| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ ۱۳۰۶تا ۱۳۰۸: از بنگالہ ضلع پابنہ ڈاکخانہ سراج گنج موضع بھنگا باڑی مرسلہ منشی عنایت اﷲ صاحب ۶ شوال ۱۳۱۶ھ ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی ( اﷲ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیا فرمان ہے ) اس مسئلہ میں کہ: (۱) بعض خطبہ میں جولکھا ہے کہ فرود آید بالا رود بدست راست خواند بدست چپ خواند( نیچے آئے ، اوپر جائے دائیں طرف اور بائیں طرف متوجہ ہو کر پڑھے) اس کا اصل کیا اور مبنی کہاں سے ہے اور اس پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) بعض خطبہ کے درمیان جو اردو اشعار لکھا ہے خطبہ مع اُس کے پڑھنا یا صرف فارسی یا اردو یا اور کوئی زبان میں سوائے عربی کے پڑھنا اول سے اخیر تک چاہے عید ہو یا جمعہ، جائز ہے یا نہیں؟ (۳) منبر کتنی سیڑھی کا ہونا چاہئے اور کس پر کھڑے ہو کر خطبہ چاہئے اور منبر کس زمانہ سے شروع ہوا ہے؟
الجواب (۱) دہنے بائیں منہ پھیرنا بے اصل ہے اس پر عمل نہ کیا جائے اور ذکر سلطان کے وقت ایک پایہ نیچے اُتر نے کو بھی بعض شافعیہ نے قبیح بتایا ، اور واقعی اگر مصلحت شرعیہ سے خالی ہوتو عبث ہے اور عبث کا درجہ مکروہ،
فی ردالمحتار قال ابن حجر فی التحفۃ وبحث بعضھم ان ما اعتید الان من النزول فی الخطبۃ الثانیۃ الٰی درجۃ سفلی ثم العود بدعۃ قبیحۃ شنیعۃ۱؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ ابن حجر نے تحفہ میں فرمایا کہ بعض علماء نے فرمایا کہ یہ جو معمول بن گیا ہے کہ دوسرے خطبہ کے وقت نیچے درجہ پر آنا پھر اوپر والے درجہ کی طرف لوٹنا بدترین بدعت ہے ۔(ت)
(۱ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۰۸)
ہندیہ میں سُننِ خطبہ میں ہے :
استقبال القوم بوجھہ ۲؎
( قوم کی طرف منہ کرنا ۔ت)
(۲؎فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۴۶)
ردالمحتار میں ہے :
مایفعلہ بعض الخطباء من تحویل الوجہ جھۃ الیمین وجھۃ الیسار عند الصلٰوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الخطبۃ الثانیۃ لم ارمن ذکرہ والظاھرانہ بدعۃ ینبغی ترکہ لئلا یتوھم انہ سنۃ ثم رأیت فی منہاج النووی قال ولا یلتفت یمینا وشمالا فی شیئ منھا قال ابن حجر فی شرحہ لان ذلک بدعۃ انتھٰی ویؤخذ ذلک عندنا من قول البدائع ومن السنۃ ان یستقبل الناس بوجہہ و یستدبر القبلۃ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یخطب ھکذا۱؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم
بعض خطباء درسرے خطبہ کے دوران نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ پھیرتے ہیں ، اس کاذکر میرے مطالعہ میں نہیں آیا ، اور ظاہر یہی ہے کہ اسے ترک کردینا چاہئے تا کہ کوئی اسے سنت نہ بنالے، پھر میں نے منہاج النووی میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ کسی شیئ میں دائیں بائیں التفات نہ کرے ، ابن حجر نے شرح میں فرمایا اس لئے کہ یہ بدعت ہے انتہی او رہمارے نزدیک بدائع کے اس قول سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سنت یہ ہے کہ امام لوگوں کی طرف منہ کرے اور قبلہ کی طرف پشت کرے کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسی طرح خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے اھ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱ردالحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۹۸)
(۲) خطبہ میں کوئی شعر اردو فارسی نہ پڑھنا چاہئے نہ خطبہ عربی کے سوا کسی زبان میں پڑھا جائے کہ یہ سنت متوارثہ کی خلاف ہے کما حققناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم (۳) منبر خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بنوایا اور اس پر خطبہ فرمایا ۲؎
کما ثبت فی الصحیحین وغیر ھما حدیث سھل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ
( بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت سہل بن سعد رضی تعالٰی عنہ سے مروی ہے ۔ت) منبر اقدس کے تین زینے تھے علاوہ اوپر کے تختے کے جس پر بیٹھتے ہیں
(۲؎ صحیح بخاری باب الخطبۃ علی المنبر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ا/۱۲۵)
وقد وقع ذکر ھن فی غیرما حدیث کحدیث وعید من ذکر عندہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم یصل۳ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ان کا ذکر متعد د احادیث میں ہے جیسے وہ حدیث جس میں ذکر ہے کہ جس شخص کے پاس حضور علیہ السلام کانام مبارک لیا اور اس نے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر درود شریف نہ پڑھا تو اس کے لئے وعید ہے (ت)
(۳؎الترغیب والترہیب کتاب الصوم ص۹۳ ۔کتا ب الذکروالد عاء مصطفی البابی مصر ۲ /۸ ۔ ۵۰۷)
ردالمحتار میں ہے :
منبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان ثلث درج غیر المسماۃ بالمستراح ۴؎۔
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مقدس منبر کے تین زینے اس تخت کے علاوہ تھے جس پر بیٹھا جاتا ہے۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۸)
حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درجہ بالا پر خطبہ فرمایا کرتے ، صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے دوسرے پر پڑھا، فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تیسرے پر ، جب زمانہ ذوالنورین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا آیا پھر اول پر خطبہ فرمایا سبب پوچھا گیا، فرمایا اگر دوسرے پر پڑھتا لوگ گمان کرتے کہ میں صدیق کا ہمسر ہوں اور تیسرے پر تو ہم ہو تا کہ فاروق کے برابر ہوں ۔ لہذا وہاں پڑھا جہاں یہ احتمال متصور ہی نہیں اصل سنت اول درجہ پر قیام ہے
ومافعلہ الصدیق فکان تأدبامنہ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومافعل الفاروق فکان تأدبامع الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنھما
حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ادب کی بنا پر ایسا کیا اور حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ادب کی خاطر ۔(ت) بلندی منبر سے اصل مقصد یہ ہے کہ سب حاضرین خطیب کو دیکھیں او راُس کی آواز سنیں جہا ں یہ حاجت بسبب کثرت حضار و دوری صفوف تین زینوں میں پوری نہ ہو تو زینے زیادہ کرنے کا خود ہی اختیار ہے اور بہتر عدد طاق کی مراعات
فان اﷲ وتریحب الوتر
( اﷲ تعالٰی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم