| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ۱۳۱۱تا۱۳۱۵: از کٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ سیّد عبدالمجید صاحب قادری۲ جمادی الآخرہ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں: (۱) ہندوستان میں جمعہ جائز ہے یانہیں؟ (۲) جائز ہے تو کیوں؟ اور اس کے دلائل کیا ہیں؟ (۳) جمعہ شہر ہی میں جائز ہے یا دیہات میں بھی؟ (۴) تعریف شہر اور قصبہ اوردیہات کی کیاہے ؟ (۵) دیہات سے نیچے بھی کوئی حد بستی کی ہے کیونکہ دیہات دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک محض کوردہ ، دوسرا وہ جس میں اشیاءِ اشد ضروری جیسے معمولی کپڑے ملتے ہوں اوردرزی اور لوہار اور بڑھیئ اور بنیا اور بقال وغیرہم ہوں اور ساکنان اُسی کے ہندو مع مسلمان قریب بارہ سو(۱۲۰۰) مردمع عورت کے ہوں اور غالب درجہ مسلمان زمیندارہوں اور مسلمانوں کی تعداد قریب پانچ سو عوتوں کے ہو اور مسجد قدیم سے ہو اور جب سے مسجد بنی ہمیشہ سے برابر جمعہ ہوتا رہا ہو تو ان دونوں قسموں میں دیہات کے جمعہ جائز ہوگا یا صرف قسمِ اخیر میں یا کسی میں نہیں اور ہم قسم اخیر کے دیہات کے رہنے والے ہیں، اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں، تو آیا ہم لوگ پـڑھیں یا نہیں؟بہت صاف جواب بالتفصیل تحریر ہو۔
الجواب ہندوستان اصلح اﷲ حالہا بحمد اﷲ تعالٰی ہنوز دارالاسلام ہے:
کما حققناہ فی رسالتنا اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام۔
جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ'' اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام '' میں اس کی تحقیق کی ہے ۔(ت) اُس میں اقامتِ جعہ وعیدین مسلمانوں کو ضرور جائز ۔
جامع الفصولین میں ہے:
قال ح ( ای الامام الاعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ) لا تصیر دارلاحرب الاباجراء احکام الشرک فیھا واتصالھا بدارالحرب بان لایکون بینھا وبین دارالحرب مصر للمسلمین وان لایبقی فیھا مسلم اوذمی اٰمنا علٰی نفسہ بالامان الاول ای لایبقی اٰمنا الابامان المشرکین ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ فلما صارت البلدۃ دارالاسلام باجراء احکامہ فما بقی شیئ من احکامہ واٰثارہ تبقی دارالاسلام وکل مصرفیہ وال مسلم من جھۃ الکفارتجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامٰی لا ستیّلاء المسلم علیھم وامافی بلاد علیھا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ والا عیاد ۱؎ اھ مختصرا۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی تعالٰی عنہ نے فرمایا دارالحرب کے لئے ضروری ہے کہ وہاں احکامِ شرک کا اجراء ہو اور اس ملک کا اتصال دارالحرب سے طرح ہوکہ اس ملک اوردارالحر ب کے درمیان کوئی مسلمان یاذمی امان اول کی وجہ سے امان میں نہ ہو یعنی اب مشرکین کی امان کے بغیر ا من والا نہ ہو کیونکہ جب حکم کسی علت سے ثابت ہے تو جب تک وہ علت باقی ہے حکم بھی باقی ہو گا، جب کوئی علاقہ اجرا احکام اسلامی کی وجہ سے دارالاسلام بنتاہے تو جب تک وہاں کچھ احکام وآثار باقی ہوں گے وہ دارالاسلام ہی ہوگا، اور ہر وہ شہر جس کا کفار کی طرف سے کوئی مسلمان والی ہو وہاں جمعہ وعیدین کی اقامت خراج لینا ، قضاءِ اسلامی کی پابندی اور بیوگان کا نکاح کروانا جائز ہے کیونکہ وہاں مسلمان غالب ہیں لیکن وہ علاقے جہاں کا فروالی ہیں وہاں مسلمانوں کے لئے جمعہ اور عیدین کا قیام جائز ہے اھ اختصاراً (ت)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء وما یتصل بہ مطبوعہ اسلامی کتب خانہ کرچی ۱/۱۳و۱۴)
ردالمحتار میں ہے :
فی معراج الدرایۃ عن المبسوط البلاد التی فی ایدی الکفار بلاد الاسلام لا بلادالحرب وکل مصر فیہ وال من جھتھم یجوزلہ اقامۃ الجمعۃ والاعیاد فلوالو لاۃ کفارایجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ۲؎ اھ ملخصا
