مسئلہ۱۲۹۴: مرسلہ مولوی الہ یار خاں صاحب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ وعیدین میں پورا خطبہ اشعار عربی وفارسی و ہندی میں پڑھنا اور اشعار کا داخل کرنا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
شعر کی نسبت حدیث میں فرمایا وُہ ایک کلام ہے جس کا حسن حسن اور قبیح قبیح یعنی مضمون پر مدار ہے اگراچھا ذکر ہے شعر بھی محمود او ربُراتذکرہ ہے تو شعر بھی مذموم، بحور، عروض پر موزوں ہوجانا خواہی نحواہی قبح کلام کا باعث نہیں اگر چہ اس میں انہماک واستغراق تام متکلم کے حق میں شرع کو ناپسند،
اخرج البخاری فی الادب المفرد ، والطبرانی فی المعجم الاوسط وابو یعلٰی عن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنھما وھذا والدارقطنی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا والامام الشافعی عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنھما مرسلا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : الشعر بمنزلۃ الکلام فحسنہ کحسن الکلام وقبیحہ کقبیح الکلام ۱؎ قال المناوی اسنادہ حسن۲؎۔
امام بخاری نے ادب المفرد میں ، طبرانی نے معجم اوسط میں اور ابویعلٰی نے حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ابو یعلٰی اور دار قطنی نے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما اورامام شافعی نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مرسلاً روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: شعر دوسرے کلام کی طرح ہی ہے، اچھا شعر اچھے کلام اور برا شعر برے کلام کی طرح ہوتا ہے ۔امام مناوی نے کہا کہ اس روایت کی سند حسن ہے ۔(ت)
(۱؎ الادب المفرد باب الشعر حسن الخ نمبر ۳۸۲ حدیث ۸۶۵ مطبوعہ المکتبہ الاثریہ سانگلا ہل شیخوپورہ ص۲۲۳
الجامع الصغیر مع فتح القدیر بحوالہ معجم اوسط وادب مفرد عن ابن عمرو ابو یعلٰی عن عائشہ ۴/۱۷۵)
(۲؎فیض القدیر شرح الجامع الصغیر بحوالہ الہیثمی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴/۱۷۵)
خود حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے منبر بچھاتے وہ اس پر کھڑے ہو کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حمد وثنا ومفاخرت کا خطبہ بلیغہ اشعار میں پڑھتے ، حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے یہ جب تک اس کام میں رہتا ہے اﷲ تعالٰی جبرئیل سے اس کی مدد فرماتا ہے،
اخرج الامام البخاری فی الجامع الصحیح عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یضع لحسان بن ثابت منبرا فی المسجد یقوم علیہ قائما یفاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوینا فح ویقول رسول اﷲ صلٰی تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس مانافح اوفاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۳؎ ۔
امام بخاری نے الجامع الصحیح میں اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنے صحابی حسان بن ثابت کے لئے مسجد میں منبر بچھواتے اور وہ منبر پر کھڑے ہو کر آپ ـ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مدح کرتے اور کفار کی طرف سے کئے ہوئے حملوں کا جواب دیتے، پھر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے کہ جب تک حسان ( رضی اﷲ تعالٰی عنہ ) اﷲ کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعریف اور دفاع کرتے ہیں اﷲ تعالٰی ان کی روح القدس کے ذریعے مدد وتائد فرماتا ہے۔(ت)
سیدی عارف باﷲ امام الطریقین شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ العزیز(ف) فرماتے ہیں:
ماکان منہ یعنی من الشعر فی المذھد ولمواعظ والحکم وذم الدنیا والتذکیر بالاء اﷲ ونعت الصالحین وصفۃ المتقین ونحو ذلک مما یحمل علی الطاعۃ ویبعد عن المعصیۃ محمود ۱۱؎ الخ
ہر وہ شعر اچھا ہے جو زہد، وعظ، حکمت، ونیا کی مذمت، اﷲ تعالٰی کی نعمتوں کو یادلانے والا یا صالحین ومتقین کی صفت وتعریف وغیرہ پر مشتمل ہو جوانسان کو اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول کی اطاعت پر ابھارتا ہے ہو یا گناہ سے دور کرتا ہو الخ (ت)
ف: اعلٰحضرت نے شیخ کے حوالے سے عبارت نقل کی کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا، مجھے اصل عبارت نہیں مل سکی، البتہ سعی بسیار کے بعد اس عبارت کی مؤید عبارت عوارف المعارف سے ان الفاظ کے ساتھ ملی ہے :
'' فان کان من القصائد فی ذکر الجنۃ والنار والتشویق الی دارالقرار ووصف نعم الملک الجبار وذکر لعبادات و الترغیب فی الخیرات فلاسبیل الی الانکار '' ۔ نذیر احمد
تو اگر خطبہ جمعہ یا عیدین میں احیاناً دو چار عربی اشعار حمد ونعت، وعظ وتذکیر وذمِ دنیا ومدحِ عقبی کے پڑھے جائیں کوئی مانع نہیں بلکہ خود اشد الامۃ فی امراﷲ امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے خطبہ میں بعض اشعار پڑھنا مروی ،
فقد اخرج العسکری فی المواعظ عن ابی خالد الغمسانی قال حدثنی مشیخۃ من اھل الشام ادرکوا عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قالوا لما استخلف صعد المنبر فلما رأی الناس اسفل منہ حمد اﷲ ثم کان اول کلام تکلم بہ بعد الثناء علی اﷲ وعلی رسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، ھون علیک فان الامور:: بکف الالہ مقادیرھا ÷ فلیس باٰتیک منھیھا÷ ولا قاصر عنک مامورھا۲÷ ذکرہ العلامۃ ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی المدنی فی الباب السابع عشرمن کتاب القول الصواب فی فضل امیر المؤمنین عمر بن الخطاب من کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفائ۔
شیخ عسکری نے المواعظ میں ابو خالد الغسانی سے نقل کیا کہ مجھے اہل شام کے بزرگوں نے بتایا کہ ہم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ جب امیر المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ خلیفہ ہوئے منبر پر تشریف لے گئے لوگوں کو اپنے سے نیچا دیکھ کر حمدالہی بجالائے پھر ثنائے خدا ونعت مصطفی جل جلالہ و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد پہلا کلام جو زبان پر لائے یہ اشعار تھے جن کا حاصل یہ کہ اپنے اوپر نرمی کر کہ سب کاموں کے اندازے اﷲ عزوجل کے دستِ قدرت میں ہیں جو مقدر نہیں وہ تیرے پاس آنے کانہیں اور جو مقدر ہے وہ تجھ سے کمی کرنے کا نہیں، اسے علامہ ابراہیم بن عبداﷲ یمنی مدنی نے اپنی کتاب القول الصواب فی فضل امیر المومنین عمر بن الخطاب کے سترھویں باب میں الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء سے نقل کیا ہے۔ (ت)
(۲؎ القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب الباب السابع عشر)
مگر ان خطبوں کا تمام وکمال نظم ہی میں پڑھنا نہ چاہئے کہ بلاوجہ کلماتِ مسنونہ سے اعراض بلکہ طریقہ متوارثہ کی تغیر ہے اور نظم خالص خطبہ میں ترک سنتِ تلاوت کو مستلزم جس کی کراہت کلمات علماء میں مصرح ،
امداد الفتاح شرح نورالایضاح علامہ حسن شرنبلالی میں ہے :
فی المحیط یقرأفی الخطبۃ سورۃ من القراٰن اواٰیۃ فالا خبارقد تواترت ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقرأ القراٰن فی خطبتہ لاتخلوعن سورۃ اواٰیۃ ۱؎۔
محیط میں ہے کہ خطبہ میں قرآنی سُورت یا اس کی آیت پڑھی جائے کیونکہ بنی اکر م صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا خطبہ قرآنی سورت یا کسی آیت قرآنی سے خالی نہ ہوتا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ امداد الفتاح باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۹۸)
علامہ طحطاوی نے حاشیہ شرح تنویر میں خطبہ ثانیہ کی نسبت فرمایا:
پہلے خطبہ میں وعظ کے بدلے دوسرے میں مومنین اور مومنات کے لئے دعا کا اضافہ کیا جائے اس میں وعظ نہ ہو اور اس میں قرأتِ آیت سنت ہے جیسا کہ بحر میں ہے۔ (ت)
عہ: اقول ذکرہ فی البحر استظھارا من قول التجنیس والمزید الثانیۃ کالا ولٰی الخ فلیتنبہ ۱۲ منہ (م)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الجمعہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۳۴۳)
میں کہتا ہوں بحر میں تجنیس والمزید کے قول کو ظاہر قرار دیتے ہوئے ذکر کیا کہ دوسرا خطبہ پہلے کی طرح ہے پس غور کرنا چاہئے۱۲ منہ (ت)
درمختار میں ہے :
یسن خطبتان بجلسۃ بینھا وتارکھامسئی علی الاصح کترکہ قرائۃ قدر ثلث اٰیات ۱؎ اھ ملخصا ،
دو خطبے درمیان میں جلسہ کے ساتھ سنت ہیں، اس جلسہ کو ترک کرنا اصح قول کے مطابق گناہ ہے جیسے کہ تین آیات کی مقدار قرأت کا ترک کرنا گناہ ہے اھ ملخصا
(۱؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۱)
قلت وبقولہ قدر الخ دخل اٰیۃ طویلۃ تکون قدر ثلث فاند فح ما اورد فی ردالمحتار وعلیک بما علقناہ (عہ) ۔
قلت ان کے قول '' قدر الخ'' سے طویل آیت بھی شامل ہو جاتی ہے جو تین آیات کے برابر ہو لہذا ردالمحتار میں جواعتراض ہوا اس کا ازالہ بھی ہوجائے گا آپ پر اس حاشیہ کا مطالعہ نہایت مفید ہے جو ہم نے اس (ردالمحتار) پر لکھا ہے ۔(ت)
عہ: قال العلامۃ الشامی ای یکرہ الا قتصار فی الخطبۃ علی نحو تسبیحۃ وتھلیلۃ مما لایکون ذکر اطویل قدر ثلث اٰی ات او قدر التشھد الواجب ولیس المرادان ترک قرائۃ ثلث اٰی ات مکروہ لان المصرح بہ فی الملتقی والمواھب ونورالایضاح وغیرھا ان من السنن قرائۃ آیۃ ۲؎ اھ وکتب علیہ مانصہ اقول بل ہومفادصریح اللفظ ولوکان المراد ما اولتم بہ لقال کترکہ قرائۃ ثلث اٰیات وھذا اشبہ بالتبد یل منہ بالتاویل ولایرید الشارح ثلث اٰیات عینا حتی یرد علیہ ماذکر تم وانما قدرھا فادخل اٰیۃ او اٰی تین بقدر ثلث وھو مراد من قال اٰیۃ بدلیل مافی الھندیۃ عن الجوھرۃ مقدارما یقرأ فیھا من القراٰن ثلث اٰیات قصار اواٰیۃ طویلۃ ۲؎ اھ فالتام الکلمات وحصحص الحق و الحمدﷲ ۔ ۱۲ منہ
علامہ شامی نے کہا یعنی خطبہ میں صرف ایک تسبیح اور تہلیل کے برابر جو تین آیات یا تشہد واجب کے برابر نہ ہو تو مکروہ ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ تین آیات کا ترک مکروہ کیونکہ ملتقی اور مواہب اور نورالایضاح وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ ایک آیت کا پڑھنا سنت ہے اھ میں نے ا س پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول بلکہ یہ تو صریح لفظ کا مفاد ہے اور اگر آپ کا تاویل شدہ مقصد ہوتا تو یوں کہتے ( تین آیات کے ترک کی طرح مکروہ ہے) تاویل کے ذریعہ تبدیلی کی جائے یہ صریح مفاد بہتر ہے حالانکہ شارح کا مقصد خاص تین آیات مراد نہیں تاکہ آپ کا ذکر کردہ اعتراض وارد ہو بلکہ انھوں نے تو قدرھا کا لفظ کہا ہے اور ایک اور دو ایسی آیات کو بھی شامل کیا جو تین آیات کے برابر ہوں اور ایک آیت کہنے والے کی بھی یہی مراد ہے، اس کی دلیل یہ ہے جو ہندیہ نے جواہرہ سے نقل کیا ہے کہ خطبہ میں جو قرآن پڑھا جائے اس کی مقدار تین چھوٹی آیات یا ایک طویل آیت ہے اھ پس علماء کے کلمات موافق ہوگئےء اور حق واضح ہوگیا الحمد ﷲ ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۹۸)
(۲فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۴۷)
یوں ہی زبان عجمی کا داخل خطبہ کرنا مناسب نہیں کہ زمانہ صحابہ وتابعیں وائمہ دین سے خطبہ خاص زبان عربی میں ہونا متوارث ہے کما ذکر الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح الموطا( جیسا کہ شاہ ولی اﷲ الدہلوی نے شرح موطا میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ت) عہد سلف میں بحمد اﷲ ہزارو ں بلاد عجم فتح ہوئے ۔ ہزارہا منبر نصب کئے گئے ، عامہ حاضرین اہل عجم ہوتے مگر کبھی منقول نہیں کہ سلف صالح نے ان کی تفہیم کے لئے خطبہ جمعہ یا عیدین غیر عربی میں پڑھا یا اس میں دوسری زبان کا خلط کیا ، اور سنت متوارثہ کی مخالفت بیشک مکروہ ہے ۔
درمختار میں فرمایا:
ان المسلمین ماتوارثوہ فوجب اتباعھم ۱؎ اھ ای ثبت وتأکد ،
جو مسلمانوں میں متوارث ومنقول ہو اس کی اتباع لازم ہوتی ہے اھ یعنی وہ ثابت اور موکد ہو تا ہے
اقول وتحقیقہ ان التذکیر بالعجمیۃ لما کان المقتضی لہ بعینہ موجودا والمانع مفقود اثم لم یفعلوا کان ذلک کفا منھم لاترکا والکف فعل والفعل یجری فیہ التوارث بخلاف الترک اذلامعنی لتوارثہ ولا مساغ للتأسی فیہ لانہ غیر مفعول بل ولا مقدور کما نص علیہ الاکابر الصدور قال فی الاشباہ والنظائر التروک لا یقترب بھا الا اذاصارا لترک کفاھو فعل وھو المکلف بہ فی النھی لا الترک بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر ۱؎ اھ یعنی تحریرا لاصول للامام المحقق حیث اطلق رحمہ اﷲ تعالٰی اتقن ھذا فانہ من اجل المھمات۔
اقول اس کی تحقیق یہ ہے کہ عجمی زبان میں وعظ ونصیحت کا تقاضابنفسہٖ موجود تھا اور مانع مفقود ، پھر بھی انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ ان کی طرف سے چھوڑنا ہے ترک نہیں، چھوڑنا فعل ہے اور فعل میں توارث جاری ہوتاہے بخلاف ترک کے کہ اس میں توارث کا مفہوم ہی نہیں ہوسکتا اور اس میں اقتدا کا کوئی جواز ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس پر عمل ہی نہیں ہوا بلکہ وہ قدرت میں نہیں جیسا کہ اس پر اسلاف اکابر نے تصریح کی، الاشباہ والنظائر میں ہے کہ تروک سے تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا البتہ اس صورت میں جب ترک چھوڑنے کی صورت میں ہو تو وہ فعل ہوگا اور نہی میں یہی مکلف بہ ہے نہ کہ ترک بمعنی عدم، کیونکہ اس معنی میں وہ عبد کی قدرت کے تحت داخل نہیں ہوتا جیسا کہ تحریر میں ہے اھ ۔ تحریر سے مراد امام مطلق محقق کی کتاب تحریرالاصول ہے اسے مضبوطی سے حاصل کرو کیونکہ یہ نہایت ہی ضر وری مقام ہے (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۴۷)
بااینہمہ اگر خطبہ عربیہ کے ساتھ کچھ اشعار ِپند ونصائح اردو میں پڑھے جائےں جیسا کہ آج کل ہندوستان میں اکثر جگہ معمول ہے تو غایت اس کی بس اس قدر کی خلافِ اولٰی ومکروہ تنزیہی ہے اس سے زیادہ مکروہ تحریمی و گناہ وممنوع وبدعت سیءہ قرار دینا محض بے دلیل ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم