ہفتم: سخت افسوس کامقام ہے کہ عبارتِ مرقات کی نقل میں بہت تقصیر واقع ہوئی، مرقاۃ شریف میں اُس عبارت کے بعد یہ الفاظ تھے:
نعم لو دخل احد فی المسجد والناس فی الصلٰوۃ اوعلٰی ارادۃ الشروع فیھا فبعد الفراغ لوصافحھم لکن بشرف سبق السلام علی المصافحۃ فھذا من جملۃ المصافحۃ المسنونۃ بلاشبھۃ ۱؎ ۔
ہاں اگر کوئی مسجد میں داخل ہو اور لوگ نماز میں، یا نماز شروع کرنے والے ہیں ، تو فارغ ہونے کے بعد اگران سے مصافحہ کرے بشرطیکہ مصافحہ سے پہلے سلام ہولے تو بلاشبہہ مصافحہ مسنونہ ہی کے مجموعہ میں شامل ہوگا۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المصافحۃ والمعانقہ مطبوعہ امدادیہ ملتان ۹/ ۷۴)
ان میں صاف تصریح تھی کہ وہ کراہت صرف اس صورت میں ہے کہ نماز سے پہلے مل لئے، باتیں کرچکے، ملاقات ہوئی، اُس وقت مصافحہ نہ ہوا نہ کچھ اور ، اب بعد سلام آپس میں مصافحہ کرنے لگے اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ یہی وقت ابتدائے لقاکا ہو کہ یہ اس وقت آیا کہ نماز شروع ہوگئی تھی یا شروع کا ارادہ تھا، اب بعد سلام مصافحہ کرے تو یہ یقینا مصافحہ مسنونہ ہے کہ خاص اول لقا پرواقع ہوا، ظاہر ہے کہ جماعاتِ عید میں اکثر لوگوں کی باہم یہی حالت ہوتی ہے کہ بعد سلام ان کی لقا اول ہوتی ہے، تو مرقاۃ کے طور پر بھی انھیں معانقہ سے اصلاً ممانعت نہیں ہوسکتی، پھر معانقہ عید شرکائے جماعت واحدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام احباب جنھوں نے مختلف مساجد میں نمازیں پڑھیں اس دن بلکہ اس دن بکہ دوسرے دن تک اولِ ملاقات بعد الصلوٰۃپر باہم معانقہ کرتے ہیں، یہ معانقے تو یقنا ابتدائے پر ہوتے ہیں،جو عبارت مرقات سے برسبیل قیاس جناب اور عبارت فتاوٰی لکھنؤ سے صراحۃ ٹھیک موقع پر درست وبجا واقع ہیں، حالانکہ مانعین زمانہ کا منع مصافحہ بعد نماز اور معانقہ عید دونوں میں سب صورتوں کوعام ومطلق اوروہ آپ ہی کی عبارات مستندہ کی رو سے باطل وناحق ، پس اگر انھیں عبارتوں پر عمل فرمادیجئے کہ نماز عید سے پہلے جو لوگ مل لیتے ہیں صرف وہ بعد نماز معانقہ نہ کریں، اور جو ہنوز نہیں ملے انھیں معانقہ بلاکراہت جائز و مباح ہے ، یوں ہی ایک دوسرے کے پاس جو ملنے جاتے یا راہ میں ملتے ہیں وہ بھی بلا تامّل معانقہ کریں خواہ پیش از نماز یا بعد از نماز مل لئے ہوں یا نہ ملے ہوں کہ اس وقت تو ابتدائے لقا ہے، ان سب صورتوں کا جواز آپ ہی کے مُسْتَنَدات سے ثابت ۔ لاجرم آپ کو اس کی تصریح کر نا ہوگی ، اس کے بعد دیکھئے کہ حضرات مانعین آپ کو کیا کہتے ہیں،
واﷲ المُستعانُ علٰی جھالاتِ الزمان
( اور اﷲ ہی وہ ہے جس سے زمانے کی جہالتوں کے خلاف مدد طلبی ہے۔ ت)
ہشتم: ا س سے زیادہ عجیب تر یہ ہے کہ ان لفظوں کے متصل ہی مرقات میں اور تحقیق جلیل ونافع،
خیالات مانعین پر سیف قاطع تھی وہ بھی نقل میں نہ آئی ، فرماتے ہیں:
ومع ھذا اذا مَدَّمسلم یدہ للمصافحۃ فلاینبغی الاعراض عنہ بجذب الیدلما یترتّب علیہ من اَذًی یزید علی مُراعاۃ الادب فحاصلہ ان لاابتداء بالمصافحۃ حینئذ علی الوجہ المشروع مکروہ لا المجاذبۃ وان کان قدیقال فیہ نوعُ معاونہ علی البدعۃ ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المصافحہ والمعانقۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۹/ ۷۴)
یعنی بآنکہ اُس صورت خاصّہ میں کہ ملاقات پیش از نماز کرچکیں، اور مصافحہ تحیت بعد نماز کریں، کراہت مانی جاتی ہے، پھر بھی اگر کوئی مسلمان مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے تو ہاتھ نہ کھینچنا چا ہئے بلکہ مصافحہ کرلیا جائے، اگر چہ اسے مُعاونتِ بدعت کہا جائے کہ اس حالت میں مصافحہ نہ کرنا صرف ایک ادب و اَوْلٰی تھا، اور اب اس کے ترک میں مسلمان کی ایذا ہے کہ وہ تو ہاتھ بڑھائے اور ہم ہاتھ کھینچ لیں، مسلمان کی خاطر داری اُس ادب کی مراعات پر مقدم ہے ف۱ ، لہذا اس صورت میں کراہت نہیں بلکہ مصافحہ کرنا ہی چاہئے (ت)
ف۱ : یعنی ادب و اَولٰی چھوڑنے سے مسلمانوں کی خاطرداری ہوتی ہے تو ادب واَولٰی کی رعایت نہ کرے، دل مسلم کی رعایت کرے، دل مسلم کو تکلیف پہنچانا اور اسے شکستہ کرنا ترک اولٰی ومخالف ادب سے زیادہ بُرا ہے، البتہ جہاں رعایت ادب و اَولٰی اور مومن کا پاس خاطر دونوں جمع ہوسکتے ہیں وہاں بلاشبہہ ترک ادب کا حکم نہیں، ہاں ا گر کسی امر سے صراحۃً ممانعت آئی ہے تو محض مسلمان کی خاطر داری کے لئے اُس امرِ ممنوع کاارتکاب نہ کرے۔ ( مترجم)
ﷲانصاف ! اس منصفانہ کلام کو مانعین زمانہ کے خیالات سے کتنا بُعد ہے، یہ حضرات تو خواہی نخواہی اپنی مَشِیخَت بنانے اور شہرت پیداکرنے کے لئے جماعات کی مخالفت کو ذریعہ فخر اور غایت تَشْرُّعْ سمجھے ہوئے ہیں مگر علمائے محققین مسلمان کا دل رکھنے کو رعایت آداب اور ترکِ مکروہات پر بھی مقدم جانتے اور ان کے رسوم وعادات میں مخالفت کو مکروہ وباعث شہرت مانتے ہیں، ولہذا تصریح فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی نہی صریح، غیر قابل تاویل نہ آئی ہو، عادات اُناس میں موافقت ہی کرکے ان کا دل خوش کیا چاہے اگر چہ وہ فعل بدعت ہو، عین العلم میں ارشاد ہوا :
اُن امور میں لوگوں کی موافقت کرکے انھیں خوش کرنا اچھا ہے جن ( امور) سے شریعت میں ممانعت نہیں ہے ۔
اور لوگوں کے عہد میں وہ رائج ہو چکے ہیں خواہ بدعت اور نوایجاد ہی ہوں ۔(ت)
(۱؎ عین العلم الباب التاسع فی الصمت الخ مطبوعہ امرت پریس ، لاہور ص۴۱۲)
اما حُجۃ الاسلام محمد غزالی قُدِّسَ سَرُّہُ الْعَالی اِحْیاءُ العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
الموافقۃ فی ھذا الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ و لکل قوم رسم لابدّمن مخالقۃ الناس باخلاقھم کما وردفی الخبر لاسیّما اذاکانت اَخلاقافیھا حسن العشرۃ و لمجاملۃ وتطییب القلب بالمساعدۃ وقول القائل انّ ذٰلک بدعۃلم یکن فی الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وانما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ ماموراً بھا ولم ینقل النھی عن شیئ من ھذا ( الٰی قولہ) وکذلک سائر انواع المساعدات اذقُصِدَبھا تطییب القلب واصطلح علیھا جماعۃفلابأس بمساعدۃ الاّفیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل ۲؎ ۔
یعنی ان امور میں لوگوں کی موافقت کرنا حُسن صحبت اور معاشرت سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہر قوم کی کچھ رسمیں ہوتی ہیں کہ ان میں ان کا حکم آیا خصوصاً وہ عادتیں جن میں حُسن معاشرت اور باہم اچھا برتاؤ اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہو اور کہنے والے کا کہنا یہ بدعت ہے، صحابہ کے زمانے میں ہی نہ تھا، تو کیا جو کچھ مباح کہا جائے سب صحابہ سے ہی منقول ہوتا ہے، بُری تو وہ عادت ہے جو کسی سنت مامور بِہا کا رَد کرے اور اس فعل سے شرع میں کہیں ممانعت نہ آئی ۔ اس طرح تمام مساعدت کی باتیں جبکہ ان سے دل خوش کرنا مقصود ہو، ایک گروہ کی رسم ہوگئی تو ان کی موافق کرنا کچھ حرج نہیں بلکہ موافقت ہی بہتر ہے مگر اُس صورت میں کہ صاف نہی وارد ہو جو قابل تاویل نہ ہو۔ (ت)
(۲؎ احیاء العلوم آداب السماع والوجد مطبوعہ قاہرہ، مصر ۲/ ۳۰۵)
دیکھئے اطبّائے قلوب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے ارشاد یہ ہیں، اﷲ عزّوجل جسے نیک توفیق دے وہی ان نفیس الہٰی ہدایتوں پر عمل کرے۔
حضرات مانعین ان سے منزلوں دورہیں ولاحول ولاقوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم
بالجملہ اگر آپ کو مرقات پر عمل ہے تو صاف تصریح فرمادیجئے کہ بعد عید جو شخص معانقے کو ہاتھ بڑھائے
اس سے انکار ہر گز نہ کیا جائے بلکہ فوراً معانقہ کرلیں، افسوس کہ مرقاۃ سے سند لانا تو بالکل الٹاپڑا۔ مجھے جناب کی بزرگی سے امید ہے کہ شاید مرقاۃ شریف خود ملاحظہ نہ فرمائی ہو بلکہ مانعین زمانہ عبارات میں قطع وبرید وسرقہ کے عادی ہیں، کسی سارق نے آدھی عبارت کہیں نقل کردی ہے آپ کے اعتماد پر اسناد کرلیا، اب کہ پوری عبارت پر مطلع ہوئے ضرور حق کی طرف رجوع فرمائے گا وَاﷲُ الْمُوَفّق۔
نہم: بحمد اﷲ تعالٰی ہماری تحقیقات رائقہ سے آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ معانقہ عید کو بدعتِ مذمومہ سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ وہ سنت مباح کے اندر دائر ہے، یعنی من حیث الاصل سنت اور من حیث الخصوص مباح، اور بقصد حَسن محمود مُستَحسَن، تو ظاہر ہواکہ عبارت ردالمحتار :
کو اسی مسئلہ سے اصلاً تعلق نہیں کہ وہاں بدعت سے مراد بدعتِ مذمومہ ہے۔ جب تو اس سے بچنے کے لئے سنت کا چھوڑنا تک گوارا کیا ورنہ بدعت مباحہ سے بچنا خودہی مطلب نہیں، نہ کہ اس کے لئے سنت چھوڑ دینے کا حکم دیا جائے،
وھذا ظاھر علٰی کل من لہ حظامن عقل صفی
( یہ ہر اس شخص یر عیار ہے جسے پسندیدہ اور خالص عقل سے کچھ حصہ ملا ہے ۔ت)
دہم: فتوٰی فقیر میں میاں اسمٰعیل دہلوی کی بھی عبارت تھی جس میں معانقہ عید کے مستحسن ہونے کی صاف تصریح ہے، اس سے جناب نے کچھ تعرض نہ فرمایا بلکہ مجموعہ فتاوٰی وعباراتِ ردالمحتار و مرقاۃ پیش فرمائیں۔ اس میں دو احتمال ہیں:
ایک وہ ، طائفہ مانعین جس کے خوگر ہیں یعنی ہفواتِ باطلہ وخرافات عاطلہ میں دہلوی مذکور کا امام اکبر مانتے ہیں اور جو باتیں وہ بعلت مناقضت جس کا اس کے یہاں حد سے زائد جوش و خروش ہے اصول و فروعِ طائفہ کے خلاف لکھتا ہے دیوار سے مارتے ہیں۔
دوم یہ کہ جناب کو اس سے کچھ کام نہیں جو کلام اس کا تصریحاتِ امثال مرقات وردالمحتار حتی کہ مولوی صاحب لکھنوی کے خلاف ہو قابل قبول نہیں۔ اگر شق اخیر مختار ہے اور جناب کی انصاف پسندی سے یہی مامول، توصراحۃً اس کی تصریح فرمادیجئے کہ جو مسائل تقویۃ الایمان وصراطِ مسقیم وایضاح الحق وغیرہا تصانیف شخص مذکور، مولانا علی قاری وعلاّمہ شامی یہاں تک کہ مولوی صاحب لکھنوی او ران کے امثال کی تصریحات سے رد ہوتے ہیں ان کا بطلان تسلیم فرماتے جائیے، امید کرتا ہوں کہ بہت مسائل نزاعیہ جن میں جہلائے مانعین کو بے حد شور وشغب ہے یوں بَاحْسَنِ وُجُوہ انفصال پائیں گے اور ہم آپ بتوفیقہٖ تعالٰی شخص مذکور کی ضلالتِ عقائد وبطالت مکائد پر متفق ہو کر حقِ ناصح کے اعلان میں باہم مُمِدّ ومعاون یک دیگر ہوجائیں گے۔
وباﷲ التوفیق والوصول الٰی سواء الطریق، واٰخردعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین، والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدن المرسلین محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، اٰمین!
اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق اور سیدھی راہ تک رسائی ہے، اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ، اور درود وسلام ہو رسولوں کے سردار محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کی آل واصحاب سب پر ۔ خدا وند قبول فرما۔ (ت)
کتبہ، عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عُفِیَ عنہ بمحمد المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
باب الاستسقاء
(نمازِ استسقاء کا بیان)
مسئلہ ۱۴۵۱: از محلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مظہر حسین صاحب ۲۳ ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
نماز استسقاء نماز ہے یا دُعا، اور استسقاء کیسے وقت میں ہونا چاہئے؟ بینوا توجروا
الجواب
نماز استسقاء صاحبین کے نزدیک سنت ہے اور اسی پر عمل ہے اور اُس وقت ہونا چاہیے جبکہ حاجت شدید ہو اور امید منقطع ہوچکی ہو اور لوگ اس کے آداب کے طور پر اسے بجالائیں خشیت وخشوع اس کی اصل ہے اور وہ آج کل اکثر قلوب سے مرتفع الاّ ماشاء اﷲ اس ملک میں ہمسایہ کفار ہیں ہماری بے طور یوں کے باعث کہ نہ دعا کے طور پر کرتے ہیں نہ نماز کے طور پر نماز پـڑھتے ، اگر اجابت نہ فرمائی جائے تو کفار کے مضحکہ کا اندیشہ ہے اس لئے یہاں کی حالت کے مناسب تر اس عمل پر اقتصار رہے جو قرآن عظیم میں نزول بارانِ رحمت کے لئے ارشاد ہوا یعنی کثرت استغفار و توجہ عزیز غفار فقلت
استغفرواربکم انہ کان غفار ایرسل السماء علیکم مدرارا ۱؎
( تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے تم پر شراٹے کا مینہ بھیجے گا ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم