بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارداور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسد۔ بلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت، او رسنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تاوقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحاً نہی ثابت نہ ہو، یہاں تک کہ خود امام الطائفہ مانعین اسمٰعیل دہلوی رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مُقِر کہ معانقہ روز عید گو بدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔
حیث قال ( یوں کہا ۔ت) ف۱: ہمہ وقت از قرآن خوانی فاتحہ خوانی وخورانیدن طعام سوائے کندن چاہ وامثال دعاواستغفار واُضحیہ بدعت ست بدعت حسنہ بالخصوص است مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر ۱؎ ۔
کُنواں کھود نے ۔اور اسی طرح حدیث میں سے ثابت دوسری چیزوں، اور دعا استغفار، قربانی کے سوا تمام طریقے، قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی، کھانا کھلاناسب بدعت ہیں ۔ مگر خاص بدعت حسنہ ہیں، جیسے عید کے دن معانقہ ۔ اور نماز فجر یا عصر کے بعد مصافحہ کرنا (بدعتِ حسنہ ہے )۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ مجموعہ زبدۃ النصائح)
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامیّ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
(سنی حنفی قادری عبدالمصطفی احمد رضاخاں)
ف۱: مولوی اسمٰعیل دہلوی پیشو یان علماء دیوبندی کی اس عبارت میں چند باتیں قابل غور ہیں:
(۱) ایصال ثواب کے لئے کنواں کھدوانا، دعا ، استغفار، قربانی اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہیں۔
(۲) قرآن خوانی، فاتحہ خوانی، کھانا کھلانا اوراس طرح کے دوسرے طریقے بدعت ہیں مگر بدعت حسنہ ہیں ۔
(۳) اس سے بدعت کی دو قسمیں معلوم ہوئیں:( ۱) بدعتِ حسنہ۔(۲) بدعتِ سیئہ۔ لہذا ہر بدعت بُری نہیں۔ او رہر نیا کام صرف بدعت ہونے کے باعث ناجائز و حرام نہیں ہوسکتا بلکہ بعض کام بدعت ہوتے ہوئے بھی حسن اور اچھے ہوتے ہیں
(۴) روزِ عید کا معانقہ ،اور ہر روز فجر وعصر کے بعد مصافحہ بدعت حسنہ جائز اور اچھا ہے ع
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
منکرین اعلٰیحضرت کا پورا رسالہ نہ مانیں، تمام احادیث وفقہی نصوص سے آنکھیں بند کرلیں مگر انھیں اپنے'' پیشوائے اعظم'' کے اقرار صریح اور کلام واضح سے ہر گز مفرنہ ہونا چاہئے ۔(مترجم)
8_4.jpg
اس کے معارضے میں جو فتوٰی مولوی عبدالحی صاحب کا پیش کیا گیا اس کی عبارت یہ ہے:
'' کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد خطبہ عیدین کے جو مصافحہ ومعانقہ لوگوں میں مروّج ہے وہ مسنون ہے یا بدعت؟
بَیِّنُوا تُؤَجِّرُوْا ( بیان کرو اور اجر پاؤ ۔ت)
ھوالمُصَوِّب ( وہی درستی تک پہنچانے والاہے ۔ت) بعد عید مصافحہ و معانقہ مسنون نہیں، اور علماء اس باب میں مختلف ہیں، بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض بدعت مکروہہ۔ علٰی کل تقدیر ترک عہ اس کااولٰی ہے( ف۱)الخ۔
عہ:اس کے بعد فتوٰی مذکور میں چار(۴) عبارتیں نقل کیں:
(۱) عبارت اذکار کہ اس مصافحہ میں کوئی حرج نہیں۔
(۲) عبارت درمختار کہ یہ بدعتِ مباحہ بلکہ حسنہ ہے کما ھو موجود فی الدر وان اقتصر المجیب فی النقل ( یہ درمختار میں موجود ہے اگر چہ مجیب نے صرف نام پر کفایت کی ہے ۔ت)
(۳) عبارت ردالمحتار کہ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ہمیشہ بعد نماز کئے جاؤ تو جاہل سنت سمجھ لیں گے۔ اورابن حجر شافعی نے اسے مکروہ کہا ہے۔
(۴) عبارت مدخل ابن حاج مالکی المذہب کہ غیبت کے بعد ابن عیینہ نے جائز رکھا ،اور عیدمیں ان لوگوں سے جو اپنے ساتھ حاضر ہیں، نہیں ف۱۔
ف۱: یعنی عید میں ان لوگوں سے معانقہ جائزنہیں جو اپنے ساتھ حاضر ہیں۔ ( مترجم)
اور مصافحہ بعد عید مجھے معروف نہیں مگرعبداﷲ بن نعمان فرماتے ہیں میں نے مدینہ خاص میں جبکہ وہاں علماء صالحین بکثرت موجود تھے، دیکھا کہ وہ نماز عید سے فارغ ہوکر آپس میں مصافحہ کرتے، تو اگر سلف سے نقل مساعد ہوتو کیا کہنا ورنہ ترک اولٰی ہے۔ ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م)
ف۱: مولانا عبدالحی صاحب فرنگی کے اس فتوے کا حاصل یہ ہے کہ بعد عید مصافحہ ومعانقہ حدیث سے ثابت نہیں __ رہے علماء وفقہاء___ توان میں اختلاف ہے کچھ بدعت مباحہ کہتے ہیں کچھ بدعت مکروہہ۔ بہر تقدیر اسے نہ کرنابہتر ہے۔ ('' نہ کرنا بہتر ہے '' سے اتنا ضرور ثابت ہوجاتا ہے کہ کرلیا تو جائز ہے ) مولانا فرنگی محلی کا یہی فتوٰی( جو ان کے مجموعہ فتاوٰی طبع اول کے ج اص ۵۲۸پر ہے )بریلی کے ان عالم نے بھیجا جن سے اعلٰیحضرت اپنے جواب میں خطاب کررہے تھے، ساتھ ہی انھوں نے اس مجموعہ فتاوٰی کے حاشیہ پر معانقہ عید کی ممانعت کے ثبوت میں وہ عبارتیں بھی لکھ دیں جنھیں کتاب '' وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید '' میں اعلیحضرت نے بعینہٖ نقل فرمایا اور التماس چہارم سے ان پر بحث کی ۔ (مترجم)
ابوالحسنات محمد عبدالحی
عبارات کہ حاشیہ پر لکھ کر پیش کی گئیں بَحُرُوْفہٖ یہ ہیں:
اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترک السنۃ راجحاً علٰی فعل البدعۃ ۱۲ردالمحتار ۱؎
جب حکم سنت و بدعت کے درمیان مُتَرَدِّد ہو تو ارتکاب بدعت پر ترک سنت کو ترجیح دی جائیگی۔ ف۲
ف۲: یعنی جب معاملہ ایسا ہوکہ کرے توکسی بدعت کامرتکب ہوتا ہے، نہ کرے تو کوئی سنت چھوٹتی ہے، ایسی صورت میں یہی حکم ہے کہ نہ کرے اس سے سنت اگر چہ چھوٹ جائے گی مگر بدعت کامرتکب تو نہ ہوگا۔ معانقہ عید کا بھی یہی حال ہے، لہذا اس سے بھی ممانعت ہی کا حکم دیا جائے گا۔ اعلٰیحضرت نے التماس نعم میں اس استدلال کا جواب دیا ہے کہ یہاں بدعت سے مراد بری بدعت ہے، اور معانقہ عید ایسا ہرگز نہیں، بلکہ اپنی اصلیت کے لحاظ سے سنت اور خصوصیت بعد عید کے لحاظ سے مباح، اور قصد حسن کے ساتھ ہو تو مستحسن ہے۔لہذا آپ کی عبارت مذکورہ معانقہ عید پر منطبق(فٹ) ہوہی نہیں سکتی، (مترجم )
نقل فی تبیین المحارم عن الملتقط انہ تکرہ المصافحۃ بعد اداء الصلٰوۃ بکل حال لان الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ماصافحوا بعد اداء الصلٰوۃ ولانھا من سنن الروافض اھ ثم نُقِل عن ابن حجر من الشافعیۃ انھا بدعۃ مکروھۃ لااصل لھا فی الشرع وانہ ینبہ فاعلھا اولاً و یعزر ثانیا ثم قال وقال ابن الحاج من المالکیۃ فی المدخل انھا من البدع وموضع المصافحۃ فی الشرع انما ھو عند لقاء المسلم لاخیہ لافی ادبار الصلوات فحیث وضعھا الشرع یضعھا فینھٰی عن ذلک و یزجرفا علہ لمااتی بہ من خلاف السنۃ اھ ردالمحتار
ردالمحتار میں ہے کہ تبیین المحارم میں ملتقط سے منقول ہے کہ ادائے نماز کے بعد مصافحہ بہر حال مکروہ ہے (۱)اس لئے صحابہ نے بعد نماز مصافحہ نہیں کیا، (۲) اس لئے کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے اھ پھر علامہ ابن حجر شافعی سے منقول ہے کہ یہ مصافحہ بدعتِ مکروہہ ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اس کے مرتکب کو اولاً متنبہ کیا جائے گا۔ نہ مانے تو سرزنش کی جائے گی، پھر فرمایا کہ ابن الحاج مالکی مدخل میں لکھتے ہیں کہ یہ مصافحہ بدعت ہے (۳) اور شریعت میں مصافحہ کا محل مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کا وقت ہے۔ نمازوں کے بعد اوقات مصافحہ کا شرعی محل نہیں، شریعت نے جو محل مقرر کیا ہے اسے وہیں رکھے، تو نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے والے کو روکا اور زجر کیا جائے گا اس لئے کہ وہ خلاف سنت فعل کا مرتکب ہے اھ ردالمحتار (حاشیہ ذیل میں مندرج امام نووی کی عبارتِ اذکار پر اعتراض کرتے ہوئے مولوی صاحب مذکور نے حاشیہ لکھاہے)
عہ: کتبہ المعترض حاشیۃ علی مانُقل فی الفتاوی المکنویۃ فی عبارۃ الاذکار للامام النووی رحمہ اﷲ تعالٰی من قولہ '' لابأس بہ فان اصل المصافحۃ سنۃ وکونھم حافظوا علیہا فی بعض الاحوال وفرطوا فی کثیر من الاحوال اواکثرھا لایخرج ذلک البعض عن کونہ من المصافحۃ التی ورد الشرع باصلھا'' اھ ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م)
فتاوٰی مولوی عبدالحی لکھنو ی میں امام نووی کی کتاب اذکار سے منقولہ عبارت پر بریلی کے معترض مولوی صاحب نے یہ حاشیہ لکھا ہے امام نووی کی عبارت یہ ہے: '' اس مصافحہ میں کوئی حرج نہیں، اس لئے کہ اصل مصافحہ سنت ہے ، اور اکثر حالات میں لوگ مصافحہ کے اندر کوتاہی کرنے کے ساتھ صرف بعض حالات میں اگر مصافحہ کی پابندی کرتے ہیں تو اس سے بعض حالات والا مصافحہ (مثلاً مصافحہ بعد نماز) اس مصافحہ جائزہ کے دائرے سے خارج نہ ہوگا جس کی اصلیت شرع سےثابت ہے۔(ت)
قولہ عہ لایخرج الخ ولا یخفی ان فی کلام الامام نوع تناقض لانّ اتیان السنۃ فی بعض الاوقات لایسمی بدعۃ مع ان عمل الناس فی الوقتین المذکورین لیس علی وجہ الاستحباب المشروع، لان محل المصافحۃ المذکورۃ اوّل الملاقاۃ وقد یکون جماعۃ یتلاقون من غیر مصافحۃ ویتصاحبون بالکلام وبمذاکرۃ العلم وغیرہ مدۃ مدیدۃ ثم اذا صلوا یتصافحون فاین ھذا من السنۃ المشروعۃ وبھذا صرح بعض العلماء بانھا مکروھۃ عہ و ح انھا من البدع المذمومۃ ۱؎ کذافی المرقاۃ۔
ظاہر ہے کہ امام نووی کے کلام میں ایک طرح کا تعارض ہے ۔ اس لئے کہ اگر لوگ بعض اوقات ''سنت کے مطابق'' مصافحہ کرتے ہیں تواسے بدعت نہیں کہا جائے گا ۔ لیکن فجر وعصر کے بعد کا عمل استحبابِ مشروع کے طور پر نہیں ہے اس لئے کہ جائز مشروع مصافحہ کا محل بس اول ملاقات ہے ، اور یہاں تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ملاقات بلامصافحہ کرتے ہیں اور دیر تک گفتگو و علمی بحث وغیرہ میں ایک ساتھ رہتے ہیں پھر جب نماز پڑھ لیتے ہیں تو مصافحہ کرتے ہیں، یہ سنت مشروعہ کہاں! اسی لئے تو بعض علماء نے صراحۃً فرمایا ہے کہ یہ مکروہ ہے اور اس کا شمار مذموم بدعتوں میں ہے، یہی عبارت مرقاۃ میں ہے ۔ (ت)
عہ: ھکذا بخطہ ولیست بھذہ الحاء فی عبارۃ المرقاۃ ولا لہا محل فی العبارۃ کما لا یخفی ۱۲منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م)
صاحب موصوف کی تحریر میں اسی طرح یہ '' ح'' بنی ہوئی ہے مگر یہ عبارۃ مرقاۃ میں نہیں ہے ، عبارت میں اس کا موقع بھی نہیں جیسا کہ ظاہر ہے ۔ (ت)