مسئلہ ۱۳۰۴: از کانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرحت مرسلہ شیخ محمد سہول ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام( اے علماء کرام تمھارا کیا قول ہے ) اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی نماز میں جو اخیر میں دورکعت ظہر کی سنت پڑھتے ہیں اس کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا توجرو
الجواب
جمعہ کے بعد ظہر کی سنت کا کوئی محل ہی نہیں، نہ ضرورت بمعنی وجوب سنن میں محمّل ۔ ہاں جمعہ کی سنت بعد یہ میں اختلاف ہے، اصل مذہب میں چار ہیں وعلیہ المتون ( متون میں اس بات کا تذکرہ ہے ۔ ت) اور احوط و افضل چھ ہیں۔
وھو قول الامام ابی یوسف وبہ اخذ اکثر المشائخ کما فی فتح اﷲ المعین عن النھر عن العیون والتجنیس وھو المختار کما فی جواھر الاخلاطی وھوا لثابت بالحدیث کما بیناہ فی فتاوٰنا۔
امام ابو یوسف کا یہی قول ہے اور اسی پر اکثر مشائخ کا عمل ہے جیسا کہ فتح اﷲ المعین میں نہر سے اور وہاں عیون اور تجنیس سے ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے اور یہ حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ ہمارے فتاوٰی میں اس کی تفـصیل ہے (ت)
مگر جب صحتِ جمعہ میں نزاع واشتباہ کے باعث خواص چار رکعت احتیاطی بہ نیت آخر ظہر پڑھیں تو انھیں چاہئے بعد جمعہ چار سنتیں پھر وہ چار رکعتیں پڑھ کر اُن کے بعد یہ دو سنتیں نہ نیت سنت وقت پڑھیں، جمعہ یا ظہر کی تعیین نہ کریں کہ نیت ہر احتمال کو اشتمال رکھے اور ہر طرح یہ سنتیں اپنے موقع پر بالاتفاق واقع ہوں ۔
فی ردالمحتار عن شرح المنیۃ الصغیر والاولی ان یصلی بعد الجمعۃ سنتھا ثم الاربع بھذہ النیۃ ای نیت اٰخرظھر ادرکتہ ولم اصلہ ثم رکعتین سنۃ الوقت فان صحت الجمعۃ یکون قد ادی سنتھا علی وجھہا والا فقد صلی الظھر مع سنتہ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ردالمحتار میں شرح منیۃ الصغیر کے حوالے سے ہے کہ بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے بعد اس کی سنن ادا کی جائے پھر چار رکعات اس نیت سے یعنی آخری ظہر کی نیت سے کہ سے میں نے پایا مگر ادا نہ کیا پھر دقتی دو سنتیں ادا کرے اب اگر جمہ صحیح ہو گیا تھا تو اس کی سنن اپنے اپنے وقت پر ادا ہوئیں اور اگر جمعہ صحیح نہیں تو ظہر کی سنتوں کے ساتھ ادا ہوگی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۹۷)
مسئلہ ۱۳۰۵: از چھاونی فیروز پور صدر پنجاب محلہ لال ڈگی مرسلہ مولوی فضل الرحمان صاحب ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ
بخدمت حضرت مخدوم ومعظم مقبول السبحان حضرت مولیٰنا مولوی احمد رضا خاں صاحب ادام اﷲ فیضہ القوی، السلام علیکم وعلی لدیکم مصدع خدمت خدام والا ہوں کہ ایک مسئلہ کی دوصورتیں ارسال خدمت شریف کرکے گزارش کہ بتفضلات کریما نہ جوا ب باصواب سے معزز وممتاز فرمائیں جزاکم اﷲ خیر الجزاء ( اﷲ تعالٰی آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے۔ ت) نیازمند قدیمی فقیرمحمد فضل الرحمن۔
مبسلا وحامد اومصلیا ومسلما اما بعد پس واضح رہے کہ
بحدیث آمدہ بخطبہ جمعہ ہر کہ دیگرے رامی گوید کہ خاموش باش یاسنگریزہ رامس کرو اور اثواب جمعہ نباشد کہ اوعبث ولغو کرد۔
حدیث شریف میں ہے کہ خطبہ جمعہ میں اگر ایک دوسرے کو کہے خاموش ہوجا یا سنگریزے کو مَس کر دیا تو اسے جمعہ کا ثواب حاصل نہ ہوگا کیونکہ اس نے ایک عبث ولغو کام کیا ہے ۔(ت)
نیز خطبہ جمعہ میں حاضرین نے آپ سے کہا کہ بارش کی دُعا کیجئے ، آپ نے ہاتھ اٹھا کے دعا کی تھی اور تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے تھے تو آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا کہ بند ہونے بارش کی دعا کیجئے ، آپ کے دعا کرنے سے فوراً مینہ بند ہوگیا تھا ،بخاری ومسلم(عہ۱)، تو دونوں مقاموں سے معلوم ہوا کہ عبث کام کےلئے بولنا، ہاتھ کا ہلانا جمعہ کےخطبہ میں مکروہ ہے اور نیک کار کے لئے مکروہ ہرگز نہیں،اس استدلال کی اگر سمجھ نہ آئے عہ۱ :باب خطبہ جمعہ وباب استسقاء کے دیکھنے سے یہی حاصل ہے ۔ (م)
تو بفتاوی علمگیریہ نقلاً عن المحیط وغیرہ موجود ہیے کہ بخطبہ جمعہ:
اذالم یتکلم بلسانہ لکنہ اشار بیدہ او برأسہ اوبعینہ نحوان رأی منکرا من انسان فنھاہ بیدہ (عہ۲) اواخبر بخبر فاشار برأسہ الصحیح انہ لاباس بہ اما دراسۃ الفقہ وکتابتہ عند البعض مکروہ وقال البعض لاباس ۱؎ بہ ( ملخصا تقدماً وتاخراً ) انتھی۔
اگر اس نے زبان سے کلام نہیں کیا لیکن ہاتھ یا سر آنکھ سے اشارہ کیا مثلاً کوئی بُرا کام دیکھا اور اسے ہاتھ سے روکا یا اسے کسی نے خبردی تو اس نے سر سے اشارہ کیا تو صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن فقہ کی تدریس وکتابت بعض کے ہاں مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں انتہی (ت)
عہ۲: مثلاً اگر دیکھے کسی کو کہ دوسرے کو کہتا ہے چپ کر یا سنگریزہ کو مس کر تاہے تردیکھنے والا اس کو ہاتھ یا سر یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے کہ یُوں نہ کر تو منع کنندہ لاباس بہ میں داخل ہے اور جس کو اس نے منع کیا ہو لغو و عبث کنند گان سے شمار کیا جائے گا ۔ فتدبر (م)
(۱فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۴۷)
پس ان سب روایتوں کے استدلال سے جو کوئی خطبہ اولٰی بقدر سنت سن کے باقی کو سنتا رہے اور حاضرین کو جوگرمی میں ہوا کی حاجت وضرورت ہوتی ہے سب کو ہوا کرنے لگے تاکہ اطمینان سے خطبہ سنیں لا باس بہ ( اس میں کوئی حرج نہیں۔ ت) بیشک یہ شخص ثوابِ جمعہ سے محروم نہ رہے گا۔
اذا المقصود من الانصات ملا حظۃ معنی الخطبۃ واشتغال قلوب السامعین بالحر یفوت ذلک کذا یستفاد من فتاوی حموی۔
کیونکہ خطبہ کی طرف کان لگانے سے مقصود یہی ہے کہ معانی خطبہ سے اگاہی ہو، لیکن سامعین کے دلوں کا گرمی کی وجہ سے پریشان ہونا اسے فوت کرنے کا ذریعہ ہے فتاوٰی حموی سے یہی مستفاد ہے ۔(ت)
دیکھو جنت میں بروز جمعہ سب مومنوں کو ایک مکان میں جمع کرکے باری تعالٰی بھی ہوا شمالی چلائے گا تاکہ باطمینان دیدار حق سبحانہ تعالٰی سے مشرف ہواکریں گے، اس ہو اکا نام میثرہ ہے کہ کستوری کی خوشبوئی کا اثر رکھتی ہوگی کما فی مسلم ( جیسا کہ مسلم شریف میں ہے۔ ت)
ثانیاً اس ہواکنندہ قوم کو بخطبہ جمعہ گرمی کے مارے خود ہوا کی سخت حاجت وضرورت ہوتی ہے تو اُس نے اپنی اس راحت پر راحت کو مقدم کیا
ویؤثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ۲؎
( وہ اپنی ذاتوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں ۔ت)
(۲؎ القرآن ۵۹ /۹)
کے گروہ میں داخل ہوکے درجہ مفلحون کا پایا ،یہ آیت سورہ حشر کی بخاری و اشباہ وفتاوٰی حموی میں موجود ہے اور کتاب وسنت کا حکم عام ہے۔
لان العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص المورد کما قرر فی الاصول۔
کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہو تا ہے مخصوص واقعہ کا اعتبار نہیں کیا جاتا جیسا کہ اصول میں مسلمہ ہے ۔(ت)
خطبہ جمعہ بقدر ایک تسبیح کے فرض اور تین آیات قصیرہ یا ایک آیت طویلہ پڑھنا وشہادتین و درود پڑھنا اور پند و نصیحت قوم کو کرنا خطیب پر سنت اور خطبہ ثانیہ نیز سنت ہے اور بعضوں کے نزدیک خطبہ اولٰی بقدر تمام التحیات کے فرض ہے فتدبر۔ راقم دعاگوخیر خواہ فقیر غلام النبی عنہ باسمہ سبحٰنہ وتعالٰی شانہ،۔
الجواب
ھو الموفق بالحق والصواب ( وہ حق اور درستی کے ساتھ توفیق دینے والا ہے ۔ت) برضمائر اربابِ صدق و صفاد اصحاب فطنت وذکا مخفی ومحتجب نہ رہے کہ جو افعال اثنائے نماز میں حرام ہیں وہی خطبہ میں بحالتِ استماع خطبہ گفتگو کرنا یابادکشی کرنا جو مضر اور مخالف استماع خطبہ ہے ممنوع اور غیر مشروع ہے ہرگز درست نہیں مرتکب اس کا خاطی وسخت گناہ گار ہے ،
علمگیریہ میں ہے :
ویحرم فی الخطبۃ مایحرم فی الصلٰوۃ حتی لا ینبغی ان یاکل او یشرب والامام فی الخطبۃ ھکذا فی الخلاصۃ۱؎ ص ۵۳۔
خطبہ کے دوران ہر وہ شئ حرام ہے جو نماز میں حرام حتی کہ امام کے خطبہ کے وقت کھانا وپینا مناسب نہیں اسی طرح خلاص ص ۵۳ میں ہے ۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۴۷)
درمختار میں ہے :
(وکل ماحرم فی الصلٰوۃ حرم فیھا) ای فی الخطبۃ خلاصۃ وغیرھا فیحرم اکل وشرب وکلام ولو تسبیحا اوردسلام او امرا بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع ویسکت ۲؎۔
( جو کچھ نماز میں حرام ہے اس ( خطبہ ) کے دوران بھی حرام ہے) خلاصہ وغیرہ ،پس کھانا پینا، کلام کرنا اگر چہ سبحان اﷲ کہنا ، سلام کا جواب دینا یا نیکی کا حکم ہو اس دوران ناجائز ہے بلکہ واجب ہے کہ خطبہ سنا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے ۔(ت)
قولہ بل یجب علیہ ان یستمع ظاھرہ انہ یکرہ الاشتعال بما یفوت السماع وان لم یکن کلاما وبہ صرح القھستانی حیث قال اذا الاستماع فرض کما فی المحیط اوواجب کما فی صلٰوۃ المسعودیۃ اوسنۃ ۳؎ الخ۔
قولہ'' بلکہ خطبہ کا سننا واجب ہے '' کا ظاہر واضح کررہا ہے ہر وہی شیئ پڑھنا جس سے سماع خطبہ فوت ہو وہ مکروہ ہے اگر چہ وہ کلام نہ ہو، اسی کی تصریح کرتے ہوئے قہستانی نے کہا کیونکہ خطبہ کا سننا فرض ہے جیسا کہ محیط میں یا واجب ہے جیسے کہ صلٰوۃ المسعودیہ میں یا سنت ہے الخ (ت)
(۳ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۶)
شرح وقایہ میں ہے :
واذا خرج الامام محرم الصلٰوۃ والکلام حتی یتم خطبتہ ۱؎۔
جب امام (خطبہ کے لئے نکل آئے تو نماز و کلام حرام ہوجاتی ہے یہاں تک کہ خطبہ مکمل ہوجائے ۔(ت)
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن مس الحصا فقد لغافیہ النھی عن مس الحصا وغیرہ من انواع العیث فی حال الخطبۃ و فیہ اشارۃ الی اقبال القلب والجوارح علی الخطبۃ ۲؎۔
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اور جس نے سنگریزے کو مس کیا اس نے لغو کام کیا، اس فرمان میں سنگریزے وغیرہ کومس کرنا جیسے کاموں سے حالت خطبہ میں آپ نے منع فرمایا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دل اور اعضاء کو خطبہ کی طرف لگا یا جائے۔ (ت)
(۲؎ شرح مسلم مع مسلم کتاب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۲۸۳)
لُب اور خلاصہ عبارات متذکرہ بالا کا یہ ہے کہ اثنائے خطبہ میں بادکشی وغیرہ لغو افعال جو مانع استماع خطبہ وتوجہ قلب اور اعضائے انسانی کے ہیں ناجائز ہیں اور فاعل اس کا بجائے اس کے کہ مستحق ثواب کا ہو مرتکب گناہ کا ہوگا۔ المجیب محمد فضل الرحمن ساکن صدر بازار کیمپ فیروز پنجاب۔