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں اس کے سُکّان اہل جمعہ نہ سمائیں اگر بطور تعریف مانی جائے تو صریح باطل ہے جس پر وہ اعتراضاتِ قاہرہ وارد ہیںض جن کا جواب اصلاً ممکن نہیں اور اگرکچھ اور نہ ہو تویہی کیا کم ہے کہ اس تعریف پر خود مکہ معظمہ و مدینہ منورہ گاؤں ٹھرے جاتے ہیں اور ان میں جمعہ معاذ اﷲ حرام وباطل قرار پاتا ہے اکبر مساجدہ ( وہاں کی سب سے بڑی مسجد ۔ت) کو اپنے ظاہر پر رکھیں اور ان میں متعدد مساجد صغیرہ وکبیرہ اور ان سب میں اکبر ہونا شرط کریں جب تو مکہ معظمہ کا شہر نہ ہونا صراحۃً واضح کہ مکہ معظمہ میں سوا مسجد الحرام کے کوئی مسجد صدہاسال تک نہ تھی اور عجب نہیں کہ اب بھی نہ ہو۔
نورالعین وردالمحتار کتاب الوقف میں ہے :
لامسجد فی مکۃ سوی المسجد الحرام ۲؎۔
 (مکہ میں مسجد حرام کے علاوہ کوئی مسجد نہیں ۔ت)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب الوقف        مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۱    )
اوراگر ایک مسجد پر قناعت کریں اور مجازاً ٹھہرالیں کہ جب یہی ایک مسجد تو یہی اکبر مساجد ہے تو اول تو یہ اکس قدر مقاصد شرع مطہرسے دور مہجور ہے، ایک عظیم اسلامی شہر جس میں لاکھ مسلمان مرد ومقاقل رہتے ہیں اُس میں ایک مسجد فرض کیجئے جس میں لاکھ سے زائد یا صرف لاکھ آدمی آسکیں اور ایک گمنام پہاڑی کی نلی میں بن کے کنارے دو جھونپڑیاں وحشی جنگلیوں کی ہو جن میں آٹھ دس مرد رہتے ہیں اور انھوں نے ایک چبوترہ چند گز کا بنالیا ہے جس میں سات آدمیوں کی گنجائش ہے آگے امام اور پیچھے تین تین آدمیوں کی دوصفیں ، رو لازم ہے کہ وہ شہر عظیم الشان گاؤں ہو اور اس میں جمعہ حرام، اور یہ کوردہ مصر جامع ومدینہ عظیمہ ہو او ر اس میں جمعہ فرض، کیا ارشاد حدیث
لاجمعۃ ولاتشریق ولاصلٰوۃ فطر ولااضحی الافی مصر جامع اومدینۃ عظیمۃ  ۱؎،
مصر جامع اور بڑے شہر کے علاوہ کسی جگہ نہ جمعہ ہوسکتا ہے نہ تکبیراتِ تشریق، نہ نمازعیدلفطر اور نہ نماز عیدالاضحی۔ (ت) کا یہی منشا ہے
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبۃ    من قال لاجمعہ الخ    مطبوعہ ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲/ ۱۰۱)
حاشا وکلاّ معہذا ایسا ہو تو دن میں چھ چھ بار مصریت وقرویت پلٹا کھائے، ایک بستی میں سَو اہل جمعہ رہتے ہیں اور اس کی اکبر مساجد میں اتنے آدمیوں کی وسعت ہے تو گاؤں ہے پھر دن چڑھے ان میں ایک لڑکا بالغ ہوا تووہ شہر ہوگیا کہ اب اس مسجد میں وہاں کے اہل جمعہ کی وسعت نہ رہی ، دوپہر کو ایک شخص وہاں سے سکونت چھوڑ کی چلا گیا تو پھر گاؤں ہوگیا اب پھر وسعت ہوگئی پھر دن رہے ایک غلام آزاد ہو ا تو پھر شہر ہوگیا کہ وسعت نہ رہی شام کوا یک شخص مرگیا توپھر گاؤں ہوگیا، عشاء کو ایک مجنون ہوش میں آگیا تو پھر شہر ہوگیا، آدھی رات ایک شخص کی آنکھیں جاتی رہیں توپھر گاؤں کا گاؤں رہا وعلی ہذا القیاس، بلکہ فرض کیجئے کہ ابھی وہ شہر تھا اور جمعہ فرض تھا مسلمان جمعہ کے لئے جمع ہوئے امام خطبہ پڑھ رہاہے کہ خبر آئی فلاں مرگیا اب جمعہ حرام ہو گیا خطبہ بے کار گیا  کہ شہر گاؤں ہوگیا ،امام نے خطبہ چھوڑا اور اعلان ہوا کہ بھائیوں ظہر کی نیت باندھو ،تکبیر ہوتی ہی تھی کہ ایک لڑکے نے کہا میری انکھ لگ گئی تھی احتلام ہوگیا، وہ نہانے کوگیا یہاں امام  پھر خطبہ کو جائے کہ اب یہ پھر شہر ہے اور پہلا خطبہ کہ بوجہ زوال محلیت بیکار ہوگیا تھا پھر اعادہ کرے ابھی دوسرے خطبہ تک نہ پہنچا تھا کہ خبر آئی فلاں کی آنکھیں جاتی رہیں اب امام پھر اترے اور ظہر کا اعلان دے ، تکبیر ہورہی ہے کہ صف میں سے ایک مسافر نے اُٹھ کر کہا صاحبو! کیوں جمعہ کھوتے ہو میں یہاں چندروز کے لئے آیا تھا مگر اب یہیں کا ساکن ہوگیا امام سے کہئے پھر سہ بارہ خطبے کو جائے، اس الٹ پھیر میں معلوم نہیں کہ عصر کا وقت آنے تک جماعت کہ جمعہ نصیب ہو یا ظہر، یہ سب خوبیاں اس تعریف کی ہیں اور ان سب سے قطع نظر کیجئے تو دونوں بلد کریم مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کی مساجد طیبہ قطعاً وہاں کے اہل جمعہ بلکہ ان سے بدر جہا زائد کی وسعت رکھتی ہیں جیسا کہ بحمد اﷲ تعالٰی  آنکھوں سے مشاہدہ ہے تو وہ دونوں شہر کریم معاذ اﷲ گاؤں ہوئے اور ان میں جمعہ حرام ٹھہرا ، اس سے زیادہ شناعت اور کیا ہوگی، اور یہ وسعت آج کی نہیں زمانہ اقدس حضور ـسید عالم ـصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم میں بھی تھی۔ تو معاذاﷲ زمانہ اقدس سے وہ گاؤں ہی تھے او ران میں جمعہ حرام تھا مگر ہوتاتھا ، اب یہ منتہائے شناعت کبرٰی  ہے جس سے مافوق متصور نہیں،
جامع ترمذی شریف میں امیر المومنین مولٰی  علی کرم اﷲ تعالٰی  وجہہ الکریم سے مروی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا:
رحم اﷲ عثمن زاد فی مسجدنا حتی وسعنا ھذا مختصر اﷲ تعالٰی
  عثمان پر رحمت فرمائے اس نے ہماری مسجد شریف بڑھادی یہاں تک کہ اس میں ہم سب نمازیوں کی وسعت ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ سب نمازیوں کی وسعت ہوجانا صرف اہل جمعہ کی وسعت سے کہیں زیادہ ہوگی، تو معاذاﷲ اس تعریف پر حاصل حدیث یہ ہوگا کہ اﷲ تعالٰی  عثمان کا بھلا کرے ا س نے ہماری مسجد بڑھا کر مدینہ کو گاؤں کردیا اور اس میں جمعہ حرام ہوگیا،
لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ۔
Flag Counter