مسئلہ ۱۳۰۹: از موضع کڑہ ڈاک خانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید کریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں چار رکعت احتیاطی ظہر کا ادا کرنا مستحب ہے یا واجب یا فرض قطعی؟ بصورتِ اولٰی وثانیہ یہ نماز احتیاطی قائم مقام فرض کے ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور صورتِ ثانیہ میں صلٰوۃ ظہر وجمعہ کا لزوم بطریق اجتماع لازم آتا ہے یا نہیں؟ اور ایسی صورت میں تارک ِ احتیاطی تارکِ فرض ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
جہاں جمعہ بحسبِ مذہب بلا شبہہ ناجائز باطل ہے جیسے وہ کو ردِہ جو کسی روایت مذہب پر مصر نہیں ہوسکتے وہاں ظہر آپ ہی عیناً فرض ہے اور جمعہ پڑھوانے اور چار رکعت احتیاطی بتانے کی اصلاً گنجائش نہیں
فان الشرع لا یأمر بارتکاب الاثم والاشتغال بما لا یصح اصلا
( شریعت کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیتی جس پر گناہ ہو اور نہ ہی ایسی شیئ میں مشغول ہونے کی اجازت دیتی ہے جو بالکل صحیح نہ ہو ۔ت) ان کا محل وہاں ہے کہ صحتِ جمعہ میں اشتباہ وتردّد قوی ہو مثلاً وہ مواضع جن کی مصریت میں شک ہے یا با وصفِ اطمینان صحت جانبِ خلاف کچھ وقعت رکھتی ہو مثلاً جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہواور سبقت نامعلوم ہو کہ اگر چہ دربارہ تعدد قول جواز ہی معتمد وماخوذ ومفتی بہ ہے مگر عدمِ جواز بھی ساقط وناقابل التفات نہیں
کما بینہ فی ردالمحتار
( جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا گیا ہے ۔ت) صورتِ اولٰی میں ان چار رکعت کا حکم ایجاباً وتاکیداً ہوگا
لوقوع الشبۃ فی برائۃ لعھدۃ
( ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میں شبہہ ہوگیا ہے ۔ ت) اور ثانیہ میں استحباباً وترغیباً
لان الخروج عن الخلاف مستحب اجماعا مالم یلزم محذور
( بالاتفاق اختلاف سے نکلنا مستحب ہے بشرطیکہ وہاں کسی ممنوع کاارتکاب نہ ہو۔ ت)
ردالمحتار میں ہے :
نقل عن المقدسی عن المحیط کل موضع وقع الشک فی کونہ مصرا ینبغی لھم ان یصلوا بعد الجمعۃ اربعا بنیۃ الظھر احتیاطاً ومثلہ فی الکافی وفی القنیۃ امرأئمتھم بالاربع بعدھا حتما احتیاطا اھ ونقلہ کثیر من شراح الہدایۃ وغیرھا وتد اولوہ وفی الظھریۃ واکثر مشائخ بخارا علیہ لیخرج عن العھدۃ بیقین ثم نقل المقدسی عن الفتح انہ ینبغی ان یصلی اربعا ینوی بھا اٰخرفرض ادرکت وقتہ ولم أودئہ ان تردد فی کونہ مصرا اوتعددت الجمعۃ وذکر مثلہ عن ا لمحقق ابن جرباش قال ثم قال وفائدتہ الخروج عن الخلاف المتوھم اوالمحقق وذکر فی النھر انہ لا ینبغی التردد فی ندبھا علی القول بجواز التعدد خروجا عن الخلاف اھ وفی شرح الباقانی ھوالصحیح بقی الکلام فی تحقیق انہ واجب اومندوب قال المقدسی ذکر ابن شحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم اما عند قیام الشک والاشتباہ فی صحۃ الجمعۃ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام مایفیدہ ویؤید التفصیل تعبیر التمرتاشی بلابد وکلام القنیۃ المذکور۱؎ اھ مختصرا۔
مقدسی نے محیط سے نقل کیا کہ ہر وہ مقام جس کے شہر ہونے میں اختلاف ہو وہاں جمعہ کے بعد احتیاطاً نیت ظہر سے چار رکعت ادا کی جائے، کافی میں بھی اسی طرح ہے۔ قنیہ میں ہے کہ ائمہ نے جمعہ کے بعد لوگوں کو حتماً چار رکعات احتیاطاً بجالانے کا حکم دیا ہے اھ اسے اکثر شارحین ہدایہ وغیرہ نے نقل کیا ہے اور اسی کو متد اول کیا ۔ ظیہریہ میں ہے کہ مشائخ بخارا کی اکثریت کا عمل اسی پر ہے تاکہ بالیقین ذمہ داری سے عہدہ برآہوسکیں، پھر فتح سے منقول ہے کہ جب شہر ہونے میں شک ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہورہا ہو تو چاہئے کہ چاررکعات اس نیت سے ادا کی جائیں کہ میں آخری فرض ادا کررہا ہوں جن کا وقت میں نے پایا مگر انھیں ادا نہیں کیا ، اسی طرح محقق ابن جرباش سے نقل کرکے کہا اس کا فائدہ ثابت یا متوہم اختلاف سے نکلنا ہے۔ نہر میں مذکور ہے کہ اختلاف سے نکلنے کے لئے جواز تعدد جمعہ کے قول پر بھی احتیاطاً ظہر کے مستحب ہونے میں تردد نہیں کرنا چاہئے اھ شرح الباقانی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اس تحقیق میں گفتگو کہ یہ واجب ہے یا مستحب ، ابھی باقی ہے ، مقدسی کہتے ہیں کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے ندب پر تصریح نقل کی اور اس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہے جب محض توہم ہو۔ مگر اس صورت میں جب صحتِ جمعہ میں شک واشتباہ ہو تو پھر اس کا واجب ہو نا ظاہر ہے اور اپنے شیخ ابن ہمام کی عبارت کو اپنی تائید میں نقل کیا اور اس کی تفصیل کی تائید تمرتاشی کے الفاظ '' لابد'' اور قنیہ کے مذکور کلام سے بھی ہوتی اھ مختصرا (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۹۶)
رہایہ اشتباہ کہ مستحب یا واجب قائم مقام فرض کیونکر ہوں گے ان رکعات کی نیت پر نظر کی جائے تو بنگاہِ اولین اندفاع پائے، ابھی فتح القدیر وغیرہ سے گزرا کہ یہ رکعات بہ نیت آخریں فرض ہی پڑھی جاتی ہیں نہ کہ بہ نیت مستحب یا واجب مصطلح توفرض بہ نیت فرض ادا ہوجانے میں کیا تردّد ہے یعنی عنداﷲ اگر صحت نہ تھی تو نفس الامر میں ظہر فرض تھا، جب اُس نے اُس پچھلے فرضِ ظہر کی نیت کی جس کا وقت پایا اور ابھی ادا نہ کی تو یہی ظہر ادا ہوجائے گا ورنہ اگر پہلے کوئی ظہر ذمّہ پر تھا وہ ادا ہوگا ورنہ یہ رکعات نفل ہوجائیں گی اور نفل بہ نیت فرض ادا ہونا خود واضح ہے واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۱۰: از مخدوم پور ڈاکخانہ نرہٹ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید رضی الدین صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ جناب مستطاب مخدومنا مولنٰا مولوی احمد رضا خاں صاحب زاد مجد ہم بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کے مکلف خدمت ہوں کہ اس موضع مخدوم پور قاضی چک میں اورنیز قرب وجوار میں اس کے نماز جمعہ و عیدین ہم لوگ مقلدین حنفی پڑھا کرتے ہیں اور جماعت جمعہ کی خاص اس موضع میں پندرہ بیس آدمی او ر کبھی کم بھی ہوا کرتی ہے اب بعض معترض ہیں کہ جمعہ دیہات میں نزدامام ابو حنیفہ صاحب جائز نہیں ہے پڑھنا بھی نہ چاہئے مخدومنا پڑھا کروں یا ترک کردوں، حضور کے نزدیک جو جائز ہو مطع فرمائیں تا مطابق اس کے کار بند ہوں اور نمازِ عیدین بھی دیہات میں ہویا نہ ہو؟ شہر صاحب گنج یہاں س کوس پر ہے۔ زیادہ حد نیاز۔ احقر رضی الدین حسین عفی عنہ
الجواب
جناب مکرم ذی المجد والکرم اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم وحمۃ اﷲ وبرکاتہ، فی الواقع دیہات میں جمعہ وعیدین باتفاق ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ممنوع وناجائز ہے کہ جونماز شرعا صحیح نہیں اس سے اشتغال روا نہیں،
درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کا م میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں اھ ردالمحتار میں ہے اور اسی کی مثل جمعہ ہے ، ح ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۴)
(۲؎ ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۶۱۱)
جمعہ میں اس کے سوا اور بھی عدمِ جواز کی وجہ ہے کما بیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے ۔ت) ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انھیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلئے شہر سمجھی جائے گی ،
امام اکمل الدین بابرتی عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
(وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا ( فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلک )حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۱؎ الخ
( اور ان سے ) یعنی امام ابویوسف سے ہے ( جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے، خواتین اور غلام، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں ( سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کے لئے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں الخ (ت)
(۱؎ عنایہ شرح ہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب صلٰوۃالجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر ۲ /۲۴)
جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے،
واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی کا فرمان حق ہے اور وہی راستہ کی ہدایت دیتا ہے اور اﷲکی ذات پاک ، بلند اور خوب جاننے والی ہے ۔(ت)