Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
133 - 144
مسئلہ ۱۴۴۱: از اُوجین مکان میر خادم علی اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب ۹ محرم الحرام ۱۳۰۹ھ
الحمد للہ رب العٰلمین والعاقبہ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علی رسولہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین
چہ می فرمایند علما وفضلائے دین دریں مسئلہ کہ نماز عید ین درقصبہ خواہ شہر باشد بجز عیدگاہ بشرط تکرار یا ہمیں درمساجد دیگر بگزارد درست ست یا ممنوع وبرتقدیر قاضی فاسق نماز  را ملک خود قراردادہ نماز عید دیگر مساجد شہر را بجماعت حکام بند کنانیدہ دہدبدیں سبب کہ مرد مان شہر پس من نماز  ادا  نما یند پس باقتدائے فاسق نماز  درست ست یا نہ وحکم قضائے قاضی فاسق پیر وانِ او چیست بیان فرمایند بالتشریح بحوالہ کتب رحمہ اﷲ اجمعین۔
سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور آخرت متقین کی ہے اور صلوٰۃ وسلام ناز ل ہو اللہ کے رسول محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  پر اور آپ کی آل  واصحاب تمام پر ، علماء و فضلائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عید ین کی نماز قصبہ یا شہر میں عیدگاہ کے علاوہ بشرط تکرار یا انھیں دیگر مساجد میں ادا کی جاسکتی ہے یا ممنوع ہے ، اگر قاضی فاسق نماز کو اپنی ملک سمجھتے ہوئے شہر کی دوسری مساجد میں حکام کو جماعت سے منع کردیتا ہے تاکہ تمام لوگ میرے پیچھے ہی نماز ادا کریں تو فاسق کی اقتداء میں نماز درست ہوگی یا نہ؟ قاضی فاسق کی قضا کا حکم اور اس کی پیروی کرنے والوں کا کیا حکم ہے، بحوالہ کتب تفصیلاً جواب عطا کریں رحمہ اﷲ اجمعین۔ (ت)
الجواب

رفتن عیدگاہ سنت ست
فی الدرالمختار الخروج الیھا ای الجبانۃ لصلٰوۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع ھوا لصحیح ۱؎
اما واجب نیست اگربہ مسجد شہرنمازگزارند قطعادرست وبے خلل باشد اگر چہ ترک سنت کردہ باشند فی ردالمحتار الواجب مطلق التوجہ لاالتوجہ الی خصوص الجبانۃ۲؎
عید گاہ كی جانب جانا سنت ہے در مختار میں ہے  جماعت عید کے لئے جبانہ ( نماز کی وہ جگہ جو جنگل میں بنائی جائے )کی طرف نکلنا سنت ہے اگر چہ جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو، اور  یہی صحیح ہے لیکن نکلنا واجب نہیں ، اگر چہ شہر کی مسجد میں نماز  پڑھ لی تو  یقینا درست ہے اس میں کوئی کمی نہیں اگر چہ سنت کا ترک ہوا ہے، ردالمحتار میں ہے کہ واجب مطلق نکلنا ہے نہ کہ مخصوص عیدگاہ کی طرف نکلنا،
 (۱؎ درمختار            باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۴)

(۲؎ ردالمحتار              باب العیدین        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۱۲)
وتکرار نماز عید درمصر واحد بمواضع کثیرہ بالاتفاق جائز ست فی الدرالمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا۳؎ واقتداء بفاسق معلن مکروہ تحریمی قریب بحرام ست وھو الذی یقتضیہ الدلیل ولایعدل عن درایۃ ما وافقتہا روایۃ،
اور ایک شہر میں تکرارِ نماز عید بالا تفاق جائز  ہے، درمختار میں ہے کہ ایک شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پر عید ادا کی جاسکتی ہے، فاسق معلن کی اقتداء مکروہ تحریمی حرام کے قریب ہے، اور دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس درایت سے عدول مناسب نہیں جو روایت کے موافق ہو،
 (۳؎ درمختار              باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۱۶)
علامہ ابراھیم حلبی درغنیہ فرمودہ یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وکذا المبتدع۴؎
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور اسی طرح بدعتی کی،
 (۴؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی    فصل الامامۃ        سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/۵۱۳)
پس تاوقتیکہ نماز پس مصالحے صحیح القراء ۃ سلیم العقیدہ  زنہار اقتدا بانکنند اما اگر ظلما نماز دیگر مساجد بند کردہ شود وجز باقتدائے اور اہے نیابند مجبورباشند ومعذو ر و  وبال ایں ظلم  و جبر برگردن  آں فاسق مغرور لایکلف اﷲ نفسا الاوسعھا ۵؎
جب تک کسی صالح صحیح القرأۃ سلیم العقیدہ کی اقتداء میسر  ہو ہر گز کسی فاسق کے  پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اگر ظلماً دیگر مساجد نماز کے لئے بند کردی گئی ہیں اور اس کی اقتداء کے علاوہ اورکوئی راستہ نہیں تو  اب  مجبوری اور    معذوری ہے ، اس کا وبال بھی اس فاسق  پر ہی ہوگا اور اللہ تعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر حکم نہیں دیتا،
 (۵؎ القرآن      ۲/ ۲۸۶)
نماز عید از اعظم شعائر اسلام ست بایں علت عارضہ ترکش نتواں گفت فی ردالمحتار عن المعراج قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجد اماما غیرہ اھ
نماز عید اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے ، اس عارضہ کی وجہ سے اسے ترک نہ کیا جائے، ردالمحتار میں معراج کے حوالے سے ہے کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا جمعہ کے علاوہ فاسق کی اقتداء نہ کی جائے کیونکہ دوسری نمازوں میں کسی دوسرے کی اقتداء ہوسکتی ہے اھ
قال فی الفتح وعلیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول ۱؎
وایناکہ برنکاح وامامت جمعہ واعیاد ازجانب نصاری   وغیرہم حکام زمانہ مقرر باشند از عہدہ قضا جز  اسم بے مسمی ولفظ بے معنی بہرہ ندارند پس حکم قضائے  ایشاں  چہ گفتہ آید حکم برموجود باشد و قضائے ایشاں خود معدوم ست کہ حقیقت درکنار صورت قضاہم ندار دآرے اگر مراد آنست کہ فساق رابایں کار ہا معین کر دن جواب آنست کہ ہر گز نشاید حال امامت خود حالے شدو غرض از تولیت انکحہ توثیق و اشہاد ست وآں خود از فاسق حاصل نباشد۔ واﷲ تعالٰی اعلم
فتح میں ہے کہ اس بنا پر جمعہ میں بھی اقتداء مکروہ  ہے کیونکہ امام محمد کے مفتٰی بہ قول کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے تو دوسرے مقام کی طرف چلے جانا ممکن ہوا اور  یہ جو نصارٰی کی طرف سے نکاح ، امامتِ جمعہ واعیاد کے لئے عہدہ قضاء پر مقرر لوگ ہیں، یہ اسم بے مسمی اور لفظ بے معنی ہیں، ان کی قضا کیا حقیقت رکھتی ہے حکم موجود پر ہوگا اور ان کی قضا خود معدوم ہے جو درحققیت قضا ہی نہیں، اگر سوال یہ ہے کہ ایسے فاسق لوگوں کو اس عہدہ پر مقرر کرنا کیسا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز جائز نہیں، اور امامت کا معاملہ خود اہم ہے ، والی بنانے سے مقصد ان کی توثیق واشہاد ہے جو فاسق سے حاصل نہیں ہوتی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ ردالمحتار    باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۴)
مسئلہ ۱۴۴۲:  از دمن خرد ملک پرتگال محلہ کھارا موڑ مرسلہ مولوی محمد ضیاء الدین صاحب۱۰ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عید گاہ ایک چھوٹی سی بستی میں ۱۲۲۶ھ سے بنی ہوئی ہے، بعض مسلمان اہل شہر کو  اپنے محلہ سے ربع میل کے قریب مسافت طے کر کے جانا پڑتا ہے اور بعض اہل محلہ ربع میل سے بھی کم چل کر داخل عیدگاہ ہوجاتے ہیں، سال مذکور سے جملہ اہل شہر اُسی عیدگاہ میں برابر نماز عید ادا کرتے رہے، حال میں ان اشخاص نے جن سے بہت نزدیک عیدگاہ تھی بباعث نفسانیت دنیوی کے عیدگاہ میں نماز عید پڑھنا ترک کردیا حالانکہ ان کو کسی نے عیدگاہ سے ممانعت بھی نہیں کی، آخر صرف اسی نفسانیت کی بنا پر  یا کسی مفسد کے بہکانے سے یہ بات اپنی طبیعت سے گھڑلی کہ ہم بانیانِ عیدگاہ کی طرف والے عیدگاہ میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں بایں وجہ ہم نے عیدگاہ میں دوگانہ ادا کرنا ترک کردیا، دو تین سال سے میدان میں جو عیدگاہ کے قریب ہے نماز عید پڑھتے تھے امسال ان کا ارادہ اسی میدان میں دوسری عیدگاہ کی تعمیر کا ہے، تو آیا ان چند اشخاص کو صورتِ مذکورہ بالا میں اپنی جدید گاہ کا ایسے مختصر شہر میں تعمیر کرنا ازرُوئے شرع شریف درست ہے یا نا درست؟ اگر درست ہے تو اب دو (۲) عیدگاہوں کے ہوجانے سے قلت جماعت عیدگاہ سابق موجب کمی ثواب ہے یانہیں؟ اور باعث قلت ثواب کے ایسی حالت میں بانیانِ عیدگاہ جدید ٹھہریں گے یا نہیں؟ اگر یہ لوگ ٹھہرے تو عیدگاہ سابق کو محض نفسانیتِ دنیوی کے سبب ترک کردینے والوں کی نیت اور ثواب کثیرکو قلیل کرنے والوں کی بابت ہماری شریعتِ مطہرہ کیا حکم کرتی ہے؟  بینوا توجروا
الجواب

نماز عید ایک شہر میں متعدد جگہ اگر چہ بالاتفاق روا ہے مگر ایک شہر کے لئے دو عیدگاہ بیرون شہر مقرر کرنا زمان برکت نشان حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اب تک معہود نہیں نہ زنہار اس میں شرع مطہر ودین منور کی کوئی مصلحت خصوصاً ایسی چھوٹی بستی میں تو اگر اس میں اس کے سوا کوئی حرج نہ ہوتا تو اسی قدر اس فعل کی کراہت کو بس تھا کہ محض بے ضرورت شرعی ومصلحتِ دینی خلاف متوارث مسلمین ہے اور ایسا فعل ہمیشہ مکروہ ہوتا ہے،
درمختار باب العیدین میں ہے:
لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۱؎
( کیونکہ یہ مسلمانوں کے ہاں متوارث ہے لہذا ان کی اتباع لازم ہے ۔ت)
 (۱؎ درمختار    باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۱۱۷)
ردالمحتار کتاب  الذبائح میں غایۃ البیان سے ہے:
توارثہ الناس فیکرہ ترکہ بلا عذر۲؎
 ( لوگوں کے ہاں متوارث ہے لہذا اس کا ترک بلاعذر مکروہ ہوگا ۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الذبائح     مطبوعہ  مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۰۸)
اور یہیں سے ظاہر کہ تعدد مساجد پنجگانہ پر اس کا قیاس نہیں ہوسکتا کہ وہ خود متوارث ومطلوب فی الشرع ہے،
سنن ابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
امر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ببناء مساجد فی الدور وان تنظف و تطیب ۱؎ ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر علاقے میں مسجد کی تعمیر اور ان کی نظافت وطہارت کا حکم دیا ۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    اتخاذ المساجد فی الدو ر        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۶۶)
جب یہ تعمیر مصلحت دینی سے خالی ہوئی اور اس میں کوئی مصلحت دنیوی نہ ہونا بدیہی ، تومحض عبث ہوئی اور ایسا ہر عبث ناجائز و ممنوع ہے ،
ہدایہ میں ہے:
العبث خارج الصلٰوۃ حرام فما ظنک فی الصلٰوۃ۲؎ ۔
عبث کام نماز سے باہر حرام تو نماز میں کیا حال ہوگا ۔(ت)
 (۲؎ الھدایۃ        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ  المکتبہ العربیۃ کراچی       ۱/۱۱۹)
حلیہ میں ہے:
الفرق بین العبث والسفہ علی ماذکرہ بدر الدین الکردی ان السفہ مالا غرض فیہ اصلا والعبث فعل فیہ غرض لکن ،لیس بشرعی وعبارۃ غیرہ العبث مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ۳؎ ۔
عبث اور سفہ میں فرق بقول علامہ بدرالدین الکردی کے یہ ہے کہ سفہ وہ عمل جس میں کوئی غرض نہ ہو اور عبث وہ فعل جس میں غرض ہو لیکن شرعی نہ ہو، دیگر لوگوں کے الفاظ میں عبث وہ فعل ہے جس کے فاعل کی غرض صحیح نہ ہو ۔(ت)
 (۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
یہ عمارت بے حاجت کی تعمیر ہوئی اور ہر عمارت بے حاجت اپنے بنانے والے پر روز قیامت وبال ہے
کما وردت بہ احادیث عند البیھقی عن انس والطبرانی عن واثلۃ وفیہ عن غیرھما رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۔
جیسا کہ اس پر بیہقی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ، طبرانی نے حضرت واثلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور اس سلسلہ میں ان کے علاوہ صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مرویات ہیں ۔(ت)

جنگل میں بے حاجت شرعی ایک عمارت بنا کر کھڑی کردینا اسراف ہوا ا ور اسراف حرام ہے
قال اﷲ ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفین۴؎
 ( اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : اور اسراف نہ کرو کہ اﷲ تعالٰی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ ت)
 (۱؎ القرآن                ۶/ ۱۴۱ و ۷/ ۳۱)
صورت مستفسرہ میں یہ سب شناعتیں خود اس فعل بے معنی میں موجود تھیں اگر چہ اس کی تعمیر براہٖ نفسانیت نہ ہو اور جبکہ یہ بناء براہٖ نفسانیت ہے جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر، تواس کا مذموم و مردود ہونا خود واضح و روشن ہے کما لا یخفی، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
Flag Counter