Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
132 - 144
مسئلہ ۱۴۳۶: از سلہٹ    ۲۸ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند محلے کے لوگ مسجد میں جمعہ وعید کی نماز پڑھتے ہیں اور ہر شخص ازرُوئے تغافل وتکاسل وقتِ معیّن میں حاضر نہیں ہوتے لہذا بعض لوگوں کی نماز فوت ہوتی ہے اس لئے جھگڑا فساد لڑائی برپا کرتے ہیں اب سب محلہ والے مل کر ایک صاحب علم سے مشورہ کیا اُس نے یہ امر کیا کہ تین بنگلولہ جلانا مناسب ہے، یکے بعد دیگرے اگر تیسرے بنگولے کے متصل کوئی حاضر نہ ہوتو جھگڑا لڑائی نہیں، سب لوگوں نے اس بات پر متفق ہو کر یہ عمل شروع کیا کہ عید کے دن تین بنگولہ جلاتے ہیں اور کہتا ہے کہ یہ واسطے اعلام اور اعلان مصلیوں کے کرتے ہیں، اب یہ بات جب دوسرے کسی صاحب علم نے سنا تو کہا یہ آتشبازی فعل بدعت سیئہ محرمہ ہنود کا کام ہے وہ لوگ اپنے عیدوں تہواروں میں کیا کرتے ہیں، ہر گز جائز نہیں۔
الجواب

فی الواقع یہ بدعت سیئہ ہے اور مشابہت کفار ہے، اس سے بچنا واجب ، حدیث اذان میں اس کا فیصلہ ہوچکا، نارونا قوس سب رد کردئے گئے اور اذان مقرر فرمائی گئی جس سے اعلائے کلمۃ اللہ ہے، اور عیدین کے لئے تو اذان کا بھی حکم نہیں، احادیث صحیحہ میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عیدین میں نہ اذان دلوائی نہ اقامت کہلوائی صرف الصلوۃُ جامعۃ دوبار پکارا جاتا ہے، اسی پر اختصار کریں اوراس سے زائد ہر گز کچھ نہ ہو، تغافل والوں کا وبال اُن پر ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۳۷: از بریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگالی ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عیدگاہ میں مسجد کے بستر وغیرہ لے جانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

عیدگاہ میں مسجد کا مال لے جانا ممنوع ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۴۳۸: از تارا کاندی مدرسہ اسلامیہ پوسٹ پاکند یہ ضلع میمن سنگھ مسئولہ محمد عبدالحافظ صاحب مدرس اول تارا کاندی ۲۴ محرم۱۳۳۹ ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ ذیل کہ بعد نماز عیدین قبل الخطبہ یابعد الخطبہ دعا خواستن جائز است یا نہ،بر تقدیر اول دلیلش چہ بحوالہ کتب حنفیہ باظہار دلائل متعدد بیان فرمایند دربہشتی گوہر مصنفہ مولوی اشرف علی مرقوم است کہ باتباع سنت دعا مانگنے سے دعا نہ مانگنا بہتر ہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدین کی نماز کے بعد قبل از خطبہ یا بعد از خطبہ دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو حنفی کتب سے متعدد حوالہ جات سے بیان فرمائیں مولوی اشرف علی کی کتابِ بہشتی گوہر میں لکھا ہےکہ اس صورت میں سنت کی پیروی کرتے ہوئے دعا نہ مانگنا بہتر ہے۔
الجواب

بہشتی گوہروبہشتی  زیور ہر دو تصنیف ہمچوکسے ست کہ ہمہ علمائے کرام حرمین شریفین زاد ہما اﷲ شرفاً و تعظیماً بالاتفاق تحریر فرمودہ اند کہ اومرتدست و آنکہ ہر کہ براقوال ملعونہ اومطلع شدہ در کفر او شک آرد خود کافراست وایں کتابہا بر بسیاری از مسائل فاسدہ واغلاط کاسدہ مشتمل ست دیدن آنہا حرام وموجب ضلالتِ عوام ودعا بعد نماز عید باتباع سنت عامہ وآثار خاصہ جائز و مستحب است والتفصیل فی رسالتنا سرور العید فی حل الدعاء بعد صلوٰۃ العید، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بہشتی گوہر اور بہشتی زیور دونوں کتابیں اس شخص کی ہیں جس کے بارے میں علمائے حرمین ( حرمین کو اﷲ تعالٰی زیادہ شرف وتعظیم عطا فرمائے) نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ شخص ( اپنے کفریہ الفاظ کی وجہ سے) مرتد ہے، اور جو شخص اس کے کفریات پر مطلع ہو کر اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ کافر ہوگا، یہ بہت سے غلط اور فاسد مسائل پر مشتمل ہے اس کا پڑھنا حرام ہے اور عوام کی گمراہی کا سبب ہے جبکہ عید کی نماز کے بعد سنت معروفہ اور آثار مخصوصہ کی اتباع میں جائز اور مستحب ہے ، اور اس کی تفصیل ہمارے رسالہ '' سرور العید فی حل الدعاء بعد صلوٰۃ العید'' میں ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۳۹،۱۴۴۰: از  تین سوکیا ڈاک خانہ خاص ضلع ڈبر و گڑھ ملک آسام مسئولہ عبداللطیف ۱۲ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:

(۱) اگر تار کی خبر پر افطار کرنا جائز ہو تو  عید کی نماز پانے کے سبب دور دراز کے آدمی کی خبر گیری کے لئے ایسے موقع پرایک روز کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

(۲) اور مسلم جماعت کے سردار پر ہیز گار نے کہا آج تار کی خبر سے افطار تو کرلیں گے اگر شرعاً جائز ہو ، لیکن ایسے تنگ وقت پڑھنے سے دور دراز کے آدمی سب نماز سے محروم رہیں گے لہذا بہتر ہے کہ دوسرے روز نماز پڑھی جائے تاکہ سب لوگ شامل ہوں اور کوئی محروم نہ رہے، اب بغیر رضا سردار کے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) تار کی تو خبر معتبر ہی نہیں اگر شہادت شرعیہ ایسے وقت گزری کہ وقت تنگ ہے شہر میں اطلاع اور لوگوں کا اجتماع متعذر  ہے تو دوسرے دن  پڑھیں
لانھا تؤ خربعذر الی الغد کما نصوا علیہ
 ( کیونکہ عذر کی وجہ سے نماز عید کو دوسرے دن تک موخر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اس پر نص ہے ۔ت) اور اگر شہر کے لئے وقت کافی ہے مگر دور دراز کے دیہات کو خبر جانا اور ان لوگوں کا آنا نہیں ہوسکتا تو واجب ہے کہ عید آج کرلیں، دیہاتوں کے لحاظ سے کل کے لئے تاخیر جائز نہیں کہ نماز عید الفطر کی تاخیر بلاعذر گناہ و ممنوع ہے اور دیہاتوں کا نہ آسکنا کوئی عذر ہی نہیں ۔
درمختا ر میں ہے:
تؤخر بعذر کمطر الی الزوال من الغد فقط و الاضحی یجوز تاخیرھا الٰی آخر ایام النحر بلاعذر مع الکراھۃ وبالعذر بدونھا فالعذرھنا لنفی الکراھۃ وفی الفطر للصحۃ۱؎ ۔
عذ رکی وجہ سے فقط دوسرے دن تک مؤخر کیا جاسکتا ہے مثلاً بارش ، اور نماز عید الاضحی کو بغیر عذر کے ایام نحر کے آخری دن تک مؤخر کیا جاسکتا ہے البتہ کراہت ہوگی، اور اگر عذر ہو تو کراہت بھی نہیں، تو یہاں عذر نفی کراہت کے لئے اور فطر میں عذر صحت کے لئے ہے ۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۶)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بعذر کمطر دخل فیہ مااذا لم یخرج الامام وما اذاغم الھلال فشھدوا بہ بعد الزوال اوقبلہ بحیث لایمکن جمع الناس ۲؎ ۔
ماتن کا قول کہ عذر ہو مثلاً بارش ، تواس میں وہ صورت بھی شامل ہے جب امام نہ آیا ہو اور وہ صورت بھی جب چاند مخفی رہا، اور اس کے نظر آنے پر زوال کے بعد گواہی ملی یا اتنی پہلے کہ لوگو ں کا جمع ہوناممکن نہ تھا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار	باب العیدین        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۱۸ )
درمختار میں ہے:
تجب صلٰوتھما (ای العیدین ) علی من تجب علیہ الجمعۃ ۳؎ ۔
عیدین کی نماز انھیں لوگوں پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے ۔(ت)
 (۳؎ درمختار   باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱ /۱۱۴)
ردالمحتار میں برہان شرح مواہب الرحمن سے ہے:
وجوبہا مختص باہل المصر ؎۱واللہ تعالی اعلم
اس کا وجوب اہل شہر کے لئے مخصوص ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎رد المحتار 	باب العیدین 	مطبوعہ مصطفی البابی مصر 		۱ /۶۱۱)
 (۲) اوپر معلوم ہوا کہ تار پر افطار حرام ہے اور اس پر عید کرکے نماز پڑھنا بھی گناہ اور وہ نماز نہ ہوگی کہ سردار درکنار شریعت ہی کی رضا نہیں کہ پیش از وقت ہے ، ہاں اگر شرعی ثبوت ہوجاتا تو دیہاتوں کے لئے تاخیرنا جائز تھی اور دوسرے دن پڑھتے تو نماز ہی نہ ہوتی، ایسی حالت میں سردار کے قول پر عمل ناجائز تھا اسی روز نماز عید پڑھ لینی واجب ہوتی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter