Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
77 - 144
مسئلہ۱۳۲۴: مرسلہ ظہور احمد از بیتھو ڈاک خانہ چاکند ضلع گیا

جس موضع میں تین مسجد ہوں اور بڑی مسجد میں اُس جگہ کی سب لوگ گنجائش نہ کرسکیں اور اس جگہ سے تین میل شہر متصل ہو اُس موضع میں جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ اور اس جگہ کے لوگوں کو جمعہ پڑھنا اُس شہر میں واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ یہ  جوعبارت وقایہ کی ہے کہ:
مالایسع اکبر مساجدہ اھلہ مصر ۲؎
( ایسی جگہ کہ بڑی مسجد میں اُس جگہ کی سب مسلمان گنجائش نہ کرسکیں جمعہ واجب ہے یا نہیں یعنی مسلمان عاقل بالغ جس پر نمازِ جمعہ واجب ہے ۔
 (۲؎ شرح الوقایۃ  باب الجمعۃ      مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی   ۱ /۲۴۰)
الجواب

جو جگہ خود شہر نہ ہو اُس میں صحت جمعہ کےلئے فنائے مصر ہونا ضرور ہے فنائے مصر حوالی شہر کے اُن مقامات کو کہتے ہیں جو مصالح شہر کے لئے رکھے گئے ہوں مثلاً وہاں شہر کی عیدگاہ یا شہر کے مقابر ہوں یا حفاظت شہر کے لئے جو فوج رکھی جاتی ہے اُس کی چھاونی یا شہر کی گھوڑ دوڑ یا چاند ماری کا میدان یا کچہریاں، اگر چہ مواضع شہر سے کتنے ہی میل ہوں اگر چہ بیچ میں کچھ کھیت حائل ہوں، اور جو نہ شہر ہے نہ فنائے شہر اس میں جمعہ پڑھنا حرام ہے اور نہ صرف حرام بلکہ باطل کہ فرضِ ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔
فی تتویر الابصار والدرالمختار یشترط لصحتھا المصر، اوفنائہ وھو ماحولہ اتصل بہ اولا کما حررہ ابن الکمال وغیرہ لاجل مصالحہ کدفن الموتی ورکض الخیل ۱؎ اھ ملخصا ،
تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کا ہونا ضروری ہے ،اور فنا سے مراد وہ جگہ ہے جو شہر کے پاس شہریوں کی ضرورت کے لئے ہو، خواہ متصل ہو یانہ ہو ، جیسا کہ ابن الکمال وغیرہ نے تحریر کیا ہے، مثلاً قبرستان ، گھوڑدوڑ کا میدان اھ ملخصاً
 (۱؎ درمختار    باب الجمعہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۹)
فی ردالمحتار قد نص الائمۃ علی ان الفناء مااعد لد فن الموتی وحوائج المصر کرکض الخیل والدواب وجمع العساکر والخروج للرمی وغیرذلک ۲؎ اھ
، ردالمحتار میں ہے کہ ائمہ نے اس بات پر تصریح کی ہے کہ فناسے مراد وہ میدان ہے جودفن موتی اورشہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلاً گھوڑ دوڑ اور چوپایوں کے لئے ،لشکر کے اجتماع کے لئے یا نشانہ بازی وغیرہ کے لئے ہو اھ ،
 (۲؎ ردالمحتار     باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱/ ۵۹۱ )
وفی درالمختار عن القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لا یصح لان المصر شرط الصحۃ ۳؎
درمختار میں قنیہ سے ہے کہ دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسے عمل مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ صحتِ عید کے لئے شہر کا ونا شرط ہے (ت)
 (۳؎ درمختار    با ب العیدین       مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۱۱۴)
مصر کی یہ تعریف کہ جس کی اکبر مساجد میں وہاں کے اہل جمعہ نہ سمائیں اپنے ظاہر معنی پر ہمارے ائمہ کے مذہب متواتر کے خلاف ہے ولہذا محققین نے اسے رد فرمایا اور تصریح کی کہ اس تصریح پر خود مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ شہر سے خارج ہوئے جاتے ہیں اور ان میں جمعہ باطل ٹھہرتا ہے کہ اُن کی مساجد کریمہ اپنے اہل کی ہمیشہ سے وسعت رکھتی ہےں،
غنیہ شرح منیہ علامہ ابراہیم حلبی میں ہے :
اختلفوا فی تفسیر المصر اختلافاکثیرا والفصل فی ذلک ان مکۃ والمدینہ مصران تقام بھما الجمع من زمنہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیر لایصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی التعریف الذی اختارہ جماعۃ من المتاخرین کصاحب المختار والوقایۃ وغیرھما وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم فانہ منقوض بھما اذمسجد کل منھما یسع اھلہ وزیادۃ فلا یعتبر ھذا التعریف وبالاولی ان لایعتبر تعریفہ بما یعیش فہ کل محترف بحرفتہ اویوجد فیہ کلہ محترف فان مصر وقسطنطنیۃ من اعظم امصار الاسلام فی زماننا ومع ھذا فی کل منھما حرف لا توجد فی الاخری فضلا عن مکۃ والمدینۃ ۱؎ انتھی باختصار
تعریف شہر میں بہت زیادہ اختلاف ہے اور فیصلہ ا س میں یہ  ہےکہ مکۃ المکرمہ اور مدنیۃ المنورہ میں حضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی ظاہری حیات سے لے کر آج تک جمعہ ادا کیا جاتا ہے تو ہر وہ مقام جو ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرح ہوگا وہ شہر کہلائے گا اور جو تفسیر شہر ان دونوں میں سے کسی ایک پر صادق نہ آئے گی وہ غیر معتبر ہوگی حتی کہ وہ تعریف جیسے متاخرین کی ایک جماعت مثلاً صاحب مختار اور صاحب وقایہ وغیرہ نے اختیار کی کہ ( وہ مقام شہر ہوگا) اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے لوگ جمع ہوجائیں اور مسجد میں ان کی گنجائش نہ رہے، ان دونوں ( مکہ ومدینہ) کی وجہ سے قابل اعتراض ہے کیونکہ ان دونوں کی مساجدوہاں کے مقیم بلکہ اس سے زائد لوگوں کی گنجائش رکھتی تھیں لہذا یہ تعریف معتبر نہیں ، او ربطریق اولٰی  شہر کی یہ تعریف غیر معتبر ہے کہ ہر وہ مقام جس میں ہو کاریگر اپنی صنعت کے ساتھ ہو یا وہاں ہر قسم کا کاریگر موجود ہوں کیونکہ ہمارے دور میں مصر اور قسطنطنیہ مسلمانوں کے سب سے بڑے شہروں میں سے ہیں، باوجود اس کے دونوں میں سے ایک میں مخصوص صنعت ہے جو دوسرے میں نہیں چہ جائیکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہو، غنیہ کی عبارت اختصاراً ختم ہوئی ۔(ت)
(۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی صلٰوۃ الجمۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۵۵۰ )
ملتقی الابحر میں ہے  :
وقیل مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم۲؎۔
ایک قول یہ ہے کہ اگر وہاں کے لوگ سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو ان کے لئے کافی نہ ہو
 (۲؎ ملتقی الابحر      باب الجمعۃ         مطبوعہ مؤ سستہ رسالہ بیروت    ۱ /۱۴۳)
مجمع الانہر میں ہے :
اوردبصیغۃ التمریض لانھم قالوا ن ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
صیغہ تمریض لایا گیا ہے کیونکہ فقہاء نے فرمایا یہ تعریف محققین کے نزدیک صحیح نہیں ہے ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
 (۱؎مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     باب الجمعہ     مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱/ ۶۶)
مسئلہ ۱۳۲۵ تا ۱۳۲۶ : از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور ۱۷ ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :

(۱) بعد نماز جمعہ احتیاطاً ظُہر پڑھنا کیسا ہے ، چاہئے یا نہیں؟

(۲) خطبہ جمعہ میں جب نام پاک محمد صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا آوے اُس وقت سامعین کو درود شریف پڑھنا کیسا ہے، چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

( ۱) احتیاطی ظہر کی عام لوگوں کو حاجت نہیں۔

(۲) خطبے میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا نام پاک سن کر دل میں درود پڑھیں ، زبان سے سکوت فرض ہے ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ ۱۳۲۷: از بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاک خانہ بلابو قصبہ نیلو کھیا مرسلہ محمد نیاز حسین ۱۲ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ

اگر قری میں جہاں مسلمان کثرت سے ہوں اور مکانات آپس میں متصل بلا فاصلہ ہیں اگر ہے تو پندرہ یا بیس گز اور نماز پنجگانہ کے لئے مقرر ہے اذان و جماعت ہوتی ہے وہاں کے لوگ متفق ہو کر ایک شخص کوامام جمعہ مقرر کرکے نماز جمعہ ادا کرلیں تو علیہ ماوجب لہ ( جوان پر لازم ہے ۔ت) سے بری ہوں گے یا نہیں، اور موافق مذہب امام اعظم وحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ صحیح ہوگا یا نہیں،اور بعد نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا کیسا ہے او روہ لوگ بسبب اس جمعہ پڑھنے کے مستحق ثواب یا اثم، اور اگر اثم ہے تو کیسا؟
بینوا بالتفصیل مع الدلیل توجروا یوم الاخر والحساب اٰمین یا رب العٰلمین
 ( تفصیلا دلائل کے ساتھ بیان فرمادیجئے اﷲ تعالٰی  آخرت میں آپ کو اجر عطا فرمائے۔ اے رب العٰلمین ! دعا قبول فرما ۔ت)
صحتِ جمعہ کے لئے مصر شرط ہے پس مصر کی تعریف صحیح موافق مذہب امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ کہا ہے اور تعریف قری جس میں جمعہ واجب نہیں اور نہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز کیا ہے ، قری اور دیہات میں فرق ہے یا نہیں، اگر فرق ہے تو کس میں جمعہ جائز اور کس میں ناجائز ؟
الجواب

