| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ ۱۲۷۱ : از اٹاوہ محلہ ثابت گنج مرسلہ محمد ابراہیم خاں صا بری مارہروی ۲ شوال ۱۳۳۹ھ زید کی سسرال ا سکے مکان مسکونہ سے بسفر ریل ۱۱۴ میل کے فاصلے پر ہے او بیوی بچے اس کے سب سسرال میں رہتے ہیں مگر زید اپنے کاروبار کی وجہ سے زیادہ تر اپنے مسکن پر رہتا ہے اور بال بچّے جو اس کے سسرال میں رہتے ہیں بلکہ ضرورۃً عرصہ ۸ ماہ سے ان کو وہاں چھوڑ رکھا ہے ایسی صورت میں جب زید اپنے مسکن سے اپنے بال بچوں میں ہونے کے واسطے بایں ارادہ گیا کہ میں چوتھے روز یا پندرہ دن کے بعد یا مہینہ بھر کے بعد واپس آؤں گا توا س پر قصر واجب ہے یا نہیں ؟ اور اگر کسی موقع سے اس نے قصر نماز ادانہ کی ہو جس کو کہ وہ اپنے علم کے موافق قصر نہیں جانتا مگر شرعی اصول کے موافق اس پر قصر واجب ہو تو اس کے ذمہ کچھ مواخذہ ہے یا نہیں؟
الجواب جبکہ مسکن زید کا دوسری جگہ ہے اور بال بچوں کا یہاں رکھنا عارضی ہے تو جب یہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گا قصر کرے گا اور پندرہ دن یا زیادہ کی نیت سے مقیم ہوجائے گا پوری نماز پڑھے گا جس پر شرعاً قصر ہے اور اس نے جہلاً پڑھی اُس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۲۷۲ : از ریاست فرید کوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مرسلہ منشی محمد علی ارم ۶ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علماۓ دین اس مسٔلہ میں کہ ریل میں ایک کثیرعملہ ریلیونگ رہتاہے جسکایہی کام کہ ہفتہ عشرہ ایک دن دودن زیادہ کم کسی ملازم ریلوے کے بیمارہوجانے تخفیف میں آجانے رخصت جانے پراس کی جگہ رہتے ہیں جس سے کہیں بیس دن مہینہ اورزیادہ دودوچارچاردن ہی رہناپڑتاہے ان کےلیے نمازمیں قصر کاحکم ہے یانہیں ؟
الجواب : اگراپنے مقام سے ساڑھے ستاون (۲/ ۱ ۵۷) میل کے فاصلے پر علی الاتصال جاناہوکہ وہیں جانامقصود ہے بیچ میں جانامقصودنہیں اوروہاں پندرہ دن کامل ٹہھرنے کاقصد نہ ہوتوقصرکریں گے ورنہ پوری پڑھیں گے ،ہاں یہ جوبھیجا گیا اگراس وقت حالت سفرمیں ہے مقیم نہیں توکم وبیش جتنی دوربھی بھیجاجائےگا مسافرہی رہے گاجب تک پندرہ کامل ٹہھرنے کی نیت نہ کرے یا اپنے وطن نہ پہنچے ،۔واللہ تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۱۲۷۳: از شھرمحلہ بہاری پور مسئولہ نواب وزیر احمد خاں صاحب ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج قصد تلہر اس وقت دس بجے کی گاڑی سے ہے تلہر تک قصر نہیں تلہر سے قصد رامپورکاہے تلھرسے رام پورتک قصر ہے لیکن درمیا ن میں بریلی پڑھے گی اترنا نہیں ہوگا اس صورت میں قصر کا کیا حکم ہے ۔ تلہر میں بھی قصر پڑھا جائے یا نہیں اوراگر تلہر میں قصد رامپور کا فسخ ہوجائے توقصر کوقصر کیا جائے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب یہاں سے تلہر تک اور تلہر کے قیام تک قصر نہ کریں جب تلہر سے بخط مستقیم رامپور کا ارادہ ہو تو راہ میں بھی اور رامپور میں بھی اور بریلی تک واپس آنے میں بھی قصر کریں، رامپور جانے میں اگر چہ بریلی کے اسٹیشن پر گزرہو گا مگر وہ بریلی میں گزر نہیں کہ قصر کا قصر کردیں اس لئے کہ یہاں اسٹیشن خارج شہر ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۴ : از سنبھل مراد آباد محلہ دیپاسرائے مسئولہ مولوی محمد ایوب صاحب ۳ جمادی الاولٰی ۱۳۲۵ھ مسافر اگر نمازی پوری چار رکعت پڑھادے تو مقیمین کی نماز ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب مسافر اگر بے نیتِ اقامت چار رکعت پوری پڑھے گنہ گار ہوگا اور مقیمین کی نماز اس کے پیچھے باطل ہوجائیگی اگر دو رکعت اولٰی کے بعد اس کی اقتداء باقی رکھیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۵ : از پیلی بھیت محلہ پنجا بیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۰۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص اپنے وطن اصلی سے سفر کر کے دوسری جگہ میں جو سفر شرعی تین منزل سے زائد ہے بضرورت تعلقات تجارت یا نوکری وغیرہ کے جارہا ہو مگر اہل وعیال اس کے وطن اصلی میں ہوں اور اکثر قیام اُس کا وطن ثانی میں رہنا ہوگا ہی ، سال بھر میں مہینہ دو مہینہ کے واسطے اہل و عیال میں بھی رہ جاتا ہو یا بعض اہل کو ہمراہ لے جائے اور بعض کو وطن چھوڑ جائے یا کل متعلقین ہمراہ لے جائے صرف مکانات وغیرہ کا تعلق وطن اصلی میں باقی ہو اور ان سب صورتوں میں ان کا زیادہ تر اور اکثر قیام وطن ثانی میں رہتا ہے اور کم اتفاق رہنے کا وطن اصلی میں ہوتا ہے اور بظاہر وجہِ قیام ثانی کے وہی تعلقات جدید ہیں اور درصورت قطع تعلقات جدیدہ کے وطن اصلی میں واپس آجانے کا بھی قصدرکھتا ہے ایسی صورت میں یہ شخص کہیں سے سفر کرتا ہوا وطن ثانی میں آئے اور ۱۵ روز قیام کا قصد نہ رکھتا ہو تو صلاۃ رباعیہ کو پورا پڑھے مثل وطن اصلی کے یا قصر کرے مثل مسافروں کے ؟ بینوا توجروا
الجواب جبکہ وہ دوسری جگہ نہ اس کا مولد ہے نہ وہاں اس نے شادی کی نہ اسے اپنا وطن بنالیا یعنی یہ عزم نہ کرلیا کہ اب یہیں رہوں گا اور یہاں کی سکونت نہ چھوڑوں گا بلکہ وہاں کا قیام صرف عارضی بر بنائے تعلق تجارت یا نوکری ہے تو وہ جگہ وطن اصلی نہ ہوئی اگر چہ وہاں بضرورت معلومہ قیام زیادہ اگر چہ وہاں برائے چندے یا تا حاجت اقامت بعض یا کل اہل وعیال کو بھی لے جائے کہ بہر حال یہ قیام بیک وجہ خاص سے ہے نہ مستقل ومستقر ، تو جب وہاں سفر سے آئے گا جب تک ۱۵ دن کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا کہ وطن اقامت سفر کرنے سے باطل ہوجاتا ہے۔
فی الدرالمختار الوطن الاصلی وھو موطن ولادتہ اوتأھلہ اوتوطنہ۱ ؎۔
در مختا ر میں ہے وطن اصلی، آدمی کی جائے ولادت ہےیا وہاں اس نے شادی کی ہو یا اس نے وہاں اسے اپنا وطن بنایا ہو ۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۰۸)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ اوتأھلہ ای تزوجہ قال فی شرح المنیۃ ولو تزوج المسافر ببلد ولم ینوا لاقامۃ بہ فقیل لا یصیر مقیما وقیل یصیر مقیما وھو الاوجہ، قولہ أوتوطنہ ای عزم علی القرارفیہ وعدم الارتحال وان لم یتأھل فلو کان لہ ابوان ببلد غیر مولدہ وھوبالغ ولم یتأھل بہ فلیس ذلک وطنا الا اذاعزم علی القرارفیہ وترک الوطن الذی کانہ لہ قبلہ ۲؎۔ شرح المنیۃ۔
قولہ '' تاھلہ'' یعنی اس نے وہاں شادی کی ، شرح المنیہ میں ہے کہ اگر مسافر نے کسی شہر میں شادی کرلی اور وہاں اقامت نہ کی تو قول یہ ہے کہ وہ مقیم نہیں ہوگا اور ایک قول میں مقیم ہو جائے گا یہی مختار ہے۔ اس کا قول '' او توطنہ'' یعنی اگر چہ وہاں شادی نہیں کی مگر ٹھہرنے اور کوچ نہ کرنے کا عزم کرلیا، اگر آدمی کے ایک شہر میں والدین ہیں لیکن وہ جگہ اس کی جائے ولادت نہیں اور نہ ہی اس نے وہاں شادی کی ہے تو وہ شہر اس کا وطن نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہاں ٹھہرنے کا ارادہ کرے اورسابقہ وطن ترک کردے ۔ شرح المنیۃ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۸۶)
تنویر میں ہے :
ویبطل وطن الا قامۃ بمثلہ والاصلی والسفر ۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
وطن اقامت وطن اقامت ، وطن اصلی او ر سفر سے باطل ہوجاتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۳؎ درمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۸)