| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
فاقول وباﷲا لتوفیق ( پس میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) اوپر معلوم ہو کہ یہاں دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جہاں متعین ہوا وہ نرا جنگل ہے جائے اقامت نہیں۔ دوسرے یہ کہ محل اقامت ہے جیسے اسٹیشن۔ اور ہر تقدیر پر دوصورتوں ہیں:ایک یہ کہ یہ شخص متعین ہوتے وقت مسافر ہے یعنی تین منزل چل کر آیا اور ہنوز کہیں مقیم نہ ہوا، دوسرے یہ کہ مقیم ہے مثلاً اُسی شہر یا اور قریب جگہ کا ساکن ہے اور یہاں شہر سے دو چار کوس کے فاصلے پر متعین ہوا ۤیا آیا تو تین منزل طے کرکے مگر شہر میں پندرہ دن کی نیت کے ساتھ ٹھہر اکہ مقیم ہوگیا۔ اوراب یہاں متعین ہو تو چار صورتیں آگئیں: صورت اُولٰی : مسافر بمعنی مذکور ہے اور یہ جگہ محل اقامت نہیں، اس میں: (۱) اس میں ابتدائے تعیّن سے بلافصل جب تک یہاں رہے گاقصرکرے گااگرچہ دس برس یہی رہنے کی نسبت اس کے آقانے کہہ دیا اور اس نے بھی ارادہ کرلیا کہ جب وہ مدت سفر سے آیا اورکہیں مقیم نہ ہوااور یہ محل اقامت نہیں تو جب تک بھی یہاں رہے گا مسافرہی رہے گا۔ (۲) اگر یہاں سے حکماً خواہ صرف بارادہ خودکسی دوسری جگہ جائے گا راہ میں قصر ہی کرے گا اگر چہ وہ جگہ یہاں سے مدت سفر پر نہ ہو۔ (۳) اُس دوسری جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ ہو تو وہاں بھی قصر ہی پڑھے اور وہاں سے واپسی میں اور اس مقام پر واپس آکر بھی، اگر چہ یہاں کتنا ہی ٹھہرنے کا ارادہ ہو کہ ہنوز اس کا سفر بوجہ عدم اقامت ختم نہ ہوا۔ (۴) اگر وہاں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت حکماً خواہ فقط اپنے ارادے سے کی تو وہاں پوری پڑھے گا۔ (۵) جب وہاں سے واپس ہوگا اگر اس جگہ اور مقامِ تعین میں تین منزل کا فاصلہ ہے تو واپسی میں بھی قصر کرے گا اوریہاں پہنچ کر بھی، اگر چہ یہاں کتنے ہی دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو کہ مدت سفر سے یہاں پہنچ کر اُس کی پھر حالت اولٰی عود کر آئی اور انشائے سفر کے سبب اُس اقامت جائے دیگر کا کوئی اثر نہ رہا۔ (۶) اگر بعد اقامت پانزدہ روزہ وہاں سے واپس ہوا اور بیچ میں مدت سفر نہیں تو اب راہ میں بھی پوری پڑھے گا اور یہاں پہنچ کر بھی کہ قبل سیر سہ روزہ جنگل میں نیتِ اقامت صحیح ہے اور بوجہ عدم انشائے سفر اُس کی وہ اقامت باطل نہ ہوئی نہ وہ وطن اقامت باطل ہوا ،اس صورتِ ششم میں اُس کا حکم شقوق صورتِ ثانیہ آئندہ کی طرف عود کا جائے گا۔ صورت ثانیہ: مقیم ہے اور یہ جگہ محل اقامت نہیں ، اس میں: (۱) جب تک بعد تعین بلافصل یہاں رہے گا پوری پڑھے گا کہ مقیم کا بَن میں ٹھہرنا سفر نہیں۔ (۲) اگر یہاں سے کہیں مدت سفر سے کم کی نیت سے جائے گا جاتے اور آتے اور وہاں ٹھہرتے ہر حال میں اتمام کرے گا اگر چہ وہاں ایک ہی دن ٹھہرے کہ ہنوز سفر متحقق نہ ہوا۔ (۳) اگر مدّت سفر کی نیّت سے جائے گا راہ میں قصر کرے گا اور وہاں بھی اگر پندرہ دن نیت نہ کرے ورنہ وہاں پوری پڑھے گا۔ (۴) یہی واپسی میں جب وہاںسے اُس مقام کو بقصدِ واحد واپس آئے گا راہ میں قصر کرے گا۔ (۵) جب یہاں پہنچے گا ازانجا کہ مدتِ سفرسے آیا ہے اور یہ محل اقامت نہیں، اب اس کا حکم شقوق صورت اولٰی گزشتہ کی طرف عائد ہوگا کہ ابتدائے واپسی سے بلافصل جب تک یہاں رہے گا قصر کرے گا اس آخرہ کہ اب یہاں مسافر بمعنی مذکور ہو کر آیا ، بالجملہ جب یہاں بعد سفرآ ۤئے گا صورتِ اولٰی ہوگی اور مقیم ہو کر صورت ثانیہ یہی دورہ رہے گا، صورت ثالثہ: مسافر بمعنی مذکور ہے اور یہ جگہ محلِ اقامت جیسے اسٹیشن ، اس میں: (۱) اگر ابتدائے تعین میں معلوم تھا کہ پندرہ دن کے اندر یہاں سے جانا ہے تو مقیم نہ ہوگا قصر ہی پڑھے گا، (۲) یہاں سے کہیں قبل اقامت جائے راہ میں قصر ہی کرے اور واپسی میں بھی۔ (۳) جب وہاں سے واپس آئے اور اب بھی پندرہ دن کے اندر کہیں جانے کا ارادہ ہے تو یہی شقوق و احکام ہیں۔ (۴) اب وہ ارادہ نہیں یا ابتدائے تعین ہی میں ۱۵ روز کے اندر کہیں جانے کی نیت نہ تھی تو جبھی سے یا اب یہاں آکر مقیم ہوجائے گا پوری پڑھے، اس صورت چہارم میں اس کا حکم شقوق اربعہ آئندہ کی طرف رجوع کرے گا۔ صورت رابعہ: مقیم ہے اور یہ جگہ محل اقامت ، اس میں: (۱) جب تک یہاں رہے گا اتمام کرے گا اگر چہ ایک ہی دن ٹھہرنے کا رادہ ہو۔ (۲) یہاں سے کہیں جائے اور جاتے اور آتے اور ٹھہرتے اور واپس آکر ہمیشہ پوری پڑھے گا جبکہ وہ جگہ مدت سفر پر نہ ہو۔ (۳) اگر مدّت سفر پر جائے راہ میں قصر کرے اور وہاں پوری پڑھے، اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو، ورنہ وہاں بھی قصر کرے۔ (۴) جب وہاں سے واپس آئے راہ میں قصر کرے یہاں پہنچ کر یہی شقوق واحکام ہیں جبکہ پندرہ دن کے اندر جانے کا ارادہ نہ ہو۔ (۵) اگر بعد واپسی یہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا اردہ ہے تو یہاں آکر بھی مقیم نہ ہوگا کہ یہ وطن اقامت بوجہ سفر باطل ہوگیا اور اب قصد اقامت نہیں، اس صورت پنجم میں اس کا حکم شقوق صورتِ ثالثہ کی طرف راجع ہوگا واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۶۷: از اسٹیشن دودھواگھاٹ ضلع کھیری لکھیم پور کارخانہ عبداللطیف خاں صاحب ٹھیکہ دار مرسلہ فرخ شاہ خاں ۱۸جمادی اولٰی ۱۳۳۷ ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اسٹیشن دودھواگھاٹ ایک جنگل کا مقام ہے اور یہاں پر نہ آبادی ہے نہ زراعت ہوتی ہے اور میں ایک ٹھیکہ دار کا ملازم ہوں اور بظاہر مجھ کو امید ہے کہ اس جگہ میراقیام جب تک کہ ملازمت قائم ہے برابر رہے گا اسی خیال سے میں پوری نماز ادا کرتا تھا، اب ایک شخص سکنہ پیلی بھیت نے کہا کہ تم کو یہاں پر قصر پڑھنا چاہئے خواہ تم ایک سال رہو یا زائدرہو، لہذا آپ کی خدمت میں یہ تحریر ارسال کرتا ہیں کہ اس مسئلہ کا جو حکم ہو اس سے مطلع فرمائے تاکہ شک رفع ہو اور اُس کے مطابق نماز ادا کی جائے۔ الجواب جبکہ وہاں نہ آبادی ہے نہ جائے قیام ہے تو اگر یہ وہاں مسافر ہو کر پہنچا یعنی تین منزل سے ارادہ کر کے بیچ میں بغیر سفر توڑے وہاں پہنچا تو جب تک وہاں رہے گا قصر کرے گا اگر چہ کتنی ہی مدت گزرے اور اگر وہاں مقیم ہو کر پہنچا یعنی تین دن کی راہ سے کم فاصلہ وہاں تک تھا یا زیادہ تھا مگر بیچ میں دوسری جگہ ٹھہرتا ہوا آیا کہ پچھلے قصد سے یہاں تک مدت سفر نہ تھی تو جب تک رہے گا پوری پڑھے گا اگر چہ ایک ہی دن رہے قیام کا اصلاً قصدنہ ہو، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۶۸: از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ غلام جان صاحب طالب علم ۱۸ شوال ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جس پر نماز قصر ہو وہ سفر میں اگر دیدہ و دانستہ بہ نیت زیادہ ثواب ، پوری نماز پڑھے گا تو گنہگار ہو گا یا نہیں؟
الجواب بیشک گنہگار و مستحق عذاب ہوگا ، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
صدقۃ تصدق اﷲ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
یہ قصر صدقہ ہے اﷲ تعالٰی نے تم پر صدقہ کیا ہے ا سکے صدقہ کو قبول کرو ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ سنن ابی داؤد باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۷۰)
مسئلہ ۱۲۶۹: ازا دلدن ضلع جھانسی مرسلہ محمد تقی خاں سب انسپکٹر پولیس اسٹیشن ۳ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں ضلع جھانسی میں ملازم ہُوں جو کہ ضلع بدایوں سے قریب ۲۰۰ میل کے فاصلے پر ہے اور مقام جھانسی میں تھانہ ادلدن میں تعیناتی ہے پندرہ روز تک کبھی تھانہ میں ٹھہر نا نہیں ہوتا علاقے کے دیہات میں برابر بسلسلہ کار گورنمنٹ تفتیش وغیرہ کے گشت رہتا ہے لہذا التماس ہے کہ ایسی صورت میں نماز قصر پڑھنا چاہئے یا پوری نماز پڑھنا ۔
الجواب جو مقیم ہو اور وہ دس دس پانچ پانچ بیس بیس تیس تیس کو س کے ارادے پر جائے کبھی مسافر نہ ہوگا ہمیشہ پوری نماز پڑھے گا اگر چہ اس طرح دنیا بھر کا گشت کر آئے جب تک ایک نیت سے پورے چھتیس کوس یعنی ساڑھے ستاون میل انگریزی کے ارادے سے نہ چلے یعنی نہ بیچ میں کہیں ٹھہرنے کی نیت ہو اور اگر دوسو میل کے ارادے پر چلا مگر ٹکڑے کرکے یعنی بیس میل جاکر یہ کام کروں گا وہاں سے تیس میل جاؤں گا وہاں سے پچیس میل، وعلی ہذا لقیاس مجموعہ دو سومیل تو وہ مسافر نہ ہوا کہ ایک لخت ارادہ ۵۷ میل کا نہ ہوا، ہاں جو مسافر ہے مقیم نہیں وہ جہاں ہے وہاں بھی قصر پڑھے گا اور وہاں سے ایک ہی میل یا کم کو جائے خواہ زیادہ کو، وہاں بھی قصر ہی کرے گا اور وہاں سے ایک ہی میل یا کم کو جائے خواہ زیادہ کو، وہاں بھی قصر ہی کرے گا جب پورے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کسی محل اقامت میں نہ کرے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۰: از پیلی بھیت محلہ شیر محمد خاں مسئولہ حبیب احمد بریلوی ۲۵ ذی الحجہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص علاقہ نیپال کے جنگل میں منجانب تاجران لٹھ ملازم ہے اور ایسی جگہ رہنا ہوتا ہے جہاں سے ایک یا دہ میل یا کم وزیادہ کے فاصلے پر آبادی اور زراعت ہوتی ہے تا انگریزی عملداری کے جنگلات میں ملازم ہے جو بصورت متذکررہ بالا ہے یا اسٹیشن ریلوے جنگل میں ہے وہاں سے بھی دو یاتین میل کے فاصلہ پر آبادی اور زراعت ہے، اور آقا جب بھیجتا ہے تو کچھ مدت مقرر نہیں کرتا تو ان صورتوں میں ملازم کو نمازِ قصر ادا کرنا واجب ہے یا پوری ؟ اور اگر خود مختار ہے تو اس کو قصر پڑھنا چاہئے یا پوری؟ زید کا قول کہ نمازِ قصر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ اول عملداری ہندو کی ہے یعنی نیپال ، دوسرے جگہِ اقامت پر نہ آبادی ہے نہ زراعت ہوتی ہے یعنی کچھ فاصلےپر ہے ، تیسرے یہ صورت اوّل میں خود مختار نہیں، آقا جب چاہے منتقل یا علیحدہ کرسکتا ہے اور علمداری انگریزی میں بھی اگر چہ اسٹیشن ہے مگر زراعت نہیں ہوتی ہے نوکری پر بوجہ مذکورہ خود مختار پر بوجہ نہ ہونے زراعت کے قصر واجب ہے ، اقامت کی شرائط میں زراعت بھی ہے، عمر کی دلیل یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالاجن مقامات اقامت سے ایک میل یا کم یا زیادہ پر زراعت ہوتی ہے مگر فراہمی غلّہ وغیرہ میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ہے، دوسرے مقامِ اقامت گو جنگل میں ہے مگر دس بیس پچاس آدمی ہمراہ ہوتے ہیں جو عرصہ تک ایک جگہ مقیم رہتے ہیں، جانور درندہ وغیرہ کا بالکل خوف نہیں ہوتا ہے، تیسرے یہ کہ کوئی آقا ملازم کو جب بھیجتا ہے تو کام ختم کرکے آنے تک کے لئے درمیان میں اگر ضرورت ہوئی تو وہاں سے منتقل یا علیحدہ کردیا یہ معتبر نہیں، اس صورت میں ارادہ ملازم کا معتبر ہے، اگر پندرہ یوم کا ارادہ ہے تو پوری اداکرے تو دونوں کی اقتداء درست ہے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا
الجواب جو مسافر نہ تھا اور اُس جنگل تک جانے میں بھی اُسے سفر کرنا نہ پڑا کہ فاصلہ تین منزل سے کم تھا ، وہ تو ظاہر ہے کہ مقیم تھا اور مقیم رہا اسے قصر حرام ہے اور پوری پڑھنی فرض ہے اگر چہ وہ جگہ نرا بَن ہو۔ بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے : ھذا ان سارثلثۃ ایّام والا فتصح ولو فی المفازۃ ۱؎۔ یہ اس وقت ہے جب تین دن کاسفر طے کرلیا ہو ورنہ وہ مقیم ہوگا اگر چہ وہ جنگل میں ہو ۔ ت)
(۱ردالمحتار باب صلوۃ المسافر مطبوع مصطفی البابی مصر ۱/۵۸۱)
اور جو مسافر تھا وہاں تک جانے سے مسافر ہوا کہ فاصلہ تین منزل یا زائد کا تھا وہ ضرور مسافر ہے، اگر عادت معلوم ہے کہ جس کام کے لئے بھیجا گیا وہ پندرہ دن یا زائد میں ہوگا اور جگہ ایسی ہو جہاں اقامت ممکن ہے اگر چہ آبادی وہاں سے دوتین میل فاصلہ پر ہو اور زراعت نہ ہو وہاں پہنچ کر مقیم ہوجائے گا اور پوری پڑھنی لازم ہوگی خاص وہاں زراعت ہونا کچھ ضرور نہیں، نہ ہندو کی علمداری ہونا کچھ مانع کہ یہ آمدورفت امان کے ساتھ ہے اس سے تعرض نہیں کیا جاتا۔
درمختار میں ہے :
من دخلھا بامان فانہ یتم۲۲؎
( جو امان کی بنا پر داخل ہُوا وہ نمازی پوری پڑھے ۔ت)
(۲؎ دُرمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۰۷)
اور یہ احتمال کہ شاید کوئی ضرورت پیش آئے اور جس کا نوکر ہے وہ دوسری جگہ بھیجے معتبر نہیں، ایسا احتمال ہر شخص کو ہر حال میں ہے، اور جب نوکر کا یہ حکم ہے تو خود مختار تو بدرجہ اولٰی جبکہ پندرہ دن یا زائد کی نیت کی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم