پنجم : نیت سچے عزم قلب کا نام ہے، پندرہ دن ٹھہر نے کا ارادہ کرلے ، اور جانتا ہے کہ اس سے پہلے چلے جانا ہے تو یہ نیت نہ ہوئی محض تخیل ہوا، یوں ہی دل میں عزم دوہی منزل کا ہے اور گھر سے تین منزل کا ارادہ کرلیا کہ آبادی سے نکل کر راہ میں قصر کی اجازت مل جائے ہر گز اجازت نہ ہوگی کہ یہ نیت نہیں وہی خیال بندی ہے، البتہ اگر دو۲ ہی منزل پر جاتا ہے اور سچّا ارادہ تین منزل کا کرلیا اورتین منزل جاکر ایک منزل اپنے محل مقصود کوواپس آیا اور یہاں پندرہ دن سے کم ٹھہر نا ہے تو جانے اور آنے اور ٹھہرتے قصر کرے گا کہ یہ سچی نیت ہوئی اگر چہ وہاں جانے سے کوئی کام نہ تھا ،
درمختار میں ہے:
لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتۃ لانہ یخرج الٰی منٰی وعرفۃ ۱؎۔
اگر حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت اقامت درست نہ ہوگی کیونکہ اس نے منٰی اور عرفہ کی طرف نکلنا ہے ۔(ت)
اگر حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت اقامت درست نہ ہوگی کیونکہ اس نے منٰی اور عرفہ کی طرف نکلنا ہے ۔(ت)
معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے:
قال اصحا بنا رحمھم اﷲ تعالٰی فی تاجردخل مدینۃ لحاجۃ نوی ان یقیم خمسۃ عشریوما لقضاء تلک الحاجۃ لایصیر مقیما لانہ متردد بینا ان یقضی حاجتہ فیرجع وبین ان لا یقضی فیقیم فلا تکون نیتہ مستقرۃ وھذا الفصل حجۃ علی من یقول من اراد الخروج الی مکان ویرید ان یترخص برخص السفرینوی مکانا ابعد منہ وھذاغلط ۲؎۔
ہمارے اصحاب رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ تاجرجوکسی شہرمیں کسی ضرورت کے لئے گیا اس نے حصول حاجت کے لئے پندرہ دن اقامت کی نیت کرلی تو وہ مقیم نہ ہوگا کیونکہ وہ متردد ہے اس بارے میں کہ اگر ابھی کام ہوجاتا ہے تو لوٹ جائے اور اگر نہیں ہوگا تو اقامت کرے تواس کی پختہ نیت نہ ہوئی، یہ صورت اس شخص کے خلاف حجت ہے جو کہتا ہے کہ جو کوئی کسی جگہ کی طرف نکلنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے سفر کی سہولت میسر ہو( حالانکہ وہ جگہ اتنی دور نہیں) تو وہ کسی دور جگہ کی نیت کرکے نکل پڑتا ہے تاکہ رخصت حاصل ہوجائے تو یہ غلط ہے ۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۴۰)
ششم: وطن اقامت یعنی جہاں پندرہ دن یا زیادہ قیام کی نیت صحیحہ کرلی ہو آدمی کو مقیم کردیتا ہے اور اقامت وسفر میں واسطہ نہیں تو وہاں سے بے ارادہ مدت سفر اگر ہزار کوس دورہ کرے مثلاً دس کوس کے ارادے پر وہاں سے چلے پھر وہاں سے پندرہ کوس کا ارادہ کرے وہاں سے بیس کوس کا قصد ہو مسافر نہ ہوگا اور قصد نہ کرسکے گا جیسے وطن اصلی سے یوں دور ہ کرنےمیں حکم ہے یہاں تک کہ اگر مثلا وطن اقامت سے بیس کوس گیا اور وہاں سے وہاں سے چھبیس کوس کا ارادہ کرکے چلا اور بیچ میں وطن اقامت آکر پڑے گا تو سفر جاتا رہے گا ، ہاں اگر تین منزل چلنے کے بعد یہ وطن بیچ میں نہ آئے گا تو قصد کرے گا اور یہ وطن وطن ِ اقامت نہ رہے گا ،
ردالمحتار میں ہے :
والحاصل ان انشاء السفر یبطل وطن الاقامۃ اذاکان منہ امالوانشأہ من غیرہ فان لم یکن فیہ مرورعلی وطن الاقامۃ اوکان ولکن بعد سیر ثلثۃ ایام فکذلک ولو قبلہ لم یبطل الوطن بل یبطل السفر لان قیام الوطن مانع من صحتہ ۱؎۔
حاصل یہ ہے کہ سفر شروع کرنے سے وطن اقامت باطل ہوجاتا ہے جبکہ سفر وہاں سے ہوا اور اگر سفر کسی اور جگہ سے ہو تواب وطن اقامت سے گزر نہیں ہوا یا ہوا لیکن تین دن بعد ، تو حکم یہی ہے اور اگر اس سے پہلے ہوا تو وطن بالکل باطل نہ ہوگا بلکہ سفر باطل ہوجائے گا، کیونکہ قیام وطن صحت سفر سے مانع ہوتا ہے (ت)
(۱ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۸۶)
ہفتم: نوکری ملازمت ہے اس میں قصد استدامت ہوتا ہے تو جو جہاں نوکر ہو کر رہنا اختیار کرے مقیم ہوجائیگا اگر چہ (عہ) بلخصوص پندرہ دن کی نیت نہ ہو
لان نیتہ الاستد امۃ فوق ذلک
( کیونکہ دوام کی نیت اقامت کی نیت سے فائق ہے ۔ت)
عہ : فتح القدیر باب الحج عن الغیر میں ہے:
لوتوطن مکۃ بعد الفراغ خمسۃ عشر یوما بطلت نفقتہ فی مال المیت لانہ توطن حٍ لحاجۃ نفسہ بخلاف مااذا اقامہ اقل فانہ مسافر علی حالہ فان بدالہ بعد ذلک ان یرجع رجعت نفقتہ فی مال المیت وقد روی عن ابی یوسف انہ لا تعود لانہ فی الرجوع عامل لنفسہ لا للمیت لکنھا قلنا ان اصل سفرہ کان للمیت فما بقی ذلک السفر بقیتہ النفقۃ کذافی المبسوط، وذکر غیر واحد من غیر ذکر خلاف انہ ان نوی الاقامۃ خمسۃ عشریوما ان سقطت فان عادت وان توطنھا سواء قل اوکثر لا تعود وھذا یفید ان التوطن غیر مجرد نیۃ الا قامۃ خمسۃ عشریوما والظاھر ان معناہ ان یتخذھا وطنا ولا یحد فی ذلک حد افتسقط النفقۃ ثم العود انشاء سفر لحاجۃ نفسہ ولو بعد یومین فلا یستحق بہ النفقۃ علی المیت واﷲ سبحٰنہ اعلم ۲؎ اھ فافھم ۱۲ منہ (م)
اگر (حج بدل کرنے والے نے) فراغت کے بعد مکہ معظمہ میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرلی تو اب مالِ میت سے خرچ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اب اپنے ذاتی کام کے لئے ٹھہر اہے بخلاف اس صورت کے کہ جس میں پندرہ دن سے کم ہو کیونکہ اب وہ حالت سفر میں ہی ہے پس اگر پندرہ کے بعد لوٹ آئے گا، امام ابویوسف سے مروی ہے کہ مالِ میت کی طرف نہیں لوٹے گا کیونکہ رجوع اپنی ذات کے لئے ہے نہ کہ میت کے لئے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ سفر میت کے لئے ہے، تو جب تک سفر میں رہے گا اس کا نفقہ میت کی طرف سے ہی ہوگا، مبسوط میں اسی طرح ہے، اور متعدد فقہاء نے اسے بغیر اختلاف کے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے پندرہ دن کی نیت کر لی تو نفقہ ساقط ہوجائے گا اگر سفر سے لوٹاہے تو نفقہ لوٹ آئے گا، اور اگر مکہ کو ابنا وطن بتاتا ہے خواہ تھوڑے دن یا زیادہ تو نفقہ نہیں ہوٹے گا ، اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پندرہ دن کی نیت کے بغیر بھی اگر وہ رہا تو وہ متوطن ہوگا، ظاہراً اس کا مفہوم یہی ہے کہ وہ اگر مکہ کو اپنا وطن بتاتا ہے تو اس میں دنوں وغیرہ کی کوئی حد نہیں لہذا اس کا نفقہ ساقط ہوجائے گااب اس کے بعد رجوع اپنی ذات کے لئے نیا سفر ہوگا اگر چہ وہ سفر دو دن کے بعد ہی کیونہ ہو لہذا وہ میت کی طرف سے نفقہ کا مستحق نہ ہوگا واﷲ سبحٰنہ اعلم اھ فافھم ۱۲ منہ
(۲؎ فتح القدیر باب الحج عن الغیر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۶۹)
ہاں اگر مدّت سفر سے یہاں نوکر ہو کر آیا اور معلوم ہے کہ پندرہ دن ٹھہرنا نہ ہوگا تو البتہ مقیم نہ ہوگا ، جب اس درسری جگہ سے فارغ ہوکر آئے گا اور یہاں ملازمانہ قیام کرے گا اس وقت سے مقیم ہوگا،
کما قال فی ردالمحتار فی واقعۃ عیسٰی بن ابان رحمہ اﷲ تعالٰی ان نیۃ الا قامۃ لم تعمل عملھا الا بعد رجوعہ لو جود خمسۃ عشر یوما بلانیۃ خروج فی اثنائھا بخلاف ماقبل خروجہ الی عرفات لانہ لما کان عازما علی الخروج قبل تمام نصف شہر لم یصر مقیما ۱۔
جیسا کہ ردالمحتار میں شیخ عیسٰی بن ابان رحمہ اﷲ تعالٰی کے واقعہ میں ہے کہ نیت اقامت موثر نہیں مگر رجوع کے بعد کیونکہ پندرہ دنوں کی نیت ہے اور اس میں نکلنے کی نیت بھی نہیں بخلاف عرفات کی طرف نکلنے سے پہلے کے کیونکہ جب نصف ماہ کے اتمام سے پہلے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ مقیم نہیں ہوگا ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۸۲)
اور جبکہ ایک جگہ نوکر ہوکررہے اور پندرہ دن کے اندر وہاں سے درسری جگہ جانا معلوم نہ ہو تو صرف احتمال قاطع اقامت نہ ہوگا ورنہ کوئی وطن اقامت نہ ہوسکے اور اپنے وطن سے مدت سفر پر جولاکھوں آدمی نوکر ہوتے اور برسوں وہاں رہتے ہیں کبھی مقیم نہ ہوں کہ بدلی یا کسی کام پر بھیجے جانے کااحتمال ہر وقت ہے ھذا ما عندی واﷲ تعالٰی اعلم ( یہ تو میرے نزدیک ہے اور اﷲ تعالٰی بہتر جاننے والا ہے ۔ت) جب یہ امور سبعہ معلوم ہولئے اب مسئلہ مسئولہ کی طرف چلئے۔