معراج الدرایہ میں مبسوط سے ہے وہ علاقہ جات جو کفار کے قبضہ میں ہیں وہ بلادِ اسلام ہی ہیں بلاد حرب نہیں اور ہر وہ شہر جس میں کفار کی طرف سے والی ہو تو وہ جمعہ اور عیدین کا قیام کرسکتا ہے اور اگر والی کافرہوں تو بھی مسلمانوں کے جمعہ کا قیام جائز ہے اھ تلخیصا (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۹۵)
جمعہ وعیدین کے نہ فقط مامور بہ بلکہ خود جائز وصحیح ہونے کے لئے بھی باجماع ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم مصر شرط ہے
کتب المذہب عن اٰخرھا طافحۃ بذلک
( تمام کتب مذہب اس سے پر ہیں۔ت)
گاؤں میں جمعہ وعیدین نہ صحیح نہ جائز بلکہ گناہ ہے
کما نص علیہ فی الدرالمختار عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن جامع المضمرات وقد بیناہ فی فتاوٰنا۔
جیسا کہ اس پر درمختار میں قنیہ اور جامع الرموز میں جامع المضمرات کے حوالے سے تصریح ہے اور اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے ۔(ت)
دیہات سے بھی کم درجہ بستی جنگلوں ، میدانوں، پہاڑوں میںاہل خیمہ کے مقام ہیں جن میں مکانات کچّے پّکے اصلاً نہیں ہوتے، انھوں نے جہاں آب ومرغزار دیکھے ڈیرے ڈال دئے، خیمے تان دئیے، وہیںاقامت کرلی، یہ بستیاں نظرِ شرع میں بھی دیہات سے ادنٰی ہیں،امصار وعمرانات کے سکان اگر گاؤں میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کریں مقیم ہوجائیں گے قصر نہ کریں گے اور اُن خیمہ گاہوں میں اُنھیں اہل خیمہ کی نیت اقامت صحیح ہے جن کی طرز تعّیش ہی یہ ہے عمرانات والے بعد تحقق سفر وطے مراحل اگر چہ وہاں پندرہ دن قیام کا قصد کریں مقیم نہ ہوں گے
ھوالاصح فی الفصلین
( دونوں فصلوں میں یہی اصح ہے ۔ت)
درمختار میں ہے :
اھل اخبیۃ کترکمان نووھافی المفازۃ فانھا تصح فی الاصح وبہ یفتی اذاکان عندھم من الماء والکلاء مایکفیھم مدتھا ولونوی غیرھم الاقامۃ معھم لم یصح فی الاصح ۱؎ اھ مختصرا۔
خانہ بدوش مثلاً ترکمان قوم اگر جنگل میں اقامت کی نیت کرلیں تو یہ اصح قول کے مطابق صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی ہے بشرطیکہ وہاں ان کے لئے اتنی مدت کیلئے پانی اور چارہ ہو اور ان کے علاوہ کسی نے ان کے ساتھ نیت کرلی تو یہ اصح قول کے مطابق درست نہیں اھ مختصراً (ت)
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۷-۸)
قصبہ عرفاً مصرو دِہ میں متوسط ہے چھوٹے شہر کو کہتے ہیں جس میں آبادی کم ، مرافق قلیل ہوں بازارو پختہ عمارات ہوں نہ مثل امصار، دِہ پر گنہ ہوتاہے ضلع نہیں، اُس میں چھوٹے چھوٹے حکام ہوتے ہیں جن کی سماعت ایک حد تک محدود،بڑے حکام کوکہ ہر گونہ مقدمات دیوانی وجرائم فیصل کرسکیں نہیں ہوتے ، اس عرف حادث پر قسمیں تین (۳) ہوتی ہیں مگر زبان عربی میں وہ دو ہی چیزیں ہیں: مصر یا قریہ قصبہ ، ان سے باہر کوئی شے ثالث نہیں، قاموس ومصباح المنیر وغیرہما میں قصبۃ البلاد مدینتھا وقصبۃ القریۃ وسطھا ( شہری قصبہ، شہر ہوتا ہے اور دیہاتی قصبہ دیہات اور شہرکادرمیان ہوتا ہے۔ ت) یونہی شرع مطہرنے قصبات کو کسی حکم خاص سے مخصوص نہ فرمایا مصروقریہ کی تقسیم حاضر ہے آبادی پر ،حدمصرصادق ہوتو مصر ہے ورنہ قریہ لا ثالث لھما ( ان دونوں کے لئے تیسرا نہیں ۔ت) اب تعریف مصرمیں ہمارے علماء سے اقوال کثیرہ آئے جن میں مصحح ومختار ومعتمد ائمہ کبار دو (۲) ہیں: اول ظاہر الروایہ واصل مذہب وارشاد امام مذہب سید نا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ شہر وہ آبادی عمارت والی ہے جس میں متعدد کوچے ہوں ، دوامی بازار ہوں ، وہ ضلع یا پرگندہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات ہوں ، اس میںکوئی حاکم مقدماتِ رعایا فصیل کرنے پر مقرر ہو، جس کے یہاں قضا یا پیش ہوتے ہوں اور اس کی شوکت وحشمت مظلوم کا انصاف ظالم سے لینے کے قابل ہو اگرچہ کبھی نہ لیا جائے،پہ تعریف کتبِ کثیرہ میں با لفظ عدیدہ ومعانی متقاربہ ادا کی گئی ۔