Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
61 - 144
مسئلہ ۱۲۸۳ تا۱۲۸۹: از فیروز پور ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی    مرسلہ شیخ فضل حسین صاحب ۲۱رجب ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) حنفی اگر بعض اقوال امام شافعی رحمۃ اﷲعلیہ کے اختیار کرلیں جو دربارہ ترقی عبادت ہوں جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً اگر دیہات میں جمعہ پڑھنا بقول امام شافعی جائز ہو وے اور بدیں حکم حنفی پڑھیں تو جائز ہوگا یا ناجائز؟ اور ناجائز ہونے کی صورت میں لائق مواخذہ کے ہوں گے یا صرف فرضِ ظہر ان کے ذمہ باقی رہے گا؟

(۲) اگربنظر شبہ ناجواز بعد پڑھنے جمعہ کے چار رکعات دیگر بدیں نیت کہ اگر جمعہ ناجائز ہو ایہ رکعتیں فرض ظہر میں شمار ہوجائیں ورنہ نفل رہیں بدیں خیال کہ روز قیامت فرائض میں جو کمی ہوگی سنا ہے کہ وہ سنن ونوافل سے پوری کی جائے گی، پڑھنا کفایت کرے گا یا نہیں؟ اور یہ بات اکثر جگہ رواج میں ہے یہ رواج جائز ہے یا نہیں؟

(۳) یہ بات مشہور ہے کہ نہ پڑھنے سے پڑھنا اولٰی  ہے کہ ضعفِ اسلام کا وقت ہے جمعہ پڑھنے کے واسطےلائق کہنے کے ہے یا نہیں؟

(۴) حاکم یا قاضی یابادشاہ یا نائب کا موجود ہونا جومشروط ہے اور وہ شرط ہندوستان میں کہیں میسر نہیں پھر آخر جمعہ پڑھا جاتا ہے اور ایک شرط پر لحاظ نہیں کیا جاتا، ایساہی اگر بعض شرائط '' حوالیِ شہر یا آبادی مساوی منی'' نہ لحاظ کیا جائے تو گنجائش ہے یا نہیں؟

(۵) جن دیہات میں جمعہ پڑھا جاتا ہے اور وہاں کی آبادی کم ہے کہ شہریت ا س کو حاصل نہیں وہاں کے لوگوں کو اگر جمعہ پڑھنے سے باز رکھا جائے اور کہا جائے کہ فرض ظہر تمھارے ذمّہ سے ساقط نہیں ہوتا جائز ہوگا یا ناجائز ،درحالیکہ وہ جمعہ پڑھنے دوسری جائز جگہ پر جانے والے نہ ہوں۔

(۶) یہ جو علماء لکھتے ہیں کہ جس بستی کے مسلمان مکلف وہاں کی بڑی مسجد میں نہ سماویں وہاں جمعہ جائز

ہے یہ مردم شماری دیہہ سے مراد ہے یا تعداد نمازیوں سے اندرونِ مسجد سے یا مع صحنِ مسجد؟

(۷) جماعت میں بقول بعض ائمہ علاوہ دو آدمی اور بقول بعض چالیس آدمی لکھے ہیں مالا بدمنہ میں ، اگر موجب اُس کے چالیس  آدمی سے کم میں جمعہ پڑھا جائے تو جائز ہوگا یا ناجائز ؟ بینوا توجروا۔
الجواب

(۱۱) حتی الامکان چاروں مذہب بلکہ جمیع مذاہب ائمہ مجتہدین کی رعایت ہمارے علماء بلکہ سب علماء مستحب لکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ یہ اسی وقت تک ہے کہ اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب نہ ہو ورنہ ایسی رعایت کی اجازت نہیں۔
فی ردالحتار (ف۱) لیس لہ ان یرتکب مکروہ مذھبہ لیراعی مذھب غیرہ کما مر تقریرہ اول الکتاب۱؎ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ غیر کے  مذہب کی رعایت کرتے ہوئے اپنے مذہب کے مکروہ کا ارتکاب جائز نہیں جیسا کہ اس پر کتاب کی ابتداء میں تفصیلاً گزر چکا ہے ۔(ت)

 ف۱ : ردالمحتار میں یہ عبارت بالمعنی مذکور ہے بالفاظہ مذکور نہیں۔
 (۱؎ ردالمحتار    مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۰۹)
جب مکروہ کے سبب یہ حکم تو امر حرام وناجائز کے لئے کیونکر اجازت ہوسکتی ہے، دیہات میں جمعہ پڑھنا خود ناجائز ہے۔
فی الدرالمختار تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لا یصح لان المصر شرط الصحۃ ۲؎۔
درمختار میں ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے کام میں مشغول ہوناہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر کا ہونا شرط صحت ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     باب العیدین             مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۴)
پھر اس کے سبب جماعتِ ظہر ترک ہونا دوسرا گناہ ، اور ہر گناہ قابلِ مواخذہ، اور اگر ظہر نہ پڑھی جب تو خود نماز فرض معاذ اﷲ عمداً ترک کی فرض کا ذمہ پر رہ جانا کیا کوئی ہلکی بات ہے، والعیاذ باﷲ تعالٰی  ( اﷲ تعالٰی  کے دامن رحمت میں پناہ لیتا ہوں ۔ت)

(۲) یہ نیت کہ اگر جمعہ نہ ہوا تو فرض ورنہ نفل ہر گز کفایت نہ کرے گی کہ جمعہ نہ ہوا تو فرض ظہر ذمہ پر باقی ہے اور فرض کی نیت میں تعیین شرط ہے شک وتردد کافی نہیں،
فی التنویر لابد من التعیین عندالنیۃ لفرض ولو قضاء وواجب ۱؎۔
تنویر میں ہے کہ نیت کے وقت فرض وواجب کی تعیین ضروری ہے خواہ وہ قضا ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار            باب شروط الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۶۷)
بلکہ اشباہ کی جگہ یہ کرے کہ جمعہ پڑھتے وقت عزم وجزم کے ساتھ جمعہ کی نیت کرے پھر چار سنت بعد یہ بہ نیت سنت وقت پڑھے پھر یہ چار رکعت احتیاطی اس نیت سے ادا رکرے کہ پچھلی وہ ظہر جس کا وقت میں نے پایا اور ادا نہ کی ، پھر دو سنتیں بہ نیت سنت وقت پڑھے ، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جمعہ صحیح ہوگیا تو چار فرض جو اس نے پڑھے پہلے کسی ظہر کی قضا دانستہ یا نا دانستہ جو اس کے ذمہ رہ گئی تھی اُس میں محسوب ہوجائیں گی اور کوئی قضا نہ تھی تو نفل ہوں گی، اور اگر جمعہ نہ ہوا تو یہ فرض خود آج ہی کی ظہر کے مع سنت قبلیہ وبعدیہ بترتیب ادا ہوجائیں گے، یہ اس طریقہ کی منفعت ہے نہ یہ کہ نیت میں یوں شک وتردد کرے، یوں ہرگز فرض ادا نہیں ہوسکتے تو وہ مقصود احتیاط کہاں حاصل ہوا، ان رکعتوں کا رواج جواز کیا بلکہ ایسے مواقع میں علماء نے حکم دیا ہے مگر ان جاہلوں کونہیں جو نیت صحیح نہ کرسکیں یا ان کے باعث جمعہ کے دن دوہرے فرض سمجھنے لگیں، ولہذا علماء فرماتے ہیں عوام جاہلوں کو ان کا حکم نہ دیا جائے،
عالمگیری میں ہے:
ینوی اٰخرظھر علیہ وھوا لاحسن۲؎
 ( جو اس پر آخری ظہر ہے اس کی نیت کرے اور یہی احسن ہے۔ ت)
 (۲؎ فتاوی ہندیۃ        الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۴۵)
مراقی الفلاح میں ہے:
لا یفتی بالاربع الا الخواص ۳؎
 ( چار رکعت ظہر کا فتوٰی  صرف اور صرف خواص کے لئے ہے ۔ت)
 (۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب الجمعۃ       مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی   ص۲۷۶)
مگر یہ اس جگہ کے لئے ہے جو شہر یا فناء شہر ہو اور تعددجمعہ  وغیرہ وجوہ کے سبب صحت جمعہ میں اشتباہ ہو، گاؤں میں جمعہ اصلاً جائز نہیں تو وہاں اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ ایک ناجائز کام کریں اور ان چار رکعت احتیاطی سے اس کی تلافی چاہیں۔

(۳) اور ضعفِ اسلام کا عذر قابل سماعت نہیں ،ضعف تو یوں ہی ہے کہ اکثر اہل اسلام کو جائز نا جائز کی چنداں پروا نہ رہی نہ کہ وہ ناجائز جسے عبادت سمجھ کر بجا لائیں، رونق اسلام اتباعِ احکام میں ہے نہ بے قیدی میں۔
والذنب یجرالی الذنب والقلیل یدعو الی الکثیر ومالنا الافتاء الابالمذھب وقد قال العلماء فی عدۃ مسائل فی المذھب لا یفتی بھا کیلا یتوصل العوام الی ھدم المذھب فکیف بما لیس من المذھب فی شیئ وباﷲ العصمۃ۔
گناہ دوسرے گناہ کی طرف کھینچتا ہے ، قلیل، کثرت کی دعوت دیتا ہے اور ہم جو مذہب ہے اسی پر فتوی دیتے ہیں، متعدد ایسے مسائل جو مذہب پرہیں لیکن علماء نے فرمایا کہ ان پر فتوی نہ دیا جائے تاکہ عوام مذہب کو ختم کرنے پرنہ تل جائیں تو اس مسئلہ کا کیا معاملہ ہے جو مذہب سے تعلق نہ رکھتا ہے اور عصمت اﷲ تعالٰی  ہی کے لئے ہے۔ (ت)  (۴ ، ۵ ) اور سلطان یا اس کے مامور وماذون کا اقامت جمعہ کرنا اگر چہ ایسی شرط ہے کہ ہنگام ضرورت ساقط ہوجاتی ہے مگر شرط مصر کا اس پر قیاس نہیں کہ غیر مصر میں اقامت جمعہ خود شرع مطہر نے ضرور نہ ٹھہرائی بلکہ وہاں عدم اقامت ہی ضرور ہے تو اس شرط کے سقاط میں ضرورت کے کیا معنی ، غرض دیہات میں جمعہ کی ہر گز اجازت نہیں ہوسکتی فرضِ ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا،
فی الشافی عن القہستانی عن الجواھر لو صلوا فی القری لزمھم اداء الظھر۱؎۔
شامی نے قہستانی سے انہوں نے جواہر سے نقل کیا کہ اگر لوگوں نے دیہاتوں میں جمعہ ادا کیا تو وہاں ظہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱ /۵۹۰)
 (۶) بعض علماء نے جویہ روایت اختیار کی ہے اُس میں بستی کی مردم شماری مقصود نہیں بلکہ خاص وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے یعنی مرد عاقل بالغ آزاد مقیم کہ اندھے لنجھے لُولے یا ایسے ضعیف یا مریض نہ ہوں کہ جمعہ کی حاضری سے معذور ہوں، ایسے معذوروں یا بچوں ، عورتوں،غلاموں، مسافروں کی گنتی نہیں، اورپوری مسجد مع صحن مراد ہے نہ کہ فقط اندر کا درجہ،
فی التنویر ھو مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ المکلفین بھا ۱؎ فی الشامی عن الطحطاوی عن القھستانی احترزبہ عن اصحاب الاعذار مثل النساء و الصبیان والمسافرین ۲؎۔
تنویر میں ہے شہر وہ ہے جس کی سب سے بڑی مسجد شہر کے مکلفین کے لئے ناکافی ہو، شامی میں طحطاوی سے اور وہاں قہستانی سے ہے کہ لفظ مکلفین سے معذورین کو خارج کیا ہے مثلاً خواتین ، بچے اور مسافر ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الجمعۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/۱۰۹)

(۲؎ ردالمحتار     باب الجمعۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر       ۱ /۵۹۰)
 (۷) ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے نزدیک صحتِ نماز جمعہ کے لئے امام کے سوا تین مرد عاقل بالغ درکار ہیں اس سے کم میں جائز نہیں زیادہ کی ضرورت نہیں۔
فی التنویر والجماعۃ اقلھا ثلثۃ رجال سوی الامام ۳؎۔واﷲ تعالٰی  اعلم
تنویر میں ہے جماعت کے لئے امام کے علاوہ کم از کم تین مردوں کا ہونا ضروری ہے ۔(ت) واﷲ تعالٰی  اعلم
 (۳؎ درمختار     باب الجمعۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/۱۱۱)
Flag Counter