مذہب حنفی میں فرضیت جمعہ وصحت جمعہ وجوازِ جمعہ سب کے لئے مصر شرط ہے دیہات میں نہ جمعہ فرض نہ وہاں اس کی ادا جائز و صحیح، اگر پڑھیں گے ایک نفل نماز ہوگی کہ برخلاف شرح جماعت سے پڑھی ظہر کا فرض سرسے نہ اُترے گا پڑھنے والے متعدد گناہ کے مرتکب ہوں گے،
للاشتغال بما لایصح ۱؎ کما فی الدرالمختار وللتنفل بجماعۃ بالتداعی ولترک جماعۃ الظھر وان ترکوا الظھر فاشنع واخنع۔
یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں ، جیسا کہ درمختار میں ہے۔ اور تداعی کے ساتھ نوافل کا جماعت کے ساتھ اداکرنا اور جماعت ظہر کا ترک لازم آتا ہے اور اگر وہ ظہر ترک کردیتے ہیں تو یہ نہایت ہی برا و قبیح عمل ہے۔(ت)
 (۱؎درمختار    باب العیدین    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۴)
قریہ زبانِ عرب میں شہر کوبھی کہتے ہیں،
قال تعالٰی  وما ارسلنک من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری ۲؎ ، ای الامصار لعلمھم وحلمھم دون البوادی لغلظھم وجفائھم وقال تعالٰی  علی رجل من القریتین عظیم ۳؎، ای مکۃ والطائف وقال تعالٰی  من قریتک التی اخرجتک ۴؎۔
اﷲ تعالٰی  کا فرمان ہے '' اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں کو جن پر ہم نے وحی کی اہل قری میں سے'' یعنی شہروں سے کیونکہ شہر ی لوگ صاحب علم وحلم ہوتے ہیں۔ ( دوسرے مقام پر ) اﷲ تعالٰی  کا ارشاد ہے '' ان دو قریوں میں سے بڑے آدمی پر'' یعنی مکہ وطائف ۔ ( تیسرے مقام پر) اﷲ تعالٰی  نے فرمایا'' تیرے اس قریہ سے جس سے تجھے نکالا '' (ت)

اور جب اُسے مصر کے مقابل بولیں تو اس میں اور دِہ میں کچھ فرق نہیں ثم اقول وبہ التوفیق( پھر میں اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) حق ناصع یہ ہے کہ مصر وقریہ کوئی منقولات شرعیہ مثل صلٰوۃ وزکوٰۃ نہیں جس کو شرع مطہر نے معنی متعارف سے جدا فرماکر اپنی وضع خاص میں کسی نئے معنی کے لئے مقرر کیا ہو ورنہ شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے اس میں نقل ضرور تھی کہ وضع شارع  بے بیان شارع معلوم نہیں ہوسکتی اور شک نہیں کہ یہاں شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے اصلاً کوئی نقل ثابت ومنقول نہیں تو ضرور عرف شرع میں دِہ اُنھیں معانی معروفہ متعارفہ پر باقی ہیں اور ان سے پھیر کر کسی دوسرے معنی کے لئے قرار دینا دِہ قرار دہندہ کی اپنی اصطلاح خاص ہوگی جو مناط ومدار احکام ومقصود ومراد شرع نہیں ہوسکتی۔
 (۲؎ القرآن     ۱۲/۱۰۹)

(۳؎ القرآن    ۴۳/۳۱)

(۴؎ القرآن        ۴۷/۱۳)
محقق علی الاطلاق رحمہ اﷲ تعالٰی  فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
واعلم ان من الشارحین من یعبر عن ھذا بتفسیرہ شرعا ویجب ان یراد عرف اھل الشرع وھو معنی الاصطلاح الذی عبرنابہ لاان الشارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نقلہ فانہ لم یثبت وانما تکلم بہ الشارع علی وفق اللغۃ ۱؎۔
واضح رہے کہ بعض شارحین نے اس تفسیر کو شرعی کہا ہے اور اس سے اہل شرع کا عرف مراد لینا واجب ہے اور اس اصطلاح کایہی معنی ہے جس کے ساتھ ہم نے اسے تعبیر کیا اس کایہ معنی نہیں کہ شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے نقل کیا ہے کیونکہ یہ ثابت نہیں شارع نے اس میں لغت کے مطابق تکلم فرمایا ہے ۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر        باب الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/)
اور ظاہر کہ معنی متعارف میں شہر و مصر ومدینہ اُسی آبادی کو کہتے ہیں جس میں متعدد کوچے ، محلے متعدد ودائمی بازار ہوتے ہیں ، وہ پرگنہ ہوتا ہے اُس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں ، عادۃً اس میں کوئی حاکم مقرر ہوتا ہے کہ فیصلہ مقدمات کرے، اپنی شوکت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ اور جو بستیاں ایسی نہیں وہ قریہ و دِہ وموضع وگاؤں کہلاتی ہیں، شرعاً بھی یہی معنی متعارفہ مراد ومدار احکام جمعہ وغیرہا ہیں، ولہذا ہمارے امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے شہر کی یہی تعریف ارشاد فرمائی،
Flag Counter