Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
59 - 144
ثانیاً اگر ثابت ہوجائے کہ یہ قلعہ اذن عام کا مکان ہے تو جب تک کسی شخص خاص کو حاضریِ نماز سے ممانعت نہ تھی جمعہ بیشک صحیح ہوجاتاتھا اب کہ اُس  ملازم جرنیل کو منع کیا گیا تو محلِ نظر ہے کہ یہ ممانعت ان مقیمان جمعہ کی طرف سے بھی ہے یا نہیں۔ اگر یہ اُسے جمعہ میں  آنے سے منع نہیں کرتے اگر چہ اور نمازوں میں مانع ہوں اگر چہ کرنیل نے اُسے جمعہ سے بھی جبراً روکا ہو یا وہ خود بخوفِ کرنیل نہ آتا ہو تو ان صوتوں میں بھی صحتِ جمعہ میں شک نہیں کہ جب مقیمین جمعہ کی طرف سے اذنِ عام اور وہ مکان بھی اذن عام کا صالح تو کسی شخص کو غیرجمعہ سے توروکنا یا جمعہ میں اُس کا خود آنا یا کسی کا جبراً اُسے بازرکھنا قاطع اذن عام نہیں ہوسکتا جیسے زندانی لوگ کہ ہمیشہ حضوریِ مساجد سے ممنوع ہوتے ہیں یا اگر کوئی شخص بعض نمازیوں کو خاص وقت نماز اس لئے مقید کرلے کہ مسجد میں نہ جانے پائیں تو نہ یہ قادح اذن عام نہ مقمانِ جمعہ پر اس کا الزام، بلکہ ظاہراً ممانعت کرنیل بھی کوئی اپنی طرف سے حکمِ جبری نہیں انھیں پلٹن والوں کی خاطر سے ہے اور انھیں کی مرضی پر رکھا ہے جب یہ مزاحمت نہیں کرتے تو کرنیل کو پر خاش سے کیا مطلب ، اور اگر یہ خود اُسے حاضری جمعہ سے بازرکھتے ہیں تو دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص فی الواقع شریر ومفسد و موذی ہے کہ اُس کے آنے سے اندیشہ فتنہ ہے جب تو ایسی ممانعت بھی مانع صحتِ جمعہ نہ ہوگی کہ قادح اذن عام سے روکنا ہے۔
کما فی الطحطاوی عن الحلبی لا بدمن حملہ علی مااذامنع الناس من الصلٰوۃ۱؎۔
جیساکہ طحطاوی میں حلبی سے ہے کہ اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب وہ لوگوں کو نماز سے منع کرے۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار    باب الجمعۃ        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۱/۳۴۴)
شرح عیون المذاہب پھر مجمع الانہر پھردر مختار پھر فتح العین علامہ ابو السعود ازہری میں ہے : واللفظ لہ الجمعۃ بالقلعۃ صحیحۃ وان غلق بابھا لان الاذن العام مقرر لاھلھا وغلقہ لمنع عدو اوعادۃ قدیمۃ لا للمصلی ۲؎ کما فی الشامی عن الطحطاوی لا یضر منع نحو النساء لخوف الفتنہ ۱؎انتھی۔
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ قلعہ کے اندر جمعہ درست ہے اگر چہ اس کا دروازہ بند ہو کیونکہ اذن عام اہل قلعہ کےلئے ثابت ہے اور اس کا بند ہونا دشمنوں کے عدمِ وخول کے لئے ہے یا عادت قدیمہ ہے نمازی کو روکنے کے لئے نہیں۔ (ت)

اور یہ روکنا درحقیقت نماز سے رکنا نہیں بلکہ فتنہ سے بندش ہے ، جیسا کہ شامی میں طحطاوی سے ہے کہ عوتوں وغیرہ کو روکنا مضر نہیں کیونکہ ان کے آنے میں فتنہ کا ڈر ہے ۔انتہٰی
 (۲؎ فتح المعین        باب صلٰوۃ الجمعۃ      مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/۳۱۶)



 (۱؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ        مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)
اقول وتعلیلہ بعدم التکلیف معلول بما فی الشامی عن العلامۃ اسمٰعیل مفتی دمشق الشام تلمیذ المحقق العلائی صاحب الدرالمختار عن العلامۃ عبدا العلی البرجندی  شارح  النقایۃ ان  الاذن العام ان لایمنع احدا ممن تصح منہ الجمعۃ ۲؎ کما  لا یخفٰی فافھم۔
اقول یہ علّت بیان کرنا کہ وہ مکلف نہیں ،اس کا تعلق اس بیان سے ہے جو شامی میں مفتی شام جو اسمٰعیل دمشقی جو محقق علائی صاحبِ درمختار کے شاگرد ہیں سے شارح نقایہ علامہ عبدالعلی برجندی کے حوالے سے کہا کہ اذن عام یہ ہے کہ ہر اس شخص کو نہ روکا جائے جن سے جمعہ کی ادائیگی صحیح ہو جیسا کہ یہ مخفی نہیں ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ        مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر     ۱/۶۰۰)
علماء خود فرماتے ہیں کہ موذیوں کو مساجد سے روکا جائے،
کما فی عمدۃ القاری للامام البدر محمود العینی وفی الرسائل الزینیۃ للعلامۃ زین بن نجیم المصری وفی الدرالمختار یمنع منہ ( ای من المسجد) کل موذولو بلسانہ۳؎ ۔
جیسا کہ امام بدر محمود عینی کی عمدۃ القاری ، علامہ زین بن نجیم المصری کے رسائل زینیہ اور درمختار میں ہے کہ (مسجد سے) ہر اذیت دینے والے کو منع کیا جائے اگر چہ وہ زبان سے اذیت دینے والا ہو۔ (ت)
 (۳؎ درمختار    باب مایفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۹۴)
تو یہ روکنا کہ مطابق شرع ہے منافی اذن نہیں، اور اگر ایسا نہیں بلکہ یہ لوگ محض ظلماً بلاوجہ یا براہ تعصب روکتے ہیں تو بلاشبہ ان کا جمعہ باطل کہ ایک شخص کی ممانعت بھی اذن عام کی مبطل ،
فقد مرعن الشامی عن اسمٰعیل عن البرجندی ان لا یمنع احدا۔
پہلے شامی نے شیخ اسمٰعیل سے برجندی کے حوالے سے لکھا کہ کسی کو منع نہ کیا جائے ۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
الاذن العام بالصلٰوۃ بان یفتح باب الجامع اودارلسطان بلا مانع لاحد من الدخول فیہ ۱؎ اھ ھذا کلہ مما اخذتہ تفقھا من کلما تھم وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی  ۔
نماز کے لئے اذن عام یہ ہے کہ داخلہ کے لئے بلا رکاوٹ جامع مسجد یا دارِ سلطان کا دروازہ کھول دیا جائے اھ اور یہ تمام فقہاء کی عبارات سے میں نے سمجھا ہے اور ان شاء اﷲامید ہے کہ یہ صواب ہے۔ (ت)
 (۱؎ جامع الرموز     فصل صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ مکتبہ السلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۲۶۵)
دس  سنتیں ہیں، چار پہلے چار بعد ہی
منصوص علیھن فی المتون قاطبۃ وقد صح بھن الحدیث فی صحیح مسلم
 ( ان کے چار ہونے پر متون میں قطعاً تصریح ہے اور صحیح مسلم میں ان کے بارے میں صحیح حدیث بھی وارد ہے ۔ت)اور دو بعد کو اور، کہ بعد جمعہ چھ  سنتیں ہونا ہی حدیثا وفقھا اثبت واحوط ( مختارومحتاط حدیث وفقہ کے اعتبار سے ۔ت) مختار ہے اگر چہ چار  کہ ہمارے ائمہ میں متفق علیہ ہیں ان دو سے مؤکد تر ہیں ۔
لحدیث ابوداؤ دبسند صحیح والحاکم وصححہ علی شرط الشیخین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی   عنھما انہ کان اذاکان بمکۃ فصلی الجمعۃ تقدم فصلی رکعتین ثم تقدم فصلی اربعا( وفیہ) فقال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی   علیہ وسلم یفعل ذلک۲؂ ھذا مختصر وتمام الکلام علیہ فی الفتح ،
ابو داؤد میں سند صحیح کے ساتھ حدیث ہے ، حاکم نے تخریج کرکے کہا کہ بخاری و مسلم کے شرائط پر ہے ______ کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی   عنمہا کے بارے میں ہے کہ جب مکہ میں تھے جمعہ ادا فرمایا تو آگے بڑھے دو رکعات ادا کیں پھر آگے بڑھے تو چار رکعت ادا کیں( اور اسی میں ہے) فرمایا رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ مختصر ہے اور اس پر تمام گفتگو فتح میں ہے،
 (۲؎ سنن ابوداؤد    باب الصلٰوۃ بعد الجمعۃ     مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/۱۶۰)
والامام الطحطاوی فی شرح معانی الاثار عن ابی عبدالرحمٰن السلمی قال قدم علینا عبد اﷲ (یعنی ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی   عنہ) فکان یصلی بعد الجمعۃ اربعا فقدم بعدہ علی رضی اﷲ تعالٰی   عنہ فکان اذا صلی الجمعۃ صلی بعدھا رکعتین واربعا فاعجبنا فعل علی رضی اﷲ تعالٰی   عنہ فاخترناہ۳؂۔
امام طحطاوی شرح معانی الآثار میں ابو عبدالرحمان السلمی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ( ابن مسعود رضی اﷲ عنہ) ہمارے ہاں تشریف لائے توآپ نے جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کیں، اس کے بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی   عنہ تشریف لائے اور آپ کا طریقہ تھا کہ جمعہ کے بعد پہلے دو رکعات پھر چار رکعات اداکرتے ، ہمیں حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی   عنہ کافعل نہایت ہی پسند آیا تو ہم نے اسی کو اختیار کرلیا ،
 (۳؎ شرح معانی الآثار    باب التطوع بعد الجمعۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۳۳)
فی فتح ابوالسعود الازھر تحت قول مسکین قال ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی   السنۃ بعد صلٰوۃ الجمعۃ ست رکعات اھ وبہ اخذ الطحطاوی واکثر المشائخ نھر عن عیون المذاھب التجنیس  ۱؎ اھ فی الجواھر الاخلاطی ھو ما خوذ عن القاضی واخذ بہ اکثر المشائخ وھوا المختار ۲؎ اھ فی مجمع الانھر بہ اخذ الطحطاوی واکثر المشائخ منا وبہ یعمل الیوم ۳؎ اھ
فتح ابوسعود ازہری میں مسکین کے قول کے تحت ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی   نے فرمایا : جمعہ کے بعد چھ رکعات ہیں اھ، اسے طحاوی اور اکثر مشائخ نے مختار کہا ہے۔ نہر نے عیون المذاہب اور تجنیس کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ جواہر اخلاطی میں ہے کہ یہ قاضی سے ماخوذ ہے اھ اکثر مشائخ نے اسی پر عمل کیا اور یہی مختار ہے اھ مجمع الانہر میں ہے کہ طحاوی اور اکثر مشائخ نے اسی پر عمل کیا اور آج اسی پر عمل کیا جاتا ہے اھ
 (۱؎ فتح المعین    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱/۲۵۳)

(۲؎ جواہر الاخلاطی        فصل فی الجماعت    غیر مطبوعہ قلمی نسخہ        ص۴۲)

(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۱۳۰)
فی البحر الرائق فی الذخیرۃ والتجنیس وکثیرمن مشائخنا علی قول ابی یوسف وفی منیۃ المصلی والا فضل عندنا ان یصلی اربعا ثم رکعتین ۴؎ اھ فی الغنیۃ الافضل ان یصلی اربعا ثم رکعتین للخروج عن الخلاف ۵؎ اھ
بحر الرائق میں ہے کہ ذخیرہ اور تجنیس میں ہے کہ مشائخ کی اکثریت امام ابویوسف کے قول پر ہے ۔ منیۃ المصلی میں ہے کہ ہمارے نزدیک افضل یہی ہے کہ پہلے چار اور پھر دو رکعات ادا کی جائیں اھ غنیہ میں ہے کہ اختلاف سے بچنے کے لئے افضل یہی ہے کہ پہلے چار اور پھر دو رکعات ادا کی جائیں اھ (ت)
 (۴؎ بحرالرائق      باب الوتر والنوافل     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۲ /۴۹)

(۵؎ غنیہ المستمل        فصل فی النوافل    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۸۹)
اور عام لوگوں کو احتیاطی ظہر کی کچھ ضرورت نہیں کما فصلنا فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی   میں اسے تفصیلاً بیان کیا ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی   اعلم
Flag Counter