مسئلہ ۱۳۰۱: از ریاست رامپو ر محلہ ملا ظریف گھیر منشی عبدالرحمن خاں مرحوم مرسلہ مولوی عبدالرؤف صاحب ۱۲ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں آج جمعہ کے دن امام صاحب جمعہ مع خطبہ پڑھا کہ فارغ ہوئے، اب اُس وقت پندرہ سولہ آدمی اسی مسجد میں بعد نمازِ جمعہ آگئے اب یہ آیندگان اسی مسجد میں پھر جمعہ پڑھیں یا ظہر، برتقدیر ثانی جماعت سے پڑھیں یا منفرد؟ عبدالحی صاحب مرحوم نے اپنے مجموعہ فتاوی میں لکھا ہے کہ وہ لوگ جمعہ پڑھیں گے دوسری مسجد میں افضل لکھا ہے اگر اسی مسجد میں پڑھیں کچھ حرج نہیں کرکے تحریر کیا ہے، مگر عالمگیری کی عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دُوسرا جمعہ جائز نہیں بلکہ وہ لوگ فرادی فرادی نماز پڑھیں اس کی تحقیق کیا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
عالمگیری میں یہ مسئلہ خانیہ سے ماثور ہے اور اسی کی مثل فتاوی ظہیریہ وبحرالرائق و درمختار وغیرہا میں مذکور،
قال فی البحر قال فی الظھیریۃ جماعۃ فاتتھم الجمعۃ فی المصر فانھم یصلون الظھر بغیر اذان و لااقامۃ ولاجماعۃ ۲؎۔
بحر میں ہے کہ ظہیریہ میں فرمایا کہ اگر کسی شہر میں سے جماعت فوت ہوگئی تو بغیر اذان ، تکبیر اور جماعت کے ظہر ادا کریں۔ (ت)
(۲؎ بحرالرائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۵۴)
تصویر مسئلہ فوت جمعہ سے ہے اور وہ قول تو حّد پر تو ظاہر،
وعلیہ یبتنی تعلیل الھدایۃ لمسألۃالمعذورین بقولہ لما فیہ من الاخلال بالجملۃ اذھی جامعۃ الجماعات ۱؎ اھ قال فی الفتح وتبع فی البحر ھذا الوجہ مبنی علی عدم جواز تعدد الجمعۃ فی المصر الواحد ۲؎ الخ زاد فی البحر وھو خلاف المنصوص علیہ روایۃ ودرایۃ ۳؎ اھ
اور ہدایہ میں مسئلہ معذورین کی ان الفاظ میں علّت بیان کرنا بھی اسی پر مبنی ہے کہ اس صورت میں جمعہ میں خلل آتا ہے حالانکہ وہ تمام جماعتوں کا جامع ہے اھ فتح میں کہا اور اسی کی اتباع بحر میں ہے کہ یہ وجہ ایک شہر میں متعدد جگہ جمعہ کے عدم جواز پر مبنی ہے الخ بحر میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ روایت ودرایت کے لحاظ سے یہ نص کے خلاف ہے اھ ______
(۱؎ الہدایۃ باب صلٰوۃالجمعۃ ۱/ ۱۵۰)
(۲؎ فتح القدیر شرح الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ ۲ /۳۵)
(۳ بحرالرائق شرح کنز الداقائق باب صلٰوۃ الجمعۃ ۱ /۱۵۴)
اقول : عللہ فی لھدایۃ بتعلیلین الاول ماذکر والثانی ماعولتم علیہ حیث قال بعدہ والمعذور قد یقتدی بہ غیرہ ۴؎ اھ ولا غر وتعلیل المسأالۃ علی کل من القولین علی ان قول التوحد ایضا قول قول فی المذھب کما یظھر مما علقنا علی ردالمحتار وقد اور دناہ فی فتاوٰنا والاعتراض بمثل ھذا علی مثل ھذا الامام من مثل ھذا الفاضل العلام مما بقضی الی العجب وقد تبع فیہ الفتح ولکن الفتح انما اقتصر علی ما قدمت ثم قال وعلی الروایۃ المختارۃ عند السرخسی وغیرہ من جواز تعدد ھا فوجھہ انہ ربما یتطرف غیر المعذور الی الاقتداء بھم ۵؎ الخ ولم یذکر ماذکر ھذا البحر فھو لیس بجرح بل شرح بتوزیع الدلیلین علی القولین واﷲ الموفق۔
اقول : ہدایہ میں اس کی دو علتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ جو مذکور ہے اور دوسری وہ جس پر تم نے اعتماد کیا وہاں اس کے بعد انھوں نے کہا کہ کبھی معذور کی غیر اقتداء کرلیتا ہے اھ اور کوئی حرج نہیں کیونکہ مسئلہ کی علت دونوں قولوں پر ہے ____ علاوہ ازیں قولِ توحد بھی مذہب میں قوی قول ہے جیسا کہ ہمارے حاشیہ ردالمحتار کی تحریر سے ظاہر ہوجاتا ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے ، اس طرح کا اعتراض ایسے امام پر اس طرح کے فاضل علام سے تعجب دارد، اورانہوں نے اس میں فتح کی اتباع کی ہے لیکن فتح نے اسی پر اکتفاء کیا ہے جو پچھے گزر چکا ہے، پھر کہا سرخسی وغیرہ کے نزدیک مختار روایت پر تعدد جمعہ کا جواز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات معذور کو غیر معذور کی اقتداء لاحق ہوجاتی ہے اھ اور انہوں نے ذکر نہیں کیا جو بحر نے کیا ہے پس وہ جرح نہیں بلکہ دو اقوال کی دلیلوں کی تقسیم طور شرح ہے اور اﷲ ہی توفیق دینے والا ہے ۔(ت)
(۴ الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ ۱ /۱۵۰)
(۵؎ فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۳۵ )
اور قول معتمد تعدد پر بھی اُس میں صور متصور، ازانجملہ یہ کہ سب جگہ نماز ہوچکی اور باقی صرف تین آدمی ہیں اور جمعہ کے لئے کم سے کم چار درکار، بہر حال یہ مسئلہ عدم جواز تعدد جمعہ بمسجد واحد میں نص نہیں، اب سوال پر نظر کیجئے فتاوٰئے لکھنؤ بعض احباب سے منگا کر دیکھا گیا اُسی حکم پر نہ کوئی سند پیش کی ہے نہ کسی کتاب کا حوالہ دیا صرف صحت تعدد فرضیت جمعہ پر بنائے کار کرکے لکھ دیا کہ اس وجہ سے لازم ہے اُن لوگو کو کہ جماعت سے خطبہ اور جمعہ ادا کریں مگر دوسری مسجد میں ہو تو اولٰی ہے اور اگر اُسی مسجد میں ہو تو بھی کچھ حرج نہیں۔
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) صحتِ جمعہ کے لئے صرف جواز تعدد ہی کافی نہیں
ع ہزار نکتہ باریک ترز مو اینجاست
( یہاں ہزار تکتہ ہے جو بال سے بھی زیادہ باریک ہے )
ہر شخص اقامت وامامت جمعہ کا اختیار نہیں رکھتا بلکہ سلطانِ اسلام یا اس کا مامور یا علی الخلاف مامور کا نائب بنایا ہوا بضرورت، یا بلاضرورت، اور جہاں استیذانِ سلطان متعذرہو تو جسے عامہ مومنین خطیب وامام جمعہ مقرر کرلیں
تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا واختلف فی الخطیب المقرر من جہۃ الامام الاعظم اونائبہ ھل یملک الاستنابۃ فی الخطبۃ فقیل لامطلقا وقیل ان لضرورۃ جاز والا لاوقیل یجوز مطلقا وھوالظاھر من عبار اتھم ففی البدائع کل من ملک الجمعۃ ملک اقامۃ غیرہ ونصب العامۃ الخطبیب غیر معتبر مع وجود من ذکرا مامع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۱؎اھ ملتقطا۔
صحتِ جمعہ کے لئے سلطان یا اس کی طرف سے اقامتِ جمعہ پر مامور شخص کا ہونا ضروری ہے، اس میں اختلاف ہے کہ امام اعظم ی اس کے نائب کی طرف سے مقرر کردہ خطیب، خطبہ میں نائب بنا سکتا ہے یا نہیں، بعض نے کہا ہر حال میں جائز ، ورنہ جائز نہیں، اور بعض کے نزدیک ہر حال میں نائب بنا سکتا ہے، فقہا کی عبارت سے یہی ظاہر ہے، بدائع میںہے کہ ہر وہ شخص جسے جمعہ کا مالک بنادیا گیا وہ اپنے علاوہ کسی کو اقامت جمعہ کے لئے تقرر کا بھی مالک ہوگا اور عام لوگوں کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں جبکہ مذکور لوگ موجود ہوں، ہاں اگر مذکورہ بالا لوگ نہ ہوں تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا اھ ملتقطا (ت)
(۱درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱/۱۰۹۔۔۱۱۰ )
سراجیہ میں ہے : والی مصر مات فصلی بھم خلیفۃ المیت او صاحب الشرطۃ او القاضی جازفان لم یکن ثمہ واحد منھم الناس علی رجل فصل بھم جاز ۱؎۔
والیِ مصر فوت ہوگیا تو جمعہ وارثِ میت پڑھائے یا محاسب یا قاضی، تو جائز ہے،اور اگر ان میں سے وہاں کوئی موجود نہیں اور لوگوں نے کسی شخص کو امام بنالیا تو تب بھی جائز ہے ۔(ت)
ان لم یکن ثم قاض ولا خلیفۃ المیت فاجتمع العامۃ علی تقدیم رجل جاز لمکان الضرورۃ ۲؎۔
اگر وہاں قاضی اور خلیفہ میت نہ ہو اور لوگ کسی ایک شخص کو امام بنالیں تو یہ ضرورت کے موقعہ پر جائز ہوگا، (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ بھارت ۱/ ۸۴)
تہذیب وہندیہ میں ہے :
لو تعذر الاستیذان من الامام فاجتمع الناس علی رجل یصلی بھم الجمعۃ جاز ۳؎۔
اگر امام سے اجازت متعذر ہو اور لوگ کسی ایک آدمی کو امام بنالیں تو جائز ہے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۴۶)
