عبارتھا ھذہ واما الخطیب فیشترط فیہ ان یتاھل للامامۃ فی الجمعۃ کذا فی الزاھدی ۱؎۔
اس کی عبارت یہ ہے خطبہ دینے والے کے لئے یہ شرط ہے کہ جمعہ کی امامت کا اہل ہو،۔
زاہدی میں اسی طرح ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السادس فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۴۷)
اشباہ والنظائرو فتاوی خلاصہ و تنویر الابصار میں جواز کا حکم دیا ۔
حیث قال فی الاشباہ لوخطب باذن السلطان وصلی بالغ جاز۲؎ وفی تنویر الابصار فان فعل بان خطب صبی باذن السلطان وصلی بالغ جاز ۳ وفی الخلاصۃ صبی خطب بامرالسلطان وصل الجمعۃ مصلی بالغ یجوز ۴؎۔
الاشباہ میں ہے کہ اگر ( نابالغ نے ) بادشاہ کی اجازت سے خطبہ دیا او ربالغ نے نماز پڑھا دی تو جائز ہے ۔ تنویر الابصار میں ہے کہ اگر ایسا ہوا یعنی بچے نے بادشاہ کی اجازت سے خطبہ دیا لیکن نماز بالغ نے پڑھالی تو جائز ہے۔ خلاصہ میں ہے کسی نابالغ بچے نے سلطان کے حکم سے خطبہ دیا اور بالغ نے نماز پڑھائی تو جائز ہے ۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر احکام الصبیان مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۱۴۳ _۵۴۴)
(۳؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱/۱۱۳)
(۴؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث والعشرون فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/۲۰۵)
درمختار میں اسی کو مختار قراردیا :
حیث قال بعد قولہ جازھو المختار۵؎۔
جہاں انہوں نے ماتن کے قول '' جاز'' کے بعد کہا یہی مختا ہے (ت)
(۵؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۱۱۳)
بہر حال صونا عن الخلاف ( اختلاف سے بچنے کی خاطر ۔ ت) نا بالغ کا خطبہ پڑھنا مناسب نہیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
الجواب
عبادات بشدت محلِ احتیاط میں او رخلاف علماء سے خروج بالاجماع مستحب ، جب تک اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب نہ لازم آئے کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ ( جیسا کہ ردالمحتار میں اس پر تصریح ہے ۔ت) قراءت مقتدی ورفع یدین وجہر بہ آمین ہمارے مذہب میں باتفاق ائمہ ممنوع ومکروہ وخلاف سنت ہیں تو ہمیں یہاں رعایت خلاف اپنے مذہب سے خروج اور مکروہ فی المـذہب کا اتکاب صاف ہے بخلاف فرض احتیاطی کہ بسبب تعدد جمعہ رکھے گئے یہ دونوں حرج سے پاک ہیں تعدد مطلقاً اگر چہ علی الاصح ظاہر الروایۃ اور وہی معمول ومفتی بہ مگر منع تعدد بھی مذہب میں ایک قول قوی ومصحح ہے،
فی ردالمحتار جواز التعدد وان کان ارجح واقوی دلیلا لکن فیہ شبۃ وقویۃ لان خلافہ مروی عن ابی حنیفۃ ایضا وا ختارہ الطحطاوی والتمر تاشی وصاحب المختار وجعلہ العتابی الاظھر وقد علمت قول البدائع انہ ظاھرالرویۃ وفی شرح المنیۃ عن جوامع الفقہ انہ الظھر الروایتین عن الامام قال فی النھر وفی الحاوی القدسی وعلیہ الفتوی وفی التکملۃ للزاھدی وبہ ناخذ اھ فھوحنیئذ قول متعمد فی المذھب لا قول ضعیف ۱؎ اھ ملخصا
ردالمحتار میں ہے کہ جمعہ کے متعدد مقامات۵ پر ہونے کا جواز اگر چہ راجح او رقوی ہے مگر اس میں اشباہ بھی قوی ہے کیونکہ اس کے خلاف امام ابو حنیفہ سے بھی روایت ہے اور اسے طحطاوی ، تمرتاشی اور صاحب مختار نے اختیار کیا اور عتابی نے اسے اظہر قراردیا ہے اور صاحب بدائع کا قول آپ پڑھ چکے کہ یہ ظاہر الروایۃ ہے ، شرح المنیہ میں جوامع الفقہ سے ہے کہ امام صاحب سے مروی ہے دونوں روایات میں سے یہ اظہر ہے ، نہر میں کہا کہ حاوی القدسی میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے اور زاہدی کے تکملہ میں کہ ہمارا عمل اسی پر ہے اھ تو اس وقت مذہب میں یہ معتمد قول ہُوا ضعیف قول نہ رہا اھ ملخصا (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۹۶)
پھر اس کی رعایت میں کوئی کراہت لازم نہیں آتی کہ یہ فرض احتیاطی بجماعت نہیں ہوتے منفرداً بہ نیت آخر ظہر پڑھے جاتے ہیں وہ بھی صرف خواص کے لئے عوام کو نہ بتائے جائیں نہ انھیں حاجت ، تو فرق ظاہر ہوگیا اور اعتراض ساقط وتفصیل القول فی تلک الرکعات قدسبقت فی فتاوٰنا( ان رکعات کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہمارے فتاوٰی میں گزر چکی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۹۷: از نودیا ضلع بریلی غرہ محرم ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ میں جامع مسجد ہے کہ ہمیشہ اُس میں جمعہ ہوتا ہے اب ایک مسجد بنا ہوئی اُس کو جامع مسجد بنانا اور قدیم کی جامع مسجد کو ترک کردینا یا دونوں جا جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
قصبہ وشہر جہاں جمعہ جائز ہے وہاں نماز جمعہ متعدد جگہ ہونا بھی جائز ہے اگر چہ افضل حتی الوسع ایک جگہ ہوتا ہے اور اگلی مسجد جامع کو ترک کردینے کے اگر یہ معنی کہ اُس میں نماز ہی چھوڑدی جائے ، تو قطعاً نا جائز کہ مسجد کا ویران کرنا ہے او راگر یہ مراد کہ نماز تو وہاں ہوا کرے مگر جمعہ وہاں کے بدلے اب اس مسجد جدید میں ہو، اس میں اگر وہاں کے اہل اسلام کوئی مصلحتِ شرعیہ قابل قبول رکھتے ہوں تو کیا مضائقہ ، ورنہ مسجد جامع وہی مسجد قدیم ہے او راس میں نماز جمعہ کا ثواب زائد۔ واﷲ تعالٰی اعلم