مسئلہ۱۲۷۹ : از افضل گڈھ ضلع بجنور مرسلہ یوسف خاں وغیرہ ۲۶ رمضان المبارک ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید جمعہ کے دن جب خطبہ پڑھتا ہے تو اس کے بعد ترجمہ بھی پڑھتا ہے اس لئے خطبہ ثانیہ میں توقف ہوتا ہے اور خطبہ ثانیہ کے بعد ترجمہ پڑھنے سے نماز میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ خطبہ مع ترجمہ بزبان غیر عربی جمعہ یا عیدن کا جائز ہے یا نہیں؟ اور توقف مابین ہر دو خطبہ شرعاً جائز ہے؟ اور خطبہ ثانیہ کے بعد تاخیر نمازِ جمعہ میں ہوگی وہ بھی شرعاً جائز ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب
ترجمہ کے سبب خطبہ ثانیہ یا نماز جمعہ میں تاخیر فصل اجنبی تو نہیں ہے کہ ترجمہ خطبہ بھی خطبہ ہے
اذفیھا ما فیھا من الذکر والتذکیر
( کیونکہ اس میں ذکر و نصیحت ہے ۔ت) ہاں خطبہ کی تطویل ہوگی اور یہ خلاف سنت ہے خصوصاً اگر مقتدیوں پر ثقیل ہو کہ اب سخت ممانعت ہے۔
لحدیث قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم: افتان انت یا معاذ ! قالہ فی الصلٰوۃ فکیف فی الخطبۃ ۱؎۔
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے اے معاذ! تو فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے ، یہ آپ نے نماز کے بارے میں فرمایا تھا تو خطبہ میں کیا حال ہوگا۔(ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی از جابر بن عبداﷲ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۲۹)
اور نہ بھی ہو تو خطبہ میں غیر زبان عربی کا خلط خود مکروہ اور سنتِ متوارثہ کے خلاف ہے کمابیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے خوب بیان کیا ہے ۔ ت) ہاں عیدین میں خطبہ ثانیہ اگرلوگ راضی ومتوجہ ہوں بہ نیت وعـظ نہ بہ نیت خطبہ عید پند و نصیحت کر سکتا ہے اگر چہ وہی خطبہ میں بزبان عربی مذکور ہوئی۔
فقداتی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد خطبۃ العید الی النساء فوعظھن وذکر ھن۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خطبہ ، عید کے بعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لے جاکر انھیں وعظ ونصیحت فرماتے ۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح باب صلٰوۃ العیدین الفصل الثانی مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۲۶)
مسئلہ ۱۲۸۰ و ۱۲۸۱ : از کلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۲۶ صفر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) قلعہ کلکتہ میں دروازوں پر پہرہ چوکی رہتا ہے اور دس پانچ کیا سو پچاس آدمی بغرضِ سیر جائیں یا دوسری غرض سے مثلاً کسی کے ملاقات کو ، تو کوئی مانع ومزاحم نہیں ہوتا، تین چار ہزار مزدور اندر کام کرتے ہیں جو صبح کو بے روک ٹوک اندر جاتے اور باہر آتے ہیں، ہاں شب کے ساڑھے نو بجے سے عام لوگ پانچ بجے تک اندر نہیں جاسکتے اند ربازار بھی ہے جوچاہے باہر سے اشیاء خریدنے کو جائے کچھ ممانعت نہیں ، انگریزی جو تا قلعہ میں عمدہ بنتا ہے اکثر لوگ اس کے خرید نے کو جاتے اور خرید کرلاتے ہیں، ہاں یہ قاعدہ ہے کہ باہر سے جو چاہے جو چیز چاہے اند رلے جائے مگر اند رسے بغیر پاس کے کوئی چیز باہر نہیں لاسکتا، مسجد اندر نہیں ہے، جماعت اذان کے ساتھ ہوتی ہے ، پیشترکی پلٹن میں مسلمان بکثرت تھے، نماز باجماعت ہوتی تھی اب جو پلٹن ہے اس میں ہندو بہت ہیں، مسلمان قریب ستر کے ہوں گے ، انھوں نے کرنیل سے درخواست کی کہ ہم اپنا مولوی نماز پڑھانے کی غرض سے رکھنا چاہتے ہیں اس نےاجازت دی اور انھوں نے رکھ لیا، ایک وقت میں ایک مسلمان صاحب نے جو پلٹن کے سپاہیوں میں نہیں بلکہ ایک جرنیل کے ملازم ہیں بعض مسائل میں دوسرے مسلمان سےحجت کی اور مارپیٹ ہوئی، کرنیل نے اُن تنہا مسلمان کو ان کی جماعت میں شریک ہونے سے ممانعت کردی اور ان سب سے کہہ دیا اگر یہ شخص تمھاری نماز کی جگہ آئے تو اس کو قید کرلو اور ہمارے پاس پہنچادو، ایسی حالت میں نماز جمعہ قلعہ کے اندر اداہوجائے گی یا نہیں؟
(۲) جمعہ کے دو رکعت فرضوں کے سوا کَے(کتنے) رکعت نماز سنت پڑھنا چاہئے ؟ فرضوں سے پہلے کَے رکعت اور بعد فرضوں کے کَے رکعت ؟ اور احتیاطی ظہر پڑھنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب( اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے ۔ت) اذن عام کہ صحتِ جمعہ کے لئے شرط ہے، اُس کے یہ معنی کہ جمعہ قائم کرنے والوں کی طرف سے اُس شہر کے تمام اہل جمعہ کے لئے وقت جمعہ حاضری جمعہ کی اجازت عام ہو تووقت جمعہ کے سوا باقی اوقات نماز میں بھی بندش ہو تو کچھ مضرنہیں نہ کہ صرف رات کے ساڑھے نو بجے سے صبح پانچ بجے تک ، کتب مذہب میں تصریح ہے کہ بادشاہ اپنے قلعہ یا مکان میں حاضری جمعہ کا اذنِ عام دے کر جمعہ پڑھے تو صحیح ہے حالانکہ قصرو قلعہ شاہی عام اوقات میں گزرگاہ عام نہیں ہوسکتے ،
کافی شرح وافی میں ہے :
السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا واذن للناس اذنا عاماجازت صلٰوتہ شھدتھا العامۃ اولا ۱؎۔
بادشاہ اپنے دبدبہ کی وجہ سے اپنے دار میں نماز ادا کرنا چاہتاہو اگر اس دار کا دروازہ کھول دیا جائے اور لوگوں کو وہاں داخل ہونے کا اذن عام ہوگیا تو اس کی نماز درست ہوجائے گی خواہ عوام شریک ہوں یا نہ ہوں (ت)
(۱؎ ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۱)
اور بے پاس کسی چیز کی باہر لانے کی ممانعت تو یہاں سے کچھ علاقہ ہی رکھتی ہے کہ وہ خروج سے منع ہے نہ دخول سے یونہی مزدوروں یا سیر والوں یا خریداروں کو اجازت عام ہونا کچھ مفید نہیں کہ وقت نماز بہر نماز اہل نماز کو اجازت چاہیے اوروں کو ہونے نہ ہونے سے کیا کام ، اور اذن اگر چہ انھیں لوگوں کا شرط ہے جو اس جمعہ کی اقامت کرتے ہیں ،
ردالمحتار میں ہے :
المراد الا ذن من مقیمھا۲؎
( جمعہ قائم کرنے کی اجازت مراد ہے ۔ت)
(۲؎ ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۱)
مگر پر ظاہر کہ تحقق معنی اذن کے لئے اُ س مکان کا صالح اذن عام ہونا بھی ضرور ، ورنہ اگر کچھ لوگ قصر شاہی یاکسی امیر کے گھر میں جمع ہو کر اذان واعلان جمعہ پڑھیں اور اپنی طرف سے تمام اہل شہر کو آنے کی اجازت عامہ دے دیں
مگر بادشاہ امیر کی طرف سے دروازہ پر پہرے بیٹھے ہوں عام حاضری کی مزاحمت ہو تو مقیمین کا وہ اذن عام محض لفظ بے بمعنی ہوگا وہ زبان سے اذن عام کہتے اور دل میں خود جانتے ہوں گے کہ یہاں اذن عام نہیں ہوسکتا ۔ پس مانحن فیہ میں دو باتیں محلِ نظر رہیں :
اوّلا اُس قلعہ کا صالح اذن عام ہونا یعنی اگرتمام اہل شہر اُسی قلعہ میں جمعہ پڑھنا چاہیں تو کوئی ممانعت نہ کرے،
طحطاوی میں ہے :
لوارادا الصلٰوۃ داٰخلھا ودخلوھا جمیعا لم یمنعوا ۱؎۔
اگر لوگوں نے قلعہ کے اندر نماز کا ارادہ کرلیا اورتمام اس کے اندر داخل ہوگئے تو انھیں منع نہ کیا جائے ۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۳۴۴)
اگر ایسا ہے تو بیشک وہ قلعہ صالح اذن عام ہے اور ایسی حالت میں دروازہ پر چوکی پہرہ ہونا کچھ مضر نہ ہوگا کہ پہرا وہی مانع ہے جو مانع دخول ہو، ولہذا کافی میں بصورت عدم جواز صرف اجلس البوابین( پہرے دار بیٹھا دیئے۔ ت) نہ فرمایا بلکہ لیمنعوا عن الدخول۲ ؎( تاکہ دخول سے منع کریں ۔ت) بڑھایا،
(۲؎ ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۰۱)
یونہی رحمانیہ میں محیط سے منقول : ان اجلس البوابین علیھا لیمنوا عن الدخول لم یجزھم الجمعۃ ۳؎۔
اس نے پہرے داروں کو دروازوں پر داخلے سے منع کرنے کے لئے بٹھا دیا تو اب جمعہ جائز نہ ہوگا ۔ (ت)
(۳؎ رحمانیۃ عن المحیط )
تو صرف شوکت شاہی یا اُس قانون کی رعایت کو کہ بے پاس کوئی اندر سے باہر نہ جائے ، پہرا ہونا مکان کو صلاحیت اذن عام سے خارج نہیں کرتا اور اگر اجازت سو پچاس یا ہزار دوہزار کسی حدتک محدود ہے جیسا کہ بعض الفاظ سوال سے مستفادہ، اگر تمام جماعات شہر جانا چاہیں نہیں جانے دیں گے تو وہ مکان بندش کا ہے اس میں جمعہ نہیں ہوسکتا بدائع میں اشتراط اذن عام کی دلیل میں فرمایا :
یسمی جمعۃ لاجتماع الجماعات فیھا فاقتضٰ ان تکون الجماعات کلھا مأذونین بالحضور اذنا عاما تحقیقا لہ معنی الاسم ۴؎۔
جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو آنے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کاثبوت ہو ۔ (ت)