Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
70 - 144
مسندِ احمد سُنن ابی داؤد میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من قال لصاحبہ یوم الجمعۃ  صہ فقدلغاومن لغا فلیس فی جمعتہ تلک  شیئ ۳؎۔
جو جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے چُپ کہے اُس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا اُس کے لئے اس جمعہ میں کچھ اجر نہیں۔
(۳؎ سنن ابوداؤد     باب فضل الجمعۃ          مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۱۵۱)
امام احمد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من یتکلم یوم الجمعۃ والامام یخطب فھو کمثل الحمار یحمل اسفارا والذی یقول لہ انصت لیس لہ جمعۃ ۴؎۔
جمعہ کے دن جب امام خطبہ میں ہو بولنے والا ایسا ہے جیسے گدھا جس پر کتابیں لدی ہوں اور جو اُس سے چپ کہے اُس کا جمعہ نہیں،
(۴؎مسند احمد بن حنبل     مروی از عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ      مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۲۳۰)
یہیں سے منجلی ہوا کہ حدیث استسقائے مذکور صحیحین سے استدلال صحیح نہیں اُس سے اگر ثابت ہوگا تو وقت خطبہ امام جوازِ کلام اور اس کی حرمت پرائمہ مذہب کا اجماع اور احادیث صریحہ صحیحہ جن کی بعض مذکور ہوئیں مثبت تحریم قاطع نزاع
فان الحاظر مقدم وتمام الکلام فی الفتح وغیرہ
( کیونکہ منع کرنے والی مقدم ہے اور اس پر تفصیلی گفتگو فتح وغیرہ میں ہے ۔ت) باقی رہا یہ کہ حاضرین نے کہا بارش کی دعا کیجئے اور یہ کہ تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے اور یہ کہ آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا یہ سب غلط دعوے ہیں اور صحیحین میں ان کا کہیں پتا نہیں، رہی فرع کتابت مذکورہ علمگیریہ۔
اولا : جو بعض اُسے جائز رکھتے ہیں وہ بھی اُس کے لئے جو امام سے اس قدر دور ہو کہ خطبے کی آواز اُس تک نہ جاتی ہو تو قریب کے لئے جو از باد کشی پر اُس سے استدلال کہ سنتا رہے اور حاضرین کو ہوا کرے استدلال بالمخالف ہے،

غنیہ و بزازیہ و شرنبلالیہ میں ہے :
واللفظ للحلبی الختلف المتاخرون فی البعید عن الامام فمحمدبن سلمۃ اختار السکوت فی حقہ ایضا ونصیر بن یحیی اجازا القرأۃ ونحوھا وعن ابی یوسف اختیارالسکوت و حکی عنہ انہ کان ینظر فی کتابہ ویصلحہ بالقلم ۱؎۔
حلبی کی عبارت یہ ہے امام سے دور شخص کے بارے میں متاخرین کا اختلاف ہے محمد بن سلمہ کے ہاں اس کے حق میں بھی سکوت ہے ، نصیر بن یحٰی قرائت وغیرہ کی اجازت دیتے ہیں، امام ابویوسف سے سکوت کامختار ہونا منقول ہے اور آپ ہی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس حالت میں اپنی کتاب پڑھ رہے تھے اور قلم سے اس کی اصلاح فرمارہے تھے۔ (ت)
(۱؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی    فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۶۱)
خانیہ و خزانۃ المفتین میں ہے :
اما درسہ الفقہ والنظر فی کتب الفقہ وکتابتہ من اصحابنا رحمھم اﷲ من کرہ ذلک ومنھم من قال لاباس بہ اذاکان لایسمع صوت الخطیب ( زادہ فی الخانیۃ) وھکذا روی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی ۲؎۔
فقہ کی تدریس، کتب فقہ کا مطالعہ اور کتابت ہمارے بعض علماء کے نزدیک مکروہ ہے اور بعض اس تک امام کی آواز نہ پہنچ رہی ہو ( خانیہ میں یہ اضافہ ہے ) اور امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے اسی طرح مروی ہے ۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی  قاضی خاں        باب صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ نولکشور لکھنؤ     ۱/۸۷)
مراقی الفلاح میں ہے:
فی الینا بیع یکرہ التسبیح وفرائۃ القراٰن اذاکان یسمع الخطبۃ وروی عن نصیر بن یحیی انکان بعید امن الامام یقرأ القراٰن فمن فعل مثلہ ولایشغل غیرہ بسماع تلاوتہ  لاباس بہ کالنظر فی الکتابۃ وفیہ خلاف وعن ابی یوسف لاباس بہ والحکم بن زھیر کان یجلس مع ابی یوسف و ینظر فی کتابہ ویصحح بالقلم وقت الخطبہ وقال الکمال یحرم الاکل والشرب والکتابۃ انتھی یعنی اذا کان یسمع لما قد مناہ ان کتابۃ من لایسمع الخطبۃ غیر ممتنعہ ۱؎ انتھی ملتقطا
ینابیع میں ہے کہ امام کا خطبہ سُنتے وقت تسبیح او رقرأت قرآن مکروہ ہے ، نصیر بن یحیٰی سے مروی ہے کہ اگر

وہ آدمی امام سے دور ہو توقرآن پڑھ سکتا ہے ، جس نے ایسے کیا اور اپنی تلاوت کے سماع میں دوسرے کو مشغول نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، حکم بن زہیر بوقتِ خطبہ امام ابویوسف کے ساتھ بیٹھ جاتے، کتاب دیکھتے اور قلم سے اصلاح کرتے، کمال نے فرمایا کھانا پینا اور کتابت اس موقعہ پر حرام ہے انتہی یعنی جب خطبہ سن رہا ہو ، جیسا کہ پیچھے گزر چکا کیونکہ نہ سننے والے کے لئے کتابت منع نہیں انتہی ملتقطا (ت)
 (۱؂مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب الجمعہ    مطبوعہ نور محمد کُتب خانہ کراچی    ص ۲۸۳)
ثانیا : یہ قول بعض ونامعتمد ہے، صحیح یہی ہے کہ دور نزدیک سب پر سکوت واجب ، او کتابت وقرأت جمیع اعمال ناجائز ، طحطاویہ میں زیر قول مذکور مراقی ہے :
قولہ غیر ممتنعہ، المعتمد المنع ۲؎ اھ اقول وحملہ کلام الکمال علی القریب بعید کل البعد فان  ا  لکمال صرح بخلافہ کما سنسمعک نصہ۔
ان کا قول'' منع نہیں'' منع معتمد ہے اھ اقول کلامِ کمال کو قریبی شخص پر محمول کرنا نہایت ہی بعید ہے کیونکہ کمال نے اس کے خلاف تصریح کی ہے جیسے کہ عنقریب ہم ان کی عبارت پیش کردیں گے (ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح     باب الجمعہ    مطبوعہ نور محمد کُتب خانہ کراچی    ص۲۸۳)
ردالمحتار میں فیض علامہ کرکی سے ہے:
لوکان بعید الایسمع الخطبۃ ففی حرمۃ الکلام خلاف وکذا فی قرأۃ القراٰن والنظر فی الکتب وعن ابی یوسف انہ کان ینظر فی کتابہ ویصححہ بالقلم والاحوط السکوت وبہ یفتی ۳؎۔
اگر وہ امام سے دور ہے خطبہ نہیں سن رہا تو وہاں کلام کے حرام ہونے میں اختلاف ہے، اسی طرح قرأتِ قرآن اور مطالعہ کتاب کے بارے میں بھی اختلاف ہے، امام ابو یوسف کے بارے میں ہے کہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قلم سے اصلاح کررہے تھے، احوط سکو ت ہے اور اسی  پر فتوٰی ہے ۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار             باب الجمعہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۶۰۶)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
النائی عن الامام فی استماع الخطبۃ کالقریب والانصات فی حقہ ھو المختار ۱؎۔
امام سے دور شخص خطبہ سننے میں قریبی کی طرح ہوتا ہے اوراس کے حق میں بھی خاموش ہے، یہی مختار ہے ۔ (ت)
(۱؎جواہر الاخلاطی        فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ        غیر مطبوعہ نسخہ            ص ۴۹)
ہندیہ میں تبیین الحقائق امام زیلعی سے ہے:
ھوالا حوط ۲؎
( یہی احوط ہے ۔ت)
(۲؎ فتاوٰی  ہندیۃ       الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۴۷ )
محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے:
ھوا لاصح ۳؎
( یہی اصح ہے۔ ت)
 (۳؎ فتاوی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی   الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۴۷)
شرح نقایہ برجندی میں خزانہ سے ہے:
ھوا لاولٰی۴؎
( یہی اولٰی ہے ۔ت)
 (۴؎ شرح نقایہ للبرجندی        فصل یجہر الامام فی الجمعۃ الخ     مطبوعہ نولکشور لکھنؤ            ۱/ ۱۱۵)
ہدایہ وایضاح الاصلاح میں ہے :
اختلفوا فی النائی عن المنبر والا حوط السکوت ( زادفی الہدایۃ) اقامۃ الفرض الانصات ۵؎۔
منبر سے دُور والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ سکوت احوط ہے ( ہدایہ میں اضافہ ہے کہ) خاموشی کے فریضہ کو قائم کرتے ہوئے۔(ت)
 (۵؎ الہدایۃ    باب صفۃ الصلٰوۃ   مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی       ۱ /۱۰۱)
کافی شرح وافی میں ہے : الاحوط السکوت لانہ مامور بالاستماع والانصات اذاقرب من الامام و عند بعد ان لم یقدر علی الاستماع فقد قدر علی الانصات فیجب عیلہ ۔۶؎
سکوت احوط ہے کیونکہ خطبہ سننے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کاحکم ہے جبکہ امام کے قریب ہو اور اگر دور ہو تو وہ اگر چہ سننے پر قادر نہیں مگر متوجہ ہونے پر قادر ہے لہذا اس پر یہ واجب ہوگا۔ (ت)
(۶؎ کافی شرح وافی )
فتح القدیر فصل القراءۃ میں ہے :
ھذا اذاکان بحیث  یستمع   فاما النائی فلا روایۃ فیہ عن المتقدمین واختلف المتاخرون  والاحوط السکوت یعنی عدم القراءۃ والکتابۃ ونحوھا لاا لکلام المباح فانہ مکروہ فی المسجد فی غیر حال الخطبۃ فکیف فی حالھا۱ ؎۔
یہ اس وقت ہے جب خطبہ سن رہا ہو، دور والے کے بارے میں متقدمین سے کوئی روایت نہیں، متاخرین کا اختلاف ہے سکوت احوط ہے یعنی عدمِ قرات اور عدم کتابت  وغیرہ نہ کہ کلام مباح کیونکہ یہ تو مسجد میں حالتِ خطبہ کے علاوہ بھی مکروہ ہے تو حالتِ خطبہ کے دوران یہ کیسے جائز ہوگی (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    فصل فی القرائۃ    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر                ۱/۲۹۸)
ملتقی الابحر ومجمع الانہر میں ہے :
 (النائی) ای البعید الذی لایسمع الخطبۃ (والدانی) ای القریب (سواء)فی وجوب الاستماع والانصات امتثا لاللامر ۲ ؎۔
 (النائی) یعنی دور والا شخص جو خطبہ نہیں سن سکتا ( والدانی) یعنی قریبی شخص حکم کی بجاآوری کی بنا پر سننے اور متوجہ ہونے کے وجوب میں ( دونوں برابر ہیں) (ت)
 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر   فصل فی احکام القراءۃ    مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۷)
غرر ودرر میں ہے :
 (البعید) عن الخطیب ( کالقریب) فی وجوب الاستماع والا نصات ۳؎۔
بعید خطیب سے خطبہ سننے اور متوجہ ہونے میں قریبی کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (ت)
 (۳؎ دررالحکام شرح غرر الاحکام فصل فیما یجہر الامام مطبوعہ مکتبہ احمدکامل کائنہ، دارسعادت مصر ۱/۸۴)
تنویر و در میں ہے :
 (البعید) عن الخطییب( والقریب سیان) فی افتراض الانصات ۴؎۔
متوجہ ہوکر سننے میں خطیب کا قریبی اور دُور والا برابر ہوتے ہیں ۔(ت)
 (۴؎ درمختار    فصل ویجہر الامام الخ   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/۸۱)
اُنھیں میں ہے  :
یجب علیہ ان یستمع ویسکت
بلافرق بین قریب وبعید فی الاصح ۵؎۔
اصح قول کے مطابق خطبہ کا سننا اور خاموش رہنا لازم ہے بلاتفریق کہ وہ قریب ہے یا دور ۔ (ت)
 (۵؎ درمختار            فصل ویجہر الامام الخ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۱۳)
کنزالدقائق و بحر الرائق میں ہے  :
(النائی کا لقریب )ہو الاحوط۔۶؂
 ( دُور والا قریب کی طرح ہے) یہی احتیاط ہے (ت)
 (۶؎ البحرالرائق            باب صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۲ /۱۵۵)
عبارات سابقہ سے تو واضح تھا ہی کہ سُننا جو فرض ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ کان میں آواز پہنچے اگر چہ آپ دوسرے کام میں مشغول ہو ورنہ کھانا، پینا ،چلنا، گردن پھیر کر دیکھنا کیوں حرام ہوتا کہ ان میں کون سا کام کان میں آواز جانے کے منافی ہے بلکہ اس کے یہ معنی کہ ہمہ تن اُسی طرف متوجہ ہو اور دوسرے کسی کام میں مشغول نہ ہو، مگر ان عبارات لاحقہ نے اور بھی تر کردیا کہ سراپا تمام اعضاء سے اُسی طرف متوجہ رہنا خود واجب ہے کہ بعید کے لئے تو کان میں آواز آنا بھی نہیں مگر قول صحیح ومعتمد ومفتی بہ یہی ہے کہ اُسے بھی اور اعمال میں مشغولی حرام ، تو یہ زعم کہ خطبہ بقدر سنت سُن کر باقی کو سنتا رہے اور ہو اکرے۔



اوّلاً : صاف قول بالتنا فیین ہے اور استماع وانصات کے معنی نہ سمجھنے سے ناشیئ۔



ثانیاً :  یہ فعل مخل استماع ہے یا نہیں، اگر ہے تو مطقاً حرام ہونا واجب نہ یہ کہ قدر سنت کے بعد اجازت ہو، اور اگر نہیں تو مطلقاً جائز ہونا چا ئیے قدر سنت کا استثناء کس لئے،



ثالثاً : دونوں خطبے مسنون ہیں، نہ کہ ہر خطبے یاصرف اولٰی سے اُس کا ایک جز، تو قدر سنت سن چکنا بعد تمامی خطبتین صادق ہوگا اب کیا نماز پڑھتے میں پنکھا جھلتا پھرے گا شاید ادعا کیا جائے کہ اگر کوئی امام خطبہ کبیرہ طویلہ بطول فاحش مخالفِ سنت پڑھے تو قدرسنت کے بعد مقدار زیا دت میں یہ حرکت جائز ، اول تو اس کا ارادہ کلام قائل سے بعید و ہ مطلق ہے نہ کہ اس صورت نادرہ مکروہہ سے خاص اور ہو بھی تو یہ بھی غلط وباطل ہے، مقدار میں بڑھا دینا درکنار خطبے میں ذکرو مدح ظالمین بھی ہو قطعاً خلافِ سنت کیا حرام شدید اور یقینا مقاصد خطبہ سے جدا وبعید ہے ، جب بھی صحیح یہی ہے کہ استماع وانصات واجب ،
مجتبی شرح قدروی پھر نہرالفائق پھر فتح اﷲ المعین  علامہ سید البوالسعود ازہری میں ہے :
استماع الخطبۃ من اولھا الٰی اٰخرھا واجب وان کان فیھا ذکر الولاۃ وھوالاصح۱؎۔
خطبہ کا اوّل تا آخر سُننا لازم ہے اگر چہ اس میںامراء کا ذکر ہو، یہی اصح ہے (ت)
 (۱؂فتح المعین        باب صلٰوۃ الجمعۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۳۲۱)
محیط برہانی پھر عالمگیریہ میں ہے :
واللفظ لھا الذی علیہ عامۃ مشائخنا ان علی القوم ان یسمعوا الخطبۃ من اولھا الی اٰخرھا والدنومن الامام افضل من التباعد عنہ وھو الصحیح من الجواب مشائخنا رحمہم اﷲ تعالٰی  ۲؎۔
وہ الفاظ جن پر اکثر مشائخ ہیں وہ یہ ہے کہ قوم پر اول تا آخر خطبے کا سُننا لا زم ہے، امام کا قُرب دوری سے افضل ہے اور مشائخ کے جواب میں سے یہی صحیح ہے ۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی  ہندیۃ    الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۴۷)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
 ( لاصلٰوۃ ولا کلام الی تمامھا) وان کان فیھا ذکر الظلمۃ فی الاصح ۱؎۔
 (خطبہ مکمل ہونے تک کوئی نماز اور کوئی کلام نہیں) اگر چہ اس میں ظالم حکمرانوں کا ذکر ہو، یہی اصح ہے ۔(ت)
(۱؎د رمختار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/ ۱۱۳)
علامہ حموی کا کوئی فتاوی مسموع نہیں ، نہ ان کی کسی کتاب سے حرکت مذکورہ کا جواز مستفاد، ملاحظہ معنی جس طرح خطبے میں مقصود یوں ہی نماز میں، کیا نماز میں بھی اسی نیک نیت سے پنکھا جھلتے پھرنے کی اجازت ہوگی، جنت میں اُس ہواکی یہ غایت تاکہ باطمینان دیدار سے مشرف ہوں، سخت ابعدو واجب الرد ہے، جنت میں معاذ اﷲ گرمی و حبس کا کون سا وقت ہوگا جس کے ازالے کو ہوا کی حاجت ہو، اہل جنت کے لئے معاذاﷲ بے اطمینانی کا سامان کس وقت ہوگا کہ تحصیل اطمینان کی ضرورت ہو، وہاں کے جتنے امور ہیں سب محض لذت وزیادت نعمت ہیں، ولہذا محققین فرماتے ہیں دنیا میں حقیقۃً کوئی لذت نہیں جسے لذت گمان کیا جاتا ہے، واقع میں دفع الم ہے ، پانی یاشربت کیسا ہی سر دوشریں وخوشبو وخوشگوار ہو پیاس نہیں تو کچھ لذت نہیں دیتا، کھانا کیسا ہی لذیذ وعمدہ و خوشبو وخوش مزہ ہو بھوک نہیں تو کچھ لطف نہیں آتا، تو حقیقۃً بھوک پیاس کا الم دفع ہوتا ہے، نہ لذت خالصہ وعلی ہذا القیاس باقی تمام ملاذ بخلاف بہشت کہ وہاں اصلاً نہیں ، نہ بھوک ، نہ پیاس، نہ گرمی، نہ احتباس تو وہاں جو کچھ ہے خالص و حقیقی لذت ہے۔
رزقنا اﷲ تعالٰی بمنہ وکرمہ فضل رحمتہ بصالحی عبادہ اٰمین بجاہ محمد نبی الرحمۃشفیع الامۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و علیحم اجمعین اٰمین۔
اﷲ تعالٰی اپنے کرم ، احسان،فضل اور پیارے نبی رحمۃ، شفیع امت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور صالحین بندوں کے طفیل یہ جنتی لذت ہمیں عطا فرمائے۔ آمین ! (ت)

اور بفرضِ باطل ایسا ہو بھی تو وہاں کون ساخطبہ ہے اور باری عزوجل پر کس چیز کا استماع واجب ، اور کس وقت اپنے کسی فعل سے باز رہنا لازم، اور اُسے کون سا فعل درسرے سے مشغول کرسکتاہے ، پھر افعالِ الہیہ سے استناد عجب تماشا ہے ،معبودو عابد کی کیا ریس ، ہمیں اتباعِ احکام سے کام ہے وبس۔
وقفنااﷲ تعالٰی لہ اٰمین واﷲ وسبحٰنہ وتعالٰی اعلم
Flag Counter