Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
75 - 144
مسئلہ ۱۳۲۰: از بنگالہ ضلع میمن سنگھ موضع مرزا پور مرسلہ منشی آدم غرہ ربیع الاول ۱۳۱۳۲۰۰ھ
ماتقولون یا ارباب العقول فی تبلیغ احکام الرسول فی ھذا الباب ھل یجب علی المصلین ان یصلوا اٰخرالظھر مع الجمعۃ ام لا وان صلوا فماذا ینوونھا فریضۃ ام نافلۃ بینوا بالدلیل تو جروا اجرا جزیلا۔
تعلیمات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی تبلیغ کرنے والے اہل فہم کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ جمعہ کے ساتھ نمازیوں پر ظہر ادا کرنا لازم ہے یا نہ؟ اگر وہ ادا کرتے ہیں تو کس نیت سے فرض یا نفل ؟ دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں، اﷲ تعالٰی  آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔(ت)



الجواب     :
ان وقع الشک فی صحۃ الجمعۃ لوقوع الشبھۃ فی شرط کالمصریۃ اوکون الدار دارالاسلام فالظاھر الوجوب وان کان ھناک تو ھم لاجل خلاف ضعیف فالندب ویفتی بہ الخواص لا العوام وعلی کل ینوی الفریضۃ ای اٰخرفرض ظھر ادرکتہ ولم اود لان النفل یتأدی بنیۃ الفرض ولاعکس فلا یحصل الاحتیاط الابنیۃ الفریضۃ کما لا یخفی قال فی ردالمحتار فی القنیۃ لما ابتلی اھل مروباقامۃ الجمعتین فیھا مع اختلاف العلماء فی جوازھما امر أئمتھم بالا ربع بعدھا حتما احتیاطا اھ ونقلہ کثیر من شراح الھدایۃ وغیرھا وتداولہ، ثم نقل المقدسی عن الفتح انہ ینبغی ان یصلی اربعا ینوی بھا اٰخر فرض ادرکت وقتہ ولم أ ؤدہ ان تردد فی کونہ مصرا اوتعددت الجمعۃ، قال و فائدتہ الخروج عن الخلاف المتوھم اوالمحقق وذکر فی النھرانہ لاینبغی التردد فی ندبھا علی القول بجواز التعدد خروجا عن الخلاف اھ قال المقدسی ذکر ابن الشحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم، اماعند قیام الشک والاشتباہ فی صحۃ الجمعۃ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام مایفیدہ ۱؎ اھ مختصرا واﷲ تعالٰی  اعلم۔
اگر شرائطِ جمعہ میں اشتباہ کی وجہ سے صحتِ جمعہ میں شک ہوجائے تو ظاہر یہی ہے کہ وہاں ظہر کا ادا کرنا لازم ہے اور اگر وہاں صحتِ جمعہ وہم ہے تو ضعیف اختلاف کی وجہ سے ظہر کی ادائیگی مستحب ہوگی البتہ اس کے ساتھ خواص کے لئے فتوٰی  ہے عوام کے لئے نہیں، ہر صورت میں فرض کی نیت ہوگی یعنی وہ آخری ظہر جسے میں پایا مگر ادا نہ کی کیونکہ نوافل فرض کی نیت سے ادا ہوجاتے ہیں مگر فرض نفل کی نیت سے ادا نہیں ہوتے، تو احتیاط نیتِ فرض میں ہی ہے جیساکہ مخفی نہیں، ردالمحتار میں فرمایا کہ قنیہ میں ہے کہ جب اہل مرو کو دو جمعوں کا قیام پیش آیا علماء نے متعدد جمعہ میں ختلاف کیا تو ائمہ نے لوگو پر جمعہ کے بعد احتیاطاً چار رکعات ظہر ادا کرنا لازمی قرار دے دیا اھ اکثر شارحین ہدایہ وغیرہ نے اسے نقل کیا اور اسے ہی متد اول قرادیا، پھر مقدسی نے فتح سے نقل کیا کہ اگر شہر ہونے میں تردد ہو یا جمعہ کے متعدد ہونے کی وجہ سے تردّد ہو تو جمعہ کے بعد چار رکعات اس نیت سے ادا کی جائیں کہ میں نے آخری ظہر کا وقت پایا اسے ادا نہ کیا تھا اور فرمایا فائدہ اس کا یہ ہے کہ خلافِ متوہم یا متحقق سے خروج ہوجائے گا، نہر میں مذکور ہے کہ اختلاف سے بچنے کی خاطر جوازِ تعدد جمعہ کے قول پر بھی ظہر کی ادائیگی کے مستحب ہونے میں تردد نہیں کرنا چاہئے اھ مقدسی کہتے ہیں کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے ندب پر  یہ تصریح نقل کرکے اس میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہے جہاں محض وہم ہو لیکن جب صحت جمعہ میں شک واشتباہ ہوتو ظہر کا وجوب ظاہر اور اس پر اپنے شیخ ابن ہمام کی وہ عبارت نقل کی جو اسے مفید ہے اھ اختصاراً (ت) واﷲ تعالٰی  اعلم
 (۱؎ ردالمحتار     باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ا / ۵۹۶)
مسئلہ ۱۳۲۱: از ضلع کمرلہ موضع پانسیر مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب غرہ ربیع الاول ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ انحرافِ قبلہ یعنی جانب ایمن وایسر کو پھر کر مناجات کرنا جائز ہے یا نہیں باوجود یکہ فقہ کی کتابوں میں بھی یہ ہے کہ جس نماز کے بعد سنتِ موکدہ ہو نہ پھرے بالدلائل تحریر فامائیے۔بینوا توجروا
الجواب

امام کا بعد سلام قبلہ سے انحراف تو مطلقاً سنت ہے اور اس کا ترک یعنی بعد سلام رو بقبلہ بیٹھا رہنا امام کے لئے بالاجماع مکروہ ہے، جمعہ وغیرہ سب نمازیں اس حکم میں برابر ہیں اور بعد سلام دعا ومناجات بھی بالاجماع جائز ہے مگر جس نماز کے بعد سنت ہے یعنی ظہر وجمعہ ومغرب وعشاء ، اس کے بعد تاخیر طویل کسی کو بہتر نہیں اور اگر کرے تو منع بھی نہیں مگر اس قدر نہ ہو کہ مقتدیوں پر گراں گزرے، عادت مسلمین یوں جاری ہے کہ امام بعد سلام جب تک دعا سے فارغ نہ ہو مقتدی شریک دعا رہتے ہیں اور اس سے قبل اُسے چھوڑ کر نہیں اٹھتے اوریہ اگر چہ شرعا واجب نہیں مگر حُسن ادب سے ہے۔
اقول : ویمکن الاستناس لہ بقولہ عزوجل ''واذاکانوا معہ علی امرجامع لم یذھبوا حتی یسأذنوہ'' فان فراغہ من الدعاء یعد اذنامنہ دلالۃ بذلک العرف جار۔
اقول  :  اس پر اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد گرامی سے استدلال ممکن ہے'' اور جب وہ حضورعلیہ السلام کے ساتھ کسی معاملہ میں جمع ہوتے ہیں تو آپ کی اجازت کے بغیر جاتے نہیں'' کیونکہ دُعا سے فراغت اذن ہی تصور ہوتا ہے اور اس پر عرف جاری ہے ۔(ت)

تو ایسی حالت میں اتنی دعائے طویل کہ بعض مقتدیوں پر ثقیل ہو مطلقاً نہ کرنی چاہئے اگر چہ اس کے بعد سنت نہ ہو جیسے فجر وعصر۔
ھذا ماظہرلی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی  واذا امر الامام بالتخفیف فی الصلوۃ ای عدم الزیادہ علی القدر المسنون اجمعوا علی انہ لا یمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ سائر الصلوات فی ذلک علی السواء۔
غور وفکر میں یہ مجھ پر واضح ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ ان شاء اﷲ درست ہوگا اور جب امام کو نماز میں تخفیف کا حکم ہے یعنی قدرمسنون پر اضافہ کرے تو اس پر اجماع ہے کہ امام اپنی جگہ پر قبلہ رُخ ہو کر نہ ٹہرے تمام نمازیں اس حکم میں برابر ہیں، (ت)
حلیہ میں ہے :
وقد صرح غیر واحد بانہ یکرہ لہ ذلک ۱؎۔
متعدد علماء نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح کی ہے ۔(ت)
درمختار میں ہے :
یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ قال الحلوانی لاباس بالفصل بالاوراد واختار ہ الکمال، قال الحلبی ان ارید باالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت فی حفظی حملہ علی القلیلۃ ۱؎اھ
سنتوں میں تاخیر اللھم انت السلام الخ کی مقدار سےزیادہ مکروہ ہے، حلوانی نے فرمایا اذکار کے ساتھ فرائض وسنن میں فاصلے میں کوئی حرج نہیں، کمال نے اسی کو اختیار کیا ہے، حلبی کہتے ہیں کہ اگر کراہت سے کراہت تنزیہی ہے تو اختلاف ختم ہوجاتا ہے قلت اور مجھے یہاں تک یاد ہے کہ یہ ( تنزیہی) قلیل فصل پر محمول ہے اھ (ت)
 (۱؎درمختار  فصل واذا ارادالشروع فی الصلٰوۃمطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/۱۶۶)
حلیہ میں ہے :
تحمل الکراھۃ علی التنزیھیۃ بعد دلیل التحریمیۃ ۲؎۔
جب تحریمی پر دلیل نہ ہو تو مکروہ کو تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
غنیہ میں ہے :
قول عائشہ رضی اﷲ تعالٰی  عنھا مقدار مایقول الھم انت السلا الخ یفید ان لیس المراد انہ کان یقول ذلک بعینہ بل کان یقعد زمانا یسع ذلک المقدار ونحوہ من القول تقریبا فلا ینافی ماروی مسلم وغیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی  عنہما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اذا سلم من صلٰوتہ قال بصوتہ الا علی لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ ولا نعبد ولہ الثناء الحسن، لا الہٰ الا اﷲ مخلصین لہ الدین ولوکرہ لاالکفرون، لان المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید، قدیسع کلو احد من نحو ھذہ الاذکار لعدم التفات الکثیر بینھا ۱؎ اھ مختصرا۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا کا یہ فرمان کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اللھم انت السلام الخ کی مقدار پڑھتے ، فائدہ دے رہاہے کہ ان کی مراد بعینہٖ یہی الفاظ نہیں بلکہ اتنی دیر بیٹھنا جس میں یہ یا اس کی مقدار تقریباً پڑھا جائے ۔ لہذا یہ روایت مسلم وغیرہ کی اس روایت کے منافی نہیں جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی  عنہماسے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے '' اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے، اسی کی حمد ہے، اور وہ ہر شیئ پر قادر ہے ، برائی سے پھرنے اور نیکی کی طرف آنے کی طاقت وتوفیق اﷲ تعالٰی  ہی عطا فرماتاہے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ، نعمت اسی کی ہے اور اُسی کا فضل ۱ہے، اعلٰی  تعریف اسی کی ہے۔ اﷲ تعالٰی  کے سوا کوئی معبود نہیں، ہماری تابعداری اسی کے لئے خالص ہے، اگر چہ کافر اسے ناپسند کریں'' کیونکہ مقدار مذکور تقریباً ہے تحدیداً نہیں وہ وقت ان تمام اذکار کی گنجائش رکھتا ہے کیونکہ ان میں بہت زیادہ تفاوت نہیں ہے اھ مختصرا (ت)
 (۱؎غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی بیان صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور  ص ۳۴۲)
بلکہ شیخ محقق مولنٰا عبدالحق قدس سرہ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں:

تعجیل قیام بہ سنت مغرب منافی نیست مرخواندن آیۃ الکرسی وامثال آنرا چنانکہ درحدیث وارد شدہ است کہ بخواند بعد از نمازِ فجر و مغرب دہ بار لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی علی کل شیئ قدیر ۲؎۔

مغرب کی سنتوں کے لئے جلدی قیام آیۃ الکرسی وغیرہ پڑھنے کے منافی نہیں کیونکہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ نماز فجر و مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ پڑھا جائے لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک لہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر۔ (ت)
 (۲؎ اشعۃ اللمعات        باب الذکر بعد الصلٰوۃ     مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۴۱۸)
فقہ کی کسی کتاب معتمد میں یہ نہیں کہ جس نماز کے بعد سنت ہے اُس کے امام کو قبلہ سے پھرنا ہی منع، ہاں فصل طویل کو ناپسند فرماتے ہیں اور اُس کے معنی ان کلماتِ علماء سے کہ فقیر نے نقل کئے ظاہر ہوگئے، واﷲ تعالٰی  اعلم
Flag Counter