مسئلہ ۱۲۹۰ : ۶ رمضان المعظم ۱۳۱۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے متقدیوں کو اس کا جواب دینا اور جب دو خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دعا کرنا چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
ہر گز نہ چاہئے یہی احوط ہے ۔ ردالمحتار میں ہے :
اجابۃ الاذان ح مکروھۃ نھر الفائق ۴؎ ۔
اس وقت اذان کا جواب دینا مکروہ ہے ۔نہر الرائق (ت)
(۴؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۷)
پھر درمختار میں ہے :
ینبغی ان لا یجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب۵؎۔
خطیب کے سامنے دی جانے والی اذان کا جواب بالاتفاق نہیں دینا چاہئے۔ (ت)
(۵؎ درمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱/۶۵)
اُسی میں ہے:
اذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلا صلٰوۃ ولا کلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدھا واذاجلس عند الثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاٰخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا وعلی ھذا فالتر قیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینہی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم اﷲ ۱؎ اھ ملخصاً
جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو، ورنہ جب و ہ منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو تمام خطبہ تک نہ نماز ہے اور نہ ہی کلام، صاحبین کہتے ہیں کہ خطبہ سے پہلے اوراس کے بعد گفتگو میں حرج نہیں، اور امام ابویوسف کے نزدیک جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں کوئی حرج نہیں ، اور اختلاف اس گفتگو میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو لیکن اس کے علاوہ گفتگو تو بالاتفاق مکروہ ہے ، اس بناء پر ہمارے زمانہ میں متعارف ترقیہ ( ان اﷲ وملٰئکتہ یصلون علی النبی الخ) ( خطیب کے منبر پر بیٹھتے وقت پڑھنا) امام اعظم کے نزدیک مکروہ ہے اور تعجب ہے کہ ترقیہ پڑھنے والا امر بالمعروف سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی حدیث کی وجہ سے روکتا ہے اور پھر خود کہتا ہے خاموش رہو، اﷲ تعالٰی تم پررحم کرے اھ ملخصاً ،(ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱/۱۱۳)
ہاں یہ جوابِ اذن یا دُعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفظ اصلاً نہ ہو کوئی حرج نہیں،
کما افادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذھب
( جیسا کہ علی قاری نے تحریر فرمایا اور اس کی تفصیلات کُتبِ مذہب میں ہیں ۔ ت) اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جوابِ اذن دے یا دُعا کرے بلا شبہ جائز ہے
وقد صح کلام الامر ین عن سید الکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ۔
صحیح البخاری وغیرہ میں سیدالکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے دونوں معمول ملتے ہیں۔ (ت)
یہ قول مجمل ہے
(ا س مقام کی تفصیل ہم نے بتوفیق ملک العلام نہایت تحقیق کے ساتھ اپنے فتاوٰی میں بیان کردی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۹۱: از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدانپورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب ۱۴ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم بآواز بلند کہنا چاہئے یا باخفا؟ اور اگر بآواز بلند کہے تو کچھ حرج تو نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب
نہ بآواز نہ باخفا، بلکہ تنہا اعوذ آہستہ پڑھ کر حمدِ الہٰی سے شروع کرے،
فی الدر المختار یبدأ بالتعوذ سرا ۱؎ فی ردالمحتار قولہ یبدأ ای قبل الخطبۃ الاولی بالتعوذ سرا ثم بحمد اﷲ تعالٰی والثناء علیہ۔ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم
درمختار میں ہے کہ آہستہ تعوذ پڑھ کر خطبہ شروع کرے، ردالمحتارمیں ہے ماتن کا قول یبدأ یہ ہے کہ پہلے خطبہ سے پہلے آہستہ اعوذ باﷲ کہے اس کے بعد اﷲ تعالٰی کی حمد وثنا کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۱)
(۲؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۹۸)
مسئلہ ۱۲۹۲: از کلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب غلام قادر بیگ صاحب ۳ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ میں جو اردو قصائد متضمن وعظ و نصیحت پڑھے جاتے ہیں یہ شرعاً کیسا ہے اور عوام کا یہ عذر کہ عربی ہماری سمجھ میں نہیں آتی لہذا اردو کی ضرورت ہے قابل قبول ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب
یہ امر خلاف سنتِ متوارثہ مسلمین ہے اور سنتِ متوارثہ کا خلاف مکروہ ، قرناً فقرناً اہل اسلام میں ہمیشہ خالص عربی میں خطبہ معمول ومتوارث رہا ہے اور متوارث کا اتباع ضرور ہے۔
درمختار میں ہے :
لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۳؎
( یہ مسلمانوں کا توارث ہے جس کی اتباع لازم ہے۔ ت)
زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں بحمد اﷲ ہزار ہا بلاد عجم فتح ہوئے۔ ہزاروں عجمی حاضر ہوئے مگر کبھی منقول نہیں کہ انھوں نے ان کی غرض سے خطبہ غیر عربی میں پڑھا یا اس میں دوسری زبان کا خلط کیا ہو،
(۳؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۷)
وکل ماوجد مقتضیہ عینا مع عدم المانع ثم ترکوہ دل علی انھم کفواعنہ فکان الدناہ الکراھۃ۔
ہر وہ شیئ جس کا مقتضی پایا جائے اور کوئی مانع بھی نہیں پھر اس کو ترک کردینا اس پر دال ہے کہ اسے چھوڑا گیا ہے تو کم از کم یہ عمل مکروہ ضرور ہوگا ۔ (ت)
عوام کا یہ عذر جب صحابہ کرام کے نزدیک لائقِ لحاظ نہ تھا اب کیوں مسموع ہونے لگا ، بات یہ ہے کہ شریعت مطہرہ
نے علم سیکھنا سب پر واجب کیا ہے۔ عوام کہ نہیں سمجھتے ، سبب یہ ہے کہ سیکھتے تو قصور اُن کا ہے نہ کہ خطیب کا، آخری عوام قرآن مجید بھی تو نہیں سمجھتے کیا ان کے لئے قرآن اُردو میں پڑھا جائے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۹۳: از شہر پوربندں ملک کا ٹھیاواڑ محلہ ڈیڈروڈ مسؤلہ کھتری عمر ابوبکر صاحب ۲۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں ، خطیب کو وقتِ خواندگی خطبہ عصا ہاتھ میں لینا سنت ہے یا نہیں ؟ فقط
الجواب
خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینابعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ ،اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں، تو بنظرِ اختلاف اُس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو،
وذلک لان الفعل اذا تردد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولٰی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)