Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
51 - 144
مسئلہ ۱۲۶۶: ازپیلی بھیت مرسلہ حبیب احمد صاحب رضوی برکاتی۳۰ ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۶ھ

ایک شخص جنگل یا اسٹیشن پر جو جنگل میں واقع ہو ملازم ہے اور اس کو آقا جب بھیجتے ہیں تو کم از کم ایک ماہ

کے ارادہ سے بھیجتے ہیں تو اس ملازم پر نماز قصر ہے یا پوری؟ اور مندرجہ ذیل دلیلوں میں زید حق پر ہے یا عمرو؟

زید کا قول ہے کہ ملازم کو ہر حالت میں نماز کرنا چاہئے اگر چہ آقا ایک ماہ کے ارادے سے بھیجے کیونکہ اگر آقا چاہے تو آٹھ روز میں دُوسری جگہ منتقل کردے، دوسرے جنگل ہونے کی وجہ سے ہر حالت میں قصر واجب ہے کیونکہ واہاں آبادی نہیں ہے جو اقامت کی جگہ ہے، عمرو کی دلیل ہے کہ کل کام  ارادے کے لحاظ پر ہوتے ہیں یعنی جس وقت آقا بھیجتا ہے تو ایک ماہ کے ارادے سے بھیجتا ہے پر وہ چاہے ایک روز میں بلالے اس حالت میں ارادے کی وجہ سے نماز قصر نہیں ہوئی ، دوسرے جس جنگل میں اقامت نہیں ہوتی وُہ دوسرے جنگل ہیں اور ایسے جنگل یا اسٹیشن جو جنگل میں ہوں جہاں بیس پچیس انسان ہر وقت ہوں نیز ریلوے کے ملازم بھی اسٹیشن پر کام کرتے ہوں ( اگر آبادی گاؤں وہاں سے دوچار کوس پر ہوں) اقامت کو باطل نہیں کرتی ایسی جگہ ان میں قول کس کا درست ہے؟
الجواب

یہاں چند امور پر اطلاع لازم جن سے بعونہ تعالٰی انکشاف حکم ہو:

اول : اسٹیشن اگر چہ ابادی سے کچھ فاصلے پر ہوں وہاں عمارت ہوتی ہے سامان اقامت مہیا ہوتا ہے، ہاں اگر آبادی سے کوسوں دوری  ہے جنگل میں متعین ہوں جیسے بن کی لکڑی لینے والے، تو وہ محل اقامت0 نہیں اگر چہ خیمے ڈیرے ساتھ ہوں مگر ان کے لئے جن کی طرز معیشت ہی یہ ہو، جیسے سانسیے، درمختار میں ہے: اوینوی اقامۃ نصف شھر بموضع صالح لھا اوقریۃ اوصحراء دارناوھو من اھل الاخبیۃ ۱؎۔

یا وہ نصف ماہ اقامت کی نیت کسی ایسی جگہ کرے جو اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو یا قریہ ہو یا ہمارے ملک کا صحرا ہو او رنیت کرنے والا خانہ بدوش ہو ( ت)
(۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۷)
علمگیری میں ہے :
قال شمس الائمۃ الحلوانی عسکرالمسلمین اذا قصدوا موضعا ومعھم اخبیتھم وخیامھم وفساطیطھم فنزلوا مفازۃ فی الطریق ونصبوا الاخبیۃ والفساطیط وعزموا فیھا علی اقامۃ خمسۃ عشر یوما لم یصیروا مقیمین لانھا حمولۃ ولیست بمساکن کذافی المحیط ۱؎
شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ مسلمانوں کالشکر اگر کسی جگہ جائے او ران کے خیمے کا سامان ان کے ساتھ ہو، انھوں نے راہ جنگل میں پڑاؤ ڈالا اور وہاں خیمے وغیرہ نصب کئے او رپندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کرلیا تو وہ مقیم نہیں ہوں گےکیونکہ وہ سامان اٹھانے والے ہیں وہاں ان کے گھر نہیں المحیط ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ        باب الخامس عشر فی صلٰوۃ السافر     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور   ۱ /۱۳۹)
دوم : نرے جنگل میں کہ نیت اقامت صحیح نہیں، مدت سفر چل لینے کے بعد ہے کہ تین منزل قطع کرچکا ہو، اب کسی جنگل میں ۱۵ دن یا زائد قیام کی نیت کرے تو مسافر رہے گا لیکن مدت سفر پوری ہونے سے پہلے جنگل میں بھی نیت اقامت صحیح ہے، مثلاً تین منزل کے ارادے پر چلا تھا ایک یا دو منزل چل کر نیت سفر قطع کی اور وہاں اقامت کی نیت کرلی مسافر نہ رہا نماز پوری پڑھے گا اگر چہ بن میں ہو،
درمختارمیں ہے :
صلی الفرض الرباعی رکعتین حتی یدخل موضع مقامہ ان سار مدۃ السفروالا فیتم بمجرد نیۃ العود لعدم استحکام السفر ۲؎۔
 (مسافر) اپنے مقام پر واپسی تک چار فرض کے دو فرض اداکرے او رجب مدت سفر ہو ورنہ محض رجوع کی نیت سے پوری نماز ادا کرے کیونکہ سفر کا اثبات نہ ہوا ۔ (ت)
(۲؎ درمختار        باب صلٰوۃ المسافر         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۱۰۷)
ردالمحتار میں ہے :
ینوی بموضع صالح لھا ان سار ثلثۃ ایام والا فیتم ولوفی المفازۃ والحاصل ان نیۃ الا قامۃ قبل تمام المدۃ تکون نقضا للسفر کنیۃ العود الی بلدہ والسفر قبل استحکامہ یقبل النقض ۳؎ اھ ملتقطا
اگر ایسی جگہ نیتِ اقامت کی جو اقامت کی صالح تھی بشرطیکہ تین دن کا سفر طے کیا ہو ورنہ پوری نماز پڑھے اگر چہ جنگل میں ہو، حاصل یہ ہے کہ تمام مدت سے پہلے اقامت کی نیت سفر کو ختم کردیتی ہے جس طرح اپنے شہر کی طرف لوٹنے کی نیت سے سفر ختم ہوجاتا ہے جبکہ سفر اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل کالعدم ہوسکتا ہے اھ ملتقطا (ت)
 (۳؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ المسافر      مطبوعہ  مصطفی البابی مصر   ۱ /۵۸۱)
معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے :
اذالم یسر ثلثۃ ایام فعزم علی الرجوع اونوی الاقامۃ یصیر مقیما وان کان فی المفازہ ۴؎ ۔
جب تین دن کا سفر طے نہ کیا اور رجوع کا عزم کرلیا یا اقامت کی نیت کرلی تو مقیم ہوجائے گا اگر چہ جنگل میں ہو۔ (ت)
 (۴؎ فتاوی ہندیۃ     باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور   ۱/۱۳۹)
سوم: نوکر کی اپنی نیت معتبر نہ ہونی بلکہ نیت آقا کا تابع ہونا اُس حالت میں ہے کہ آقا کے ساتھ ہو ورنہ خود اس کی نیت معتبر ہے ،
تنویر الابصار وردالمحتار میں ہے :
المعتبر نیۃ المتبوع لاالتابع کامرأۃ وفاھا مھرھا المعجل وعبد وجندی اذاکان یرتزق من الامیر اوبیت المال واجیر، مشاھرۃ اومسانھۃ، تارتار خانیہ واسیر و غریم وتلمیذ مع زوج ومولی وامیرو مستاجرو اٰسر ودائن واستاذ فقید المعیۃ ملاحظ فی تحقیق التبعیۃ ۱؎ اھ ملتقطا
سربراہ کی نیت کا اعتبار ہے تابع کا نہیں جیسا کہ وہ خاتوں جس کا مہر معجل ادا کردیا گیا اور غلام ، سپاہی اس وقت جب امیر سے یا بیت المال سے روزی لیتا ہویا ماہانا یا سالانہ مزدوری پر ہو تار تار خانیۃ۔ قیدی مقروض اور شاگرد جب یہ لوگ اپنے متبوع خاوند ،مولٰی ، مستاجر ، قید کرنے والا، قرض خواہ او راستاذ کے واتھ ہوں او رتانع ہونے کے اثبات کے لئے معیت کی قید ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا اھ ملتقطاً (ت)
 (۱؎ردالمحتار شرح الدرالمختار    باب صلٰوۃ المسافر       مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۸۷)
چہارم : مجرد احتمال کہ شاید آج چلاجانا ہو منافی اقامت نہیں اور اپنے وطن کے سوا آدمی کبھی کہیں مقیم نہ ہو اگر چہ سال بھر اقامت کی نیت کرے کہ کیا معلوم شاید آج ہی کوئی ضرورت سفر کی پیش آئے بلکہ اس کے لئے غلب گمان درکار ہے یقین کی حاجت نہیں کہ بے اعلام بنی غیب پر یقین کی کوئی صورت نہیں ،
تبیین الحقائق امام ز یلعی پھر ہندیہ میں ہے :
لابد للمسافر من قصد مسافۃ ثلثۃ ایام ویکفی غلبۃ الظن یعنی اذا غلب علی ظنہ انی یسافر قصرو لایشترط فیہ التیقن ۲؎۔
مسافر کے لئے تین دن کی مسافت کا ارادہ ضروری ہے او رغلبہ ظن کافی ہوگا یعنی جب اس کا ظن غالب یہ ہو کہ سفر کرے گا تو قصر کرے کیونکہ یقین شرط نہیں۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    باب الخامس عشرفی صلٰوۃ المسافر      مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۳۹)
Flag Counter