Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
57 - 144
مسئلہ ۱۲۷۸: مرسلہ مولوی الہ یار خاں صاحب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جو فتاوٰی   ابوالبرکات میں لکھا ہے
لا تجوز الجمعۃ حتی یعلم الخطیب معناہ
 ( جب خطیب ، خطبہ کے معانی اگاہ نہ ہو جمعہ جائز نہیں۔ ت) یہ صحیح ہے یا کیا: بینوا توجروا
الجواب

خطیب کا معنی عبارت خطبہ سمجھنا شرط کیا ، معنی ہر گز واجب بھی نہیں کہ آثم کہہ سکیں ، جمعہ ناجائز ہونا تو درکنار اگریہ قول صحیح ہوتا واجب تھا کہ کتب مشہور ہ متداولہ اس کی تصریحوں سے مالا مال ہوتیں ایسا نہایت ضروری مسئلہ جس پر نماز فرض کے صحتِ وبطلان کا مدار ہو اور متون وشروح وفتاوٰی   کہیں اس کا پتا نہ دیں ہر گز عقل سلیم اسے قبول نہیں کرسکتی ولہذا مجتبٰی   میں جو بہت سی شرائط نیت نمازفرض و نفل میں ذکر کیں جب کا تصانیف معتمدہ میں وجود نہ تھا علماء نے اسی وجہ سے ان کی طرف اصلاً التفات نہ فرمایا ،
اشباہ میں ہے:
من الغریب مافی المجتبٰی   لابد من نیۃ العبادۃ والطاعۃ والقربۃ وانہ یفعلھا مصلحۃ لہ فی دینہ وان یکون اقرب الی ماوجب عندہ عقلا عہ من الفعل واداء الا مانۃ وابعد عما حرم علیہ من الظلم وکفران النعمۃ ثم ھذہ النیات من اول الصلٰوۃ الٰی   اٰخرھا خصوصا عند الانتقال من رکن الی رکن ولا بد من نیۃ العبادۃ فی کل رکن والنفل کالفرض فیھا الافی وجہ واحد وھو ان ینوی فی النوافل انھا لطف  فی الفرائض و تسھیل لھا ۱؎ اھ ملخصا
عجیب ہے وہ چیزیں جس کا تذکرہ مجتبٰی   میں ہے کہ نیت عبادت طاعت اورثواب کا ہونا ضروری ہے، اوریہ بھی ضروری ہے کہ وہ اسے اپنے دین کی مصلحت کی اور عقلا واجب شدہ عمل اور ادائیگی امانت سے قریب اور حرام شدہ ظلم اور کفرانِ نعمت سے بُعد کی خاطر کررہا ہے _______ پھر یہ نیت اول نماز سے لے کر آخرتک خصوصاً جب ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف انتقال ہو، اور ہر رکن میں عبادت کی نیت ضروری ہے اور اس معاملہ میں نفل بھی فرض کی طرح ہے مگر ایک صورت میں ، اور وہ یہ ہے نوافل میں یہ ارادہ کرے کہ یہ فرائض میں لطف اور ان میں آسانی کے لئے ہیں اھ ملخصاً (ت)
عہ : قلت افصح الزاھدی ھھنا عن اعتزالہ فان الوجوب عنداھل الحق شرعی لاعقلی ۱۲منہ (م)
میں کہتا ہو ں زاہدی نے یہاں اپنے معتزلہ ہونے کا اظہار کیا ہے کیونکہ اہل حق کے نزدیک فعل شرعی ہوتا ہے عقلی نہیں ہوتا  ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر        الفن الاول قاعدہ ثانیہ    مطبوعہ ادارۃ القرآن وعلوم اسلامیہ کراچی      ۱/۷۰۔۶۹)
غمز العیون میں ہے :
اما الغرابۃ فی کون ھذہ الاشیاء لابدمن نیتھا فان الفقھاء لم یذکروا ذلک فی کتبھم متونا وشروحا وفتاوٰی   ۲؎ اھ
ان اشیاء کی غرابت یہ ہے کہ اس کی نیت کا ہونا ضروری قراردیا گیا ہے حالانکہ فقہاء نے یہ بات اپنی کتب کے متون وشروح اور فتاوٰی   میں کہیں نہیں لکھی اھ (ت)
 (۲؎ غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر قاعدہ ثانیہ  مطبوعہ ادارۃ القرآن وعلوم اسلامیہ کراچی    ۱/۷۰)
اور مجتبٰی   اگر چہ مثل سائر تصانیف زاہدی کتب معتمدہ سے نہیں تاہم مشہور مصنف  کی  مشہور تصنیف ہے  جس سے علماء مابعد نے صدہا مسائل نقل فرمائے مگر ایسے  ہی نوادر غرائب کے باعث پایہ اعتماد سے ساقط ہوئی پھر بالفرض اگر فتاوٰی   ابوالبرکات کا یہ مطلب ہو بھی تو اس قسم کے فتاوی ایک بات اور وہ بھی اتنی بے ثبات جس پر شروع سے اصلاً دلیل نہیں، کیونکر ادنٰی   التفات کے قابل ہوسکتی ہے، اس میں شک نہیں کہ تدبرمعنی جمال محمود وکمال مقصود ہے مگر فقہائے کرام نے عموماً عبادات کے کسی ذکر میں نفس نیت کے سواقلب کاکوئی حصہ ایسا نہیں رکھا جس پر فساد و صحت کی بنا ہو یہاں تک کہ اصل حضور قلب جس کے معنی یہ ہیں کہ صدور فعل وقول پر متنبہ ہو اگر چہ معنی کلام نہ سمجھے یہ بھی صحتِ نماز کے لئے ضروری نہیں،
ملتقط وخزانہ وسراجیہ وشرح قیدانی للقہستانی وغمز العیون وردالمحتار وغیرہا میں ہے :
لا یعتبر قول من قال لا قیمۃ لصلوۃ من لم یکن قلبہ فیھا معہ ۳۳؎۔
اس کا قول معتبر نہیں جس نے کہا کہ اس شخص کی نماز کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ اس کا دل نہ تھا (ت)
 (۳؎ردالمحتار       باب شروط الصلٰوۃ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر            ۱/۳۰۷)
علامہ شامی نے فرمایا :
حضور القلب ھوا لعلم بالعمل بالفعل والقول الصادرین من المصلی وھو غیر التفھم فان العلم بنفس اللفظ غیر العلم بمعنی اللفظ ۔۱؎ (ملخصا)
حضور قلب ، صادر ہونے والے فعل وقول کا علم ہے اور تفہم کا غیر ہے کیونکہ نفس لفظ کاعلم اور اس علم کا غیر ہوتا ہے جو لفظ کے معنی کا علم ہو ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب شررط الصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۰۷)
اور خطبہ جمعہ کا ذکر تذکیر کے لئے مشروع ہونا
کما قال تعالٰی   فاسعوا الٰی   ذکراﷲ۲؎
 ( جیسا کہ اﷲ تعالٰی   نے فرمایا پس اﷲ کے ذکر کی طرف جلدی چلو۔ ت) ہر گز اس دعوٰی   کا مثبت نہیں ہوسکتا جب الفاظ الفاظ ذکر ہں اور اس نے بالقصد انھیں ادا کیا قطعاً ذکر متحقق ہوا ، تدبر معنی پر توقف نہیں ورنہ واجب کہ نماز میں بھی فہم  معنی
قال تعالٰی   اقم الصلٰوۃ لذکری ۳؎ ۔
 ( اﷲ تعالٰی   نے فرمایا  میرےذکر کے لئے نمازقائم کروں۔ ت)
 (۲؂ القرآن  ۶۲ /۹) (۳؂القرآن  ۲۰ /۱۴)
علاوہ بریں تذکیر سے تذکر زیادہ محتاج فہم وتدبر ؂

                                                      مردباید کہ گیرد اندر گوش

                                                       ورنوشت ست پند بر دیوار

  		( انسان کو چاہئے کہ وہ محفوظ کرے اگر چہ نصیحت لکھی ہو دیوار پر )

حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مقتدی اگر بہرے یاسوتے یا اس قدر دورہوں کہ آواز نہ جائے مگر وقتِ خطبہ حاضر ہوں کافی ہے شرط ادا ہوگئی فہم معنی جدا، نفسِ سماع کی بھی ضرورت نہیں ،
ردالمحتار میں ہے :
لا یشترط لصحتھا کونھا مسموعۃ لھم بل یکفی حضورھم حتی لو بعدوا عنہ اونا موا  اجزأت۔ ۴؎۔
صحتِ خطبہ کے لئے تمام لوگوں کا سننا ضروری نہیں بلکہ لوگوں کا حاضر ہوجانا کافی ہوگا حتی کہ اگر وہ خطیب سے دور رہے او رسوگئے تب بھی خطبہ ادا ہوجائے گا (ت)
(۴؂ ردالمحتار     باب الجمعہ         مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۹۸)
تنویر میں ہے :
ولوصمّاً ۵؎
 ( اگر چہ نہ سننے والا ہو۔ت)
 (۵ ؎ درمختار     باب الجمعہ         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۱۱)
اقول وباﷲ التوفیق حقیقت امر یہ ہے کہ ہر چندا حکام شرعیہ عموماً حکم ومصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیت خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے مگر حکمت نہیں ہوتی کہ اُس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم آئے مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت کہ مردِ عنین وزنِ رتقا وقرنا میں دونوں اور بحالت عقم اول منقی مگر پھر بھی صحتِ نکاح میں شہہ نہیں ، صوم کی حکمت کسرِ شہوت اور نفس کی ریاضت، پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اُسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اُسے روزے کا حکم دیں گے یا اُس کے صوم کا فاسد مانیں گے وقس علی ھذا ( او راس پر قیاس کر ۔ت) یہ سب کلام اُس تقدیر پر ہے کہ عبارت مذکورہ سوال کا وہ مطلب ہو یہ فتاوٰی   فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ سیاق وسباق دیکھ کر تعین مراد کی جاتی مگر جتنے لفظ سائل نے نقل کئے فقیر غفراﷲ تعالٰی   لہ کی رائے میں ان کی عمدہ توجیہ یوں ممکن کہ نیت نام قصد قلبی کا ہے او رقصد شے اس کے علم پر موقوف ، آدمی جس چیز کو جانتا ہی نہ ہو اُس کا قصد محض بے معنی ، اور کسی شے کا جاننا اسے نہیں کہتے کہ صرف اس کا نام معلوم ہو جس کے معنی ومراد سے ذہن بالکل خالی ہو بلکہ اس کے مفہوم سے اگاہی ضروری ہے مثلاً طوطے کو زید کا نام سکھا دیں تو یہ نہ کہیں گے کہ وہ زید کو جانتا ہے ، اسی لئے علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص نمازِ فرض میں فرض کی نیت توکرے مگر یہ نہ جانے کہ فرض کسے کہتے ہیں نماز نہ ہوگی کہ صلٰوۃ فریضہ میں نیتِ فرض بھی ضروری تھی جب وہ معنی فرض سے غافل ہے تو لفظ فرض کا خیال ہوا نہ نیتِ فرض کہ فرض تھی
فی الاشباہ عن العنایۃ انہ ینوی الفریضۃ فی الفرض الخ ثم نقل عن القنیۃ ینوی الفرض ولا یعلم معناہ لا یجزیہ ۱۱؎۔
اشباہ میں عنایہ سے ہے کہ فرض میں فرض ہونے کی نیت کی جائے الخ پھر قنیہ سے منقول ہے کہ اگر فرضوں کی نیت کی لیکن اس کا معنٰی   نہ جانتا تھا تو اب یہ اس کے لئے کافی نہیں۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدہ الثانیہ    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۵۹)
جب یہ واضح ہولیا اور معلوم ہے کہ صحتِ خطبہ کے لئے نیتِ خطبہ شرط ہے یہاں تک کہ اگر منبر پر جاکر چھینک آئی اور چھینک پر الحمد اﷲ کہا خطبہ ادا نہ ہوا،
اشباہ میں ہے:
ما النیۃ للخطبۃ فی الجمعۃ فشرط صحتھا حتی لو عطس بعد صعود المنبر فقال الحمد ﷲ للعطاس غیر قاصد لھا لم تصح کما فی فتح القدیر وغیرہ ۲؎ الخ (ملخصاً)
خطبہ جمعہ کی نیت صحتِ خطبہ کے لئے شرط ہے حتی کہ اگر خطیب کو منبر پر چڑھنے کے بعد چھینک آئی اور اس نے الحمداﷲ کہا لیکن خطبہ کی نیت نہ تھی تو یہ خطبہ نہ ہوگا، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے الخ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدہ الاول    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۲۹)
تو لازم ہو اکہ خطیب معنی خطبہ سے آگاہ ہو یعنی یہ جانتا ہو کہ خطبہ ایک ذکر الہٰی   کا نام ہے تاکہ اس کی نیت کرسکے ورنہ نام خطبہ جانا بھی اور یہ نہ جانا کہ خطبہ کسے کہتے ہیں بلکہ لوگوں کے دیکھا دیکھی بے سمجھے ایک فعل کردیا تو بیشک نماز جمعہ ادا نہ ہوگی کہ یہ وہی نام خطبہ کا خیال ہوا نہ نیتِ خطبہ،
وقد منا عن الشامی العلم بنفس اللفظ غیر العلم بمعنی اللفظ ۱۱؎ والشرط انما ھوانیۃ مایعنی من الخطبۃ لا نیۃ لفظ الخطبۃ وھذا ظاھر جدا۔
ہم نے  پہلےشامی سے بیان کیا ہے کہ لفظ کا علم اس کے معنی کے علم سے الگ ہے تو شرط اس کی نیت ہے جو خطبہ سے مراد ہے نہ کہ الفاظ خطبہ کی نیت ، اور یہ نہایت ہی واضح ہے ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب شروط الصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر            ۱/۳۰۷)
اور جب نیت نہ ہوئی کہ شرط صحت خطبہ تھی خطبہ نہ ہوا، اور جب خطبہ نہ ہوا کہ شرطِ صحت جمعہ تھا جمعہ نہ ہوا جس طرح کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر خود بھی ان کے سے افعال کرے اور معنی نماز سے جاہل ہو یعنی نہ جانے کہ نماز خدا کا ایک فرض ہے کہ بفرض امتثال امر اداکیا جاتا ہے ہر گز نماز نہ ہوگی ۔
اشباہ میں ہے :
لا یعلم ان ﷲ تعالٰی   علی عبادہ صلٰوۃ مفروضۃ ولکنہ کان یصلیھا لا وقاتھا لم یجزہ۲ ؎۔
اگرکوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اﷲ تعالٰی   کیلئے بندوں پر نماز فرض ہے ____ لیکن وہ اوقاتِ نماز میں نماز ادا کرتا ہے تو یہ کافی نہیں۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی   ۱/۵۹)
یہ معنی ہیں معنی خطبہ نہ جاننے کے، نہ یہ کہ جو عبارت پڑھے اس کا ترجمہ سمجھنا ضروری ہے، یہ کسی ایک بھی مذہب نہیں ھکذا ینبغی التوجیھہ ( عبار ت کی توجہ اسی طرح ہونی چاہئے ۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی   اعلم
Flag Counter