Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
134 - 144
مسئلہ۱۴۴۳: از موضع مہچندی ضلع پیلی بھیت مرسلہ حاجی نصیر الدین صاحب ۱۴محرم الحرام ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ عید قرباں میں مستحب ہے کہ جب تک نماز نہ پڑھی جائے کھانا نہ کھائے یعنی جو کہ نگاہ رکھے اپنے آپ کو کھانے اور پینے سے اور جماع کرنے سے دن قربانی کے یہاں تک کہ پڑھی جائے نماز عید کی، اب مرد مان اہل اسلام دن قربان کے دس ذی الحجہ کو اپنے مکان سے کھانا کھا کر اور حقہ پانی پی کر واسطے نماز عید کے عیدگاہ کو جاتے ہیں، یہ حکم نہیں مانتے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حکم عدولی کرتے ہیں توان کے واسطے شرع شریف سے کیا ہے، پس اس امر میں اس سے کیا کہا جائے گا اور نماز ان کی صحیح طور  پر ہوگی و یا کوئی نقصان ان کی نماز میں عائد ہوگا۔ بینوا توجروا
الجواب

اس باب میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کوئی حدیث قولی جس طرح سائل نے ذکر کی وارد نہیں، ہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فعل ثابت ہوا  ہے کہ عید قرباں میں نماز سے  پہلے کچھ نہ کھاتے  بعد نماز گوشتِ قربانی سے تناول فرماتے ۔
الترمذی وابن ماجۃ عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لا یخرج یوم الفطر حتی یأکل وکان لا یأکل یوما النحر حتی یصلی ۱؎
ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عیدالفطر کو کوئی چیز کھائے بغیر تشریف نہ لاتے اور یوم النحر کو نماز ادا کرکے تناول فرماتے،
 (۱؎ جامع الترمذی    باب فی صلوٰۃ العیدین        مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی   ۱/۷۱)
ورواہ الدار قطنی فی سننہ حتی یرجع فیأکل من اضحیتہ ۲؎ صححہ ابن قطان ۔
اسے دارقطنی نے سنن میں ذکر کیا اور اس سلسلہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہاں تک کہ نماز سے واپس لوٹتے اور اپنی قربانی سے تناول فرماتے، اسے ابن قطان نے صحیح قراردیا،
 (۲سنن الدارقطنی 	كتاب العیدین 	حدیث ۷	مطبوعہ 	نشرالسنۃ ملتان 	۲/۴۵)
وفی اوسط الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما من السنۃ ان لایخرج یوم الفطر حتی یطعم ولایأکل یوم النحر حتی یرجع ۱؎ ۔
طبرا نی کی اوسط میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے کہ سنت یہ ہے کہ یوم الفطر کو کھانے کے بغیر نہ نکلا جائے اور  یوم النحر کو نماز سے واپسی  پر کھا یا جائے۔ (ت)
 (۱؎ مجمع الزوائد    بحوالہ الطبرانی والاوسط    باب الاکل یوم الفطر الخ    مطبوعہ دارالکتاب بیروت    ۲/۱۹۹)
بہر حال یہ امر استحبابی ہے یعنی کرے ثواب ، نہ کرے تو حرج نہیں ، ایسے امر کے ترک کو حکم عدولی نہیں کہہ سکتے اور نماز میں نقص کا تو کوئی احتمال ہی نہیں،
درمختار میں ہے:
یندب تاخیر اکلہ عنھا وان لم یضح ولو اکل لم یکرہ  ۲؎ اھ باختصار
یوم النحر میں کھانا مؤخر کرنا مندوب ہے اگر چہ قر بانی نہ دینی ہو اور اگر کھایا تو اس میں کراہت نہیں اھ اختصاراً (ت)
 (۲؎ درمختار            باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۶)
ردالمحتار میں ہے:
ای یندب الامساک عما یفطر الصائم من صبحہ الٰی ان یصلی قال فی البحر وھم مستحب ولا یلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لا بدلھا من دلیل خاص اھ وفی البدائع ان شاء ذاق وان شاء لم یزق والادب ان لایذوق شیأ  الٰی وقت الفراغ من الصلٰوۃ حتی  یکون تناولہ من القرابین۳؎ اھ  اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم
یعنی نماز کی ادائیگی تک ہر اس شی  سے رکنا مندوب ہے جس سے صائم کا روزہ افطار ہوتا ہے، بحر میں فرمایا : یہ مستحب ہے اور ترکِ مستحب سے کراہت لاز م نہیں آتی کیونکہ ا س کے لئے مستقل دلیل ضروری ہے اھ بدائع میں ہے اگر چاہے تو چکھ لے اور نہ چاہے نہ چکھے، اور ادب یہی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کوئی شے نہ کھائے یہاں تک کہ اس کا تناول قربانی کے جانور سے ہو ۔  اھ مختصراً واﷲ تعالٰی اعلم
 (۳؎ ردالمحتار          باب العیدین             مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۱۸)
مسئلہ۱۴۴۴:  زید بغیر کچھ اپنی رائے ظاہر کرے علمائے حاضرہ کی تحقیق وثبوت شہادت صحیح جان کر سہ شنبہ کو دس ذی الحجہ یقینی جان کر عید الاضحی کی امامت کراتا ہے لیکن شب سہ شنبہ کو ایک بڑے متدیّن مستند عالم

تشریف لائے اور انھوں نے ثبوت رؤیت صحیح نہ جان کر سہ شنبہ کو عید نہیں کی، لوگوں سے کوشش کرائی گئی کہ کسی صورت سے مجھ کو ثبوت رؤیت معلوم ہو جائے تو میں بھی عید کروں مگر کسی سے  پتا نہیں چلا جن کے پاس ثبوت گزرا وہ اس قدر فرماکر گئے کہ مجھے سچّا جانتے ہیں تو عیدکریں ورنہ جواب کچھ نہیں، ا س وجہ سے ایک عالم صاحب نے عیدنہیں کی ان کے موافق موجود علماء میں سے ایک عالم اور ہوگئے زید امامت وخطبہ سے فارغ ہو کر یوں کہتا ہے کہ دینی بھایؤ! آج عید ہے، اور نماز بھی پڑھئے مگر قربانی جو دس گیارہ بارہ کو جائز ہے بجائے سہ شنبہ کے چہار شنبہ کو کرو  احتیاطاً تو  بہتر  ہو ، اس آخری فقرہ  پر سوال ہوتا ہے لوگوں کی جانب سے کہ کیا مطلب احتیاط کا، تو  زید  جواب دیتا ہے کہ اگر آج قربانی کرو  تو جن علماء نے عید نہیں  وہ فرمائیں گے کہ قربانی نہیں ہوئی اور اگر چہار شنبہ کو کرو گے تو سب بالاتفاق فرمائیں گے کہ صحیح ہے اور اختلاف سے بچنا اولٰی، زید کا اس فقرہ کے تلفظ سے مجرم شرعی ہے یا نہیں، اور جو لوگ مشورہ کرکے اور لوگوں کو فراہم کر کے اپنے زعم میں زید کو ذلیل کر نا چاہتے ہیں کوشش بلیغ کرتے ہیں کہ جرم ثابت ہو، یہ لوگ اچھا کام کرتے ہیں یا نا محمود؟
الجواب

زید  اس فقرہ کے سبب مجرم شرعی نہیں کہ احتیاط کرنے اور اختلاف معتبر شرعی سے بچنے کا حکم شرع مطہر میں ہے اتنی بات پر جو اسے ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اچھا کام نہیں کرتے بلکہ گناہ کے ساعی ہیں
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرضہ ودمہ حسب امرئ من الشرع ان  یحقر  اخاہ المسلم  ۱؎۔ رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مسلمان کا سب کچھ دوسرے مسلمان  پر حرام ہے اُ سکا مال، اُس کا آبرو، اس کا خون، آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب حرمۃ المومن ومالہ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۲۹۰)
البتہ وہ نماز کہ پڑھی اس میں بہت شقوق ہیں جن میں سے ملخص یہ کہ اگر وہ جن کو  علمائے حاضرہ کہا رسمی علماء ہیں نہ کہ فقیہ ماہر جن کے فتوے پر اعتماد جائز ہو، ان کی تحقیق  پر وثوق جائز نہ تھا اور اگر اس وقت تک ان کی بات زید کے حق میں لائق وثوق  تھی اور جب دوسرے عالم جن کو  بڑے متدین مستند عالم کہا ہے انھوں نے وہ ثبوت صحیح نہ جانا تو زید کو اگلوں کے بیان پر وثوق نہ رہا، اور سہ شنبہ کو دسویں ہونا بے ثبوت ہوگیا، پھر نماز پڑھی تو نماز ہی نہ ہوئی کہ نماز کے لئے جس طرح وقت شرط ہے یونہی اعتقاد مصلی میں وقت آجانا شرط ہے مثلاً  اگر صبح کی نماز پڑھی اور اسے طلوعِ صبح میں شبہ تھا، نماز نہ ہوئی اگر چہ واقع میں صبح ہوگئی ہو۔
ردالمحتار میں ہے:
وکذا یشترط اعتقاد دخول فلو شک لم تصح صلوتہ وان ظھر انہ قد دخل ۱؎ ۔
اسی طرح اس کے دخول کا اعتقاد بھی شرط ہے لہذا اگر شک ہوا تو نماز صحیح نہ ہوگی اگر چہ ظاہر یہی ہو کہ وقت شروع ہوچکا ہے ۔ (ت)
اور اگر وہ قابل وثوق تھے اور اسے وثوق ہی رہا تو قربانی میں احتیاط کی کیا حاجت تھی، اور تھی تو کیا نماز میں احتیاط درکار نہ تھی، عید الاضحی کی نماز بھی بارھویں تک ہوسکتی ہے اگر چہ بلاعذر تاخیر مکروہ ہے،
 (۱؎ ردالمحتار    با ب شروط الصلوٰۃ    مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ    ۱/۲۹۶)
تنویرا لابصار میں ہے:
یجوز تاخیرھا الٰی ثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراھۃ وبہ بدونھا ؎۲ ۔  واﷲ تعالٰی اعلم
عذ ر کے بغیر نماز عید الاضحی کو ایام نحر کے آخر تک مؤخر کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے اور عذرکی صورت میں بغیر کراہت کے جائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ درمختار    باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۶)
مسئلہ۱۴۴۵: از کانپور محلہ نئی سڑک مرسلہ حاجی فہیم بخش عرف چھٹن ۱۳ صفر المظفر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں عمرو نے نماز عید الاضحی اپنی امامت سے کثیرالتعداد مقتدیوں کے ساتھ ادا کی، نماز خطبہ کے بعد عمرو  نے  بوجہ اختلاف رؤیت قربانی کے لئے بخیال مزید احتیاط ممانعت کی ، بکر نے دوسرے روز نماز عید الاضحی مع قلیل التعداد مقتدیوں کے شہر کی ایک مسجد میں پڑھی عمرو نے جو ہنگام ادائے نماز وہاں موجود تہا   بکر کی اقتداء میں تکرار نماز کی، پس ایسی صورت میں عمرو کی کون سی نماز واجب اور کون سی نفل ہوگی؟بینوا توجروا
الجواب

پہلے دن اگر عمر کو روز عید ہونے میں شک تھا یا بلاثبوت شرعی عید مان کر نماز عید پڑھی تھی تو وہ نماز ہی نہ ہوئی یہ دوسری ہی واجب واقع ہوئی اور اگریہ ثبوت شرعی بلا تردد پہلے دن پڑھی تو  وہی واجب تھی دوسری بلاوجہ رہی۔            واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter