Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
69 - 144
الجواب

تحریر ثانی صحیح ہے اور رائے نجیح فی الواقع فعل مذکور گناہ وحرام، او راس کا فاعل مرتکب آثار، اور اُس میں ثواب طمع خام، او رتحریر اول سراسر اوہام، خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین و مجتبی وجلابی وحلیہ و جامع الرموز وبحرالرائق ونہر الفائق ومراقی الفلاح وتنویر الابصار ودرمختار وطحطاوی علی المراقی ومنحۃ و ہندیہ ومنحۃ الخالق وغیرہا عامہ کتب مذہیب میں صاف تصریح ہے کہ جو فعل نماز میں حرام ہے خطبہ ہونے کی حالت میں بھی حرام ہے، خلاصہ و علمگیریہ ومتن و شرح تنویر کی عبارات کلام مجیب میں گزریں اورعبارت خزانۃ المفتین بعینہا عبارت خلاصہ ہے اور اُسی سے بحر و حاشیہ البحر للعلامۃ الشامی میں یہ نقل نہر ماثور۔
وجیز امام کردری میں ہے :
مایحرم فی الصلٰوۃ یحرم فی الخطبۃ کالا کل والشرب حال الخطبۃ۳؎۔
جو کچھ نماز میں حرام ہے خطبہ میں بھی حرام ہے مثلاً خطبہ کے دوران کھانا پینا۔ (ت)
 (۳؎ فتاوی بزازیہ علٰی ہامش الفتاوٰی الہندیہ    الثالث والعشرون فی الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۷۴)
شرح منیہ امام محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی میں ہے :
کما یکرہ الکلام بانواعہ یکرہ مایجراہ من کتابۃ ونحوھا مما یشغل عن ساعھا حتی ان فی شرح الزاھدی ویکرہ لمستمع لخطبۃ مایکرہ فی الصلٰوۃ کالا کل والشوب والعبث والا لتفات ۱؎۔
جیسے ہر طرح کی گفتگو منع ہے ویسے ہی اس کے قائم مقام مثلاً کتابت وغیرہ جو خطبہ کے سماع میں خلل ڈالے حتی کہ شرح الزاہدی میں ہے کہ خطبہ کے سامع کے لئے ہو وہ شیئ مکروہ ہے جو نماز میں مکروہ ہے مثلاً کھانا پینا، عبث فعل اور کسی طرف متوجہ ہونا وغیرہ (ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح بحوالہ النہر عن البدائع  مفہوماً باب الجمعہ   مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۸۲)
اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرح نورالایضاح میں بحوالہ شرح الکنزللعلامۃ عمر بن نجیم وشرح القدوری لمختار بن محمود سے نقل کیا ۔                                                                                                                                               شرح نقایہ علامہ محمد قہستانی میں ہے:
کما منع الکلام منع الاکل والشرب العبث والالتفات والتخطی وغیرھا مما منع فی الصلٰوۃ کما فی جلابی ۲؎۔
جس طرح گفتگو منع ہے اسی طرح کھانا پینا عبث کام ، کسی اور طرف متوجہ ہونا اور خط وغیرہ کھینچنا جو کہ نماز میں ممنوع ہیں منع ہیں جیسا کہ جلابی میں ہے ۔(ت)
(۲؎ جانع الرموز       فصل فی صلٰوۃ جمعہ    مطبوعہ گنبدقاموس ایران        ۱/ ۲۶۸)
متن وشرح علامہ حسن شرنبلالی میں ہے :
( کرھہ لحاضر الخطبۃ الاکل والشرب)وقال الکمال یحرم ( والعبث والالتفات) فیجتنب ما یحتنبہ فی الصلٰوۃ ۳؎ اھ باختصار۔
(خطبہ میں حاضر شخص کے لئے کھانا پینا مکروہ ہے ) کمال نے کہا حرام ہے ( بے فائدہ کام کسی اور طرف متوجہ ہونا) پس ہر شے سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے نماز میں اجتناب کیا جاتا ہے اھ اختصاراً (ت)
(۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی      مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۲۸۳)
غنیہ شرح منیہ للعلام ابراہیم الحلبی میں ہے :
الاستماع والانصات واجب عندنا وعند الجمہور حتی انہ یکرہ قراء ۃ القراٰن ونحوھا وردالسلام تشمیت العاطس وکذاالاکل والشرب وکل عمل۴؎۔
خطبہ سننا اور اُس کی طرف متوجہ ہونا ہمارے اور جمہور کے نزدیک واجب ہے حتی کہ اس کے دوران قراءتِ قران وغیرہ، سلام کا جواب ، چھینک کا جواب مکروہ ہے اور اسی طرح کھانا پینا اور ہر عمل کا یہی حکم ہے (ت)
(۴؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی   فصل فی صلٰوۃ الجمعہ      مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور  ص ۵۶۰)
کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ بادکشی مذکور نمازی کو بحالت نماز حلال ہے حاشا قطعاً حرام ہے تو حسب تصریحات متوافرہ ائمہ وعلمائے معتمدین بحالت خطبہ بھی حرام وموجب آثام ہے یہیں سے اُس روایت اشارہ بچشم وسرو دست کا بھی جواب ظاہر ہوگیا کہاں کسی منکر یا اور کسی حاجت کے لئے ایک اشارہ کردینا اور کہاں حالتِ خطبہ میں حاضرین کو پنکھا جھلتے پھرنا، یہ قیاس فاسد اگر صحیح ہو تو یہ حرکت نماز میں بھی جائز ٹھہرے کہ ایسا اشارہ تو عین نماز میںبھی حرام نہیں ، مثلاً کوئی شخص نمازی کو سلام کرے یا نمازی سر یا ہاتھ کے اشارے سے جواب دے دے یا کوئی کچھ مانگے یہ ہاں یا نہ کا اشارہ کردے ،یا کوئی پوچھے کَے رکعتیں ہوئیں، یہ انگلیوں کے اشارہ سے بتادے یا کوئی روپیہ دکھا کر کھوٹا کھرا پوچھے یہ ایما سے جواب دے دے تو یہ سب صورتیں اگر چہ مکروہ ہیں مگر حرام و مفسدِ نماز نہیں ،
درمختار باب مفسدات الصلٰوۃ میں ہے :
( وردالسلام ) ولو سھوا ( بلسانہ ) لا بیدہ بل یکرہ علی المعتمد ۱؎ ۔

( سلام کا جواب دینا) اگر چہ بھول کر ہو ( زبان کے ساتھ) نہ کہ ہاتھ کے ساتھ، بلکہ یہ معتمد قول کے مطابق مکروہ ہے ۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلٰوۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت    ۱/ ۸۹)
ردالمحتار میں ہے :
ای لایفسدھا ردالسلام بیدہ خلافہ لمن عزا الی ابی حنیفۃ انیہ مفسد فانہ لہم یعرف نقلہ من احد من اھل المذب وانما یذکرون عدم الفساد بلا حکایۃ خلاف بل صریح کلام الطحطاوی انہ قول ائمتنا الثلثۃ کذافی الحیلۃ وفی البحرالرائق ان الفساد ولیس بثابت فی المذھب ویدل لعدم الفسساد انہ  صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فعلہ کما رواہ ابوداؤد وصححہ فی الترمذی وصرح فی المنیۃ بانہ مکروہ ای تنزیھا ۲؎ اھ مختصرا
یعنی ہاتھ کے ساتھ سلام کا جواب دینا نماز کے لئے فاسد نہیں بخلاف اس کے جس نے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ فاسد نماز ہے کیونکہ اس کا یہ کسی اہل مذہب سے منقول ہونا معروف نہیں علماء نے بغیر اختلاف ذکر کئے عدمِ فساد بیان کیا ہے بلکہ کلام طحطاوی میں تصریح ہے کہ یہ تینوں ائمہ کا قول ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے، اور بحرالرائق میں ہے کہ فساد مذہب میں ثابت نہیں اور اس کے عدمِ فساد پر نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا عمل دلالت کرتا ہے جیسا کہ ابوداؤد میں ہے، ترمذی نے اس کی تصحیح فرمائی اور منیہ میں اس کے  مکروہ ( تنزیہی ) ہونے کی تصریح ہے اھ مختصرا (ت)
(۲؎ ردالمحتار     باب مایفسد الصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴۵۵)
اسی ( درمختار )کے مکروہات میں ہے :
لاباس بتکلم المصلی واجابتہ براسہ کما لو طلب منہ شیئ اواری درھما قیل اجید فا وما بنعم اولا اوقیل کم صلیتم فاشاربیدہ انھم صلوا رکعتین ۱؎۔
نماز اگر سر کے اشارے کے ساتھ کلام یا جواب دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً اس سے کوئی شے طلب کی گئی یا اس سے دراہم کے بارے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ کھرا ہے،۔ تو اس نے اشارے سے ہاں یا نہ کہا ، یا یہ پوچھا گیا کہ تم نے کتنی رکعات پڑھی ہیں ، تو وہ ہاتھ کے اشارے سے بتلاتا ہے کہ اس نے دو رکعات ادا کی ہیں ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت   ۱ /۹۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ واجبتہ برأسہ قال فی الامداد وبہ ورد الاثر عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا وکذا فی تکلیم الرجل المصلی قال تعالٰی فنادتہ الملٰئکۃ وھو اقائم یصلی فی المحراب ۲؎۔
ماتن کا قول '' نماز کا سر کے اشارے سے جواب دینا'' اس بارے میں الامداد میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا اس پر فرمان بھی منقول ہے اسی طرح کسی کا نمازی سے کلام کرنا، تو اس سلسلہ میں اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے ملائکہ نے انھیں آوازدی حالانکہ وہ محراب میں نماز ادا کررہے تھے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب مایفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر       ۱/ ۴۷۶)
انھیں عباراتِ ائمہ میں تصریح گزری کہ بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے یہاں تک کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہوگیا مسجد میں جہاں تک پہنچا وہیں رُک جائے آگے نہ بڑھے کہ عمل ہوگا اور حالِ خطبہ میں کوئی عمل روا نہیں حالانکہ امام سے قرب شرعاً مطلوب اور حدیث وفقہ میں اُس کا فضل مکتوب اور وہیں بیٹھ جانے میں آئندہ آنے والوں کے لئے بھی جگہ کی تنگی ہے ان امور پر لحاظ نہ کریں گے اور آگے بڑھنے کی اجازت نہ دیں گے مگر پنکھا جھلتے پھرنا ضرور جائز بنا ہی لیا جائے گا،
خانیہ و ہندیہ وغیر ہما میں ہے:
ذکر الفقیہ ابو جعفر قالا اصحابنا رضی اﷲؤ تعالٰی عنھم انہ لا باس با لتخطی مالم یا خذ الامام فی الخطبتۃ ویکرہ اذا اخذ للمسلم ان یتقدم ویدنوامن المحراب اذالم یکن الامام فی الخطبۃ لیتسع المکان علی من یجی بعدہ وینال فضل القرب من الامام، فاذالم یفعل الاول فقد ضیع ذلک المکان من غیر عذر، فکان للذی جاء بعدہ ان یاخذ ذلک المکان ، وامامن جاء والامام یخطب، فعلیہ ان یستقرفی موضعہ من المسجد لان مشیہ فتقدمہ عمل فی حالۃ لخطبۃ ۱؎۔
فقیہ ابوجعفر کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا فرمان ہے کہ جب تک امام نے خطبہ شروع نہیں کیا اس وقت تک چلنے میں کوئی حرج نہیں، جب امام نے خطبہ شروع کردیا تو اب کراہت ہے کیونکہ امام خطبہ نہیں دے رہا تو مسلمان کو چاہئے کہ وہ محراب کے قریب ہوجائے تاکہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے جگہ بن جائے اور اس کے ذریعے امام کی قربت کی فضیلت بھی حاصل ہوگی جب اس نے پہل نہ کی تو اس نے بغیر عذر وہ جگہ ضائع کردی، اب بعد میں آنے والا شخص وہ جگہ حاصل کرسکتا ہے لیکن جو شخص اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا تو وہ مسجد میں اپنی جگہ پر ہی بیٹھ جائے کیونکہ اب اس کا چلنا اور آگے بڑھنا حالتِ خطبہ میں عمل ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی  ہندیہ     الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ      مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور       ۱/۴۸۔ ۱۴۷)
چلنا تو بڑی چیز ہے انھیں عبارات علماء میں تصریح گزری کہ خطبہ ہوتے میں ایک گھونٹ پانی پینا حرام ، کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا حرام، تو وہ حرکت مذکورہ کس درجہ سخت حرام ہوگی، انھیں وجوہ زاہرہ سے اس کے نیک کام اور
یؤثرون علی انفسھم
میں داخل ہونے کا جواب روشن ہوگیا، نیکی وایثار تو جب دیکھیں کہ فعل وہاں جائز بھی ہو جب سرے سے نفسِ فعل حرام، تو اس کے فضائل گننے کا کیا محل، مسلمانوں کو پنکھا جھلنا تو جہاں جائز ہو وہاں غایت درجہ مستحب ہوگا ، جواب سلام دینا، امر بالمعروف کرنا تو واجب تھے اور بحالت خطبہ حاضرین پر حرام ہوئے، اب کیا یہاں ان کے فضائل ووجوب سے استدلال کی گنجائش ہے،
غنیہ میں ہے:
لایقال ردالسلام فرض فلا یمنع منہ لانا نقول ذلک اذاکان السلام فاذونا فیہ شرعا ولیس کذلک فی حالۃ الخطبۃ بل یرتکب فاعلہ اثما ۲؎۔
یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے لہذا اس سے منع نہ کیا جائے کیونکہ جواباً کہیں گے فرض وہاں ہے یہاں شرعاً سلام کرنے کی اجازت ہو حالانکہ حالتِ خطبہ میں اس کی اجازت نہیں بلکہ ایسا عمل کرنے والا گنہگار ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۵۶۰)
اوروں کے اطمینان کو آپ صریح بے اطمینانی
یؤثرون علی انفسھم ۳؎ ۔
 ( وہ اپنی ذات پردوسروں کوترجیح دیتے ہیں ۔ ت)
 ( ۳؎ القرآن        ۵۹/۹)
میں شمول نہیں
اتامرون الناس بالبر وتنسون الفسکم ۱؎ ۔
 ( تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ۔ ت)
(۱؎ القرآن       ۲/۴۴)
میں دخول ہے یعنی دیگراں رانصیحت وخود رافضیحت ( اوروں کو تو اچھے کام کی نصیحت کرنا اور خود برے کام کرنا۔ت)  علمائے کرام توایثار قربت میں کلام رکھتے ہیں نہ کہ اوروں کی قربت کے لئے خود حرام کا ارتکاب ، یہ ایثار نہیں صراحتہً اپنے دین کو اضرار ہے کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ۔ت) یہیں سے واضح کہ ممانعت کو صرف فعل عبث وبے فائدہ سے خاص کرنا محض غلط ہے بلکہ اس قسم کا ہر عمل اگر چہ کیسا ہی مفید ہووقت خطبہ شرعاً لغو میں داخل اور اُس کے فائدے پر نظر باطل بلکہ نفع درکنار اُس سے ضرر حاصل، آخر دیکھا کہ شرع مطہر نے اس وقت امر بالمعروف کو کہ اعلٰی درجہ کی مفید و مہم چیز ہے حرام ٹھہرایا ،اور دو حرف (چُپ ) کہنے کو لغو میں داخل فرمایا،
صحاح ستہّ میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں،
اذا قلت لصاحبک یوم الجمعۃ انصت والامام یخطب فقد لغوت ۲؎۔
(۲؎ صحیح البخاری        باب الانصاف یوم الجمعۃ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۲۸)
جب روزِ جمعہ خطبہ امام کے وقت تو دوسرے سے کہے چُب ، تو تُو نے خود لغو کیا،
Flag Counter