پنجم : ردالمحتار ومرقات کی یہ عبارتیں اگرجناب نے دیکھیں تو درر وغرر و کنزالدقائق و وقایہ و نقایہ و مجمع و منتقی واصلاح وایضاح وتنویر وغیرہا عامہ متونِ مذہب کے اطلاق ملاحظہ فرمائے ہوتے جنھوں نے مطلقاً بلاتقیید وتخصیص مصافحہ کی اجازت دی، درمختار وحاشیہ علامہ طحطاوی وشرح علامہ شہاب شلبی و فتح اﷲ المعین حاشیہ کنز وغنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر و حاشیہ مراقی الفلاح ونسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض ومجمع بحارا لانوار ومطالب المومنین ومسوی شرح مؤطا وتکملہ شرح اربعین علامہ برکوئی للعلامہ محمد آفندی وحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ للعلامۃ النابلسی وفتوٰی امام شمس الدین بن امام سراج الدین حا نوتی وغیرہم علمائے حنفیہ کی تصریحات جلیلہ بھی دیکھی ہوتیں کہ صاف صاف مصافحہ مذکورہ اور اسی طرح مصافحہ عید کو بھی جائز بلکہ مستحسن بلکہ سنت بتاتے ہیں۔
درر ، کنز، وقایہ، مجمع، ملتقی، وغیرہا کے اتباع میں مصنف نے بھی یہاں مصافحہ کا ذکر مطلق رکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصافحہ مطلقا جائز ہے خواہ بعد عصرہی کیوں نہ ہو، اور لوگو ں کا یہ کہنا کہ وہ بدعت ہے تو اس سے مراد بدعت مباحہ حسنہ ہے ، جیسا کہ امام نووی نے اذکار میں اوردوسرے علماء نے دوسری کتابوں میں افادہ فرمایا ہے ۔(ت)
کُرہ تقبیل الرجل وعناقہ فی ازار واحد وجاز مع قمیص کمصافحتہ۲؎ ۔
آدمی کابوسہ دینا اور معانقہ کرنا ایک ازار میں مکروہ ہے اور کرتا پہن کر ہو تو جائز ہے۔ جیسے مصافحہ جائز ہے ۔ (ت)
(۲؎ اصلاح وایضاح )
حدیقہ ندیہ میں ہے:
بعض المتاخرین من الحنفیۃ صرّح بالکراھۃ فی ذلک ادعاء بانہ بدعۃ مع انہ داخل فی عموم سنۃ المصافحۃ مطلقا۔ ۳؎
بعض متاخرین حنفیہ نے اس مصافحہ کے بدعت ہونے کا دعوٰی کرتے ہوئے اسے صراحۃً مکروہ بتایا ہے باجود یکہ وہ مطلق مصافحہ کے عموم میں داخل ہو کر مسنون ہے۔ (ت)
(۳؎ الحدیقۃ الندیہ الخلق الثامن والاربعون الخ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۱۵۰)
مجمع البحارمیں ہے:
ھِیَ مِنَ الْبِدَعِ الْمبَاحَۃِ ۱؎
( یہ مصافحہ ان بدعتوں سے ہے جو مباح ہیں ۔ت)
(۱؎ مجمع البحار الانوار تحت لفظ صفح مطبوعہ نو ل کشور لکھنؤ ۲/ ۲۵۰)
آپ کی اسی ردالمحتارمیں بعد نقل عبارت امام نووی ہے:
قال الشیخ ابوالحسن البکری وتقییدہ بما بعد الصبح والعصر علی عادۃ کانت فی زمنہ والافعقب الصلوات کلھا کذلک، کذافی رسالۃ الشُّرُنْبُلاَلیِ فی المصافحۃ ونُقِلَ مثلہ عن الشمس الحانوتی وانہ اَفتٰی بہ مستدلا بعموم النصوص الواردۃ فی مشروعیتھا وھو الموافق لما ذکرہ الشارح من اطلاق المتون ۲؎ ۔
شیخ ابوالحسن بکری فرماتے ہیں امام نووی نے بعد فجر و عصر کی قید کے ساتھ مصافحہ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ان کے زمانے میں یہی رائج تھا، ورنہ بعد فجر وعصر کی طرح تمام نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے۔ یہی علامہ شرنبلالی کے اس رسالہ میں ہے جو انھوں نے مصافحہ کے بارے میں لکھا ہے اور اسی کے مثل علامہ شمس الدین حانوتی سے منقول ہے۔ انھوں نے جوازِ مصافحہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث اور نصوص سے استدلال فرماتے ہوئے اس مصافحہ کے بھی جائز ہونے کا فتوٰی دیا ہے۔ اور یہی اس کے موافق ہے جو شارح ( صاحب درمختار علاء الدین حصکفی ) نے متونِ فقہ کا اطلاق ذکر کیا ہے ۔(ت)
''مناصحۃ فی تحقیق مسائل المصافحۃ ''میں تکملہ شرح اربعین سے ہے:
لاوجہ لجواب ابن حجر الشافعی وقد سُئل عن المصافحۃ بعد الصلٰوۃ فقال ھی بدعۃ انتھی، لان حالۃ السلام حالۃ اللقاء لان المصلی لما احرم صار غائبا عن الناس مقبلا علی اﷲ تعالٰی، فلما ادی حقہ قیل لہ ارجع الی مصالحک وسلم علی اخوانک لقد ومک عن غیبتک، و لذلک ینوی القوم بسلام کما ینوی الحفظۃ واذاسلم یندب المصافحۃ اوتسن کالسلام، کما اجاب شیخ الاسلام شیخ مشائخنا شمس الدین محمد بن سراج الدین الحانوتی وقد رفع لہ ھذا السؤال فقال نص العلماء علی ان المصافحۃ للمسلم لا للکافر مسنونۃ من غیر ان یقیدوھا بوقت دون وقت لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام من صافح اخاہ والمسلم وحرّک یدہ تناثرت ذنوبہ و نزلت علیھا مأۃ رحمۃ تسعۃ وتسعون منھا لاسبقھما وواحدۃ لصاحبہ وقال ایضا مامن مسلمین یلتقیان فیتصافحان الا غفر لھما قبل ان یتفرقا فالحدیث الاول یقتضی مشروعیۃ المصافحۃ مطلقا اعم من ان تکون عقب الصلوات الخمس والجمعۃ و العیدین او غیر ذلک،۔ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یقیدھا بوقت دون وقت والدلیل العام عند الحنفیۃ اذا لم یقع فیہ تخصیص من الادلۃ الموجبۃ للحکم قطعا، کالدلیل الخامس وقالوا لدلیل العام یعارض الخاص لقوتہ۔ والدلیل ھھنا عام لان صیغۃ ''مَن '' من صیغ العموم وکذانقل عن شیخ مشائخنا العلامۃ المقدسی حدیث '' من صافح مسلما وقال عند المصافحۃ اللھم صل علی محمد وعلٰی آل محمد لم یبق من ذنوبہ شیئ'' فصیغتہ ایضا من صیغ العموم ذکرہ الشُّرُنْبُلَالی فی رسالتہ المسماۃ '' بسعادۃ اھل الاسلام'' ۱؎
علامہ ابن حجر شافعی نے مصافحہ بعدنماز سے متعلق جواب دیتے ہوئے اسے بدعت کہا ہے، ان کے اس جواب کی کوئی قابل قبول وجہ نہیں، اس لئے کہ مصافحہ بعد نماز بھی مصافحہ اول ملاقات ہے کیونکہ سلام نماز کی حالت ، حالتِ ملاقات ہے ۔ اس لئے کہ جب مصلی نے تحریمہ باندھ لیا تو انسانوں سے غیر حاضر اور خدا کی طرف متوجہ ہوگیا، پھر جب حقُّ اﷲ کی ادائیگی سے فارغ ہوا تو اس سے کہا گیاکہ اب اپنے کاموں اور مصالح کی طرف واپس ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام کر ، کیونکہ تو اپنی غیر حاضری اور غیبت سے آرہا ہے اسی لئے تو اپنے سلام میں لوگو ں کی بھی نیت کرے گا، جیسے محافظ فرشتوں کی نیت کرے گا، اور جب سلام کیا تو مصافحہ اس کے لئے مندوب یا مسنون ہے، جیسے سلام، اسی طرح شیخ الاسلام ہمارے مشائخ کے شیخ شمس الدین محمد بن سراج الدین حانوتی نے جواب دیا ہے ، ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا تھا توانھوں نے فرمایا علماء نے کافر سے تو نہیں مگر مسلمان سے مصافحہ کو کسی خاص وقت کی کوئی قید لگائے بغیر مسنون ہونے پر نص فرمایا ہے، اسی لئے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: '' جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور اپنے ہاتھ کو حرکت دی تو اس کے گناہ جھڑتے ہیں ، اور دونوں پر کل سو (۱۰۰) رحمتیں نازل ہوتی ہیں، نناوے (۹۹) اس کے لئے جس نے مصافحہ میں سبقت وپیش قدمی کی اور
ایک اس کے دوسرے ساتھی کے لئے'' اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ '' جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے پھر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت ہو جاتی ہے '' پہلی حدیث کامقتضٰی ہے کہ مصافحہ مطلقاً جائز ومشروع ہو، خواہ نماز پنجگانہ، جمعہ وعیدین کے بعد ہو یاکسی اور وقت، اس لئے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مصافحہ کو کسی خاص وقت سے مقید نہ فرمایا، اور حنفیہ کے نزدیک دلیل عام کا بھی وہی رتبہ ہے جو دلیل خاص کا ہے جبکہ دلیل عام کا حکم کو قطعی طور پر لازم کرنے والی دلیلوں سے کوئی تخصیص نہ ہوئی ہو، بلکہ وہ تو اس کے قائل ہیں کہ دلیل عام اتنی قوی ہوتی ہے کہ دلیل خاص کے معارض اور اس پر ترجیح یافتہ ہوا کرتی ہے ، اور یہاں دلیل مصافحہ بھی عام ہے، اس لئے کہ حدیث میں کلمہ '' مَن'' ہے جو صِیَغِ عموم سے ہے، یوں ہی ہمارے شیخ المشائخ علامہ مقدسی سے یہ حدیث منقول ہے ''جس نے کسی مسلمان سے مصافحہ کیا اور بوقت مصافحہ ( درود شریف) اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد '' پـڑھا تو اس کے گناہوں سے کچھ باقی نہیں رہ جاتا '' اس حدیث کا صیغہ بھی عموم کا صیغہ ہے۔ اسے علامہ شرنبلالی نے اپنے رسالہ '' سعادۃ الاسلام '' میں ذکر کیا ہے ۔(ت)