Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
49 - 144
مسئلہ ۱۲۵۷: ازآلہ آباد کوٹھی حشمت اﷲ خاں جنٹ مجسٹریٹ مرسلہ علی محمد خاں ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ

میں اج کل ا لہ آباد میں ہوں توالہ آباد میرے واسطے سفر خیال کیا جائے گا یا نہیں، لیکن جنٹ صاحب کی کوٹھی میں رہتا ہوں اور الہ آباد ایک ہفتہ سے زیادہ رہنا نہیں ہوتا لیکن پھر اسی روز واپس آنا پڑتا ہے، الہ آباد میں نماز سفر کی پڑھی جائے گی یا نہیں؟ اور الہ آباد سے کرنا ایک مقام ہے جو قریب دس میل کے ہے وہاں پر بھی سفر کی نما زپڑھی جائے گی یا نہیں؟ وہ الہ آباد ہی کے ضلع میں ہے جواب جلد مرحمت فرمائے۔
الجواب

الہ آباد تمھارا وطن اصلی نہیں، نہ جنٹ صاحب کی کوٹھی ٹھہرنا اسے کسی کا وطن کردے گا جبکہ جنٹ خود آج کل وہاں نہیں بلکہ پندرہ دن قیام کی نیت دیکھی جائے گی اگر اس سے کم مدت قیام کی نیت ہے یا مقدر قیام کچھ معلوم نہیں کسی کا م کےلئے گئے ہوں اس کے ہو جانے کا انتظار ہوجائے تو آج چلے جاؤ، بیس دن بعد ہو تو  اس صورت میں الہ آباد کا رہنا تمھارے لئے سفر ہی سمجھا جائے گا نماز سفر کی پڑھو اگر چہ انتظار انتظار میں مہینے گزرجائیں، یونہی اطراف میں جہاں چاہوں چار رکعت کی دوہی پڑھو جب تک کسی خاص جگہ پندرہ دن ٹھہر نے کی نیت الہ آباد میں کرلی ہے تو اب الہ آباد وطن اقامت ہوگیا نماز پوری پڑھی جائے گی جب تک وہاں سے تین منزل کے ارادہ پر نہ جاؤ اگر چہ ہر ہفتہ پر بلکہ ہرروز الہ آباد سے کہیں تھوڑی تھوڑی دور یعنی چھتیس ۳۶ کوس سے کم باہر جانا اور دن کے دن واپس آنا ہو جبکہ نیت کرتے وقت اس پندرہ دن میں کسی رات دوسری جگہ شب باشی کا ارادہ نہ ہو  ورنہ وہ نیت پورے پندرہ دن کی نہ ہوگی مثلاً الہ آباد میں پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت کی او رساتھ ہی یہ معلوم تھاکہ ان میں ایک شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہوگا تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا اگر چہ دوسری جگہ الہ آباد کے ضلع میں بلکہ اس سے تین چار ہی کوس کے فاصلہ پر ہو، اور اگر پندرہ راتوں کی نیت پوری یہیں ٹھہرنے کی تھی اگر چہ دن میں کہیں اور جانے اور واپس آنے کا خیال تھا تو اقامت صحیح ہوگئی نماز پوری پڑھی جائے گی جبکہ وہ دوسری جگہ الہ آباد سے چھتیس ۳۶ کوس یعنی ستاون ۵۷ اٹھاون ۵۸ میل کے فاصلے پر نہ ہو غرض قیام کی نیت کرتے وقت ان خیالوں کا اعتبار ہے بعد کو جوپیش ائے اُس کا لحاظ نہیں مثلاً پندرہ رات پورے کا قیام ٹھہرالیا اور اس کے بعد اتفاقاً چندراتوں کے لئے اورجگہ جانا ہوا جو الہ آباد سے تین منزل کے فاصلہ پر نہیں اگر چہ دس بیس بلکہ چھپن میل تک ہو سفر نہ ہوگا اس مقامِ دیگر میں بھی نماز پری پڑھنی ہوگی اور الہ آباد میں بھی ان سب صورتوں کو خوب غور سے سمجھ لو۔
فی الدر المختار لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتہ لانہ یخرج الٰی منٰی وعرفۃ فصارکنیۃ الاقامۃ فی غیرموضعھا وبعد عودہ من منی تصح کما لونوی مبیتہ باحدھما۱؎ الخ ۔
درمختار میں ہے کہ اگر کوئی حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت ( برائے اقامت) درست نہیں کیو نکہ اس نے منٰی او رعرفات کی طرف انہی دنوں میں جانا ہے اس نیتِ اقامت کی طرح ہی ہے جو مقام اقامت نہ ہو اور منٰی سے لوٹ کرنیت کرنا درست ہے جیساکہ ان دونوں میں سے ایک میں رات بسر کرنے کی نیت کرے الخ ۔
 (۱؂ الدرالمختار       باب صلوۃ  المسافر 	مطبع مجتبائی دہلی           ۱/ ۱۰۷)
وفی ردالمحتار قیل ھذہ المسالۃ کانت سبب لتفقہ عیسی بن ابان وذلک انہ کان مشغولا لطلب الحدیث قال فدخلت مکۃ فی اوّل العشر من ذی الحجۃ مع صاحب لی وعزمت علی الاقامۃ شھرا فجعلت اتم الصلوۃ فلقینی بعض اصحاب ابی حنیفۃ فقال لی اخطأت فانک تخرج الی منی وعرفات فلما رجعت من منی بدالصاحبی ان یخرج و عزمت علی ان أصاحبہ وجعلت اقصر الصلوۃ فقال لی صاحب ابی حنیفۃ اخطأت فانک مقیم بمکۃ فمالم تخرج منھا لا تصیر مسافرا فقلت اخطات فی مسالۃ فی موضعین فرحلت الی مجلس محمد واشتغلت بالفقہ قال فی البدائع وانما اوردنا ھذا لحکایۃ لیعلم مبلغ العلم فیصیر مبعثۃ للطلبۃ علی طلبہ اھ بحر ویظھر من ھذہ الحکایۃ ان نیتہ الاقامۃ لم تعمل عملھا الابعد رجوعہ لوجود خمسۃ عشریوما بلا نیۃ خروج فی اثنائھا بخلاف ماقبل خروجہ الی عرفات لانہ لماکان عازما علی الخروج قبل تمام نصف شھر لم یصر مقیدو یحتمل ان یکون جددنیۃ الاقامۃ بعد رجوعہ وبھذا سقط ما اوردہ العلامۃ القاری فی شرح اللباب من ان کان فی کلام صاحب الامام تعارضا حیث حکم اولا بانہ مسافر وثانیابانہ مقیم مع ان المسئلۃ بحالھا والمفھوم من المتون انہ لونوی فی احدھما نصف شھر صح فحٍ لایضرہ خروجہ الی عرفات اذلایشترط کونہ نصف شھر متوالیا بحیث لایخرج فیہ  اھ ملخصا و وجہ السقوط ان لتوالی لایشترط اذالم یکم من عزمہ الخروج الی موضع اٰخرلا نہ یکون ناویا الاقامۃ فی موضعین نعم بعد رجوعہ من منی صحت نیتہ لعزمہ علی الاقامۃ نصف شھر فی مکان واحد واﷲ تعالٰی اعلم۱؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ منقول یہ ہے کہ یہ مسئلہ امام عیسٰی بن ابان رحمہ اﷲ تعالٰی کے فقہ سیکھنے کا سبب بناتھا ان کا اپنا بیان ہے کہ میں طلب حدیث میں مشغول تھا ذوالحجہ کے عشرہ میں میں مکہ گیا میرے ساتھ میرے دوست بھی تھے میں نے وہاں ایک ماہ اقامت کی نیت کی اور پوری نماز ادا کرنا شروع کردی مجھے امام ابوحنیفہ کے ایک ساتھی ملے انھوں نے کہا کہ تو نے غلط کیا ہے کیونکہ تو تو منی اور عرفات کی طرف چلاجائے گا ، پس جب میں منٰی سے لوٹا تو میرے ساتھی کو مکہ سے نکلنے کی حاجت پیش آگئی اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں ان کے ساتھ رہوں تو میں نے نماز قصر شروع کردی تو مجھے امام ابو حنیفہ کے ساتھی نے کہا تو نے غلط کیا کیونکہ تو مکہ میں مقیم ہے تو جب تو اس سے نکلے گا نہیں تو مسافر نہیں ہوسکتا ، تو میں نے سوچا کہ میں نے ایک مسئلہ میں دو جگہ خطا کی ہے تو میں امام محمد کی خدمت میں گیا اور فقہ سیکھنا شروع کی، بدائع میں ہے کہ یہ حکایت ہم نے اس لئے وارد کی ہے کہ علم کی قدر معلوم ہوسکے اور طلباء کے لئے طلب علم کا باعث بن سکے ، اھ بحر، اس حکایت سے واضح ہوگیا کہ ان کی نیت اقامت رجوع کے بعد موثر ہوئی کیونکہ اب ایسے پندرہ دنوں کا قیام ہوگا جن کے درمیان نیت خروج نہیں بخلاف عرفات کی طرف نکلنے سے پہلے کے، کیونکہ جب نصف ماہ کے اتمام سے پہلے نکلنے کا ارادہ ہے تو اب مقیم نہیں ہوسکتا اور ممکن ہے کہ انھوں نے رجوع کے بعد تجدید نیت کی ہے اس سے وہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو علامہ قاری نے شرح للباب میں اٹھایا کہ امام صاحب کے ساتھی کے کلام میں تعارض ہے کیونکہ پہلے انھوں نے مسافر ہونے کا حکم لگایا اور دوبارہ مقیم کی حالانکہ معاملہ اپنی جگہ پر تھا، متون سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک میں نصف ماہ تک کی نیت کی تو درست ہے تو اب عرفات کی طرف نکلنا مضر نہیں کیونکہ نصف ماہ کا مسلسل اس طرح ہونا شرط نہیں کہ اس میں خروج نہ ہو انتہٰی،   وجہ سقوط یہ ہے کہ تسلسل اس وقت شرط نہیں جب آدمی کا عزم دوسری جگہ جانے کانہ ہو کیونکہ اس وقت وہ دومقامات کی نیت کئے ہوئے ہے ، ہاں منٰی سے رجوع کے بعد سنت صحیح ہوگی کیونکہ اب ایک جگہ میں نصف ماہ اقامت کا عزم ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۸۲)
قولہ کما لونوی مبیتہ باحدھما فان دخل اولا الموضع الذی نوی المقام فیہ نھار الایصیر مقیما وان دخل اولامانوی المبیت فیہ یصیر مقیما ثم بالخروج الی الموضع الاخر لا یصیر مسافر الان موضع اقامۃ الرجل حیث یبیت بہ، حلیۃ ۲؎ اھ وبہ ظھر کل ماذکرناہ ، واﷲ تعالٰی اعلم
قولہ '' اس نے دومقامات میں سے کسی ایک میں رات بسر کرنے کی نیت کی'' پس اگر تو وہ شخص پہلے اس مقام پر گیا جس پر دن کو ٹھہرنا تھا تو وہ مقیم نہ ہوگا اور پہلے اس جگہ گیا جہاں رات ٹھہرنا تھا تو مقیم ہوجائیگا اس کے بعد دوسری جگہ کے ارادے سے مسافر نہں بنے گا کیونکہ آدمی کی اقامت کا مقام ہوتاہے جہاں وہ رات بسر کرتا ہے اھ حلیہ اس کے ساتھ وہ تمام واضح ہوگا جس کا تذکرہ ہم نے کیا، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ المسافر   مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۸۲)
مسئلہ ۱۲۵۸: ۳ شعبان المعظم ۱۳۱۹ھ از تلہر مسئولہ خلیل الدین صاحب

زید کے وطن سے ایک مقام تیس ۳۰ کوس کے فاصلے پر واقع ہے اور زید نے ایسی راہ سے سفر کیا کہ اس مقام تک چالیس۴۰ کوس مسافت طے کرنی ہوئی تو زید پر نماز کا قصر ہے یا نہیں؟
الجواب

ہے جبکہ قصداً دو جگہ پر منقسم نہ ہو مثلاً اس راہ میں بیس کوس پر ایک شہر ہے ، ارادہ یوں کیا کہ پہلے وہاں جاؤں گا وہاں سے فارغ ہوکر دوسرے مقام پر کہ وہاں سے بیس ۲۰ کوس ہے جاؤں گا یوں چالیس کوس ہوں جائیں گے تو قصر نہیں ، مکان سے بیس ۲۰ ہی کوس کے مقصد کو چلاہے اگر چہ وہاں سے دوسرا قصد دوسری جگہ کا ہونے والا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter