عیدثانی میں
تحریر جواب وتقریر صواب وازالۂ اوہام وکشفِ حجاب___ یعنی اس تحریر کی نقل جو برسم جواب مولوی معترض کے پاس مرسل ہوئی۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جناب مولانا ! دام مجد کم، بعد ماھو المسنون ملتمس، فتوٰی فقیر دربارۂ معانقہ کے جواب میں مجموعہ فتاوٰی مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی جناب نے ارسال فرمایا اور اس کی جلد اول صفحہ ۵۲۸طبع اول میں جوفتوٰی معانقہ
مندرجہ ہے پیش کیااور اس کے حاشئے پر تائید کچھ عبارت ردالمحتار مرقاۃ بھی تحریر فرمادی،سائل مُظہر کہ جب جناب سے یہ گزارش ہوئی کہ آیا یہ مجموعہ آپ کے نزدیک مُسْتَنَد ہے تو فرمایا: '' ہمارے نزدیک مستند نہ ہوتا تو ہم پیش کیوں کرتے''۔ اور واقعی یہ فرمانا ظاہر وبجا ہے، فقیر کو اگر چہ ایسے مُعارضَہ کا جواب دینا ضرور نہ تھا مگر حسبِ اصرار سائل، محض بغرض احقاقِ حق وازہاق باطل چند التماس ہیں ، معاذاﷲ کسی دوسری وجہ پر حمل نہ فرمائیے فقیر ہر محسن مسلمان کو مستحق ادب جانتا ہے خصوصاً جناب تو اہل علم سادات سے ہیں، مقصود صرف اتنا ہے کہ جناب بھی بمقتضائے بزرگی حسب و نسب وعمر وعلم ان گزارشوں کو بنظر غور تحقیق حق استماع فرمائیں،اگر حق واضح ہو تو قبول مرجوح ومامول کہ علماء کے لئے رجوع الی الحق عارض نہیں بلکہ معاذاﷲ اصرار علی الباطل____ قال تعالٰی:
تو خوشی سناؤ اُن بندوں کو جو کان لگا کر بات سُنیں پھراس کے بہتر پر چلیں ۔(ت)
(۱؎ القرآن ۳۹/۱۸)
التماس اوّل: اس مجموعہ فتاوٰی سے استناد الزاماً ہے یا تحقیقاً؟ علی الاول فقیر نے کب کہاتھا کہ کسی مُعاصر کی تحریر مجھ پر حجت ہے، علی الثانی پہلے دلیل سے ثابت کرنا تھا کہ یہ کتاب خادمان علم پر احتجاجاً پیش کرنے کے قابل ہے ف۲۔
ف۱: حاصل یہ ہے کہ ہم نے معانقہ عید کا جواز احادیث کریمہ سے ثابت کیا، مستند فقہی عبارتیں پیش کیں، اس احادیث اور نصوص سے مدلل فتوے کے جواب میں آپ مولوی عبدالحی صاحب کا فتوٰی مستند بناکر پیش کررہے ہیں، ایسی مخالف دلیل کا جواب تو کوئی ضروری نہ تھا مگر سائل کے اصرار پر حق کو حق دکھانے اور باطل و ناحق کو مٹانے کی خاطر آپ کی خدمت میں چند التماس ہیں ، ان التماسوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بنگاہ غور دیکھیں اگر حق واضح ہوتو آپ سےاسے قبول کرلینے کی امید ہے اس لئے کہ حق کی طرف رجوع اور اسے قبول کرلینا علماء کے لئے عار نہیں بلکہ معاذاﷲ باطل وناحق بات پر اڑے رہنا شانِ علماء کے خلاف ہے ۔(ت)
ف۲: توضیح: آپ نے میرے فتوے کے جواب میں مولوی عبدالحی صاحب کا مجموعہ فتاوی مستند بناکر پیش کیا ہے اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں:
(۱) یا تو مجھے الزام دینا مقصود ہے کہ دیکھئے آپ کی مستند اور مانی ہوئی کتاب میں آپ کے خلاف ہے، مگر میں نے کب کہا کہ ا س زمانے کے کسی عالم کی تحریر مجھ پر حجت ہے۔
(۲) یا یہ کہ آپ نے خود تحقیقی طور پر اُسے سب کے لئے معتمد اور مستند جان کر پیش کیا ہے۔ تو آپ کو پہلے دلیل سے ثابت کرناتھا کہ یہ کتاب قابل استدلال اور علماء پر حجت وسند بنا کر پیش کرنے کے لائق ہے۔ اور جب یہ دونوں صورتیں صحیح نہیں تواس مجموعہ فتاوٰی کو یہاں پیش کرنا ہی بے محل ہے ۔ (مترجم)
دوم: شاید جناب نے اس مجموعہ کو اِستِیْعَاباً ملاحظہ نہ فرمایا اس میں بہت جگہ وہ مسائل وکلمات ہیں جو آج کل کے فرقہ مانعین کے بالکل مخالف و قالع اصل مذہب ہیں۔ تَمثیلاً ان میں سے چند کا نشان دوں۔
جلد اول صفحہ ۵۳۱ پر لکھتے ہیں:
''کتب فقہیہ میں نظائر اس کے بہت موجو دہیں کہ ا زمنہ سابقہ میں اُن کاو جود نہ تھا مگر بسبب اَغراض صالحہ کے حکم اس کے جواز کا دیا گیا''۔۱؎
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی عبد الحی)
صفحۃ ۲۹۴ پر ہے:
'' الوداع یا الفراق کا خطبہ آخر رمضان میں پڑھنا اور کلمات حسرت ورخصت کے ادا کرنا فی نفسہٖ امر مباح ہے بلکہ اگر یہ کلمات باعث ندا مت وتوبۂ سامعان ہوئے تو امید ثواب ہے مگر اس طریقہ کا ثبوت قرونِ ثلثہ میں نہیں ۲
کسے کہ می گوید کہ وجودیہ وشہودیہ از اہل بدعت اند قولش قابل اعتبار نیست ومنشاء قولش جہل وناواقفیت است ازاحوالِ اولیاء واز معنی توحید وجودی وشہودی وشاعرے کہ ذم ہر دوفرقہ ساخت قابل ملامت ست ۳؎ ۔
جو کہتاہے کہ وجودیہ اور شہودیہ اہل بدعت سے ہیں اس کاقول قابل اعتبار نہیں، اور اس کے قول کی بیناد یہ ہے کہ وہ اولیاء کے احوال اور توحید وجودی و شہودی کے معنی سے جاہل وبے خبر ہے اور جس شاعر نے دونوں فرقوں ( وجود یہ وشہودیہ ) کی مذمت کی ہے وہ قابل ملامت ہے ۔(ت)
صفحہ ۴۲۱ پر ہے: شغل برزخ اس طورپر کہ حضرات صوفیہ صافیہ نے لکھا ہے نہ شرک ہے نہ ضلالت۔ ہاں افراط وتفریط اس میں منجر ضلالت کی طرف ہے۔ تصریح اس کی مکتوبات مجدد الف ثانی میں جابجا موجود ہے۱ ف۱
(۱؎ مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی)
ف۱: ارواح سے توجہ طلبی، تصور شیخ، شغلِ برزخ وغیرہ سے متعلق اعلٰیحضرت قدس سرہ ایک مدلل رسالہ ہے الیاقوت الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ (۱۳۰۹ھ) جس میں نصوص علماء اور مستند ینِ مانعین کی عبارتوں سے اس کا جواز ثابت فرمایا ہے۔ قابل مطالعہ ہے ۔(مترجم)
جلد سوم صفحہ۸۵ میں ہے:
سوال : وقتِ ختم قرآن در تراویح سہ بار سورۂ اخلاص می خوانند مستحسن است یا نہ؟
سوال: تراویح میں ختم قرآن کے وقت تین بار سورہ اخلاص پڑھتے ہیں یہ مستحسن ہے یا نہیں؟
درمجالس مولد شریف کہ از سورۂ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورۃ تکبیر می گویند راقم شریک مجالس متبرک بودہ ایں امررامشاہدہ کردم ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ ۴ ۔
میلاد شریف کی محفلوں میں سورۂ والضحی سے آخر قرآن تک پڑھتے ہیں ہر سورۃ ختم کرنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں، راقم نے ان متبرک محفلوں میں شریک ہوکر اس امر کامشاہدہ کیا ہے مکہ معظمہ میں بھی، مدینہ منورہ میں بھی اور جدہ میں بھی ۔ (ت)
(۴؎ مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب القرأۃ فی الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۵۲)
طرفہ یہ کہ صفحہ ۱۲۰ پر لکھتے ہیں:
سوال: پارچہ جھنڈا سالار مسعود غازی درمصرف خود آرد یا تصدق نماید:
سوال: سید سالار مسعود غازی کے جھنڈے کا کپڑا اپنے مصرف میں لائے یا صدقہ کردے؟
جواب: ظاہراً دراستعمال پارچہ مذکور بصرف خودوجہے موجب بزہ کاری باشد نیست و اولی آنست کہ بمساکین وفقرادہد ۱؎
جواب: مذکورہ کپڑا اپنے مصرف میں لانے کے اند ر بظاہر گناہ کی کوئی وجہ نہیں، اور بہتر یہ ہے کہ مساکین وفقراء کو دے دے ۔(ت)
جناب سے سوال ہے کہ مولوی صاحب کے یہ اقوال کیسے؟ اور ان کے قائل ومعتقد کا حکم کیا ہے؟ خصوصاً شغلِ برزخ کو جائز جاننے والا معاذاﷲ مشرک یا گمراہ ہے یا نہیں؟اور جس کتاب میں ایسے اقوال مندرج ہوں مستند و معتمد ٹھہرے گی یا پایہ احتجاج سے ساقط ہوگی؟ بینوا توجروا