Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
136 - 144
وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ( ۱۳۱۲ ھ)

( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ الذی عید رحمتہ وسع کل قریب وبعید، وجعل اعیاد المؤمنین مُعَانَقَۃ بصفر الوعد وعفو الوعید، وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علی من تعانق عید جمالہ بِعید نوالہ، فوجھہ عید، ویدہ عید، یسعد بھما کُلُّ سعید، وعلٰی حزبَیِ الاٰل والا صحاب الذین ھما العید ان لایّام الایمان، وعلی کل من عانق جیدہ وِشاح الشہادتین بجمّان الایقان ماتعانق الملوان ، وتوارد العیدان، ھَنّأھم اﷲ باَعیاد الاسلام، وعیدالرویۃ فی دارالسلام، ولدَ یہ مزید، وانّہ یبدی ٕ  ویعید،
تمام تعریف اللہ کے لئے جس کی عید رحمت ہر دور نزدیک کو محیط ہے، اور جس نے اہل ایمان کی عیدوں کو صفائیِ وعدہ اور معافی وعید سے بغلگیر کیا، اور بہتر درود اور کامل ترین سلام ہو ان پر جن کی عید جمال ( ان کی) عیدِ جود ونوال سے ہم آغوش ہے، جن کا چہرہ زیبا بھی عید اور دست عطابھی عید، ہر خوش نصیب ان دونوں سے فیروز مند ہے، ان کی آل واصحاب دونوں جماعتوں  پر جو ایام ایمان کی دو عیدیں ہیں اور ہر اس شخص پر جس کی گردن گوہر یقین سے آراستہ قلادہ شہادتین سے ہمکنار ہے، ( یہ درود سلام ہوں) جب تک روزو شب باہم بغلگیر اور دونوں عیدیں یکے بعد دیگرے ورود پذیر رہیں، اﷲ انھیں عید ہائے اسلام اور  جنت میں عید دیدار کی مبارکباد سے نوازے ۔ (ت)
اَمَّا بَعْدُ چند سال ہوئے کہ روز عید الفطر بعض تلامذہ مولوی گنگوہی نے بعض اہلسنت پر دربارہ معانقہ طعن وانکار کیا کہ:

''شرع میں معانقہ صرف قادمِ  (ف۱) سفر کے لئے وراد ہوا ، بے سفر بدعت ، ناروا، میں نے اپنے اساتذہ سے یوں ہی سنا''۔

ان سنیوں نے اس باب میں فقیر حقیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سُنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفراﷲ لہ وحَقّقَ اَمَلہ سے سوال کیا فقیر نے ایک مختصر فتوٰی لکھ دیا کہ احادیث میں معانقہ سفر  و بے سفر دونوں کا اثبات اور تخصیصِ سفر تراشیدہ حضرات(ف۲) ۔ بحمد اﷲ اس تحریر کا یہ نفع ہوا کہ ان صاحب نے اپنے دعوٰی سے انکار کردیا کہ :

''نہ میں اس تخصیص کا مدعی تھا نہ اپنے اساتذہ سے نقل کیا''۔

خیر یہ بھی ایک طریقہ توبہ  و رجوع ہے اور الزام کذب بھی زائل و مدفوع ہے کہ جب اپنے معبود کا کذب ممکن جانیں، کیا عجب کہ  اپنے واسطے فرض و واجب مانیں (ف۳)۔

(ف۱) قادم سفر: سفر سے آنے والا۔( مترجم)

(ف۲) یعنی میں نے اپنے فتوے میں لکھا کہ سفر سے آنے کی حالت اور اس کے علاوہ احوال میں بھی احادیث سے معانقہ کا جائز ہونا ثابت ہے۔ اور معانقہ کا جواز محض آمد سفر کی حالت سے خاص کرنا ان حضرات کی اپنی گھڑی ہوئی بات ہے، حدیث فقہ سے اس پر کوئی معتبر دلیل ہر گز نہیں ۔ (مترجم)

(ف۳) جب انھوں نے اپنے دعوے سے انکار کردیا تو اتنا ظاہر ہوگیا کہ وہ اپنے پہلے قول پر نہ رہے اور جواز معانقہ بلا تخصیص تسلیم کرلیا__ البتہ ان  پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ انھوں نے دروغ گوئی سے کام لیا کہ پہلے ایک بات کہی پھر کہنے سے انکار کرڈالا ___ مگر دیوبندی حضرات جب اپنے معبود کے لئے جھوٹ بولنا ممکن مانتے ہیں، تو خود ان  پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا جاسکتا ہے، بعید نہیں کہ و ہ  اسے اپنے لئے فرض و واجب مانتے ہوں، استاد محترم حافظ ملّت مولانا عبدالعزیز صاحب مراد آبادی علیہ رحمۃ بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور فرمایا کرتے تھے کہ علمائے دیوبند اور ان کے متبعین کا عقیدہ ہے کہ '' خدا جھوٹ بول سکتا ہے مگر بولتا نہیں'' اگر خو د ا ن کابھی یہی حال ہو کہ '' جھوٹ بول سکتے ہیں مگر بولتے نہیں'' تو ان کے عقیدے کی رو  سے شرک اور خدا کے ساتھ اس وصف میں برابری لازم آجائے گی، اس لئے ان کے اپنے عقیدہ و قاعدہ پر '' فرض اور ضروری ہے کہ وہ جھوٹ بولیں''۔ اگر '' جھوٹ بول سکتے ہیں مگر بولتے نہیں'' کی منزل میں رہ گئے تو مشرک ٹہریں گے۔ (مترجم)

اب اس عید الاضحی ۱۳۱۱ھ میں بعض علمائے شہر کے ایک شاگرد بعض اہلسنت سے پھر اُلجھے، انھوں نے پھر وہی فتوائے فقیر پیش کیا، خیالات کے  پکے تھے ہر گز نہ سلجھے، انھوں نے ان کے استاذکو فتوٰی دکھایا، تصدیق نہ فرمائیں تو جواب چاہا، مدت تک انکار  پھر بعد اصرار  وعدہ واقرار ، بالآخر مجموعہ فتاوٰی مولوی عبدالحی صاحب صفحہ ۵۳۹ جلد اول پر نشانی رکھ کر ارسا ل فرمایا، اور بعض عباراتِ ردالمحتار ومرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف سے حاشیہ چڑھایا، سائل مُصرِ ہوئے کہ'' جواب ضرور ہے آخر تحقیق حق نا منظور  ہے'' فقیر نے چند ورق لکھ کر  بھیج دیے اور رسالہ میں فتوٰی سابقہ کے ساتھ جمع کئے کہ ناظر دیکھیں، نفع پائیں، فقیر کو دعائے خیر سے یا د فرمائیں وباﷲ التوفیق وھِدَایۃ الطریق۔

اس رسالہ کا بلحاظ فتوٰی سابق وتحر یر لاحق دو (۲) عید پر انقسام۔ اور بنظر تاریخ کہ بستم ۲۰محرم ۱۳۱۲ ھ لکھا گیا ''وَشَاحُ الجِیْد فِی تَحْلیْل مُعَانَقَۃِ العِید'' نام (ف۱) والحمد ﷲ ولی الانعام ( اور تمام تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے جو احسان کا مالک ہے ۔ت)
الجواب

کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطور برّوکرامت و اظہار محبت۔ بے فساد نیت وموادِّ شہوت، بالاجماع جائز جس کے  جواز  پر احادیث کثیرہ وروایات شہیرہ ناطق، اور تخصیص سفر کا دعوٰی محض بے دلیل ، احادیثِ نبویہ و تصریحاتِ فقہیہ اس بارے میں بروجہ اطلاق وارد، اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو  اپنے اطلاق  پر رکھنا واجب اور بے مدرک شرعی تقیید وتخصیص مردود باطل ، ورنہ نصوصِ شرعیہ سے امان اُٹھ جائے ، کمالا یخفی ف۲ ( جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)

ف۱:معانقہ کی تائے مدوّرہ حسب قاعدہ '' ہ '' مانی گئی ہے اس لئے اس کا عدد۴۰۰ نہیں بلکہ۵ ہوگا اور  پور ے نام کا عدد۱۷۰۷ نہیں بلکہ۱۳۱۲ ہوگا۔(مترجم)

ف۲: ان ہی سطور  میں اعلیحضرت نے پورے فتوے کا ماحصل اور تمام اعتراضات کا جواب ذکر کردیا ، ان جامع سطور کی قدرے تشریح درج ذیل ہے:     

جوازِ معانقہ کی مندرجہ ذیل شرطیں ہیں:

(۱) معانقہ کپڑوں کے اوپر سے ہو ۔

(۲) نیکی، اعزاز  اور اظہار محبت کے طور پر ہو۔

(۳) خرابی نیت اور شہوت کا کوئی دخل نہ ہو۔

مذکورہ بالاشرطوں کے ساتھ معانقہ سفر، غیر سفر ہر حال میں جائز ہے۔

دلیل: اس کا ماخذوہ روایات واحادیث ہیں جن میں قیدِ سفر کے بغیر معانقہ کا ثبوت ہے، جو لوگ صرف آمدِ سفر کے بعد معانقہ جائز بتاتے ہیں ان کا جواب یہ ہے :

تمام احادیث وروایات میں مطلق طور  پر جوازِ معانقہ کا ثبوت ہے، یہ کسی حدیث میں نہیں کہ بس سفر سے آنے کے بعد معانقہ جائزہے، باقی حالات میں ناجائز __ بلکہ بعض احادیث سے صراحۃً آمدِ سفر کے علاوہ حالات میں بھی معانقہ کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔

(۴) شریعت کا قاعدہ ہے کہ جو حکم، مطلق او رکسی قید کے بغیر ہو، اسے مطلق ہی رکھنا واجب وضروی ہے،

(۵) معانقہ کے بارے میں جب یہ حکم مطلق او رقید سفر کے بغیر ہے، تو اسے مطلق رکھتے ہوئے سفر ، غیر سفر ہر حال میں معانقہ جائز ہوگا۔

(۶) ہاں اگر کسی حکم میں خود شریعت کی جانب سے تخصیص اور تقیید کا ثبوت ہو تو اس حکم کو مخصوص او رمقید ضرور مانا جائے گا__ مگر معانقہ کے بارے میں سوا اُن شرائط کے جو ابتدا میں ذکر کی گئیں آمد وسفر وغیرہ کی کوئی قید نہیں۔

لہذا جواز معانقہ کے بارے میں بے دلیل شرعی آمدِ سفر کی قید لگانا محض باطل اور نا مقبول ہے۔ ( مترجم)
ا بن (ف۱) ابی الدنیا کتاب الاخوان اوردیلمی مسند الفردوس اور ابوجعفر عقیلی حضرت تمیم داری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی
واللفظ للعقیلی :

انہ قال سألت رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم عن المعانقۃ فقال تحیۃ الامم و صالح وُدِّھم وانّ اول من عانَقَ خلیل اﷲ ابراھیم ۱؎۔
میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے معانقہ کو  پوچھا ، فرمایا: تحیّت ہے امتوں کی، اور ان کی اچھی دوستی، او بیشک پہلے معانقہ کرنے والے ابراہیم خلیل اﷲ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام۔

ف۱: یہاں سے دلیل کی تفصیل فرمائی، سب سے  پہلے ایک حدیث ذکر کی جس سے معانقہ کی تاریخ آغاز معلوم ہوتی ہے، پھر فقہ حنفی کے مستند مآخذ سے وہ نصوص تحریر فرمائے جن کا حاصل ابتداءً رقم فرماچکے۔ ( مترجم)
(۱؎ کتا ب الضعفاء الکبیر    ترجمہ نمبر۱۱۴۱ عمر بن حفص بن محبر    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۳/۱۵۵)
Flag Counter