| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ۱۲۵۹تا۱۲۶۳: ازبریلی مسئولہ شیخ عبدالعزیز بساطی دوم ذوالقعدہ ۱۳۳۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل کے جواب میں: (۱) منزل کتنے فرسنگ کی ہوتی ہے؟ (۲) کےَ (کتنے) منزل پر قصر ہوگا؟ (۳) طے منزل میں راہ راست کا اعتبار ہے یا جس راستے پر چلے؟ (۴) یہاں سے بیسلپور ۱۸ کوس براہ سواری گاڑی اور براہ ریل گاڑی چھتیس ۳۶ کوس ہوجاتی ہے وہاں جانے میں قصر کب ہوگا؟ (۵) ایک شخص نے ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے واسطے دریاں وغیرہ بنوائیں مگر کچھ دنوں وہاں جمعہ ہوکر رہ گیا اب وہ چاہتا ہے کہ یہ دریاں کسی دوسری مسجد میں دے دوں پس یہ جائز ہے یا نہیں ؟ بنیوا توجروا
الجواب (۱) عرف میں منزل بارہ ۱۲ کوس ہے اور ان بلاد میں ہر کوس ۸/۵ میل یعنی اور میل کے تین خمس، اور تین میل کا ایک فرسنگ ، تو ایک منزل چھ فرسنگ اوردو خمس فرسنگ کی ہوئی۔ (۲) تین منزل پر قصر ہے۔ (۳) جس راستے سے جائے اس کا اعتبار ہے۔ (۴) ریل میں جائے تو قصر کرے ورنہ نہیں۔ (۵) جب دریاں سپرد مسجد کردیںِ ملکِ مسجد ہوگئیں، جب تک ناقابل استعمال نہ ہوجائیں واپس نہیں لے سکتا نہ دوسری مسجد میں دے سکتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۶۴: از درؤ ضلع نینی تال ڈاک خانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں۴ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص دو آدمیوں کا غلام تھا ہر دو مع غلام کے سفر کے گئے راستے میں دونوں نے قیام کیا ، ایک نے نیت اقامت کی دوسری نے نہ کی، اب وہ عبدِمشترک نماز قصری ادا کرے یا حضری، بینوا تو جروا
الجواب اگر وہ ان دونوں سے صرف ایک کے قبضہ میں ہے تو جس کے قبضہ میں ہے اسی کی نیت کا اعتبار ہے لانہ حٍ لیس تابعا الالہ وسیاتیک مایفیدہ۔ کیونکہ وہ جس کا ہے اسی کا تابع ہوگا اور عنقریب اس پر مقید گفتگو آرہی ہے ۔(ت) اور اگر دونوں کے قبضہ میں ہے تو اگر ان میں اس کی خدمت نوبت بہ نوبت قرار پائی ہے مثلاً ایک دن اِس کی خدمت کرے اور دوسرے دن اُس کی، تو ہر ایک کی نوبت میں اس کی نیت پر عمل کرے یعنی جس دن خدمت کی باری ہو غلام بھی اپنے آپ کو مقیم سمجھے اور جس دن خدمت مسافر کی باری ہو اپنے آپ کو مسافر جانے، اور اگر باہم نوبت نہ قرار دی بلکہ یوں ہی دونوں کی خدمت میں ہے وہ من وجہ مقیم او رمن وجہ مسافر ہے قصر اصلاً نہ کرے اس لحاظ سے کہ اس کے ایک مولٰی نے نیت اقامت کی اور قعدہ اولٰی بھی اپنے اوپر فرض جانے اس نظر سے کہ دوسرے مولٰی کی نیتِ سفر ہے اور اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ جہاں تک مل سکے کسی مقیم کی اقتداء وقت میں کرے ،
درمختار میں ہے :
عبد مشترک بین مقیم ومسافران تھايأ قصر فی نوبۃ المسافر والا یفرض علیہ القعود الاول ویتم احتیاطا ولا یأتم بمقیم اصلا وھو مما یلغز ۱؎۔
ایک غلام مقیم مسافر کے درمیان مشترک ہے، او ردونوں کی خدمت نوبت بہ نوبت قراردی گئی ہے تو مسافر کی نوبت میں قصر کرے ورنہ ( اگر باری نہ ٹھہرائی ہو) تو قعدہ اولٰی اس پر فرض ہوگا اور وہ نماز کا اتمام احتیاطاً کرے ( کیونکہ جب اس کے مالک دو ہیں تو وہ ایک لحاظ سے مقیم اور دوسرے کے اعتبار سے مسافر ) اور وہ کسی مقیم کے ساتھ اقتداء بالکل نہ کرے یہ غلام کے مسائل میں سے پیچیده مسئلہ ہے (ت)
(۱؎ درمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۸)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولایأتم الخ فی شرح المنیۃ وعلی ھذا فلا یجوزلہ الاقتداء بالمقیم مطلقا فلیعلم ھذا اھ ای لا فی الوقت ولابعدہ ولا فی الشفع الاول ولافی الثانی ولعل وجھہ کما افادہ شیخنا ان القعدۃ الاولی فرض علیہ ایضا الحاقہ بالمسافر فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ الاولٰی اھ ۲؎۔
قولہ'' اور نہ اقتداء کرے الخ''شرح المنيہ میں ہے اور اس بنا پر لازم آتا ہے کہ اس کے لئے مقیم کی اقتداء کسی حال میں جائز نہ ہو، پس اسے اچھی طرح جان لینا چاہئے اھ یعنی نہ وقت میں اورنہ وقت کے بعد ، نہ شفع اول میں نہ ثانی میں ، شاید اس کی وجہ وہ ہی ہو جو ہمارے شیخ نے فرمائی کہ قعدہ اولٰی الحاق مسافر کی وجہ سے اس پر فرض تھا، پس جب اس نے مقیم کی اقتداء کی تواب قعدہ اولٰی کے لحاظ سے لازم آئے گا کہ ایک فرض ادا کرنے والا نفل ادا کرنے والے کی اقتداء کررہا ہے۔
( ۲ ؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۸۹)
اقول:لكن قول شارح المنیۃ و علی ھذا الخ يظہر منہ انہ تفریع من عندہ علی وجہ البحث والافالذی رأیتہ فی التاترخانیۃ عن الحجۃ انہ ان لم یکن بالمھا یاۃ وھو فی ایدیھما فکل صلٰوۃ یصلیھا وحدہ یصلی اربعا و یقعد علی راس الرکعتین ویقرأ فی الاخريین وکذا اذا اقتدی بمسافر یصلی معہ رکعتین وفی قرأتہ فی الرکعتین اختلاف واما اذا اقتدی بمقیم فانہ یصلی اربعا بالا تفاق ۱؎ اھ مافی ردالمحتار ۔
اقول ( میں کہتا ہوں ) شارح المنیہ کے قول'' اور اس بنا پر الخ'' سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور بحث یہ ان کی اپنی طرف سے تفریع ہے ورنہ میں نے جو تارتار خانیہ میں حجہ کے حوالے سے دیکھا ہے اگر وہ باری باری پابند نہیں اور وہ دونوں کے قبضہ ہے تو وہ ہر نماز تنہا چار رکعات ادا کرے اور ہر دو کے بعد بیٹھے اور آخری دورکعتوں میں قرأت کرے او راسی طرح جب کسی مسافر کی اقتداء کرے تو اس کے ساتھ دو رکعات اداکرے اور اس کے بعد دو رکعات میں قرأت کرنے میں اختلاف ہے لیکن جب وہ کسی مقیم کی اقتداء کرے تو وہ بالاتفاق چار رکعتیں ادا کرے گا ( ردالمحتار کی عبارت ختم ہوئی)
(۱؎ ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۸۹)
فقیر کہتا ہے:
غفر اﷲ تعالٰی لہ رأیتنی کتبت علی ھامش قولہ فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض الخ مانصہ اقول ھذا مما لست احصلہ فان المسافر من کل وجہ القعدۃ الاولی فریضۃ علیہ من کل وجہ، مع ذلک یجوز لہ الاقتداء بالمقیم اجماعا ولا یعد بذلک مفترضا خلف متنفل اذا اقتدی فی الوقت بل یقال ان فرضہ تحول بالقدوۃ رباعیا فلم تبق للقعدۃ الاولٰی فریضۃ علیہ لمصادفۃ المغیر محلہ القابل لہ حیث اتصل بالسبب اعنی الوقت بخلاف مااذا اقتدی بعد انقضا ءہ فاذاکان ھذا فی حقہ فکیف بمن لیس مسافرا من کل وجہ ولا القعدۃ فریضۃ علیہ وجھا واحد ا فھذا ینبغی ان یومرباقتداء المقیم فی الوقت مھما وجد کی یخرج عن احتمال الاتمام فی السفر ۱؎ اھ ماحررتہ ولشدۃ وضوحہ وثبوت الروایۃ بل نقل الاتفاق علی جواز اقتدائہ با لمقیم جزمت بہ فان کان صوابا فمن ربی اﷲ وارجوان لایکون الا ایاہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اﷲ تعالٰی ان کی بخشش فرمائے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کی اس عبارت'' جب اس نے کسی مقیم کی اقتداء کی تو فرض والے کی اقتداء لازم آئیگی ''الخ پر حاشیہ تحریر کیا اقول یہ ایسی چیز ہے جس سے مجھے کچھ اتفاق نہیں ہورہا ہے ، کیونکہ جو شخص ہر لحاظ سے فرض سے مسافر ہے اس پر بھی قعده اولٰی ہر لحاظ سے فرض ہے حالانکہ وہ بالاتفاق مقیم کی اقتداء کرسکتا ہے جب وقت میں ادا کرے تو اسے فرض والے کا نفل والے کی اقتداء کرنا شمار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اقتدا کی وجہ سے اس پر فرض دو۲ کے بجائے چارہوگئے ہیں تو اب قعدہ اولٰی اس پر فرض نہیں رہا کیونکہ یہاں تبدیلی کے قابل محل میں تبدیلی پیدا کرنے والا پایا گیا ہےوہ ایسے کہ یہاں سبب ( وقت سے) متصل ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب اقتداء وقت گزرنے کے بعد ہو، جب یہ معاملہ ہر لحاظ سے مسافر کا ہے تو اس کا حال کیا ہوگا جو ہر لحاظ سے مسافر نہیں اور اس پر قعدہ کے فرض ہونے کی ایک وجہ متعین نہیں لہذا اسے حکم دیا جائے کہ وہ مقیم کا ساتھ جب بھی پائے اس کی اقتداء کرے تاکہ سفرمیں احتمال اتمام سے خارج ہو جائے ( جو میں نے وہاں لکھا ختم ہوا) شدت وضوح ثبوت روایت بلکہ مقیم کی اقتدا کے جواز پر اتفاق منقول ہونے کی وجہ سے میں نے اسی پر جزم اختیار کیا ہے، پس اگر صواب ہے تو اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ صواب ہی ہوگا۔ (ت)
(۱؎ جدالممتار علی ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر المجمع الاسلامی بیروت ۱ /۳۶۶)
مسئلہ ۱۲۶۵: بریلی صندل خاں کی بزریہ ۲۹ ذی القعدہ ۱۳۲۶ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے وطن سے ستر یا اسی کو س کے فاصلے پر کسی شہر میں ملازم ہے وہاں سے سال دو(۲) سال کے بعد آٹھ دس روز کے واسطے اپنے مکان پر آیا اور پھر چلا گیا اس آمد ورفت میں اس کو نماز قصر پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئے اس وقت سے جب تک اپنے شہر کی آبادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گا جب اپنے وطن کی آبادی میں آگیا قصر جاتا رہا، جب تک یہاں رہے گا اگر چہ ایک ہی ساعت ، قصر نہ کرسکے گا کہ وطن میں کچھ پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت ضرور نہیں، پھر جب وطن سے اُس شہر کے قصد پرچلا اور وطن کی آبادی سے باہر نکل گیا اس وقت سے قصر واجب ہوگیا راستے بھر تو قصر کرے گا ہی اور اگر اُس شہر میں پہنچ کر اس بار پندرہ روز یا زیاداہ قیام کا ارادہ نہیں بلکہ پندرہ دن سے کم میں واپس آنے یا وہاں سےء اور کہیں جانے کا قصہ ہے تووہاں جب تک ٹھہرے گا اس قیام میں بھی قصر ہی کرے گا اور اگر وہاں اقامت کا ارادہ ہے تو صرف راستہ بھر قصر کرے جب اس شہر کی آبادی میں داخل ہوگا قصر جاتا رہے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم