علامہ سید ابو السعود ازہری حا شیہ کنز میں فرماتے ہیں؛
فی شرح لشھاب الشلبِی وما اعتادہ الناس بعد صلٰوۃ الصبح والعصر فلا اصل لہ لکن لابأس بہ ۱؎ الخ۔
شہاب الدین شلبی کی شرح میں ہے : نماز فجر وعصر کے بعد جو مصافحہ را ئج ہے اس کی کوئی اصل نہیں، مگر اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ (ت)
(۱؎ فتح المعین حاشیہ علی شرح ملا مسکین کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۴۰۲ )
غنیہ حاشیہ غرر ودرر باب صلوٰۃ العیدین میں ہے:
المستحب الخروج ماشیا والرجوع من طریق اٰخر والتھنئۃ بتقبل اﷲ منا و منکم لَاننکر کما فی البحر وکذا المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا عند کل لقی ولنا فیھا رسالۃ سمیتھا سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلٰوۃ والسلام'' ۲؎۔
عیدکے دن عیدگاہ کو پیادہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا یہی مستحب ہے ۔ اور بالفاظ
تَقَبَّلَ اﷲ مِنَّا وَ مِنْکُمْ
( اﷲ ہمارے تمھارے عمل قبول فرمائے) مبارکباد پیش کرنا کوئی منکر اور بُرا نہیں، جیسا کہ بحرالرائق میں ہے، اسی طرح مصافحہ بھی، بلکہ وہ تو تمام نمازوں کے بعد ہر ملاقات کے وقت سنت ہے اور اس بارے میں ''سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوٰۃ والسلام '' نامی ہمارا ایک رسالہ ہے ۔(ت)
(۲؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ غرر باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ احمد مصر ۱/ ۱۴۲)
فتح اﷲ المعین علٰی شرح العلامۃ الملامسکین میں ہے:
من المستحب اظھار الفرح والبشاشۃ ( الی قولہ) والتھنئۃبتقبل اﷲ منا ومنکم وکذا المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلٰوۃ کلھا و عند کل لقی۔ شرنبلالیۃ ۳؎ ۔
عید کے دن مسرت و خندہ روئی ظاہر کرنا اور تقبل اﷲ منا ومنکم ( اﷲ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے) کے ذریعہ مبارک باد دینا مستحب ہے، اسی طرح مصافحہ بھی، بکہ یہ تو تمام نمازوں کے بعد اور ہر ملاقات کے وقت سنت ہے، شرنبلالیہ ۔(ت)
(۳؎ فتح المعین علی شرح العلامہ الملامسکین باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۳۲۵)
علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ نورالایضاح میں فرماتے ہیں:
کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ عقب الصلوات کلھا ۱؎
اسی طرح مصافحہ بھی مطلوب ہے بلکہ یہ تو تمام نمازوں کے بعد سنت ہے۔ (ت )
(۱؎ حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب العیدین مطبوعہ نور محمد کراچی ص ۲۸۸)
حاشیہ درمختار میں ہے:
تستحب المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا وعند کل لقی، ابوالسعود عن الشُّرُنْبُلَالیۃ ۲؎ ۔
مستحب ہے مصافحہ ، بلکہ یہ تو نمازوں کے بعد اور ہر ملاقات کے وقت سنت ہے۔ ابوا لسعود عن الشرنبلالیہ ۔ (ت)
(۲؎ حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب العیدین دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۵۳)
افسوس کہ دو عبارتیں جناب نے دیکھیں، اور اتنی عباراتِ کثیرہ جو کہ جناب کے خلاف تھیں نظر سے رہ گئیں۔ خیر مانا کہ اس میں اکثر کتب مطالعہ سامی میں نہ آئی ہوں، آخر درمختار اور ردالمحتار تو پیش نظر تھیں، درمختار کی وہ عبارت ملاحظہ فرمائی ہوگی کہ مصافحہ مذکورہ بدعت حسنہ ہے۔ ردالمحتار میں رسالہ علامہ شرنبلالی کا کلام اور علامہ شمس الدین حانوتی کا فتوٰی دیکھا ہی ہوگا، سب جانے دیجئے ، یہ فتاوٰی لکھنؤ جوا ستناداً پیش فرمایا اسی میں یہیں یہیں یہ الفاظ موجود کہ علماء اس باب میں مختلف ہیں بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض بدعت مکروہہ۔ مسئلہ مصافحہ کا اختلافی ہونا پایا نہیں؟ بہت واضح راہ تھی کہ ترجیح تلاش فرمائی جاتی، جو قول مرجَّح نکلتا اُسی پر عمل کرنا تھا، اگر جناب کی نظر ترجیح تک نہ پہنچتی تو فقیر سے سنئے علامہ شہاب الدین خُفاجی حنفی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
ھی بعد الصّلٰوۃ بدعۃ عندنا ، والاَ صَحُّ انھا مباحۃ لما فیھا من الاشارۃ الی انہ کانّ قدم من غیبۃ لانہ کان عند ربہ ینا جیہ فافھم ۳؎ ۔
یہ مصافحہ، نماز کے بعد ہمارے نزدیک بدعت ہے، اور صحیح تریہ ہے کہ مباح ہے کیونکہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ غَیبت اور غیر حاضری سے آیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے رب کے حضور مصروفِ مناجات تھا۔ اسے سمجھو۔ (ت)
(۳؎ نسیم الریاض شرح شفاء)
ملاحظہ فرمائیے کیسی صاف تصریح ہےکہ مصافحہ مذکورہ کی اباحت ہی قولِ اصح ہے ، پھر اگر بالفرض دوسری طرف بھی تصحیح پائی جاتی ، تاہم، یہی قول مرجّح رہتاکہ خود باقرار ردالمحتار '' مذہب اباحت ہی موافقِ اطلاقِ مُتُون ہے'' ۔ اور خود انھیں کی تصریح ہے کہ '' اختلافِ فتوٰی کے وقت اُسی قول پر عمل اولٰی جواِطلاقِ مُتون کے موافق ہو ''۔
حیث قال قد اختلف التصحیح والفتوی کما رأٰیت والعمل بما وافق اطلاق المُتُونِ اَوْلٰی ۔ بحر ۱؎۔
اُنھوں نے یُوں فرمایا کہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو تصحیح اور فتوٰی میں اختلاف ہوگیا، اور عمل اُسی پر اولٰی ہے جو اطلاق متون کے موافق ہو ،بحر (ت)
الحمد ﷲ اب حق باحسن وجوہ واضح ہوگیا، اُمید کرتا ہوں کہ جناب بھی اب تو مصافحہ مذکورہ ومعانقہ عید کے جواز واباحت پر فتوٰی دیں گے اور اپنے تلامذہ کو ان امور جائزہ کے طعن وانکار سے باز رہنے کی ہدایت کریں گے واﷲُ الھادی وولیّ الاَ یادی۔
ششم : الحمدﷲ کہ ضمنِ تقریر میں مسئلہ مصافحہ بعدِ صلوٰۃ بھی صاف ہوگیا، اور تعلیلاتِ ثلٰثہ کا علیل ہونا بھی منکشف ہولیا، ثالث پر کلام تو صراحۃً گزرا اور اول کا جواب عبارتِ تکملہ شرح اربعین ونسیم الریاض سے واضح ہوا کہ بعد ختم نماز ملنا بھی ابتدائے لقاہے، ولہذا اس وقت سلام مشروع ہوا، تو مصافحہ کیوں نامشروع ہونے لگا۔ رہی تعلیل ثانی اس کے جواب کا اشارہ کلامِ فقیر میں گزرا مشابہت صرف ان تین صورتوں میں مذموم ہے ورنہ نہیں۔
تکمیلِ کلام: اتنا اور سُن لیجئے کہ کسی طائفہ باطلہ کی سنت جبھی تک لائقِ احتراز رہتی ہے کہ وہ ان کی سنت رہے، اور جب ان میں سے رواج اُٹھ گیا توا ن کی سنت ہونا ہی جاتا رہا، احتراز کیوں مطلوب ہوگا، مصافحہ بعد نماز اگر سنتِ روافض تھا تو اب ان میں رواج نہیں، نہ وہ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں نہ بعد نماز مصافحہ کرتے ہیں، بلکہ شاید اول لقاء پر بھی مصافحہ ان کے یہاں نہ ہوکہ اِن اعدائے سُنن کو سنن سے کچھ کام ہی نہ رہا، توایسی حالت میں وہ علت سرے سے مُرتَفع ہے۔
( مرد) انگوٹھی بائیں ہاتھ میں ہتھیلی کی طرف کرے، اور کہا گیا دائیں ہاتھ میں پہنے، مگر یہ رافضیوں کا شعارہے، تواس سے بچنا ضروری ہے، (قہستانی وغیرہ) میں نے کہا یہ کسی زمانے میں رہاہوگا پھر ختم ہوگیا، تو اس پر غور کرلو ۔(ت)