مسئلہ ۱۳۲۲: از کھاتہ ضلع رامپور مرسلہ قاضی ضیاء الدین احمد صاحب ۳ محرم ۱۳۲۱
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک موضع میں عرصہ کثیر گزرا زمانہء پادشاہت اسلام میں قاضی شرع نے جو قاضی بااختیار تھے جامع مسجد قائم کی اور وہ مقام شرائط جمعہ کے موافق مناسب سمجھ کر نماز جمعہ ونماز عیدین اُسی مسجد میں ہوتی رہی اور مسلسل اُسی وقت سے حسبِ اجازت وہدایت اصل قاضی یا حاکم وقت مذکور کے اُسی خاندان میں امامت رہی اب ایک شخص نے بوجہ مخالفت چندامور دنیاوی کے امام سے رنج کرکے ایک دوسری مسجد میں جو تھوڑے زمانے سے تیار ہوئی ہے نماز عید ادا کی اور باشندگانِ دیہ کو جامع مسجد قدیم کو آنے سے روک کر بہکا کر بہت سے اشخاص کو اُس نماز میں شریک کیا اور نماز پڑھائی اور جامع مسجد قدیم میں بھی مثل قدیم نماز پڑھی گئی اور جماعت ہوئی تو اب دریافت طلب ہے کہ اُس مسجد جدید میں امام قدیم سے مخالفت کرکے نماز عید ہوئی یا نہیں؟ اور ایسے نماز پڑھوانے والے کے واسطے جو تفریق جماعت کا مرتکب ہواکیا حکم ہے اور آئندہ اس طریقہ سے نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب
جمعہ وعیدین وکسوف میں ہر شخص امامت نہیں کرسکتا بلکہ لازم ہے کہ سلطانِ اسلام کا مقرر کردہ یا اُس کا ماذون ہو، ہاں جہاں یہ نہ مل سکیں تو بضرورت عام اہل اسلام کسی کو امام مقرر کرلیں، صورتِ سوال میں جبکہ سلطنتِ اسلام سقی اﷲ تعالٰی عھدھا ( اللہ تعالٰی اس کی مدت کودراز فرمائے۔ ت) سے بحکم حاکم شرع وہاں جمعہ قائم اور امامت خاندان ایام قدیم میں مستمر ودائم ہے تو امام خود ماذون من جانب السلطان ہے ، اس کے ہوتے بلامجبوری شرعی عام مسلمانوں کو بھی امام جدید قائم کرنے کا اختیار نہیں۔
لان الخیرۃ لھم انما یکون عند الضرورۃ لفقد الماذون فاذا وجد فلا ضرورۃ فلا خیرۃ ۔
انھیں اختیار ضرورت کے وقت ہے جب مامور نہ ہو اور جب مامور ہے تو اب ضرورت نہیں لہذا اختیار بھی نہ ہوگا ۔ (ت)
یہاں مجبوری شرعی یہ کہ امام ماذون خود نہ رہے یا اُس میں مذہب وغیرہ کے فساد پیدا ہونے سے قابلیت امامت معدوم ہوجائے اور اس خاندانِ ماذون میں کوئی اور بھی صالح امامت نہ ہو، جب ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا اس دوسرے شخص کی امامت نہ ہوئی اُس کے پیچھے نماز عید وجمعہ محض باطل ہوں گی وہ سخت گناہوں کا خود بھی مرتکب ہوگا اور اُتنے مسلمانوں کو بھی شدید معصیتوں میں مبتلا کردے گا وہ دوسری مسجد کا جمعہ حرام ہوگا اور ظہر کا فرض سر پر رہے گا اور عیدین میں نماز عید باطل ہوگی ۔ اُس کا پڑھنا گناہ ہوگا واجبِ عید سر پر رہ جائے گا تفریق جماعت تو وہاں کہی جائے کہ نماز جمعہ یا عیدین اس کے پیچھے بھی صحیح ہوجائیں ، جب یہاں سرے سے ہوئی ہی نہیں تو تفریق کیسی، بلکہ ابطال نماز ہے کہ سب سے سخت تر ہے، اﷲ تعالٰی توفیق توبہ بخشے، یہ مسئلہ نہایت واجب الحفظ ہے، آج کل جُہّال میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے کہ جمعہ یا نماز عید نہ ملی کسی مسجد میں ڈھائی آدمی جمع ہوئے اور ایک شخص کو امام ٹہرا کر نماز پڑھ لی وہ نماز نہیں ہوتی اور اُس کے پڑھنے کا گناہ الگ ہوتا ہے عوام کے خیال میں یہ نمازیں بھی پنجگانہ کی طرح ہیں کہ جس نے چاہا امامت کرلی حالانکہ شرعاً یہاں امام خاص اس طریق معیّن کا درکار ہے اُس کے بغیر یہ نمازیں ہو نہیں سکتیں،
تنویر الابصار میں ہے:
یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا ۱؎۔
سلطان یااس کے مامورکاجمعہ کوقائم کرناصحت جمعہ کے لیے شرط ہے ۔(ت)
(۱درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۰-۱۰۹)
درمختار میں ہے :
فی السراجیۃ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز ۱؎ الخ
سراجیہ میں ہے اگر اجازت خطیب کے بغیر کسی نے جمعہ پڑھا یا توجائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۰)
ردالمحتار میں ہے :
حاصلہ انہ لاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ اوبدونھا امابدون ذلک فلا ۲؎۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ اقامت جمعہ درست نہیں مگر اس شخص کے لئے جسے سلطان نے اجازت دی خواہ یہ اجازت بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ ، اگر بغیر اجازت کسی نے جمعہ قائم کیا تو درست نہیں ، (ت)
(؎۲درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۵۹۲)
تنویر ودر میں ہے :
( ونصب العامۃ) الخطیب ( غیر معتبر مع وجود من ذکر) امامع عد مھم فیجوز للضرورۃ ۳؎۔
خطیب کو ( عوام کا مقرر کرنا) ( معتبر نہیں بشرطیکہ جب مذکورہ لوگ ہوں) لیکن اس صورت میں جب یہ لوگ نہ ہوں تو ضرورت کے لئے امام کا تقرر درست ہوگا (ت)
(۳؎درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۰)
اُنھیں کے باب العیدین میں ہے:
( تجب صلٰوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا) فانھا سنۃ بعدھا وفی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ ۴؎ ملخصاً ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
( عیدین کی نماز شرائط جمعہ کے ساتھ ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر ج جمعہ واجب ہے) کیونکہ نماز عید ان شرائط کے بعد سنت ہے ۔ قنیہ میں ہے کہ دیہاتوں میں عید مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کام مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر ہونا صحت کے لئے شرط ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(؎۴درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۴)
مسئلہ ۱۳۲۳: از ملک بنگالہ ضلع میمن سنگھ قصبہ بنیازان ڈاک خانہ لکھی گنج مرسلہ منشی طالب حسین خاں ۲۳ صفر۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ میں ایک مسجد ہے جہاں لوگ بہت دنوں سے جمعہ پڑھا کرتے ہیں اگرامام مع چند لوگوں کے نماز جمعہ پڑھ لے تو بعدہ، دوسرے لوگوں کو تکرارِ نمازِ جمعہ جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر پڑھ لیا تو نماز اُن کی ہوگئی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
ایک مسجد میں تکرارِ نماز جمعہ ہرگز جائز نہیں
وقد اخطأ بعض العصریین من لکھنؤ فی تجویز ذلک مغتراً بجواز التعدد کما بیناہ فی فتاوٰنا۔
بعض معاصرین لکھنؤ نے اسے جائز کہہ کر غلطی کی ہے انھیں تعدد جمعہ کے جواز سے دھوکا ہوا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ۔ (ت)
جمعہ وعیدین کی امامت مثل نماز پنجگانہ نہیں کہ جسے چاہئے امام کردیجئے بلکہ اُس کے لئے شرط لازم ہے کہ امام ماذون من جہتہ سلطان الاسلام ہو بلاوسطہ یا بالواسطہ کہ ماذون کا ماذون ہو یا ماذون الماذون کا ماذون ہو۔
وھلم جرابضرورۃ اوبدونھا ایضا علی اختلاف القیلین مع شرط المعلوم المبین فی کلمات العلماء الکرام۔
اور اسی طرح آگے ضرورت کی وجہ سے یااس کے بغیر بھی اختلاف قولین کی بناپر باوجود یکہ علماء کرام کی عبارات میں شرط معلوم اور واضح ہے ۔(ت)
یہاں تک کہ اگر بغیر اُس کی اجازت کے دوسرا شخص امامتِ جمعہ کرے نماز نہ ہوگی،
سراجیہ میں ہے:
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذااقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعۃ ۱؎ اھ اقول ولااستثناء فان الاذن یعم الاذن دلالۃ۔
اگر خطیب کی اجازت کے بغیر نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب اس کی اقتداء کسی ایسے شخص نے کی جو جمعہ قائم کرسکتا تھا اھ اقول یہاں استثناء کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اجازت اس اجازت کو بھی شامل ہے جو دلالۃً ہو ۔(ت)
درمختار میں ہے :
واقرہ شیخ الاسلام
( اسے شیخ الاسلام نے ثابت رکھا ہے ۔ت) ہاں جہاں ماذونِ سلطان نہ باقی ہو وہاں بضرورت اقامت شعار اجتماع مسلمین کو قائم اذن سلطان قراردیا ہے
(۱فتاوٰی سراجیہ باب الجمعۃ نولکشور لکھنؤ ص ۱۷)
یعنی مسلمان متفق ہوکر جسے امام جمعہ مقرر کرلیں وہ مثل امام ماذون من السلطان ہو جائے گا۔
درمختار میں ہے:
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عد مھم فیجوز للضرورۃ ۱؎۔
مذکورہ اشخاص کے ہوتے ہوئے عوام کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں ، البتہ اگر مذکورہ افراد نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا۔ (ت)
(۱؎درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۰)
اور شک نہیں کہ جو امر ضرورۃً جائزرکھا گیا وہ حدضرورت سے تجاوز نہیں کرسکتا۔
لما عرف من القاعدۃ المطردۃ الفقھیۃ بل والعقلیۃ ان ماکان بضرورۃ فقدر بقدرھا۔
کیونکہ فقہ بلکہ عقلاً قاعدہ مسلمہ ہے کہ جو کچھ ضرورت کی وجہ سے ہوتا ہے وہ ضرورت کی مقدار کے برابر ہی ہوتا ہے ۔ (ت)
اور مسجد واحد کے لئے وقتِ واحد میں دو امام کی ہرگز ضرورت نہیں، تو جب پہلا امام معیّن جمعہ ہے دوسرا ضرور اُس کی لیاقت سے دور ومہجور تو اُس کے پیچھے نماز جمعہ باطل ومحذور، البتہ اگر امام معین نے براہ شرارت خواہ اپنی کسی خاص حاجت کے سبب جلدی کی اور وقت معہود سے پہلے معدودے چند کے ساتھ نماز پڑھ لی عامہ جماعت مسلمین وقت معین پر حاضر ہوئی تو اب ظاہراً مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ انھیں جائز ہو کہ دوسرے شخص کو باتفاق عام مسلمین امام مقرر کریں اور نماز جمعہ پڑھیں
لحصول الضرورۃ بالضرورۃ ولم تند فع بما فعل الامام بل لم یحصل من فعلہ ماکان نصبہ فما نصب الاللعامۃ لالعدۃ نفر کما لایخفی ولیحرر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
واضح ضرورت پائے جانے کی وجہ سے اور یہ ضرورت امام کے فعل سے پوری نہیں ہوئی بلکہ جس مقصد کے لئے اس کا تقرر ہواوہ حاصل نہ ہوا وہ تو عام لوگوں کے لئے مقرر تھا نہ کہ چند لوگوں کے لئے جیسا کہ مخفی نہیں ، اسے واضح کرلینا چاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)