| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ۱۲۷۷ : از کلا نور ضلع گورداسپور مرسلہ شیخ مراد علی صاحب ۲۱ صفر ۱۳۰۹ھ بشرف خدمت باعظمت من مولانہ فیاض دارین حضرت مولوی احمد رضا خاں صاحب مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ، بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت خدمت شریف میں عرض یہ ہے کہ نماز جمعہ کی فرضیت میں اختلاف چلا آتا ہے اس سے اطمینان حال نہیں بعض عالم فاضل قابل فتوٰی کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کی عین فرض ہے کوئی کوئی امر حالات موجودہ سلطنت سے اُس کی فرضیت کا مانع نہیں خالصاً بلاشک وشبہ عین فرض یقینا نماز جمعہ پر آمناً وصدقنا سے یقین رکھنا چاہئے اور جو بعد نماز جمعہ کے احتیاطی فرض نماز پیش کے پڑھے جاتے ہیں یہ نہیں پڑھنے چاہئیں ، اور بعض بعض عالم فاضل لائق فتوٰی کے بنظر حالات سلطنت دقت کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ عین فرض تھی مگر اس وقت بوجہ نہ ہونے سلطنت اسلام کے وہ فرضیت جو دراصل تھی اب وہ نہیں رہی نماز جمعہ کی بجائے فرضیت کے بمنزلہ مستحب کے فرماتے ہیں اور فتوٰی دیتے ہیں کہ نماز جمعہ کی ایک بڑا بھاری رکن اسلام کاہے اس کا ترک اور ان کا مطلقاً چھوڑنا اچھا نہیں بہر حال پڑھنا نمازِ جمعہ ثواب اور اچھا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی فتوٰی فرماتے ہیں کہ بعد نماز جمعہ کے احتیاطاً نماز سب پیشیں کی معہ فرضوں کے پڑھ لینا ضرور چاہئے، اس واسطے جناب میں التماس پیش کیا جاتا ہے کہ جناب اس میں کس طرح فرماتے ہیں آیا مطابق فرقہ علمائے اول کے جو عین فرضیت کافتوٰی فرماتے ہیں یا برخلاف اُس کے اور مطابق فرقہ علمائے گروہ ثانی کے جومستحب فرماتے ہیں اور پیچھے نماز جمعہ کے جملہ نماز پیشیں معہ فرضوں کے احتیاطاً پڑھ لینا فرماتے ہیں جناب بالتشریح اسے درخواست کے محاذ پر مفصل حال جو جناب کے فتوٰی سے بہتر اور اولٰی ہو تحریر فرمادیں تاکہ ان دونوں فریق کی بحث مختلف سے یک سو اطمینان حاصل ہو فقط ۲۲ ماہ ستمبر ۱۸۹۱ء
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصوا ب( اے اﷲ ! حق اور درستی کی رہنمائی فرما۔ ت) اصل فرضیت جمعہ میں کسی کو کلام نہیں کہ وہ نہ صرف مجمع علیہا یا نص قطعی سے ثابت بلکہ اعلٰی واجل ضروریاتِ دین سے ہے مگر جمعہ باجماع امت مشروط ہے، ہماے ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے جو شرائط اس کے لئے معین فرمائے شک نہیں کہ ان بلاد میں ان کا پورا پورا اجتماع قدرے محل اشتباہ ونزاع معہذا یہا ں عائمہ بلاد میں جماعات جمعہ متعدد ہوتی ہیں اور اگر چہ مذہب مفتی بہ میں تعد دجمعہ مثل عیدین مطلقاً جائز ، اسی پر کنز ووافی وکافی و ملتقی وتنویر و ہندیہ وطحاوی و شامی وغیرہا میں اعتماد فرمایاامام اجل مفتی الجن وانس نجم الدین نسفی پھر علامہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ او رعلامہ یوسف چلپی نے ذخیرۃ العقبٰی اورعلامہ شرنبلالی نےمراقی الفلاح میں اسی کو قول صحیح امام اعظم وامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہما بتایا، شرح وقایہ میں ہے بہ یفتٰی ( اسی پر فتوٰی ہے۔ت) شرح المجمع للعلامہ البدر العینی میں ہے: علیہ الفتوی( اسی پر فتوٰی ہے ۔ت) فتح القدیر میں ہے: علی المفتی بہ ( مفتی بہ قول پر ۔ت) محیط شمس الائمہ سرخسی میں ہے۔ ت) الصحیح وبہ ناخذ ( صحیح ہے اور ہم اسی پر عمل پیر اہیں ،ت) تبیین الحقائق وبحر و فتح وشرح وہبانیۃ ومنح الغفار وعقود الدریہ وغیرہا میں ہے : الاصح ( زیادہ صحیح ہے ۔ت) بحر الرائق ودرمختارمیں ہے : علی المذھب ( مذہب پر ۔ت) حتی کہ علامہ حسن شرنبلالی و علامہ محمد بن علی علائی وغیر ہما نے قول آخر کے ضعیف ہونے کی تصریح فرمائی مگر عند التحقیق روایت عدم جواز تعدد بھی ساقط نہیں بلکہ مذہب کا باقوت قول ہے امام طحطاوی و تمرتاشی وصاحب مختار نے اسی کو اختیار فرمایا ، امام فقیہ النفس قا ضی خاں نے خانیہ میں اسی کو مقدم رکھا ، خزانۃ المفتین میں اُسی پر اقتصار کیا ، عتابی و اخلاطی نے اُسی کواظہر اور جوامع فقہ میں اظہر الروایتین اور امام ملک العلماء ابوبکر مسعود نے ظاہر الروایہ کہا، تکملہ رازی میں ہے : بہ ناخذ ( ہم اسی پر عمل پیرا ہیں۔ ت) حاوی القدسی میں ہے علیہ الفتوی ( فتوی ایسی پر ہے ۔ت) بدائع امام ملک العلماء میں ہے ۔ علیہ الاعتماد ( اعتماد اسی پر ہے ۔ت) جواہر الاخلاطی میں ہے ھوالصحیح وھو الاصح وعلیہ الفتوی( یہی صحیح اور یہی اصح اور اسی پر فتوٰی ہے ۔ ت) آفندی شامی فرماتے ہیں فھوح قول معتمد فی المذھب لا قول ضعیف ( پس یہی یہاں معتمد قول اور مذہب ہے ضعیف قول نہیں ہے ) ان وجوہ کی نظر سے ائمہ مروو اکثر مشائخ بخارا واصحاب امام عبد اﷲ حکم شہید واصحاب امام شیخ ابی عمرو واساتذہ صاحب مختار الفتاوی وغیر ہم جمہور ائمہ دین وعلمائے معتمدین نے ایسی جگہ ان چا رکعت احتیاطی کا حکم دیا اور اسی کی محیط برہانی و فتاوٰی ظہریہ و فتاوٰی حجہ وواقعات ومطلب ومختار الفتاوی ونہار وکافی و جامع المضمرات وخزنۃ المفتین وفتح القدیر وشرح المجمع وفتاوی سراجیہ و تارتار خانیہ وحلیہ وغنیہ وصغیری و مجمع الانہر و تیسیر المقاصد ونہر الفائق وعالمگیریہ و فتاوٰی صوفیہ و خزانۃ الروایات و قنیہ وحاوی وغرائب و فتاوی رحمانیہ وطحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح کی اسی کو امام الحسن وامام مقدسی وعلامہ ابوالسعود و محقق ابن جرباش وعلامہ ابن شخنہ وشیخ الاسلام جد ابن شخنہ و علامہ باقانی وعلامہ مقدسی وعلامہ ابوسعود و محقق شامی و جماعت کثیرہ شراح ہدایا وغیرہا وغیرہم ائمہ وعلماء نے اختیار فرمایا علامہ ابراہیم حلبی نے اسی کو اولٰی اور امام محمود عینی نے احسن واحوط اور علامہ باقانی نے ھوالصحیح ( یہی صحیح ہے ۔ت) اور سراجیہ میں ھو حسن ( یہ حسن ہے ۔ت) اور حجہ ومضمرات وغیرہما میں الصحیح المختار ( صحیح مختار ۔ ت) رکھا ان سب کتب وعلماء کے نصوص فقیر غفر اﷲ تعالٰی نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کئے یہاں بقدر حاجت صرف دو تین عبارت پر اقتصار ہوتا ہے
امام محقق علامہ محمد بن امیر الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
قدیقع الشک فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد بعض شروطھا ومن ذلک مااذا تعدت فی المصر وھی واقعۃ اھل مروفیفعل ما فعلوہ قال المحسن لما ابتلی اھل مرو باقامۃ الجمعۃ فی موضعین مع اختلاف العلماء فی جوازھا امرائمتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا ۱؎۔
بعض شرائط جمعہ کے فقد ان کی وجہ سے بعض اوقات صحتِ جمعہ میں شک واقع ہوجاتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو اور یہ واقعہ اہل مرو کا ہے لہذا وہی کیا جائے جو اہل مرو نے کیا تھا، محسن کہتے ہیں کہ جب جوازجمعہ میں علما کے اختلاف کے باوجود جب اہل مرو نے دو جگہ جمعہ شروع کیا تو ا نھیں ائمہ نے حکم دیاکہ وہ جمعہ کے بعد ضروری طور پر چار رکعت فرض ظہر احتیاطاً ادا کریں۔ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۲)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں : عن ھذا وعن الا ختلاف فی المصر قالوا فی کل موضع وقع الشک فی جواز الجمعۃ ینبغی ان یصلی اربع رکعات ینوی بھا الظھر فا لا ولٰی ھوا لاحتیاط لان الخلاف فیہ قوی وکون الصحیح جواز التعدد للضرورۃ للفتوی لایمنع شرعیۃ الاحتیاط للتقوی ۱؎ (ملخصاً)
اس اختلاف اور تعریف شہر میں اختلاف کی وجہ سے فقہاء نے فرمایا ہے کہ جس جگہ جواز جمعہ میں شک ہو وہاں ظہر کی نیت سے چار رکعات ادا کرنی چاہئیں، تو احتیاط ہی بہتر ہے کیونکہ یہاں بڑا سخت اختلاف ہے او رجمعہ کا ضرورت کے پیش نظر متعدد جگہ پر جواز کے فتوٰی کا صحیح ہو نا شرعاً تقوٰی کے طور پر احتیاط کے منافی نہیں ۔ (ملخصا) (ت)
(۱ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۲)
امام اجل ظہیر الملّۃ والدین مرغینانی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں:
اکثر مشائخ بخارا علیہ للیخرج عن العھدۃ بیقین ۲؎۔
مشائخ بخارا کی اکثر یت کی یہی رائے ہے تاکہ ذمہ داری سے عہدہ برآہو جائے ۔( ت)
(۲؎ فتاوٰی امام اجل ظہیر الدین المرغینانی)
فتاوٰی سراجیہ میں ہے :
احتاطت الائمۃ فی اکثر البلاد فانھم یصلون الظھر بعد مایؤدون الجمعۃ خلف ثواب ھؤلا ء ھوحسن ۳؎۔
اکثر شہروں میں ائمہ احتیاط کرتے ہیں کہ جمعہ کی ادائیگی کے بعد ظہر پڑھتے ہیں ناءبین کے پیچھے جمعہ کی ادائیگی کے بعد اور یہ اچھا ہے ۔(ت)
(۳؎ فتاوی سراجیہ باب الجمعۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۱۷ )
ہاں وہ نرے جاہل عامی لوگ کہ تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں یا ان رکعات کے باعث راساً جمعہ کو غیر فرض یا جمعہ کے دن دو نمازیں فرض سمجھنے لگیں اُنھیں ان رکعات کا حکم نہ دیا جائے بلکہ ان کی ادا پر مطلع نہ کیا جائے کہ مفسدہ اشد واعظم کا دفع آکدواہم ان کے لئے اسی قدر بس ہے کہ بعض روایات واقوالِ ائمہ مذہب پر ان کی نماز صحیح ہوجائے
لہذا سیدی نورالدین مقدسی نورالشمعہ میں فرماتے ہیں:
نحن لا نأ مربذلک امثال ھذہ العوام بل ندل علیہ الخواص ولو بالنسبۃ الیھم ۴؎۔
ہم اس طرح کے معاملات کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ ہم خواص کو اس پر آگاہ کرتے ہیں اگر چہ وہ ان کی نسبت سے ہو ۔
(۴؎ نور الشمعۃ)
اس تحقیق سے ظاہر کہ ان بلاد میں مطلقاً صحتِ جمعہ کو قطعی یقینی بلا اشتباہ ماننا افراط اور اقاویل مذہب وخلافیاتِ مشائخ سے غفلت وذہول ہے اور جمعہ کو صرف درجہ مستحب میں جاننا محض باطل وتفریط وقواعہ شرح مقاصد ائمہ سے عدول ، اگراول حق ہوتا تو احتیاط کی کیا حاجت تھی کہ خروج عنالعہدہ بالیقین ہو لیا، او رثانی صحیح ہوتا تو صرف احتیاط ماننے کے کیا معنی تھے بلکہ یقیناظہر فرض قطعی ہوتا ور ایک مستحب کے سبب جماعتِ ظہر کو کہ علی المعتمد واجب ہے ترک کرنا مکروہ تحریمی معہذا جمعہ مستحبہ نہ شرع سے معمہود نہ کلمات علماء اُس کے مساعد پس قولِ وسط وانصاف یہ ہے ان شہروں میں جمعہ ضرور لازم ہے اور اس کا ترک معاذ اﷲ ایک شعار عظیم اسلام سے اعراض ، اور ان چار رکعت احتیاطی کا خواص کو حکم اور نافہم عامیوں کے حق میں اغماض ۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم،