| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مگر غالباً دورہ کی یہ حالت نہیں ہوتی اس میں بالخصوص مقصود اصلی وہ موضع بعید ہی نہیں ہوتا نہ خاص اس کے قصد پر چلتا بلکہ سب مواضع میں گشت کا ارادہ اور ہر موضع مقصود بالذات ہوتا ہے تو اگر چہ باعث سیر لحاظ جمیع ہے مگر ہر مقصود اپنی سیر خاص جزئی پر محدود موضع قریب کو جاتے ہوئے قصد مقارن اسی کےلئے ہے اور قصد بعید صرف بمعنی خیال وارادہ مآل، تو جب کسی موضع سے دوسرے تک مسیرت سفر نہیں اصلاً کوئی سیر بقصد مسیرت سفر متحقق نہ ہوئی ہاں وہ چند قصد وں سے چند سیریں ہیں جن کا مجموعہ مسیرت سفر سے زائد سہی آخرنہ دیکھا کہ علامہ بحر صاحب بحر رحمہ اﷲ تعالٰی نے مامور بالحج کے لئے دخول مکہ بغیر احرام میں اس حیلہ کا جواز نہ مانا کہ جب وہ بایں قصد چلے گا کہ یہاں سے بستان بنی عامر جاتاہوں پھر وہاں سے مکہ معظمہ چلوں گا تو اس کا یہ سفر حج کے لئے نہ ہوا، معلوم ہوا کہ مقصود سیر وہی مقصو داولٰی ہوتا ہے وبس، ولہذا ذخیرہ وہ ہندیہ میں ان لا یقصد مکۃ ( وہ مکہ کا ارادہ نہ کرے۔ ت) فرمایا تو روشن ہوا کہ بالمآل مسیرت سفر کی دوری پر جانے کا خیال سیر بقصد مسیرت سفر نہیں اورموجب سفرشرعی یہی تھی کہ متحقق نہ ہوئی۔
وبہ تبیین وﷲ الحمد ان ماذکر المولی الفاضل ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ بما نصہ قدیفھم من التمثیل بالخلی فی اول مسئلۃ التبع ان الخلیفۃ والسلطان کغیرہ فی انہ اذا نوی السفر یصیر مسافرا یقصر، فقیل ھذا اذالم یکن فی ولایتہ، اما اذاطاف فی ولایتہ فلا یقصر ولاصح انہ لا فرق لما تقدم من فعل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والخلفاء الراشدین انھم قصروا حین سافروامن المدینۃ الی مکۃ وغیر ذٰلک، ومرادمن قال اذا اطاف فی ولایتہ لا یقصرھو ماصرح بہ حافظ الدین البزازی فی فتاوٰہ انہ اذاخرج لتفحص احوال الرعیۃ وقصد الرجوع متی حصل مقصودہ ولم یقصد مسیرۃ سفر حتی انہ فی الرجوع یقصر لوکان من مدۃ سفر ولااعتبار بمن علل بان جمیع الولایۃ بمنزلۃ مصرہ لان ھذا تعلیل فی مقابلۃ النص مع عدم الروایۃ عن احد من الائمۃ الثلثۃ فلا یسمع۱؎ فمع ان ماذکر من قصد الرجوع متی حصل مقصودہ انما ذکرہ البزازی فی مسألۃ اخری غیرالتی نقلنا عنھا وھی ماقال بعدھا وکذا الامام والخلیفۃ والامیر والکاشف لیفحص الرعیۃ وقصد کل الرجوع متی حصل مقصودہ ولم یقصد وامسیرۃ سفر قصرأتموا ۲؎ ۔ الخ لایخالف مانحن نریدہ فی شیئ فانما مقصودہ کما ھوصریح سوق کلامہ الردعلی من زعم ان الخلیفۃ لا یصیر مسافرافی ولایتہ وان قصد مسیرۃ سفر وھوامربین البطلان اما مانحن فیہ فقد بینا انہ لایصدق فیہ قصد مسیرۃ سفر فھذامما لایخالف فیہ الحلبی ولا احد فلاغبار علی ما افادہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح والامام البزازی فی فتاوٰی والعلامۃابن الساعاتی فی الاختیار والامام ابن السمعانی فی الخزانۃ وﷲ الحمد واﷲ علی حسن الابانۃ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق۔
ﷲ الحمد اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ فاضل ابراہیم حلبی نے غنیـہ میں یہ جو کہا کہ مسئلہ تبع کی ابتداء میں خلیفہ کومثال بنانے سے سمجھ آرہاہے کہ اس معاملہ ( کہ جب وہ سفر کی نیت کرے تو وہ مسافر ہو جاتا ہے اور قصر کرسکتاہے) میں خلیفہ اور سلطان دوسرے لوگوں کی طرح ہی ہیں ، کہا گیا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب وہ اپنی ولایت میں نہ ہو، اور اگر اپنی ولایت میں دورہ کررہا ہو تو پھر قصر نہ کرے، اور اصح یہ ہے کہ کوئی فرق نہیں کیونکہ پیچھے گزرا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم جب مدینہ سے مکہ وغیرہ کا سفر فرماتے تو نماز میں قصر کرتے، اور جس نے کہا '' خلیفہ اپنی ولایت میں دورہ کرے تو قصرنہ کرے'' اس کی مرادہی ہے جس کی تصریح حافظ الدین البزازی نے اپنے فتاوٰی میں کی کہ جب خلیفہ رعیت کے احوال کی خیر کے لئے نکلے اور حصول مقصود کے بعد واپس لوٹے لیکن اس نے سفر کی نیت نہ کی کہ ______ وہ وجوع میں قصر کرسکتا تھا بشرطیکہ مدّت سفر ہو اوراس شخص کا اعتبار نہیں کیا جائیگا جس نے علت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام ولایت خلیفہ کے لئے اپنے شہر کی طرح ہے کیونکہ یہ علت نص کے مقابل ہے اور پھر ائمہ ثلٰثہ میں سے کسی سے بھی یہ مروی نہیں ہے لہذا یہ بات قابلِ سماعت نہیں اھ باوجود یکہ مذکورہ عبارت '' خلیفہ نے حصول مقصود کے بعد رجوع کا اردہ کیا '' کو بزازی نے اس مسئلہ کے علاوہ کے تحت ذکر کیا ہے جسے ہم نے نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امام خلیفہ، امیر اور محتسب دورہ کریں تاکہ لوگوں کے احوال کا علم ہو اور حصول مقصود کے بعد رجوع کریں لیکن وہ سفر قصر کا ارادہ نہ کریں تو وہ پوری نماز ادا کریں گے۔ یہ تمام اس کے منافی نہیں جو ہم نے مراد لیا کیونکہ شیخ حلبی کا مقصود ( جیسا کہ ان کے سیاق کلام سے واضح ہے اس شخص کا رد ہے جس نے کہا کہ خلیفہ اپنی ولایت میں مسافر نہیں ہوسکتا خواہ وہ مسافت سفر کا ارادہ کرلے اور یہ امر واضح طور پر باطل ہے باقی ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پرمسافتِ سفر کا ارادہ کرنا صادق نہیں آتا اور اس میں حلبی اور کوئی شخص بھی اختلاف نہیں کرسکتا ، پس محقق علی الاطلاق نے فتح ، امام بزازی نے فتاوٰی ، علامہ ابن ساعاتی نے اختیار اورامام ابن سمعانی نے خزانہ میں جو کہا اس پراب کوئی غبار نہیں رہی، اس حسن وضاحت پر اﷲ تعالٰی کی حمد ہے، تحقیق اس طرح ہونی چاہئے اور توفیق کا مالک اﷲ تعالٰی ہے۔( ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ المسافر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۱) (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی باب الثانی والعشرون فی السفر مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۷۲)
یہ تحقیق انیق کہ فقیر نے بتوفیق رب قدیر ذکر کی مطقا ہر صورت کو شامل ہے اگر چہ مقصود اصلی قریب مقصود اصلی بعید کی راہ میں واقع ہو اور اگر اس کی راہ سے بالکل جداہو اور دورہ رائجہ میں اکثر ایسا واقع ہوتاہے ،
8_1.jpg
مثلاً اس شکل میں ب محلِ اقامت ہے اور نقاط باقیہ مواضع مقصودہ، ان میں کوئی ایک دوسرے سے مسیرت سفر پر نہیں مگر ب سے درورہ کرنے والا جس وقت ب سے ج کی طرف چلا کوئی نہ کہے گا کہ اس وقت یے کی طرف متوجہ ہے یے کو جاتا ہے، یے کے قصد پر چلا ہے بلکہ بالیقین اس سیر میں ج مقصودہے اگر چہ خیال یہ بھی ہے کہ ان نقطوں پر ہوتا ہوا یے کو بھی جاتا ہے تو کسی سیر میں قصہ مقارن مسیرت کا سفر نہ پایاگیا، بالجملہ یہ دورے سفر نہیں ہوتے اگر چہ کتنے ہی دور تک ہوں اب تک کہ نمازیں پوری پڑھیں بہت بجاکیا۔ تنبیہ: یہاں سے سیاحین وواعظین کا حکم بھی واضح ہوگیا جنھیں کوئی مقام محل اقامت سے مدت سفر پر خاص مقصود بالذات نہیں بلکہ شہر قریہ بہ قریہ چندچند کوس کے فاصلوں پر گشت کرنا سیر دیکھنا یا ہر جگہ وعظ وغیرہ کے ذریعہ سے کمانا مقصود ہے جب تک کسی محل اقامت سے مسیرت سفر کا قصد اولٰی نہی ہو مسافر نہ ہوں گے اگر چہ سارے ملک میں پھر آئیں جس طرح سیاح کی نسبت خود فتح القدیر میں مصرعاً ارشادہوا یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ، منزل ہمارے بلاد میں تقریباً بارہ کوس کی ہے یہی قول مفتی بہ کے قریب تر ہے جسے ظہیریہ ومحیط برہانی ونہایہ وکفایہ شروح ہدایہ وخزانۃ المفتین وغیرہا میں علیہ المفتوی( فتوٰی اسی پر ہے ۔ت) کہا کہ منزل اٹھارہ میل ہے کے سوا گیارہ کوس ہوتے ہیں ، یہ قول اصل مذہب ظاہر الروایہ کے خلاف نہیں بلکہ ان بلاد کے مناسب اسی کی تقدیر وشرح ہے کمانبہ علیہ العلامۃ اسمعیل مفتی دمشق الشام کمانقلہ فی منحۃ الخالق( جیسا کہ مفتی دمشق شام علامہ ا سمٰعیل نے اس پر تنبیہ کی ہے اور وہ منحۃ الخالق میں منقول ہے۔ ت) ہمارے بلاد میں دس کوس کا اندازہ قابل قبول نہیں کہ یہاں اقصر ایام یعنی تحویل جدی کے دن میں فجر سے زوال تک سات ساعت کے قریب ہوتا ہےاور شک نہیں کہ پیادہ اپنی معتدل چال سے سات گھنٹہ میں بارہ کوس بے تکلف چل لیتا ہے جس پر بارہا کاتجربہ شاہد، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