Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
141 - 144
سوم : مولوی صاحب نے اس فتوٰی میں معانقہ عید کی نسبت صرف اتنا حکم دیا ہے کہ '' ترک اس کا اولٰی ہے'' اس سے ممانعت درکنار اصلاً کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی'' اَوْ لَوِیَّت ترکہ نہ مشروعیت واباحت کے منافی نہ کراہت کو مستلزم '' ف۱۔
ف۱: فقہاء اگر یہ حکم کریں کہ فلاں امر کا ترک بہتر ہے تواس سے ہرگز یہ نہیں ثابت ہوتاکہ وہ چیز ناجائز ہے بلکہ مکروہ ہونا بھی لازم نہیں آتا۔ یہ ایک عظیم قاعدہ ہے جو حفظ کرلینے کے قابل اور بہت  سےمقامات میں مفید ہے۔ اس قاعدے کے پیش نظر مولانا عبدالحی صاحب نے معانقہ عیدکے متعلق جب صرف اتنا لکھا کہ اس کا نہ کرنا بہتر ہے تو اس سے معانقہ مذکورہ کا ناجائز یا مکروہ ہونا بالکل ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کر لے تو کوئی حرج نہیں ۔ پھر ممانعتِ معانقہ کے بارے میں فتوٰی مذکور سے استدلال ہی بالکل بیکار اور اپنے خلاف استدلال ہے ۔ (ت)
   ردالمحتار میں ہے:  الا قتصاد علی الفاتحۃ مسنون لاوَاجِب فکان الضم خلاف الاَولٰی وذلک لاینافی المشروعیۃ والاباحۃ بمعنی عدم الاثم فی الفعل والترک ۲؎ ۔
نماز فرض کی تیسری چوتھی رکعتوں میں سورہ فاتحہ پر اکتفا کرنا صرف مسنون ہے، واجب نہیں، تو ان رکعتوں میں سورہ ملانا خلافَ اولٰی ہوگا اور یہ اس کے جائز ومباح ہونے کے منافی نہیں، اباحت بایں معنٰی کہ کرنے نہ کرنے دونوں میں کوئی گناہ نہیں۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار         مطلب کل صلوٰۃ مکروھۃ تجب اعادتہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/ ۴۵۹)
اسی میں ہے:
صَرَّحَ فی البحر فی صلوۃ العید عند مسئلۃ الاکل بانہ لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ '' اذلا بُدَّلھا من دلیل خاص'' اھ واشار الٰی ذلک فی التحریر الاصولٰی بان خلاف الاولی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترک صلوۃ الضحٰی بخلاف المکروہ تنزیھا ۱؎
۔ّ(۱؎ ردالمحتار    مطلب لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۲/ ۱۷۷)
بحرالرائق میں جہاں یہ مسئلہ کہ نماز عید سے پہلے کچھ کھا لینا مستحب ہے وہیں ہے کہ اس مستحب کو اگر کسی نے ترک کردیا تو وہ فعلِ مکروہ کا مرتکب نہ ہوگا، کیونکہ ترکِ مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہیں، اس لئے کہ مکروہ ہونے کے لئے کوئی خاص دلیل ضروری ہے، اور اس کی طرف تحریر اصولی میں بھی اشارہ کیا ہے کہ ''خلاف اولٰی وہ ہے جس میں ممانعت اور نہی کا صیغہ نہ ہو'' جیسے نماز چاشت کا ترک بخلاف مکروہ تنزیہی کے کہ اس میں نہی وممانعت کا صیغہ ہوتا ہے ۔(ت)

پھر اگر جناب کے نزدیک بھی حکم وہی ہے جو مولوی صاحب نے اپنے فتوٰی میں لکھا تو تصریح فرمادیجئے کہ عید کا معانقہ شرعاً ممنوع نہیں، نہ اس میں اصلاً کوئی حرج ہے، ہاں نہ کرنا بہتر ہے کرلے تو مضائقہ نہیں، 

چہارم: آپ نے جو عبارات ردالمحتار ومرقات نقل فرمائیں ان میں معانقہ عید کی ممانعت کا کہیں ذکر نہیں ان میں تو مصافحہ بعد نماز فجر و عصر یا نماز پنجگانہ کا بیان ہے، اور جناب کو منصب اجتہاد حاصل نہیں کہ ایک مسئلہ کو دوسرے پر قیاس فرماسکیں ، اگر فر مائے کہ '' جو دلائل اس میں لکھے ہیں یہاں بھی جاری''

اقول : یہ محض ہو س ہے اُن عبارتوں میں تین دلیلیں مذکور ہوئیں:

(۱) محلِ مصافحہ ابتدائے ملاقات ہے نہ بعد صلوات۔

(۲) یہ مصافحہ مخصوصہ سنت روافض ہے۔

(۳) صحابہ کرام نے یہ خاص مصافحہ نہ کیا۔

یہ تینوں تعلیلیں اگرچہ  فی اَنفُسہا خود ہی علیل اور ناقابل قبول ہیں
کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا
( جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالٰی کی مدد سے اپنے فتوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) ولہذا قول اصح یہی ٹھہرا کہ وہ مصافحہ مخصوصہ بھی جائز ومباح ہے کما سنذکر ان شاء اﷲ تعالٰی ( جیسا کہ ہم ان شاء اﷲ تعالٰی آگے ذکر کریں گے ۔ت) مگر ہمارے مسئلہ دائرہ یعنی معانقہ عید سے دو دلیل پیشیں کو تو اصلاً علاقہ نہیں ۔

محلِ '' مصافحہ'' خاص ابتدائے لقا ہو تو بھی '' معانقہ'' کی اس وقت سے تخصیص ہر گز مسلم نہیں
ومن ادعٰی فعلیہ البیان
 ( جو مدعی ہوبیان اس کے ذمہ ۔ ت)

مولوی صاحب لکھنوی کا بے دلیل وسند لکھنا ممسوع نہیں ہوسکتا ۔ بلکہ معانقہ مثل تقبیل اظہار سرور وبشاشت و وداد و محبت ہے جیسے تقبیل خاص ابتدائے لقا سے مخصوص نہیں ، یوں ہی معانقہ۔

جناب نے فتوٰی فقیر میں حدیث عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما مروی کتاب السنۃ ابن شاہین ومعجم کبیر امام طبرانی ملاحظہ فرمائی ہوگی کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تالاب پیرنے میں امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو گلے لگایا___ ونیز حدیث اُسیدبن حضیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ مرویِ سُنن ابی داؤد کہ انھوں نے باتیں کرتے کرتے حضور والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کُرتا اٹھانے کی درخواست کی حضور نے قبول فرمائی، وہ حضور کے بدن اقدس سے لپٹ گئے اور تہی گاہ مبارکہ پر بوسہ دیا ___ ونیز حدیث صحیح مستدرک کہ اثنائے مجلس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ذی النورین سے معانقہ فرمایا __ ونیز حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: عورت کے لئے سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کی: یہ کہ کوئی نامحرم اُسے نہ دیکھے۔ حضور نے گلے سے لگالیا___ ان سب صورتوں میں ابتدائے لقا کا وقت کہاں تھا کہ معانقہ فرمایا گیا، ___ یوں ہی پیار سے اپنے بچوں ۔ بھائیوں، زوجہ کو گلے لگانا شاید اول ملاقات ہی پر جائز ہوگا۔ پھر ممانعت کی جائے گی؟

یوں ہی مصافحہ بعد نماز فجر وعصر اگر کسی وقت کے روافض نے ایجاد کیا اور خاص ان کا شعار رہا ہو، اور بدیں وجہ اس وقت علماء نے اہلسنت کے لئے اسے ناپسند رکھا ہو تو معانقہ عید کا زبردستی اسی پر قیاس کیونکر ہو جائے گا، پہلے ثبوت دیجئے کہ یہ '' رافضیوں کا نکالا اور انھیں کا شعار خاص ہے '' ورنہ کوئی امر جائز کسی بدمذہب کے کرنے سے ناجائز یا مکروہ نہیں ہوسکتا ۔ لاکھوں باتیں ہیں جن کے کرنے میں اہلسنت وروافض بلکہ مسلمین وکفار سب شریک ہیں۔ کیا وہ اس وجہ سے ممنوع ہوجائیں گی؟

بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ'' بد مذہبوں سے مشابہت اُسی امر میں ممنوع ہے جو فی نفسہٖ شرعا مذموم یا اس قوم کا شعار خاص یا خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں''

رہا صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا نہ کرنا ،یہ دلیل منع نہیں ہوسکتا، آپ تینوں کتب مُسْتَنَدہ اَعْنِی مجموعہ فتاوٰی وردالمحتار ومرقاۃ شریف اور ان کے سوا صد ہا کتب معتمدہ ا سکے بطلان پر گواہ ہیں، فقہاء کرام سیکڑوں چیزوں کو یہ تصریح فرماکر کہ نو پیدا ہیں ، جائز بلکہ مستحب ومستحسن بلکہ واجب بتاتے اور مُحدَثات کو اقسامِ خمسہ کی طرف تقسیم فرماتے ہیں۔ مجموعہ فتاوٰی کی عبارتیں گزریں ۔
ردالمحتار میں ہے:
قولہ ای صاحب بدعۃ ای محرمۃ والا فقد تکون واجبۃ کنصب الادلۃ للردعلی اھل الفرق الضالۃ وتعلم النحو المفھم الکتاب والسنۃ ومندوبۃ کا حداث نحو رباط ومدرسۃ وکل احسانٍ لم یکن فی الصدر الاول ومکروھۃ کزَخْرَفَۃِ المساجد ومباحۃ کالتوسع بلذ یذالمآکل والمشارب و الثیاب کما فی شرح الجامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النووی ومثلہ فی الطریق المحمدیۃ للبرکوی۱؎۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب الامامت        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۵۶۰)
شارح کا قول '' جو صاحب بدعت'' یہاں بدعت سے مراد حرام بدعت ہے، ورنہ بدعت واجب بھی ہوتی ہے، جیسے گمراہ فرقوں کا رد کرنے کے لئے دلائل قائم کرنا علم نحو سیکھنا جس سے کتاب وسنت سمجھ سکیں، مستحب بھی جیسے سرائے اور مدرسہ جیسی چیزیں تعمیر کرنا، اور ہر وہ نیک کام جو زمانہ اول میں نہ رہا ہو ، مکروہ بھی جیسے مسجدوں کو آراستہ ومنقش کرنا۔ مباح بھی جیسے کھانے پینے کی لذیذ چیزوں اور کپڑوں میں وسعت وفراخی کی راہ اختیار کرنا، جیسا کہ علاّمہ مناوی کی شرح جامع صغیری میں علاّمہ نووی کی کتاب تہذیب سے منقول ہے ، اور اسی طرح علامہ برکوی کی کتاب'' الطریق المحمدیہ '' میں مذکور ہے ۔(ت)
مرقاۃ شریف میں ہے:
احداث مالاینازع الکتاب والسنۃ کما سنقررہ بعدلیس بمذموم ۲؎ ۔
ایسا فعل ایجاد کرنا جو کتاب وسنت کے مخالف نہ ہو برا نہیں، جیسا کہ ہم آگے ثابت کریں گے ۔(ت)
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ    مطبوعہ امدادیہ ملتان        ۱/ ۲۱۵)
پھر ایک صفحہ کے بعد بدعت کا واجب وحرام ومندوب ومکروہ ومباح ہونا مفصلاً ذکر فرمایا۔

عالمگیری میں ہے:
لاباس بکتابۃ اَسَامی السور وعدد الآی وھوان کان احد اثا فھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ کان احداثا وھو بدعۃ حسنۃ ۱؎ ۔
مصحف شریف میں سورتوں کے نام، اور آیتوں کی تعداد لکھنے میں کوئی حرج نہیں، اور وہ اگر چہ نئی ایجاد اور بدعت ہے مگر بدعت حسنہ ہے اوربہت سی چیزیں ایسی ہیں جو نو ایجاد تو ہیں مگر بدعتِ حسنہ ہیں۔ (ت)
 (۱؎ عالمگیری ( فتاوٰی ہندیہ)    باب آداب المسجد    مطبوعہ پشاور        ۵/ ۳۲۳)
امام ابن الہمام فتح القدیر میں رکعتیں قبل مغرب کا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثا بت نہ ہونا ثابت کر کے بتاتے ہیں:
ثم الثابت بعد ھذا ھو نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الاان یَّدُلَّ دلیل اخر ۲  ؎ ۔
پھر اس ساری بحث کے بعد صرف یہ ثابت ہوا کہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں مندوب ومستحب نہیں لیکن مکروہ ہونا ثا بت نہیں، ہاں اگر ثبوتِ کراہت پر کوئی اور دلیل ہو تو البتہ ۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر        با ب النوافل         مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر   ۱ /۳۸۹)
مع ہذا حضرات مانعین زمانہ تین قرن تک اختیار تشریع مانتے ، اور مُحدثاتِ تابعین کو بھی غیر مذموم جانتے ہیں تو صرف فعل صحابہ سے استدلال ان کے طور پر بھی ناقص وناتمام ہے ف۱۔ کلام ان مباحث میں طویل ہے کہ ہم نے اپنے رسائل عدیدہ میں ذکر کیا یہاں بھی دوحرف مجمل کافی ہیں وباﷲ التوفیق۔
ف۱: مانعین کسی چیز کی ایجاد اور جائز ومشروع قراردینے کا اختیار صرف تین زمانوں تک محدود مانتے ہیں:

(۱) زمانہ رسالت    (۲) زمانہ صحابہ    (۳) زمانہ تابعین

ان کے اس نظریہ سے اتنا ثابت ہے کہ زمانہ تابعین کی ایجادات بھی بری نہیں، تو مصافحہ مذکورہ کی ممانعت کے ثبوت میں صرف صحابہ کرام کے نہ کرنے سے استدلال ناقص وناتمام ہے، اپنے ہی نظریہ کے مطابق یہ بھی ثابت کرنا تھا کہ زمانہ تابعین میں بھی اس کا وجود وثبوت نہیں۔ (ت)
Flag Counter