Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
74 - 144
مسئلہ ۱۳۱۶: از عظیم آباد پٹنہ شاہ کی املی متصل مسجد تراہہ مطب حکیم صاحب مرسلہ مولوی نورالہدی صاحب ۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایسے قریہ میں جس پرکسی طرح حدِ مصر صادق نہیں اگر وہاں کے حنفی المذہب بخیال شوکتِ اسلامی نماز جمعہ مع ظہر احتیا طی وصلٰوۃ العیدین پڑھتے ہوں تو گنہگار ہوں گے یا نہیں؟ اور اگر گنہگار ہوں تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب

ایسی جگہ جمعہ یا عیدین پڑھنا مذہب حنفی میں گناہ ہے ۔ نہ ایک گناہ بلکہ چند گناہ :

اولا جب نماز جمعہ وعیدین وہاں صحیح نہیں تو یہ امر غیر صحیح میں مشغول ہوئی اور وہ ناجائز ہے،
فی الدرالمختار تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالایصح لان المصر شرط الصحۃ ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ یہ غیر صحیح کام میں مشغول ہوناہے کیونکہ شہر جمعہ کی صحت کے لئے شرط ہے ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۴)
ثانیاً اقول فقط مشغولی نہیں بلکہ اس امر ناجائز کو موجب شوکت اسلام جانا بلکہ بہ قصد ونیت فرض و واجب ادا کیا یہ مفسدہ عقیدہ ہے جس سے علماء نے تحذیر شدید فرمائی۔
اوصوا بترک التزام مستحب اذا خیف ان یظنہ العوام واجبا وفی اخف منہ قال سید نا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی  عنہ لا یجعل احدکم للشیطان شیئ من صلٰوتہ یری ان حقا علیہ ان لاینصرف الاعن یمینہ لقدرأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کثیرا ینصرف عن یسارہ ۲؎ رواہ الشیخان فاذا کان ھذا فیما ھو مشروع باصلہ فما ظنک بمالم یجزمن رأسہ ۔
جب یہ خطرہ ہوکہ عوام اسے ضروری سمجھ لیں گے تو علماء مستحب پرپابندی ترک کرائیں اور اس سے کم درجہ عمل کے بارے میں سید نا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنی نماز سے شیطان کا حصہ اس طرح نہ بنائے کہ نماز کے بعد دائیں طرف ہی پھر نا اپنے اوپر لازم کرلے کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو بہت دفعہ بائیں طرف پھرتے ہوئے دیکھا، اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا، جب اس عمل کا معاملہ ہے جو اصلاً مشروع ہے تو اس میں تمھار کیا خیال ہے جو اصلاً جائز ہی نہ ہو۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    باب الا نفتال والا نصراف   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۱۸)
ثالثاً جبکہ واقع میں نماز جمعہ وعید نہ تھی تو ایک نماز نفل ہوئی کہ باجماعت واعلان وتداعی ادا کی گئی یہ ناجائز ہوا،
فی ردالمحتار عن العلامہ الحلبی محشی الدر فہو نفل مکروہ لادائہ بالجماعۃ ۳؎۔
ردالمحتار میں محشی در علامہ حلبی سے ہے یہ نوافل مکروہ ہیں کیونکہ جماعت کے ساتھ ادا ہوئے ۔ (ت)یہ تینوں وجہیں جمعہ وعیدین سب کو شامل ہیں۔
 (۳؎ ردالمحتار    باب العیدین        مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱ /۶۱۱)
رابعاً اقول جمعہ میں اُس کے سبب جو ظہر نہ پڑھیں اُ ن پر فرض ہی رہ گیا، ترکِ فرض اگر چہ ایک ہی بارہو خود کبیرہ ہے اور جو بزعم خود احتیاطی رکعات پڑھیں وہ بھی تارک جماعت تو ضرور ہوئے اور جماعت مذہب معتمد میں واجب ہے جس کا ایک بار ترک بھی گناہ اور متعدد بار  ہوکروہ بھی کبیرہ۔
کما نصوا علیہ ولامراوضح من ان یوضح
(جیسا کہ فقہا ءنے اس پر تصریح کی ہے اور یہ امر اتنا واضح ہے کہ وضاحت کی ضرورت نہیں ۔ ت) 

خامساً اقول وہ احتیاطی رکعات والے کہ حقیقتہً مذہب حنفی میں آج کی ظہر پڑھ رہے ہیں
فانھا اذالم تصح الجمعۃ بقیت فریضۃ الظھر فی اعناقھم فاذا انووا اٰخرظہر ادرکوھا ولم یؤدوھا وجب انصر افھا الی ظھر الیوم۔
اس لئے کہ جب جمعہ صحیح نہیں تو ان کے ذمے ظہر کا فریضہ باقی ہے، توجب یہ ارادہ کرتے ہوئے کہ آخری ظہر کا وقت پایا مگر اسے ادا نہ کیا تو اس کا آج کی ظہر پر محمول کرنا واجب ہے۔(ت)
اس لئے کہ جب جمعہ صحیح نہیں تو ان کے ذمے ظہر کا فریضہ باقی ہے، توجب یہ ارادہ کرتے ہوئے کہ آخری ظہر کا وقت پایا مگر اسے ادا نہ کیا تو اس کا آج کی ظہر پر محمول کرنا واجب ہے۔(ت)

بآنکہ مسجد میں جمع ہیں جماعت پر قادر ہیں تنہا پڑھتے ہیں یہ دوسری شناعت ہے کہ مجتمع ہوکر ابطال جماعت ہے جسے شارع نے مسجد خوف جیسی حالت ضرورت شدیدہ میں بھی روا نہ رکھا بلکہ ابطال درکنار موجودین میں بلاوجہ شرعی تفریق جماعت کو ناجائز رکھا کر ایک ہی جماعت کرنے کا طریقہ تعلیم فرمایا
کما نطق بہ القراٰن العظیم و باﷲ الہدایۃ الٰی صراط مستقیم
( جیسا کہ اس پر قرآن عظیم ناطق ہے، اﷲ ہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۱۷: ۶ ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس حالت میں امام خطبہ پڑھتا ہو اُس وقت  کوئی وظیفہ یا سُنن یا نوافل یا فرض قضائے فجر پڑھنا چاہئیے یا نہیں اور ٹھیک ہوں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

اُس وقت وظیفہ مطلقاً نا جائز ہے، اور نوافل بھی اگر پڑھے گنہگار ہوگا اگر چہ نماز ہوجائے گی ، رہی قضا اگر صاحب ترتیب نہیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے ورنہ وہ ضرور پہلے قضا اداکرے ، اور جہاں تک دوری ممکن ہو اختیار کرے کہ صورتِ مخالفت سے بچے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۱۸: از بنگالہ ضلع پترا موضع مرادنگر مرسلہ قاضی اشرف الدین صاحب ۲۸ جمادی الاولٰی  ۱۳۱۹ھ

چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ چند اشخاص برائے ادائے جمعہ بمسجدے رفتندو دیدنہ کہ جمعہ ادا شدہ است اکنوں ایشاں دزآں مسجد مذکور صلٰوۃ جمعہ ادا رتو انند کردیا ادائے ظہر واجب ست برتقدیر ثانی باجماعت یا فرادی شخصے میگوید کہ جماعتے راکہ نمازِ جمعہ فوت شدہ شود اوشاں درخارج مسجد بہ بعد مقدار یک صدگز یا صدوبست وپنج گز مروجہ انگریزی رفتہ نماز جمعہ ادا توند کرد ودرانجا مسجدے نیست وقول اوصحیح ست یا نہ واگر چنیں ادا کرد جائز خواہدشد یا نہ؟ بینوا توجروا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد میں گئے انھوں نے دیکھا جمعہ ادا ہوگیا ہے اب وہ لوگ اس مسجد میں جمعہ اداکریں گے یا ظہر کی ادائیگی ان پر لازم ہوگی، اگر ظہر لازم ہے تو وہ جماعت کے ساتھ اداکریں یا تنہا؟ ایک شخص کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جماعت جمعہ فوت ہوگئی تومسجد سے دور انگریزی سوگز یا ایک سو پچیس گز کے فاصلے پر چلے جائیں اور وہاں جمعہ ادا کریں اگر چہ وہاں مسجد نہیں، اس کا قول صحیح ہے یا نہ؟ اگر اس طرح انھوں نے ادا کرلیا ہے تو جائز ہے یا نہ؟ بینوا توجروا
الجواب

امامت جمعہ وعیدین ہر کس نتواں کرد بلکہ واجب ست کہ سلطانِ اسلام یا ماذون اوباشد و بضرورت آنکہ مسلمان اور امام جمعہ مقرر کردہ باشند وشک نیست کہ یک مسجد را دو امام جمعہ کہ اقامت جمعہ واحدہ کنند نباشند پس در مسجد واحد دوبار جمعہ نتواں شد چوں بعض مرد ماں ایں جاجمعہ نیابند بمسجدے دیگر اگریابند ر وند کہ تعدد جمعہ درشہر مذہب مفتی بہ رواست ہمچناں اگر امامے معین برائے امامتِ جمعہ یابندو درغیر مسجد درشہر یا فنائےشہر ادا کنند نیز روا باشد زیراکہ مسجد شرط جمعہ نیست واگر نیا بند فرض ست کہ ظہر ادا کنند و روا نسیت کہ جماعت نمایند بلکہ فرادی خوانند کل ذلک مصرح بہ فی کتاب المذہب و قد بیناہ فی فتاوٰنا وآنکہ شخص مذکور تحدید فصل ذرعان کرد اصلے ندارد۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔

جمعہ وعیدین کی امامت ہر کوئی نہیں کرواسکتا بلکہ واجب ہے کہ وہ سلطانِ اسلام یا اس طرف سے مامورہو، البتہ ضرورت کے پیش نظر مسلمان امامِ جمعہ مقرر کرسکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مسجد میں ایک جمعہ کی اقامت کے لئے دوامام نہیں ہوسکتے لہذا ایک مسجد میں دوبار جمعہ نہیں ہوسکتا جب کچھ لوگ اس مسجد میں جمعہ نہ پاسکتیں تو وہ دوسری مسجد میں چلے جائیں کیونکہ مفتی بہ مذہب کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے، اسی طرح اگر مقرر امامِ جمعہ کو شہر یا فنائے شہر میں مسجد کے علاوہ پالیتے ہیں تو وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا کیونکہ جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں اور اگر ایسی کوئی صورت نہیں تو ظہر کی ادائیگی فرض ہوگی لیکن جماعت جائز نہ ہوگی بلکہ الگ الگ ادا کریں یہ تمام کتب مذہب میں صراحۃً موجود ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی  میں اسے بیان کیا ہے اور مذکور شخص نے جوگزوں کی مقدار کا تعیّن کیا ہے اس کی کوئی اصل نہیں واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم
مسئلہ ۱۳۱۹: از شاہی علاقہ رامپور مرسلہ نادر شاہ خاں وانعام اﷲ خاں ۶ جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ



کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس قصبہ شاہی میں صرف ایک مسجد وہی جامع مسجد ہے قدیم الایام سے اُس میں نماز جمعہ ہوتی ہے اور ایک عیدگاہ قریب آبادی کے ہے اس میں نماز عید پڑھی جاتی ہے فی الحال بوجہ کثرت نمازیا گنجائش سب نمازیوں کی نہیں اس لئے عیدگاہ میں جمعہ پڑھتے ہیں اُس روز جامع مسجد نماز جمعہ سےبالکل خالی رہتی ہے ایسی حالت میں کوئی بازپرس تو اہل قصبہ سے خداوند کریم بوجہ خالی رہنے مسجد کے بروزِ حساب نہ فرمائے گا اور پڑھنے نماز جمعہ سے عیدگاہ میں کچھ نقصان عنداﷲ وعند الرسول ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا



الجواب

جائز ہے ۔ کچھ نقصان نہیں، نہ کوئی مواخذہ ۔واﷲ تعالٰی  اعلم
Flag Counter