اور پر ظاہر کہ کلام اُسی صورت میں ہے جبکہ پہلا جمعہ صحیح ادا ہو لیا ورنہ مسجد واحد میں تعددِ جمعہ کہا، اور دُوسری مسجد میں اولویت کا کیا منشاء ، تو ضرور ہے کہ پہلی نماز اسی نے پڑھائی جو اس مسجد میں اقامتِ جمعہ کا مالک تھا اب یہ دوبارہ وہیں جمعہ پڑھانے والا دوحال سے خالی نہیں عہ یا اس مالکِ اقامت کے اذن سے پڑھائے گا یا بے اذن اول کی طرف راہ ممنوع کہ یہاں اذنِ مالک نہیں، مگر انابت اور بعد اس کے کہ آج کا جمعہ خود اصل پڑھا چکا اقامت شعار ہوچکی، جمعہ امروز میں انابت کے کوئی معنی نہیں کہ انابت تحصیل نا حاصل کے لئے ہوتی ہے نہ تحصیل حاصل کے واسطے نہ نائب ومنیب ایک امر میں جمع ہوسکیں اور آیندہ جمعہ کے لئے اذن جمعہ امروز کا اذن نہیں تو شق ثانی ہی متعین ہوئی اور جمعہ میں غیر امامِ جمعہ کی امامت بے اذن امامِ جمعہ باطل ہے
عہ: بقی ان لووجد واماما معینا ماذونا ۱۲ ح (م)
( یہ احتمال باقی رہ گیا کہ عام لوگ کسی مقررہ اذن والے شخص کوپائیں۔ت)
سراجیہ میں بعد عبارت مذکور ہ ہے :
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذا اقتدی بہ من لہ ولایۃا لجمعۃ ۱؎۔
اگر بغیر اذنِ خطیب نماز پڑھائی تو جائز نہیں، البتہ اس صورت میں جائز ہوگی جب اس کی اقتداء کسی ایسے شخص نے کی جو ولایت جمعہ رکھتا تھا۔ (ت)
رجل خطب یوم الجمعۃ بغیر اذن الامام والامام حاضر لایجوز ذلک الاان یکون لامام امرہ بذلک ۳؎۔
کسی شخص نے اذنِ امام کے بغیر خطبہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تویہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب امام نے اسے اس کا حکم دیا ہو۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۴۵)
نہ اس مسجد میں آج کے جمعہ کو امام کی ضرو ت ، نہ معدودے چند عامہ ناس ہیں ورنہ جمعہ سے بڑھ کر عیدین کبھی کسی شخص کو فوت نہ ہوں جبکہ اپنے ساتھ ایک ہی پاسکے کہ انھیں نماز مل جانی ضرورت قرار پائے اور ان میں ایک کا دوسرے کو امامِ عید مقرر کرلینا قائم مقام امامتِ سلطانِ اسلام ٹھہرے اور تمام مسائل کہ فوتِ جمعہ وہ عیدین پر مبتنی ہیں باطل ہوجائیں وھذا الا یقول بہ عاقل فضلا عن فاضل ( یہ بات تو کوئی معمولی عقل والا بھی نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے ۔ت) تو حق یہ ہے کہ اس مسجد میں درکنار کسی دوسری مسجد میں بھی جہاں جمعہ نہ ہوتا ہو خواہ مکان یا میدان میں کسی جگہ یہ لوگ جمعہ پڑھ سکتے بلکہ اپنی ظہر تنہا تنہا پڑھیں،
تنویرالابصار و درمختار میں ہے:
کرہ تحریما لمعذور ومسبحون ومسافر اداء ظھر بجماعۃ فی مصر قبل الجمعۃ وبعدھا لتقلیل الجماعۃ وصورۃ المعارضۃ ۴؎۔
جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد شہر میں معذور، قیدی اور مسافر کا جماعت کے ساتھ ظہر ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس میں قلت جماعت اور صورت تعارض لازم آتی ہے ۔ (ت)
(۴؎ درمختار الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱/ ۱۱۲)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ لمعذور وکذا غیرہ بالا ولٰی ۱؎ اھ فانت تعلم انھم انما احوجہم الی اداء الظھر انھم لایقدرون علی اقامۃ الجمعۃ فارشدوا الی صلٰوتھا فرادی کما لایخفی علی من رزق العقل سلیم والفھم المستقیم واﷲ تعالٰی اعلم۔
قولہ معذور، غیر معذور کا بطریق اولٰی یہی حکم ہے اھ در آب جانتے ہیں کہ یہ لوگ اداء ظہر کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ وہ اقامتِ جمعہ پر قادر ہی نہیں لہذا علماء نے تنہا نماز ظہر ادا کرنے کی تلقین کی، جیسا کہ ہر شخص پر مخفی نہیں جسے اﷲ تعالٰی نے اعقل سلیم اور فہم مستقیم عطا فرمایا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۰۴)