| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ ۱۲۸۲: از بٹھورہ کلاں پر گنہ ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ سالار بخش ۲۱جمادی الاولٰی ۱۳۰۹ھ کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازجمعہ چار رکعت فرض ظہر مثل نفل یعنی چاروں رکعتوں میں سُورت ملا کر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب وہ شہر وقصبات جن میں شرائط جمعہ کے اجتماع میں اشتباہ واقع ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور آج کل ہندوستان کے عام بلاد ایسے ہی ہیں ایسی جگہ ہمارے علمائے کرام نے حکم دیا ہے کہ بعد جمعہ چار رکعت فرض احتیاطی اس نیت سے ادا کرے کہ پچھلی وہ ظہر جس کا وقت میں نے پایا اور اب تک ادا نہ کی یہ چار رکعتیں چاروں سنت بعد یہ جمعہ کے بعد پڑھے اور جس پر ظہر کی قضائے عمری نہ ہو وہ چاروں میں سورت بھی ملائے پھر جمعہ کی دو سنتیں ان رکعتوں کے بعد بہ نیت سنت وقت ادا کرے جمعہ پڑھتے وقت نیت صحیح وثابت رکھے جمعہ کو صحیح سمجھ کر خاص فرض جمعہ کی نیت کرے اگر بہ نیت فرض ادا نہ کیا تو جمعہ یقینا نہ ہوگا اور اب یہ چار رکعتیں نری احتیاطی نہ رہیں گی بلکہ ظہر پڑھنی فرض ہوجائے گی، اور جب یوں نیتِ صحیحہ سے ادا کرچکا تو ان چار رکعتوں میں یہ نیت نہ کرے کہ آج کی ظہر پڑھتا ہوں بلکہ وہی گول نیت رکھے کہ جو پچھلی ظہر میں نے پائی اور ادا نہ کی اسے اداکرتا ہوں خواہ وہ کسی دن کی ہو اس سے زیادہ خیالات پریشان نہ کرے، یوں پڑھنے میں یہ نفع پائے گا کہ اگر شاید علم الہٰی میں بوجہ فوت بعض شرائط جمعہ صحیح نہ ہوا ہوگا تو یہ رکعتیں آج ہی کی ظہر ہوجائیں گی کہ اس صورت میں یہی ظہر وہ پچھلی ہے جس کا وقت اُسے ملا اور ابھی ذمّہ سے ساقط نہ ہوئی اور اگر جمعہ صحیح واقع ہوا تو آج سے پہلے کی جو ظہر اس کے ذمہ رہی ہوگی (خواہ یوں کہ سرے سے پڑھی ہی نہ تھی یا کسی وجہ سے فاسد ہوگئی ) وہ ادا ہوجائے گی اور اگر کوئی ظہر نہ رہی ہوگی تو یہ رکعتیں نفل ہوجائیں گی ، اسی لحاظ سے جس پر قضائے عمری ظہر کی نہ ہو یہ چاروں رکعتیں بھری پڑھیں کہ اگر نفل ہوئیں اور سُورت نہ ملائی تو واجب چھوٹ کر نماز مکروہ تحریمی ہوگی، ہاں جس پر قضائے عمری ہے اسے پچھلی دو میں سورت ملانے کی حاجت نہیں کہ اس کے ہرطرح فرض ہی ادا ہوں گے، جمعہ نہ ہوا تو آج کے اور ہواتو آج سے پہلے کے یہ سب تفصیل واقع کے اعتبار سے ہے نمازی کو نیت میں اس شک وتردد کا حکم نہیں کہ نیت وتردد باہم منافی ہیں اگر یونہی مذبذب نیت کی تو وہ مقصود واحتیاط ہر گز حاصل نہ ہوگا لہذا اسی طرح گول نیت سے بے خیال تردد بجالائے اور واقع کا معاملہ علمِ الہٰی پر چھوڑدے، پھر ایسی تصحیح نیت نرے جاہلوں کو ذرا دشوار ہے اور ان سے یہ بھی اندیشہ کہ اس کے سبب کہیں یہ نہ جاننے لگیں کہ جمعہ سرے سے خدا کے فرضوں میں ہی نہیں سمجھنے لگیں کہ جمعہ کے دن دوہرے فرض ہیں دو رکعتیں الگ چار الگ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان رکعتوں کا حکم نہ دیا جائے ان کے حق میں یہی بہت ہے کہ بعض روایات پر اُن کی نماز ٹھیک ہوجائے انھیں ایسی احتیاط کی حاجت نہیں، ہاں خواص یعنی جو لوگ اس طرح کی نیت کرسکتے ہوں اور اُن سے وہ اندیشے نہ ہوں وہ یہ احتیاط بجالائیں تا کہ یقینا فرض خدا ادا ہوجائے اور شبہ و احتمال کی گنجائش نہ رہے، فقیر اپنے فتاوٰی میں یہ مسئلہ مفصل ومدلل لکھ چکا ہے یہاں صرف دوتین عبارات پر اقتصار ہوتا ہے،
فتاوٰی علمگیری میں ہے :
فی کل موضع وقع الشک فی جواز الجمعۃ لوقوع الشک فی المصرا وغیرہ واقام اھلہ الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات وینووا بھا الظھر حتی لو لم تقع الجمعۃ موقعھا یخرج عن عھدۃ فرض الوقت بیقین کذافی الکافی وھکذافی المحیط ثم اختلفوا فی نیتھا قیل ینوی اٰخرظھر علیہ وھو الاحسن والاحوط ان یقول نویت اٰخرظھر ادرکت وقتہ ولم اصلہ بعد کذا فی القنیۃ وفی فتاوی آھ و ینبغی ان یقرء الفاتحہ والسورۃ فی الاربع التی تصلی بعد الجمعۃ فی دیارنا کذا فی التاتار خانیۃ۱؎ ۔
ہر وہ مقام جہاں پر جمعہ ہونے یا نہ ہونے میں شک کی وجہ سے جوازِ جمعہ میں شک ہوجائے وہاں جمعہ کے بعد چار رکعات بہ نیت ظہر ادا کی جائیں تاکہ اگر جمعہ نہ ہوا تو وقتی فرض کی ادائیگی بالیقین ہوسکے ، الکافی، اور محیط میں بھی اسی طرح ہے ، پھر ان رکعات کی نیت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ وہ ارادہ کرے کہ وہ اپنے ذمّے آخری ظہر ادا کررہا ہے اور یہی احسن ہے ، اور احوط یہ ہے کہ یوں ارادہ کرے میں آخری ظہر پڑھ رہا ہوں جس کا وقت میں نے پایا اور اسے ابھی تک ادا نہیں کیا، جیسا کہ قنیہ میں ہے، اور فتاوٰی آہو میں ہے کہ ہمارے علاقے میں جمعہ کے بعد جو چار رکعات پڑھی جاتی ہے ان میں فاتحہ اور سورت پڑھنی چاہئے، جیساکہ تاتار خانیہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۴۵)
حلیہ میں ہے :
قد یقع الشک فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد بعض شروطھا ومن ذلک مااذا تعددت فی المصروھی واقعۃ اھل مروفیفعل ما فعلوہ وقال المحسن امرائمتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا۲؎۔
بعض شرائط جمعہ کے فقدان کی وجہ سے بعض اوقات صحتِ جمعہ میں شک ہوجاتا ہے ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو اور اہل مرو کا واقعہ ہے، پس وہاں وہی کچھ کیا جائے گا جو انھوں نے کہا، محسن نے کہا کہ انھیں ائمہ نے احتیاطاً حتمی طور پر جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کرنے کا حکم دیا۔ (ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
طحطاوی میں ہے :
قال الحلبی الاولی ان یصلی بعد الجمعۃ سنتھا ثم الاربع بھذہ النیۃ ثم رکعتین سنۃ الوقت فان صحت الجمعۃ کان قد ادی سنتھا علی وجھہا والا فقد صلی الظھر مع سنتہ ابوالسعود ۱؎
حلبی کہتے ہیں کہ اولٰی یہ ہے کہ جمعہ کے بعد اس کی سنن ادا کرے پھر اس نیت سے چار رکعات پھر وقتی سنتیں دو رکعات ادا کرے ، پس اگر اب جمعہ صحیح ہوا تو اس کی سنن اپنے طریقے پر ہوئیں، اور اگر جمعہ نہ ہوا تو اس نے ظہر سنن کے ساتھ ادا کرلی ، ابوالسعود ۔ (ت)
( ۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الجمعۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۳۴۱)
مراقی الفلاح میں ہے :
بفعل الاربع مفسدۃ اعتقادالجھلۃ عدم فرض الجمعۃ اوتعدد المفروض فی وقتھا ولایفتی بالاربع الا الخواص یکون فعلھم ایاھا فی منازلھم ۲؎ اھ وبمثلہ صرح المحققون الآمرون کالمقدسی وغیرہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان چار رکعات کی ادائیگی جاہل لوگوں کے اعتقاد میں فساد برپا کرے گی کہ جمعہ فرض ہے یا نہیں، یا ایک ہی وقت میں متعدد فرائض ہوسکتے ہیں، لہذا چار رکعات ظہر کا فتوٰی صرف خواص کے لئے ہے اور ان کا فعل ( رکعات کی ادائیگی) بھی اپنے گھروں میں ہوگی اھ اسی کی مثل اس کا حکم دینے والے محققین مثلاً امام مقدسی وغیرہ نے کہا ہے ، (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ۷۶۔۷۵ ۲)