مسئلہ ۱۳۰۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا جائز ہوگا یا نہیں ؟
(۲) ایک مسجد میں دو دفعہ جمعہ پڑھنا جائز ہوگا یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب
عدمِ جواز بمعنی گناہ تو جمیع فرائض میں ہے صورتِ سوال سے ظاہر کہ دیدہ ودانستہ دو جماعتیں بالقصد اس طرح کیں اور کسی فرض کی دوجماعتیں ایک مسجد ایک وقت میں بالقصد قائم کرنا ہر گز جائز نہیں، دونوں فریق یالاقل دونوں میں سے ایک ضرور گنہگار ہوگا کہ جماعت فرائض کی ایسی تفریق صراحۃً بدعت سئیہ شنیعہ ہے، اگر دونوں امام میں صرف ایک صالح امامت بلا کراہت ہے، مثلاً دُوسرا فاسق معلن یا بد مذہب ہے جب تو کراہت صرف اس دوسرے پر ہے، اور اگر دونوں صالح تو جس کی نیت پہلے بندھ گئی اس پر الزام نہیں دوسرے پر ہے ، اور معاً باندھیں تو دونوں پر ۔
خلاصہ و ہندیہ میں ہے : قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج وأمھم وقام امام من اھل الداخل فأمھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۔ ۲؎
کچھ لوگ مسجد داخل میں اور کچھ لوگ مسجد خارج میں بیٹھے تھے مؤذن نے تکبیر کہی ، اہلِ خارج میں سے امام نے اور اہل داخل میں سے بھی امام نے جماعت کرائی، ان میں سے جس نے پہلے شروع کی وہ امام اور اسی کے لوگ مقتدی ہوں گے اور ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس فی الامامت فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۸۴)
ردالمحتار باب ادراک الفریضہ میں ہے : لوکان مقتد ئابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لا کراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھر ط ان الاول لوفاسقا لا یقطع ولو مخالفا وشک فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی فی کراھۃ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق ۱؎ الخ
اگر کسی نے ایسے شخص کی اقتداء کی جس کی اقتدامکروہ تھی پھر ایسے امام نے جماعت شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا وہ مقتدی قطع کر کے دوسرے کی اقتداء کرئے، ط نے اس کو ظاہر کہا کہ اول اگر فاسق ہے تو قطع نہ کرے اور اگر مخالف مسلک رکھتا ہے اور اس سے دوسرے مسلک کی رعایت مشکوک ہے تو پھر قطع کرے، اقول اس کا عکس اظہر ہے کیونکہ دوسرے میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا یا اعرابی میں ہے بخلاف فاسق کے الخ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۲۵)
اور جمعہ میں تو جواز بمعنی صحت ہی نہیں کم سے کم ایک فریق کا جمعہ سرے سے ادا ہی نہ ہوگا، صحتِ جمعہ کی شرائط سے ایک یہ بھی ہے کہ بادشاہِ اسلام یا اس کامامور اقامت کرے یعنی سلطان خود یا اُس کا ماذون خطبہ پڑھے، امامت کرے اور جہاں یہ صورت متعذر ہو جیسے ان بلادِ ہندوستان میں کہ ہنوز دارالاسلام ہے وہاں بضرورت نصب عامہ کی اجازت یعنی عام مسلمین جسے امام مقرر کرلیں۔
فی التویر والدر یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا وقالوا یقیمھا امیر البدر ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ ونصب العامۃ غیر معتبرمع وجود من ذکر امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۲؎ اھ ملتقطا
تنویر اور در میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کی اقامت کے لئے سلطان کا مامور ہونا شرط ہونا ضروری ہے ، فقہا نے فرمایا ہے کہ جمعہ شہر کا امیر، پھر محاسب پھر قاضی پھر وہ شخص قائم کرسکتا ہے جس کو قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو، ان لوگوں کی موجودگی میں عوام کا تقرر معتبر نہیں البتہ جب ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا اھ ملتقطا (ت)
پر ظاہر کہ کسی مسجد کے لئے دواماً جمعہ علٰی وجہ الاجتماع کہ دونوں امامت جمعہ واحدہ کریں مقرر نہیں ہوتے خصوصاً ہمارے بلاد میں امر اور بھی اظہر کہ نصب عامہ صرف بضرورت اقامت شعار معتبر، اور یہ ضرورت امام واحد سے مرتفع ، تو ایک جمعہ میں ایک مسجد میں دو امام کا جمع باطل ومتدفع، پس صورتِ مستفسرہ میں اُن دونوں میں جو اُس مسجد کا امام معین جمعہ نہ تھا اُس کا اور اس کے مقتدیوں کا جمعہ ادا نہ ہوا، اور اگر دونوں نہ تھے تو کسی کانہ ہوا، یہیں سے صورتِ اخیرہ کا جواب بھی ظاہر، اور اگر بفرض باطل صورت صحت تسلیم بھی ہو جو ہرگز لائق تسلیم نہیں تو اس کے سخت مخالف مقصود شرع وبدعت شنیعہ سیسہ ہونے میں کلام نہیں، جمعہ میں ایک مذہب قوی یہ ہے کہ شہر بھر میں ایک ہی جگہ ہوسکتا ہے اور بعض نے دوجگہ اجازت دی اور بعض نے بیچ میں نہر فاصل ہونے کی شرط کی، مفتی بہ جواز تعدد ہے مگر یہ تعدد کہ ایک ہی دن ہی مسجد میں دس بار امامتِ جمعہ ہو کہ جیسے دو۲ ویسی ہی سو ۱۰۰، یہ بلاشبہ ابتداع فی الدین ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۰۳: از کانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرحت مرسلہ شیخ محمد سہول ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
ماقولکم ایھا العلماء لکرام ( اے علمائے کرام ! تمھارا قول کیا ہے ۔ت) اس مسئلہ میں کہ خطبہ یا عیدین کو عربی میں پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا یا صرف اردو میں بطور وعظ کے خطبہ ادا کرنا یا بعض حصہ عربی و بعض اردو میں پڑھنا یا چند اشعار ترغیباً و ترہیباً عربی یا غیر عربی میں پڑھنا مع النثراولاجائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
یہ سوال چند امور پر مشتمل :
اوّل :جمعہ یا عیدین کا خطبہ پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا۔ اقول وباﷲ التوفیق( میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) قضیئہ نظر فقہی یہ ہے کہ یہ امر عیدین میں بہ نیت خطبہ ہو تو ناپسند اور اس کا ترک احسن اور بعد ختم خطبہ ، نہ بنیت خطبہ بلکہ قصدپند و نصیحت جداگانہ ہو تو جائز وحسن اور جمعہ میں مطلقاً مکروہ ونامستحسن ، دلیل حکم ووجہ فرق یہ کہ زبانِ برکت نشان رسالت سے عہد صحابہ کرام وتابعین عظام وائمہ اعلام تک تمام قرون و طبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبانِ عربی مذکور وماثور اور با آنکہ زمانہ صحابہ میں بحمد اﷲ تعالٰی اسلام صدہا بلاد عجم میں شائع ہوا، جوامع بنیں، منابر نصب ہوئے، باوصف تحقیق حاجت کبھی کسی عجمی زبان میں خطبہ فرمانا یا دونوں زبانیں ملانا مروی نہ ہوا تو خطبے میں دوسری زبان کا خلط سنت متوارثہ کا مخالف ومغیر ہے اور وہ مکروہ ،
کما بیناہ فی فتاوٰنا وذکرنا ثم الفرق بین الکف والترک فتثبت ولاتتخبط۔
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیااور وہاں ہم نے کف اور ترک کے درمیان فرق واضح کردیا ہے اس پر ثابت رہو اور انتشار کا شکار نہ ہوں۔ (ت)
مگر عیدین میں خطبہ بعد نماز ہے تو وہ مستوعد وقت نہیں ہوسکتا نیت قطع اپنا عمل کرے گی اور بعد فراغ خطبہ کہ تمام امور متعلقہ نما ز عید منتہی ہوگئے، مسلمان کو تذکیر وتفہیم ممنوع نہیں بلکہ مندوب ،اور خود سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے، بخاری و مسلم و دارمی و ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی سے راوی :
قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم فطر اواضحی فصلی ثم خطب ثم اتی النساء فوعظھن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ ۱؎۔
میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحٰی کے دن نکلا آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا اس کے بعد آپ خواتین کے اجتماع میں تشریف لے گئے انھیں وعظ ونصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ (ت)
(۱ صحیح البخاری کتاب العیدین باب خروج الصیبان الی المصلی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۳)
صحیحین میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے:
ثم خطب الناس بعد فلما فرغ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نزل فاتی النساء فذکرھن۲؎۔
پھر اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا، جب بنی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے، اس کےبعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لاکر انھیں نصیحت و تلقین فرمائی۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب العیدین باب المشی والرکوب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۱ )
امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں :
انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید ۳؎
( آپ خواتین کے اجتماع میں خطبہ عید سے فراغت کے بعد تشریف لے گئے۔ت) بخلاف جمعہ کہ اس میں خطبہ قبل نماز ہے اور شروع تذکیر سے اغازِ تکبیر تک اُسی تکبیر تک اُسی کا وقت ہے ولہذا فصل بہ اجنبی ناجائز، یہاں تک کہ اگر فصل طویل حاصل ہوخطبہ زائل اور اعادہ لازم، ورنہ نماز باطل ہو، اور غیر اجنبی سے بھی فصل پسندیدہ نہیں اور اعادہ خطبہ اَوْلٰی۔
(۳؎ شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین باب المشی والرکوب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۹)
فی الدرالمختار لو خطب جنبا ثم اغتسل وصلی جاز۴؎ ( ای ولا یعد الغسل فاصلا لانہ من اعمال الصلٰوۃ ولکن الاولی اعادتھا کما لو تطوع بعد ھا کما فی البحر، ۵؎ ش)
درمختار میں ہے اگر کسی نے جنبی حالت میں خطبہ دیا پھر غسل کیا اور نماز پڑھائی تو جائز ہے ( یعنی غسل کو( خطبہ اور نماز کے درمیان ) فاصل نہ شمار کیا جائے گا کیونکہ وُہ بھی نماز کے اعمال میں سے ہے لیکن اعادہ خطبہ بہتر ہے جیسا کہ اگر خطبہ کے بعد نوافل ادا کئے، جیسا کہ بحر میں ہے ش)
(۴؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۱۱۱)
(۵؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۰)
ولو فصل باجنبی فان طال بان رجع لبیتہ فتغدی او جامع واغتسل استقبل، خلاصۃ ای لزوما لبطلان الخطبۃ سراج ۱؎ اھ مزید امن الشامی
اور اگر کسی جنبی کا فاصلہ ہوگیا پس اگر وہ طویل تھا مثلاً گھر آیا اور کھانا کھایایاجماع کیا اور غسل کرکے واپس لوٹا تو نئے سرے سے خطبہ دے خلاصہ ، یعنی اب خطبہ دوبارہ دینا لازمی ہے کیونکہ پہلا ختم ہو چکا ہے سراج اھ یہ اضافہ شامی سے ہے ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱/ ۱۱۱)
اور شک نہیں کہ خطبہ خواندہ کا ترجمہ یااور مواعظ و نصائح جو اس وقت میں واقع ہوں گے انھیں مقاصد ومظامین خطبہ پر مشتمل ہوں گے _________ تو وقت خطبہ میں ایقاع تذکیر بہ نیت تذکیر قطعاً اُسے داخل خطبہ کرے گا اور نیت قطع بے معنی رہے گی کہ عمل وواقع صراحۃً اس کا مکذب ہوگا
کمن نوی ان لا یاکل وھوا کل اولا یشرب وھو شارب بالجملۃ فنیۃ التذکیر فی ھذا الوقت عین نیۃ الخطبۃ لیست الخطبۃ الاھذا ولذ اصرحوا ان الخطیب کلما تکلم بکلام یامرفیہ بمعروف او ینھی عن منکر فانہ یعد من الخطبۃ وان خاطب بہ رجلا معینا لحاجۃ مخصوصۃ کما سیأتی۔
جیسے کہ کسی شخص نے نیت کی کہ وہ نہیں کھائے گا یا نہیں پئے گا اور درانحا لیکہ وہ کھا رہا ہے یا پی رہاہے ، الغرض اس موقعہ پر تذکیر کی نیت بعینہٖ نیت خطبہ ہے کیونکہ خطبہ تذکیر ہی ہوتا ہے اسی لئے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خطبہ دینے والا کوئی ایسا کلام کرے جس میں نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت ہو تو اسے خطبہ ہی کہا جائے گا اگر چہ وہ کسی مخصوص حاجت کی وجہ سے کسی سے مخاطب ہو رہا ہو جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ۔ (ت)
اور اگر بالفرض قطع ہی مانیے تو خطبہ و نماز میں فصل لازم آئے گا اگر چہ غیر اجنبی سے تو سنت مستمرہ وصل کے خلاف ہوگا بہر حال خالی ازکراہت نہیں ھذا ماظھرلی وباﷲ التوفیق
دوم: صرف اردو خطبہ اس کی کراہت بیان بالا سے اظہر وازہر خصوصاً جبکہ یہ صرف اپنی صرافتہ محضہ پر ہو کہ اب تو اس کا مکروہ و شنیع ہونا صراحۃً منصوص کہ خطبہ میں تلاوتِ قرآن عظیم کا ترک بُرا ہے ۔
فی الھندیۃ فی ذکر سنن الخطبۃ الحاوی عشر قرائۃ القراٰن وتارکھا مسیئی ھکذا فی البحر الرائق ومقدار ما یقرأ فیھا من القراٰن ثلث اٰی ات قصار اواٰی ۃ طویلۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ ۱؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں سننِ خطبہ کے بیان میں ہے کہ گیارھویں سنت خطبہ میں قرآن پڑھنا ہے اور اس کا ترک گناہ ہے، اسی طرح بحرالرائق میں ہے اوراس کی تعداد تین چھوٹی آیاتِ یا ایک بڑی آیت ہےجیسا کہ جوہرہ نیرہ میں ہے (ت)
(۱فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۴۷)
سوم: کچھ عربی کچھ اردو اس کا حال بھی بیان سابق سے واضح ہوچکا مگر جب امام بحالتِ خطبہ کوئی امر منکر دیکھے تو اُس سے نہی کیا ہی چاہئے اور جب وہ عربی سمجھتا یا امام خود عربی میں کلام کرنا نہیں جانتا تو ناچار زبان مقدور و مفہوم کی طرف رجوع ہوگی یہ کلام جو خطبہ میں ہوگا خطبہ ہی ہوگا کہ امر بالمعروف بھی اُس کے مقاصد حسنہ سے ہے
فی الدرالمختار یکرہ تکلمہ فیھا الا لا مر بمعروف لانہ منہا۲؎۔
درمختار میں ہے خطبہ میں گفتگو مکروہ ہے البتہ نیکی کا حکم جائز ہے کیونکہ یہ خطبہ کا حصہ ہے ۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۱)
یُوں ایک حصہ خطبہ اردو میں ہونا البتہ مکروہ نہیں بلکہ واجب تک ہو سکتا ہے جبکہ ازالہ منکر اسی میں منحصر ہو۔
چہارم: محض اشعار پر قناعت یہ ضرور مکروہ واسائت وخلاف سنت وموجب ترکِ تلاوت، اور اگر ایک آیت طویلہ یا تین آیت قصیرہ کو نظم کرکے لائیں تو اول تو غالباً یہ بلا تغییر نظم قرآن نا متیسر اور بعد تغییر نظم تلاوت نہ رہے گی اگر چہ اقتباس ہو، اور اگر بَن بھی پڑے تو ادائے سنت تلاوت کے لئے قرآن مجید کو منظوم کرکے پڑھنا ترک قرائت سے اشد واشنع ہے، قرآن عظیم شعر سے پاک و منزّہ اور اپنے شعر بننے کی گوارش سے متعالی وارفع ہے۔
وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ ۳؎
( اور ہم نے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو شعر کی تعلیم ہی نہیں دی اور نہ ہی یہ آپ کی شان کے لائق ہے ۔ ت
(۳؎ القرآن ۳۶ /۶۹)
تو اس طور پر قصدِ تلاوت صریح اساءت ادب ہے۔
وبہ فارق الاقتباس الذی لا یرادفیہ تلاوۃ القراٰن فانہ شائع سائغ علی الاصح۔
اس سے وہ اقتباس الگ ہوگیا جس سے مقصد تلاوت قرآن نہیں کیونکہ اصح قول کے مطابق یہ مشہور اور مروج ہے ۔ (ت)
اور یُوں بھی نظم پر اقتصار میں بلاوجہ کلماتِ ماثورہ وطریقہ متوارثہ سے اعراض ہے تو اُس سے اعراض ہی چاہئے ۔
پنجم: بعض اشعار محمودہ ملائمہ داخل کرنا یہ اگر زبان عجم ہوں تو وہی امر سوم ہے ورنہ کچھ حرج نہیں خصوصاً جبکہ احیاناً ہو کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے خطبہ میں بعض اشعار پڑھنا مروی ۔
کما رواہ العسکری فی کتاب المواعظ وقد ذکرنا حدیثہ فی فتاوٰنا ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
جیساکہ عسکری نے کتاب المواعظ میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اس کے بارے میں اپنے فتاوٰی میں بھی گفتگو کی ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت)