کیونکہ اس نے اوّلاً دخول مکہ کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا اس کا ارادہ توبستان تھا، فقہاء نے کہاہے یہ اس آفاقی کے لئے حیلہ ہے جو مکہ میں بغیر احرام داخل ہونے کا اراداہ رکھتا ہو پس وہ مثلاً خلیص میں داخل ہونے کی نیت کرے تو اس کےلئے بغیر احرام رابغ سے گزرنا جائز ہے جو شامی او رمصری لوگوں کامیقات اور جحفہ کے مقابل ہے الخ (ت)
الافاقی اذا قصد موضعا من الحل کخلیص یجوزلہ ان یتجاوز المیقات غیر محرم وھی الحیلۃ لمن ارادان یدخل مکۃ بغیر احرام وینبغی ان لا تجوز ھذہ الحیلۃ للمامور بالحج لانہ حینئذ لم یکن سفرہ للحج۲؎۔
آفاقی جب حل میں خلیص وغیرہ کا ارادہ کرے تو اس کے لئے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز ہے، اور یہ ہرشخص کے لئے حیلہ ہے جو میقات سے مکہ بغیر احرام جانا چاہتا ہو لیکن یہ حیلہ اس شخص کے لئے جائز نہیں جس پر حج فرض ہے کیونکہ اب کا سفر حج نہ رہے گا۔ (ت)
(۲؎بحرالرائق کتاب حج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۱۸)
ا شباہ میں ہے :
اذا ارادالافاقی دخول مکۃ بغیر احرام من المیقات قصد مکانا اٰخر داخل المواقیت کبستان بنی عامر ۳؎۔
اگر کوئی غیر مکی بغیر احرام دخول مکہ چاہتا ہے تو وہ میقات کے اند کسی اور جگہ کا ارادہ کئے مثلاً بنی عامر کے بستان ۔ (ت)
(۳؎الاشباہ والنظائر الفن الخامس من الاشباہ والنظائر مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/۲۹۳)
ذخیرہ وہندیہ میں ہے:
الحیلۃللافاقی اذااراد دخول مکۃ من غیر احرام من المیقات ان لا یقصد دخول مکۃ وانما یقصد مکانا اخر وراء المیقات خارج الحرم نحوبستان بنی عامر ثم اذا وصل ذلک الموضع ید خل مکۃ بغیر احرام ۴؎۔ (ملخصاً)
اس آفاقی کے لئے جو دخول مکہ بغیر احرام کے چاہتاہے حیلہ یہ ہے کہ وہ دخول مکہ کا ارادہ نہ کرے بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ اکا ارادہ کرے جو خارج حرم ہو مثلاً بنی عامر کے بستان ،(ت) تو جب وہاں پہنچ جائے تواب مکہ میں بغیر احرام داخل ہوجائے۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الحیل الفصل الخامس فی الحج مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/۳۹۳)
مسلک متقسط میں ہے :
ذکر الفقھاء فی حیلۃ دخول الحرم بغیر احرام ان یقصد بستان بنی عامر ثم یدخل مکۃ فالوجہ فی الجملۃ ان یقصد البستان قصد الولیاولا یضرۃ قصدہ دخول الحرم بعدہ قصد اضمنیا اوعارضیا کما اذا قصد ھندی جدۃ لبیع وشراء ولایکون فی خاطرہ انہ اذا فرغ منہ ان یدخل مکۃ ثانیا بخلاف من جاء من الھند مثلاً بقصد الحج اولاوانہ یقصد دخول جدۃ تبعا ولو قصد بیعاوشراء ۱؎ اھ تلک النقول باختصار۔
فقہاء نے بغیر احرام ،حرم میں داخل ہونے کے لئے یہ حیلہ بیان کیا ہے کہ وہ شخص بستان بنی عامر کا ارادہ کرے پھر وہاں سے مکہ میں داخل ہوجائے اور فی الجملہ وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّلاً بستان کا ارادہ کیا تھا تو اس کے بعد حرم میں داخل ہونا ضمناً اور عارضی ہونے کی وجہ سے نقصان دہ نہیں ہوسکتا جیسے کہ ہندی شخص اوّلاً بیع وشر کے لئے جدہ کی نیت کرکے آیا ہے اور ذہن میں تھا کہ فارغ ہوکر ثانیاً مکہ چلاجائے گا بخلاف اس شخص کے جو ہندوستان سے اولاً حج کے ارادے سے آتا ہے اور وہ جدہ میں دخول کا ارادہ تبعاً رکھتا ہے اگر چہ وہ بیع وشر اء کا ارادہ رکھتا ہو اھ اختصار کے ساتھ نقول ختم ہو گئیں، (ت)
(۱؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری ، فصل فی مجاوزۃ المیقات الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۶۰)
ظاہر ہے کہ جب اس کی نیت حاضری مکہ معظمہ ہے تو جدہ کا ارادہ کرلینے سے دل کا وہ خیال ہرگز منتفی نہ ہواو لہذا علماء اسے بلفظ حیلہ تعبیر اور خود ارادہ دخول مکہ بغیر احرام سے تصویر فرماتے ہیں اگر قصد مکہ منتفی ہوجاتا تو ان عبارات کا اصلاً کوئی محل ومحمل نہ تھا ، ہاں یہ ہوا کہ قصد مکہ باعتبار مآل واستقبال رہا، قصداًاول جدہ کےلئے قرار پایا جیسا کہ بحرالرائق وردالمحتار و شرح لباب سے گزرا اسی بنا پر علمائے کرام نے مجاوزتِ میقات بلا احرام جائز فرمائی ہے حالانکہ خیال مکہ یقینا اول سے موجود ہے تو ثابت ہوا کہ جب وہ نہایت مختلف مقصود بالذات ہوں تو قصد مقارن خاص حصہ اولٰی ہے اور ثانیہ کے لئے وہی مآل واستقبال کا خیال ، جیسا کہ عبارت مولا نا علی قاری ویکون فی خاطرہ انہ اذا فرغ منہ ان یدخل مکۃ ثانیا ۲؎ ( اس کے ذہن میں ہوکہ وہ فارغ ہوکر ثانیاً مکہ چلا جائے گا۔ت) نے روشن کردیا یہ قصد حقیقۃً قصد بالفعل نہیں۔
(۲؎المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری ، فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، مطبوعہ دارالکتاب لعربیہ بیروت ص ۶۰۱۶) ولہذا
اسی کو ذخیرہ وہندیہ میں با آنکہ شروع تصویر مسئلہ بلفظ
اراد دخول مکۃ من غیر احرام
( بغیر احرام دخول مکہ کا ارادہ رکھتا ہے، ت)
بلفظ ان لا یقصد دخول مکۃ
دخول مکہ کا اردہ نہ کرے ۔ت) تعبیر فرمایا۔
وبھذا التحقیق الشریف الفائض علی قلب العبد الضعیف من فیض الفتاح العلیم الخبیر اللطیف وﷲ الحمدطاح وزاح ماکان یورد علی ھذا الاحتیال من الاشکال الذی اضطربت فیہ الاقوال وکثر فیہ القیل والقال واختلف فی حلہ افھام الرجال وکان اقرب من جنح الی ماجنحت الیہ العلامۃ القارئ الجلی الافضال ولقد احسن اذا استشکل بتظافر العلما علی ذکر ھذہ الحیلۃ کلام الباب الموھم لاختصاص المسألۃ بمن حث لہ قصد مکۃ بعد دخول البستان ولم یکن فی خاطرہ دخول الحرم من قبل اصلا وعکس العلامۃ الفاضل الشامی فی ردالمحتارومنحۃ الخالق فاستشکل بظاہر الباب ماتظافرت علیۃ کلمات الائمۃ اولی الالباب بما وقفنا لامولٰی سبحانه وتعالٰی طھران قصد الحرم مطلقا اوقصد اولیا اوعصر القصد فی البستان مع الاحتیال لمن یرید الحرم بلا احرام والحمدﷲ علی ابانۃ الصواب واصابۃالمرام۔
اس مبارک تحقیق ( جو اس عبد ضعیف کے دل میں فتاح، علیم، خبیر اور لطیف ذاتِ اقدس نے فیض کے طور پر فرمائی) سے ﷲالحمد اس حیلہ پر واردہونے والا وہ اعتراض رَد ہوگیا جس میں اقوال مضطرب اور کثرت قیل وقال تھی اور اس کے جواب میں لوگوں کے ذہن مختلف تھے اور جس کی طرف میرا ذہن گیا اس کے قریب تر ، علامہ علی قاری ہیں اور انھوں نے لباب میں نہایت ہی احسن بات کی جب کثرت کے ساتھ حیلہ بیان کرنے والے علما کے کلام سے اشکال ظاہر کیا تو لباب کے کلام سے یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط اس شخص کیلئے ہے جسے دخول بستان کے بعد دخول مکہ کا شوق ہوا اور اس سے پہلے دخول حرم کا قطعاً اس کے ذہن میں نہ تھا علامہ شامی نے ردالمحتار اور منتحۃ الخالق میں اس کا عکس کیا تو لباب کی ظاہر عبارت سے ائمہ کے مجموعی کلام پر اشکال پیدا ہوگیا، اﷲ تعالٰی کی توفیق ومہربانی واضح ہوگیا کہ اس میں کوئی صعوبت اور اشکال نہيں اور کوئی مخالفت نہیں خواہ حرم کا قصد بالکل نہ ہو یا قصد اولٰی نہ ہو یا قصد بستان کا ہی ہو، اس کے لئے جو حیلہ کے ساتھ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا چاہتا ہو، صواب کے ظہور اور مقصد کے حصول پر اﷲ تعالٰی کی حمد ہے۔ (ت)
جب بتوفیق اﷲ تعالٰی یہ مقدمات ممہد ہولئے حکم مسئلہ واضح ومنکشف ہوگیا آدمی اگر کسی مقام اقامت سے خاص ایسی جگہ کے قصد پر چلے جو وہاں سے تین منزل ہو تو اس کے مسافر ہونے میں کلام نہیں اگر چہ راہ میں ضمنی طور پر اور موضع میں بھی وہ ایک روز ٹھہرنے کی نیت رکھے،
کما افادہ المولی علی القاری بقولہ بخلاف من جاء من الھند مثلاً بقصد الحج اولا ۱؎ الخ
جیسا کہ ملا علی قاری نے اپنے الفاظ میں بیان کیا بخلاف اس شخص کے جو ہندستان سے قصد اولٰی کے ساتھ حج کے لئے آیا الخ (ت)
(۱؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۶۰)