Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
55 - 144
باب الجُمعۃ

(نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ ۱۲۷۶ : مرسلہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ اکبریہ ۷ محرم ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ آبادی جس کی مسجد میں اس کے ساکن نہ سماسکیں شہر ہے یا گاؤں ؟ بینوا توجروا
الجواب

دیہات میں جمعہ ناجائز ہے اگر پڑھیں گے گنہگار ہوںگے او رظہر ذمّہ سے ساقط نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار فی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ ۱؎ انتھی
درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے کہ عید کی نماز دیہاتوں میں مکروہ تحریمی ہے یعنی نہ ایسی شیئ میں مصروف ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر کا ہونا صحتِ عید کے لئے شرط ہے انتہی
 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۱۴)
اقول فالجمعۃ اولی لانہ فیھا مع ذلک اما ترک الظھر وھوفرض اوترک جماعتہ وھی واجبۃ ثم الصلوۃ فرادی مع الاجتماع، وعدم المانع شنیعۃ اخری غیر ترک الجماعۃ فان من صلی فی بیتہ منعز لاعن الجماعۃ فقدترک الجماعۃ وان صلوافرادی حاضرین فی المسجد فی وقت واحد فقد ترکوا الجماعۃ واتوا بھذہ الشنیعہ زیادۃ علیہ فیؤدی الٰی   ثلث مخطورات بل اربع بل خمس لان مایصلونہ لما لم یکن مفترضا علیھم کان نفلاً واداء النفل بالجماعۃ والتداعی مکروہ ثم ھم یعتقد ونھا فریضۃ علیھم و لیس کذلک فھذہ خامسۃ وھذان مشترکان بین الجمعۃ والعیدین۔
اقول جمعہ بطریق اولی مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ اس جمعہ کی صورت میں ترک ظہر ہوگا جو فرض ہے یا ترک جماعت ہوگا حالانکہ وہ واجب ہے، باوجود اجتماع اور عدم مانع کے تنہا نماز ادا رکرنا ترک جماعت سے الگ خرابی ہے کیونکہ جو جماعت سے الگ گھر میں نماز ادا کرے گا اس نے جماعت ترک کردی اور ایک وقت میں مسجد میں حاضر لوگ تنہا نماز ادا کرتے ہیں تو انھوں نے جماعت ترک کردی اور انھوں نے ایسا عمل کیا جو اس خرابی پر اضافہ ہے پس اب تین بلکہ چار، نہیں بلکہ پانچ ممنوعات لازم آجاتے ہیں کیو نکہ جو نماز انھوں نے ادا کی وہ ان پر فرض نہ تھی بلکہ وہ ان پر نفل تھی اور نفل کو جماعت اور تداعی کے ساتھ اداکرنا مکروہ ہے پھر ان کا اسے اپنے فرض ماننا حالانکہ وہ فرض نہیں یہ پانچویں خرابی ہے اوریہ دونوں چیزیں جمعہ اور عیدین کے درمیان مشترک ہیں۔

صحتِ جمعہ کے لئے شہر شرط ہے ، اور شہر کی یہ تعریف کہ جس کی اکبر مساجد میں اس کے سکان جن پر جمعہ فرض ہے یعنی مرد عاقل بالغ تندرست نہ سماسکیں، ہمارے ائمہ ثلثہ رحمہم اﷲ تعالٰی   سے ظاہر الروایہ کے خلاف ہے اور جو کچھ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے مرجوع عنہ اور متروک ہے کما فی البحرالرائق والخیریۃ وردالمحتار وغیرھا ( جیساکہ بحرالرائق ، خیریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے ۔ت) اور فتوی جب مختلف ہو تو ظاہر الروایہ پر عمل واجب ہے کما فی البحر والدر وغیرھما( جیساکہ بحر اور در وغیرہ میں ہے ۔ت)

اقول محقیقین تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام پر فتوٰی   واجب ہے اس سے عدول نہ کیاجائے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگر چہ مشائخ مذہب قولِ صاحبین پر افتا کریں
اللھم الالضعف دلیل اوتعامل مخلافہ نص علی ذلک العلامۃ زین بن نجیم فی البحر و العلامۃ خیرالدین الرملی فی فتاواہ وشیخ الاسلام صاحب الھدایۃ فی التجنیس والمحقق حیث اطلق فی الفتح والسید احمد الطحطاوی والسید الشامی فی حواشی الدر وغیرھم من اجلۃ العلماء الکرام الغرکما بیناہ فی کتاب النکاح من عطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ۔
اے اﷲ ! مگر یہ دلیل کمزور ہو یا عمل اس کے خلاف ہو اس پر علامہ زین بن نجیم نے بحر میں ، علامہ خیر الدین رملی نے اپنے فتاوٰی   میں ، شیخ السلام صاحب الہدایہ نے تجینس میں ، محقق نے فتح میں، شریف طحطاوی اور سید شامی نے حواشی در میں اور دیگر علماء اجلہ نے اس پر تصریح کی ہے جیسا کہ ہم نے اسے'' العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ'' کے کتاب النکاح میں بیان کیا ہے ۔ (ت)

تو جہاں قول صاحبین بھی امام ہی کے ساتھ ہے ایک روایت نوادر صرف بوجہ اختلاف فتاوٰی   متأخرین کیونکہ معمول و مقبول اور ائمہ ثلثہ کا ظاہر الروایہ میں جو ارشاد ہے متروک ولائقِ عدول ہو، لاجرم شرح نقایہ و مجمع الانہر میں تصریح فرمائی ہے کہ شہر کی یہ تعریف محققین کے نزدیک صحیح نہیں کما ستسمع نصہ( جیسا کہ عنقریب اس پر آپ نص سنیں گے۔ ت)
اقول معہذا ہمارے ائمہ کرام رحمۃ اﷲ علیہم نے جو اقامتِ جمعہ کے لئے مصر کی شرط لگائی اس کا ماخذ حضرت مولٰی   علی کرم اﷲ تعالٰی   کی حدیث صحیح ہے جسے ابوبکر بن ابی شیبہ وعبدالرزاق نے اپنی مصنفات میں روایت کیا:
لاجمعۃ ولا تشریق ولا صلٰوۃ فطر ولا اضحی الافی مصر جامع اومدینۃ عظیمۃ ۱؎۔
جمعہ ، تکبیرات تشریق، عیدالفطر اور عید الاضحی خارج شہر یا بڑے شہر میں ہوسکتے ہیں، (ت)
 (۱؎ مصّنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلٰوۃ من قال لاجمعہ الخ  مطبوعہ داراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۱۰۱)

 مصنف لعبدالرزاق     باب القری الصغار         مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت        ۳/۱۶۷)
ظاہر ہے کہ اس روایت غریبہ کی تعریف بہت سے چھوٹے چھوٹے مزرعوں پر صادق جنھیں کوئی مصر جامع یا مدینہ نہ کہے گا
کما ارشار الیہ العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ العلائی
 ( جیسا کہ علامہ طحطاوی نے حاشیۃ العلائی میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ت)تو اس کا اختیار اصل مذہب سے عدول اور ماخذ کا صریح خلاف ہے اور گویا مخالفوں کے اس اعتراض کا پورا کرلینا ہے کہ حنفیہ نے یہ شرط بے توقیف شارع اپنی رائے سے لگالی اس کے سوا عند لتحقیق ا سپر بہت اشکال وارد ہیں جن کی تفصیل کو دفتر درکار ہے۔ طرفہ یہ ہے کہ وہ پاک مبارک دو شہر جس کی مصریت پر اتفاق ہے اور ان میں زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی   علیہ وسلم سے جمعہ قائم یعنی مدینہ ومکہ زاد ہما اﷲ تعالٰی   شرفاً وتکریما اس تعریف کی بنا پر وہی شہر ہونے سے خارج ہوئے جاتے ہیں
ماصرح بہ العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ والعلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح
( جس طرح کہ علامہ ابراہیم حلبی نے غنیـہ میں اور علامہ السید احمد طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں تصریح کی ہے۔ت) تو اس کی بے اعتباری میں کیا شبہ ہے ۔ صحیح تعریف شہر کی یہ ہےکہ وہ آبادی جس میں متعدد کوچے ہوں دوامی بازارہوں ، نہ وہ جسے پیٹھ کہتے ہیں ، اور وہ پر گنہ ہے کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں او ر اُس میں کوئی حاکم مقدمات رعایا فیصل کرنے پر مقرر ہو جس کی حشمت وشوکت اس قابل ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ جہاں یہ تعریف صادق ہو وہی شہر ہے اور وہیں جمعہ جائز ہے۔ ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اﷲ تعالٰی   عنہم سے یہی ظاہر الروایہ ہے ،
کما فی الھدایۃ والخانیۃ والظھیریۃ والخلاصۃ والعنایۃ والدرالمختار والھندیۃ وغیرھا۔
جیسا کہ ہدایہ ، خانیہ، ظہریہ، خلاصہ، عنایہ ، حلیہ، غنیہ، درمختار اور فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔(ت)
اور یہی مذہب ہمارے امام اعظم کے  استاذ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی   عنہما کے شاگرد خاص حضرت امام عطاء بن ابی رباح رحمۃ اﷲ تعالٰی   علیہ کا ہے،
کما فی مصنف عبدالرزاق حمد ثنا بن جریج عن عطاء بن ابی رباح قال اذاکنت فی قریۃ جامعۃ فتودی بالصلٰوۃ من یوم الجمعۃ فحق علیک ان تشھدھا سمعت النداء اولم تسمعہ۱؎ قال قلت لعطاء مالقریۃ الجامعۃ قال ذات الجماعۃ والامیر والقاضی والدورالمجتمۃ غیرالمفترقۃ الاٰخذ بعضھا ببعض مثل جدۃ ۲؎۔
جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ہمیں ابن جریج نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے بیان کیا کہ جب تم کسی جامع قریہ میں ہوں تو وہاں جمعہ کے لئے اذان ہو تو تم پر جمعہ کے لئے جانا فرض ہے خواہ اذان سنی ہو یا نہ، کہتے ہیں میں نے عطا سے پوچھا کہ جامعہ قریہ کون سا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جس میں جماعت ، امیر ، قاضی اور متعدد کوچے اس میں ملے جلے ہوں جس طرح جدّہ ہے ۔ (ت)
 (۱؎ المصنف لعبدالرزاق        باب القری الصغار    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۳/۱۶۸)

(۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی   فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۰)
اور یہی قول
اور یہی قول امام ابوالقاسم صفارتلمیذ التلمیذ امام محمد کا مختار ہے کما فی الغنیۃ( جیسا کہ غنیہ میں ہے ۔ت) اسی کو امام کرخی نے اختیار فرمایا کما فی الھدایۃ( جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ت) اسی پر امام قدوری نے اعتماد کی کما فی مجمع الانھر ( جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت) اسی کو امام شمس الائمہ سرخسی نے ظاھر المذھب عندنا ( ہمارے نزدیک ظاہر مذہب یہی ہے ۔ت) فرمایا کما فی الخلاصۃ( جیسا کہ خلاصہ میں ہے ۔ ت) اسی پر امام علاء الدین سمرقندی نے تحفہ الفقہاء اور ان کے تلمیذ امام ملک العلماء ابوبکر مسعود نے بدائع شرح تحفہ میں فتوی دیا کما فی الحلیۃ( جیسا کہ حلیہ میںہے ۔ت) اسی پر امام فقیہ النفس قاضی خاں نے جزم واقتصار کیا کما فی فتاواہ ( جیسا کہ ان کے فتاوٰی   میں ہے۔ ت) اور اسی کو شرح جامع صغیر میں قولک معتمد فرمایا کما فی الحلیۃ والغنیۃ( جیسا کہ حلیہ اور غنیہ میں ہے ۔ت) اسی کو امام شیخ الاسلام برہان الدین علی فرغانی نے مرجح رکھا کما فی شرح المنیۃ( جیسا کہ شرح منیہ میں ہے۔ ت) اسی کو مضمرات میں اصح ٹھہر ایا کما فی جامع الرموز ( جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ ت) ایسا ہی جواہر الاخلاطی میں لکھ کر ھذا اقرب الا قاویل الی الصواب ( اقوال میں سے یہ قول صواب کے زیادہ قریب ہے ۔ت) کہا کما رأیتہ فیھا ( جیساکہ اس میں مرو ی دیکھا ہے ۔ ت) ایسا ہی غیاثیہ میں لکھا کما فی الغنیۃ( جیسا کہ غنیہ میں ہے ۔ت) اسی کو تارتار خانیہ میں۱۲علیہ الاعتماد ( اسی پر اعتماد ہے ۔ت) فرمایا کما فی الھندیۃ ( جیسا کہ ہندیہ میں ہے ۔ت) اسی کا غایہ شرح ہدایہ و غنیہ شرح منیہ ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جواہر وشرح نقایہ قہستانی میں صحیح کہا اخیر میں ہے یہی قول معمول علیہ ہے اسی کو ملتقی الابحر میں مقدم وماخوذ بہ ٹھہرایا اسی پر کنز الدقائق وکافی شرح وافی ونور الایضاح وعلمگیریہ میں جزم واقتصار کیا قول دیگر کا نام بھی لیا اسی کو عنایہ شرح ہدایہ میں علیہ اکثر الفقھاء ( اکثر فقہاء اسی پر ہیں۔ت) فرمایا کما فی حاشیۃ المراقی للعلامۃ الطحطاوی ( جیسا کہ علامہ طحطاوی کی مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے، ت) اسی کو علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نورالایضاح میں اصح وعلیہ الاعتماد( اسی پر اعتماد ہے۔ ت) فرمایا ،اسی پر علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرنبلالیہ میں اعتماد او رقول آخر کا ردِّبلیغ کیا، اسی پر امام ابن الہمام محمد وعلامہ اسمٰعیل نابلسی وعلامہ نوح آفندی وعلامہ سید احمد حموی وغیر ہم کبرائے اعلام نے بنائے کلام فرمائی شرح کل ذلک یطول ( ہر ایک کی شرح طویل ہے ۔ ت)
علامہ ابراہیم حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود تزییف صدرالشریعۃ لہ عند اعتذارہ عن صاحب الوقایۃ حیث اختار الحد المتقدم ذکرہ بظھور التوانی احکام الشرع سیما فی اقامۃ الحدود فی الامصار مزیف بان المراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود علی ماصرح بہ فی التحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی   عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیہا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھوالاصح ۱؎اھ
شہر کی وہ صحیح تعریف جسے صاحب ہدایہ نے پسند کیا ہے یہ ہے کہ وہاں امیر اور قاضی ہو جو احکام نافذ اور حدود قائم کرسکیں ، اور صاحب وقایہ کے پہلی تعریف کو اختیار کرنے پر ان کی طرف سے صدر الشریعۃ کایہ عذر کرنا کہ احکامِ شرع خصوصاً حدود کے نفاذ میں سستی کا ظہور ہورہا ہے کمزور ہے کیونکہ مراد اقامت حدود پر قادر ہونا ہے جیسے کہ تحفہ الفقہاء میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی   عنہ سے تصریح ہے کہ وہ شہر کبیر ہو اس میں شاہراہیں ، بازار اور وہاں سرائے ہوں اور اس میں کوئی نہ کوئی ایسا والی ہو جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو خواہ اپنے دبدبہ اور علم کی بنا پر یا غیر کے علم کی وجہ سے تاکہ حوادثات میں اس کی طرف رجوع کرسکیں اور یہی اصح ہے اھ (ت)
 (۱؎ غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی   فصل فی صلٰوۃ الجمعہ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور     ص۵۵۰)
ملتقی الابحر ومجمع الانہر میں ہے :
ھوظاہر المذہب علی مانص علیۃ السرخسی وھواختیار الکرخی القدوری، وقیل قائلہ صاحب الوقایۃوصدرالشریعۃ وغیرھما مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لا یسعھم و ھواختیار الثلجی وانما اوردبصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین مع ان الاول یکون ملا یما بشرط وجودالسطان ونائبہ ومناسبا لما قالہ الامام رحمہ اﷲ تعالٰی  ، وفی الغایۃ ھو الصحیح ۱۱؎ اھ ملخصا ھذا جملۃ الکلام وللتفصیل محل اٰخر، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی   اعلم
امام سرخسی کے بقول یہی ظاہر مذہب ہے امام کرخی و قدوری کا بھی یہی مختار ہے۔ بعض کے نزدیک یہ صاحب وقایہ اور صدرالشریعۃ وغیرہ کا قول ہے اور شہر کی یہ تعریف ) کہ اگر اس کی بڑی مسجد میں اہل شہر جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھے، یہ امام ثلجی کا مختار ہے صیغہ تمریض کے ساتھ وارد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں باوجود یکہ پہلی تعریف وجود سلطان اور نائب سلطان کے موافق اور امام نے جو کچھ فرمایا اس کے مناسب ہے ، اورغایہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے اھ ملخصاً یہ فی الجملہ گفتگو ہے تفصیل کے لئے دوسرا مقام ہے واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی   اعلم (ت)
 (۱؎ مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر        باب الجمعہ        مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/۱۶۶و۱۶۷)
Flag Counter