مسئلہ۱۴۴۶ از ملک بنگالہ ضلع کمرلہ موضع چاند پور مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب غرہ۱۳ صفر ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز عید الاضحی کی نیت میں عیدالاضحی کہے یعنی یوں کہے
نویت ان اصلیﷲ تعالٰی رکعتی صلٰوۃ العید الاضحی الخ
(میں نے نیت کی کہ میں اللہ تعالٰی کو ر اضی کرنے کے لئے نماز عید الاضحی پڑھ رہا ہوں الخ ۔ت) تو نماز اس کی صحیح ہوگی یانہیں؟
بینوا توجروا عند اﷲ۔
الجواب
اگر چہ یہ لفظ غلط ہے صحیح صلوٰۃ عید الاضحی ہے مگر نہ نیت زبانی کی نماز میں حاجت ہے نہ وہ نماز کے اندر ہے نہ اس میں فساد معنٰی ہے، تو اس غلطی کاصحتِ نماز پر اصلاً اثر نہیں ہوسکتا، دل میں عیدالاضحی ہی کا قصد ہے اگرچہ نام میں غلطی کی بلکہ دل میں نماز عید الاضحی کا ارادہ کرتا اور زبان سے عید الفطر بلکہ مثلاً نماز تروایح کا نام نکلتا جسے اس نما زسے کوئی مناسبت ہی نہیں ، جب بھی صحت نماز میں شبہ نہ تھا کہ نیت فعل قلب ہے۔ جب قلب کا ارادہ ہے زبان کا کچھ اعتبار نہیں،
درمختار میں ہے:
المعتبر فیھا عمل القلب اللازم للارادۃ فلا عبرۃ للذکر باللسان ان خالف القلب لانہ کلام لانیۃ ۱؎۔
یہاں اعتبار فعل دل کا ہے جو ارادہ کو لازم ہے لہذا زبان کے ذکر کا کوئی اعتبار نہیں اگر چہ اس نے دل کی مخالفت کردی ہو کیونکہ وہ تو کلام والفاظ ہیں نیت نہیں ۔(ت)
اگر ارادہ ظہر کا تھا مگر سہواً عصر کہہ دیا تو نماز ہوجائیگی جیسا کہ زاہدی میں ہے قہستانی، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۰۵)
مسئلہ۱۴۴۷: از شہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ منشی ہدایت یا رخاں صاحب قیس ۸ محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدگاہ مثل مساجد قابل حرمت و وقعت ہے یانہیں؟ اس کا حکم حکمِ مسجد ہے یا نہیں؟ اس احاطہ کے اند رغیر قومیں جوتے پہنے ہوئے جاسکتی ہے یا نہیں؟ا ور اس چاردیواری کے اندر خرید وفروخت ہوسکتی ہے ؟ خطبہ کے وقت دکانداروں یا خوانچہ والوں کا گشت اس میں جائز ہوسکتا ہے یانہیں؟ بالتشریع اس کا جواب مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب
عیدگاہ ایک زمین ہے کہ مسلمانوں نے نمازِ عید کے لئے خاص کی، امام تاج الشریعۃ نے فرمایا صحیح یہ ہے
کہ وہ مسجد ہے اس پر تمام احکام احکام مسجد ہیں نہایہ میں اگر چہ مختار للفتوٰی یہ رکھا کہ وہ عین مسجد نہیں، مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ اس کی تنظیف وتطہیر ضروری نہیں ، غیر وقت نماز و خطبہ میں اس میں خرید وفروخت قولِ اول پر مطلقاً حرام ہے اور خرید فروخت کے لئے اس متعین کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
اذ لا یجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فضلا عن ضیعتہ کما فی الھندیۃ وغیرھا ۱؎ ۔
وقف کی ہیئت وحالت میں تبدیلی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے ضائع کرنا جائز ہو ہندیہ وغیرہ ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشرفی المتفرقات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰)
اور یوں کہ اتفاقاً غیر وقت نماز خطبہ میں ایک کے پاس کوئی شے ہو وہ دوسرے کے ہاتھ بیع کرے، قول دوم پر اس میں حرج نہیں، وقت نماز یا خطبہ میں خوانچہ والوں کا گشت بلا شبہ ممنوع و واجب الانسداد ہے کہ مخل استماع وناقض ہے اور ان کے غیر اوقات میں وہی اختلاف قولین، یونہی کفار کی آمد و رفت خصوصاً جوتا پہنے کہ یہ نجاست سے خالی نہیں ہوتے نہ وہ جنابت سے
کما حققہ فی الحلیۃ و بیناہ فی فتاوٰنا
( جیساکہ اس کی تحقیق حلیہ میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے تفصیلاً بیان کیا ہے ۔ت)
درمختار میں ہے:
اماالمتخذ لصلٰوۃ جنازۃ اوعید فھو مسجد فی حق جوا زالاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لا فی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ ۲؎ ۔
لوگوں کی سہولت کی وجہ سے عیدگاہ او رجنازہ گاہ جواز اقتداء کے حق میں مسجد ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں، ہا ں اس کے علاوہ میں یہ حکم نہیں، اسی پر فتوٰی ہے ۔ نہایہ ۔(ت)
(۲؎ درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی البحر ظاھرہ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فیہ ولا یخفی مافیہ فان البانی لم یعدہ لذلک فینبغی ان لایجوز وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی حق بقیۃ الاحکام و حل دخولہ للجنب والحائض ۳؎ انتھی
بحر میں ظاہر عبارت بتا رہی ہے کہ وطی اور بول وبراز جائز ہے لیکن یہ واضح رہنا چاہئے کہ بانی نے اس کے لئے نہیں بنائی لہذایہ جائز نہیں ہونا چاہیے اگر چہ ہم اسے مسجد کا حکم نہیں دیتے اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوتا ہے اور اس میں جنبی اور حائضہ کے دخول کا جواز بھی انتہی (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۸۶)
اسی میں ہے:
صحح تاج الشریعۃ ان مصلی العید لہ حکم المساجد ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
تاج الشریعۃ نے عید گاہ کے لئے مسجدکے حکم کی تصحیح کی ہے ۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۸۶)
مسئلہ ۱۴۴۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عید کو امام نے اس طور ادا کیا کہ پہلی رکعت میں بعد ثناء کے او ل قرأت سے چار تکبیریں کہیں، دوسری رکعت میں قبل از قرأت کے چار تکبیریں کہیں اور قرأت کر کے نماز تمام کی پہلی رکعت میں بعد ثناء کے تین تکبیریں کہیں بعد کو قرأت اور دوسری رکعت میں اول میں تین تکبیریں کہیں اور قرأت ادا کرکے نماز تمام کی، تو اس صورت سے نماز عید ہوگئی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
پہلی صورت میں دو باتیں خلافِ اولٰی کیں چار چار تکبیریں کہنی اور دوسری رکعت قبل قرأت تکبیر ہونی ، اور دوسری صورت میں یہی بات خلاف اولٰی ہوئی، مگر دونوں صورتوں میں نہ نماز میں نقصان آیا نہ کسی امر ناجائز وگناہ کا ارتکاب ہوا، ہاں بہتر نہ کیا،
درمختار میں ہے:
ھی ثلات تکبیرات فی کل رکعۃ ولو زاد تابعہ الی ستۃ عشر لانہ ماثور ۲؎۔
یہ ہر رکعات میں تین تکبیرات ہیں اگر امام اضافہ کردے تو سولہ تک اس کی اتباع کی جائے کیونکہ یہاں تک منقول ہیں، (ت)
(۲؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۵)
بحر میں ہے کہ اختلاف اولٰی ہونے میں ہے ، اور اسی طرح حلیہ میں ہے (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۱۵)
درمختار میں ہے:
یوالی ندبابین القرأتین ۴؎
( دونوں رکعتوں کی قرأت کو تکبیراتِ زائدہ کے فصل کے بغیر ادا کرنا مستحب ہے ۔ت)
(۴؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۵)
ردالمحتار میں ہے:
اشار الی انہ لوکبر فی اول رکعتہ جاز لان الخلاف فی الاولویۃ ۱؎ ۔
اس میں اشارہ ہے کہ اگر چہ رکعت کی ابتداء میں تکبیر کہہ لی تو جائز ہے کیونکہ اختلاف اولٰی ہونے میں ہے ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۶۱۶)
مسئلہ ۱۴۴۹: از اورنگ آباد ضلع گیا مرسلہ محمد اسمٰعیل مدرس مدرسہ اسلامیہ ۱۵ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید عید الاضحی میں بعد اختتام نماز منبر پر گیا اور خطبہ شروع کیا، اثنائے خطبہ اولٰی میں مستمعین سے ہی آپ لوگ ذرا زور سے سبحان اﷲ پڑھیں۔ سب چپ رہے، پھر دوبارہ سہ بارہ کہہ کر لوگوں کو مجبورکیا کہ کیوں نہیں پڑھتے، تم لوگوں کا منہ کیوں بند ہوگیا، تب لوگوں نے بآواز بلند سبحان اﷲ پڑھنا شروع کیا پھر لبیّک واﷲ اکبر کہلوایا پھر لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھوایا پھر نعتیہ خطبہ پڑھ کر منبر پر بیٹھا اور اٹھ کر خطبہ شروع کیا، ابھی خطبہ ثانیہ تمام ہونے نہ پایا تھا کہ لوگو ں کو کھڑے ہوکر یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک پڑھنے کو کہا ، چناچہ لوگوں نے اٹھ کر زور زور سے یا نبی سلام علیک مع اشعار اردو کتب میلاد مروجہ ترنم سے پڑھا اورزید نے پھر کچھ اردو میں دعا مانگی اور خطبہ ثانیہ کو اسی طرح نا تمام چھوڑدیا آیا یہ فعل موافق سنتِ متوارثہ ہو ا یا خلاف سنت سراسر عبث اور ایسا کرنے والے پر عند الشرع کیا حکم لگا یا جائے گا؟ بینوا توجروا
الجواب
حالت خطبہ میں کلام اگرچہ ذکر ہو مطلقاً حرام ہے
اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام ۲؎
( جب امام آجائے تو صلوٰۃ وکلام نہیں، ت)
(۲؎ نصب الرایۃ کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ المکتبہ الاسلامیہ الریاض ۲/ ۲۰۱
فتح الباری کتاب الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۳۸)
امام نے جو کچھ کیا سب بدعت شنیعہ سیئہ ہے، اُن جاہلوں کا وبال بھی اس پر بغیر اس کے کہ ان کے وبال میں کمی ہو،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذلک من اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذلک من اثامھم شیئا ۱؎ رواہ الائمۃ احمد ومسلم والاربعۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جس نے کسی اچھی بات کی طرف بلایا اس کو اتباع کرنے کے اجر کی مثل اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی
نہ ہوگی اور جس نے برائی کی طرف بلایا اس پر گناہ ہوگا اتباع کرنے والوں کی مثل ،ا ور ان کے گناہ میں بھی کمی نہ ہوگی، اسے امام احمد ، مسلم اور چار ائمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ صحیح مسلم باب من سن سنۃحسنۃ او سیئۃ الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ /۳۴۱)