Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
65 - 144
مسئلہ ۱۲۹۸: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خاں صاحب  ۲۰شوال۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ کے چار رکعت ظہر احتیاطی کا پڑھنا ملک پنجاب یا ہندوستان کے شہروں میں جن میں جامع مساجد بادشاہوں کے حکم سے بنی ہوئی ہیں واجب ہے یا مستحب ، اور ان شہروں میں نماز جمعہ میں کچھ وہم یا شبہ ہے یا نہیں؟ بحوالہ کتاب مع عبارت لکھا جائے ۔
الجواب

بعض شرائط صحت کی تحقیق میں یہاں ضرور اختلاف واشتباہ ہے، ایسی جگہ علمائے کرام نے چار رکعت احتیاطی کا حکم دیا مگر خواص کے لئے، نہ کہ ایسے عوام کو جو تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں، اُن کے لئے ایک مذہب پر صحت بس ہے، یہ رکعتیں بحالِ توہم عدم صحت تو صرف مندوب ہیں اور بحال شک واشتباہ ظاہر وجوب،
ردالمحتار میں ہے:
نقل مقدسی عن المحیط کل موضع وقع الشک فی کونہ مصرا ینبغی لھم ان یصلوا بعد الجمعۃ اربعابنیۃ الظھر احتیاطا، ومثلہ فی الکافی والقنیۃ امرائمتھم بالاربع بعدھا حتما احتیاطا، قال المقدسی ذکر ابن الشحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم ماعند قیام الشک والاشتباہ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام ما یفیدہ وقال المقدسی نحن لا نامر بذلک امثال ھذہ العوام بل ندل علیہ الخواص ولو بالنسبۃ الیھم ۱؎ اھ ملخصا ۔
مقدسی نے محیط سے نقل کیا کہ ہر وہ جگہ جس کے شہر ہونے میں شک ہو وہاں پر ان لوگوں کو جمعہ کے بعد احتیاطاً چاررکعتیں بنیتِ ظہر ادا کرنی چاہئیں ، اسی کی مثل کافی اور قنیہ میں ہے کہ ائمہ نے جمعہ کے بعد لوگوں کو حتمی طور پر احتیاطاً چار رکعات کا حکم دیا ہے،المقدسی نے کہا کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے اس کے مندوب ہونے کی تصریح کی اور اس پر اعتراض کیا کہ ایسی بات اس وقت ہے جب وہم ہو اور اگر شک و اشتباہ ہو پھر واجب ہے اور اپنے شیخ ابن ہمام سے وہ نقل کیا جو یہاں مفید تھا، مقدسی نے کہا کہ ہم ایسی باتوں کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ خواص کو مطلع کرتے ہیں اگر چہ وہ ان کی نسبت سے ہوں اھ ملخصاً (ت)
(۱؎ ردالمحتار            باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۹۶)
تحقیقِ مسئلہ ہمارے فتاوٰی  اور رسالہ لوامع البھافی المصرللجمعۃ والاربع عقبیھا میں ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ۱۲۹۹: از رامپور متصل مراد آباد محلہ ملاظریف گھیرفرنگی محل مرسلہ مولوی ریاست حسین صاحب  ۴ رمضان المبارک ۱۳۱۵ ھ

چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ جمعہ بکدام سال مفروض شد،

اس مسئلہ کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ جمعہ کس سال فرض ہوا؟

الجواب

ہم بسال اول از ہجرت
علی الصحیح المشہور عندالجمہور فی شرح المواھب للزرقانی، الایۃ مدنیۃ فتدل علی انھا فرضت بالمدینۃ وعلیہ ا لاکثر وقال الشیخ ابوحامد فرضت بمکۃ قال الحافظ وھو غریب ۲؎
جمہور کے نزدیک صحیح مشہور یہی ہے کہ ہجرت کے پہلے سال فرض ہوا، شرح المواہب للزرقانی میں ہے کہ آیت (جمعہ) مدنی ہے جو دال ہے کہ جمعہ کی فرضیت مدینہ منورہ علی صاحبہا الصلٰوۃ میں ہوئی ، اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے، شیخ ابوحامد کہتے ہیں کہ جمعہ مکہ مکرمہ میں فرض ہوا تھا، حافظ کہتے ہیں کہ یہ قول غریب ہے۔
 (؂۲شرح المواہب اللدنیہ للزرقانی الباب الثانی فی ذکر صلوۃ الجمعۃ  مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر    ۷/۴۳۳)
وفی شرح الموطا لہ انہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فی سفر الھجرۃ لما خرج من قبایوم الجمعۃ حین ارتفع النھار ادرکتہ الجمعۃ فی بنی سالم بن عوف فصلاھا بمسجد ھم فسمی مسجد الجمعۃ وھی اول جمعۃ صلاھا صلی اﷲ تعالٰی  وسلم ذکرہ ابن اسحٰق ۱؎ اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔
زرقانی کی شرح موطا میں ہے کہ رسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسم جب سفرِ حجرت کےموقعہ پر جمعہ کے دن قبا سے مدینہ طیبہ کی طرف چلے تو دن خوب بلند ہوچکا تھا محلہ بنوسالم بن عوف میں جمعہ کا وقت ہوگیا تو آپ نے ان کی مسجدمیں جمعہ ادا فرمایا، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد الجمعہ قرار پاگیا، یہ پہلا جمعہ تھا جو حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ادا فرمایا، ابن اسحاق نے اسی طرح ذکر کیا ہے اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم (ت)
 ( ۱؎ شرح الزرقانی علی المؤطا    باب ماجاء فی الامام ینزل بقریۃ الخ    مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی  مصر    ۱/۲۲۰)
مسئلہ ۱۳۰۰: از درؤ ضلع نینی تال ڈاکخانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں ۴ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عیدین یا جمعہ میں آدمیوں کی کثرت سے سجدہ سہو امام کو ترک کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

ہاں علمائے کرام نے بحالت جماعت جبکہ سجدہ سہو کے باعث مقتدیوں کے خبط وافتنان کا اندیشہ ہو اس کے ترک کی اجازت دی بلکہ اسی کو اولٰی  قراردیا،
فی الدرالمختار السھو فی صلٰوۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ  والتطوع سواء والمختار عند المتاخرین عدمہ فی الاولیین لد فع الفتنۃ کما فی جمعۃ البحر واقرہ لاالمصنف وبہ جزم فی الدر۲؎۔
درمختار میں ہے کہ نماز عید، جمعہ اور فرض ونفل نماز میں سہو برابر ہے ، متاخرین کے ہاں عید وجمعہ میں دفع فتنہ کی وجہ سے سجدہ سہو کانہ ہونا مختار ہے جیسا کہ بحر کے باب جمعہ میں ہے، مصنف نے اسے ثابت رکھا اور در میں اسی کے ساتھ جزم کیا۔ (ت)
(۲؎ درمختار        باب سجود السہو       مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۰۳)
ردالمحتار میں ہے :
الظاھر ان الجمع الکثیر فیما سواھما کذلک کما بحثہ بعضھم ط وکذا بحثہ الرحمتی وقال خصوصا فی زماننا وفی جمعۃ حاشیۃابی السعود عن العزمیۃ انہ لیس المراد عدم جوازہ بل الاولی ترکہ لئلا یقع الناس فی فتنۃ اھ قولہ وبہ جزم فی الدر لکنہ قیدہ محشیہا الوافی بما اذا حضر جمع کثیروالا فلاداعی الی الترک ط ۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم
ظاہر یہ ہے کہ ان ( نماز عید وجمعہ) کے علاوہ میں جہاں بھی کثیر اجتماع ہو اس کاحکم بھی یہی ہے جیسا کہ بعض نے بیان کیا ہے ط ، اور اسی طرح رحمتی نے بحث کرتے ہوئے کہا اور کہا کہ خصوصاً ہمارے دور میں (سجدہ سہو نہ کرناچاہے) حاشیہ ابوالسعود کے جمعہ میں عزمیہ سے ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ سجدہ سہو جائز نہیں بلکہ اس کا ترک اولٰی  ہے تاکہ لوگ فتنہ میں نہ پڑیں، اھ قولہ، اس پر در میں جزم ہے لیکن اس کے محشی الوانی ہے اس قید کا اضافہ کیا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب وہاں کثیر لوگ جمع ہوں ورنہ نہیں کیونکہ اس وقت ترک سجدہ کا داعی نہیں ہوگا ، ط ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب سجود السہو        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۵۶)
Flag Counter