مسئلہ۱۴۲۸ تا۱۴۳۱: از پیلی بھیت مدرسۃ الحدیث جناب مولانا وصی احمد صاحب محدّث سورتی رحمہ اﷲ تعالٰی ۸ ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱) اگر حاکم وقت نے عام طور پر اجازت دے دی کہ تم لوگ فلاں زمیں پر اپنی عیدگاہ بنالو یا بلااجازت عیدگاہ بنانے کے، فقط دوگانہ اداکرنے کی اجازت دی تو ان دونوں صورتوں میں نماز کا ثواب اسی قدر ملے گا جس قدر مسلمان کی وقف کردہ عیدگاہ میں ملتا ہے یا اس سے کم؟
(۲) اور صورتِ اولٰی میں اگر مسلمانوں نے عیدگاہ بنالی تو وہ وقف سمجھی جائے گی اور احکام عیدگاہ اس کے لئے ثابت ہوں گے یا وہ زمین ملک حاکم پر باقی ہے اور وقف کے احکام جاری نہ ہوں گے؟
(۳) اگر بے اجازت گورنمنٹ گورنمنٹ كی زمین پر نمازِ عید پڑھی گئی تو نماز بلاکراہت ہوگئی یا نہیں؟
(۴) مصلی اعنی عیدگاہ کے مفہوم میں اس کا محاط ہونا داخل ہے جیسے کہ جامع الرموز کی عبارت سے واضح ہے یا نہیں بلکہ جس جگہ نماز ہو محاط ہو یا نہ ہو وہ عیدگاہ ہے ۔ بینوا توجروا
الجواب
( ۱) ہاں اتنا ہی ثواب ہے ، زمین وقف کردہ میں پڑھنا نہ عیدین کے سنن سے ہے نہ مستحبات سے، سنت اس قدر ہے کہ صحرا میں ہو،
وقد کان المصلی فی زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و زمن الخلفاء الراشدین رضی اﷲ تعالٰی عنھم من عادی الارض بغیر وقف ولابناء ۔
کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفاء راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے دور میں عیدگاہ افتادہ زمین تھی، نہ وقف تھی اورنہ تعمیر شدہ تھی ۔ (ت)
(۲) صحراؤں جنگلوں کی افتادہ زمینیں بادشاہ کی ملک نہیں ہوتیں وُہ اصل ملک خدا ور رسول پر ہیں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ،
حدیث میں ہے:
عادی الارض ﷲ ورسولہ ۱؎ رواہ البیھقی فی الشعب عن طاؤس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما وقفا۔
افتادہ زمینیں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہیں، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں طاؤس سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا، اور حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے یہ موقوفاً روایت ہے (ت)
(۱؎ الجامع الرموز مع فیض القدیر بحوالہ بیہقی حدیث ۵۳۶۳ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۹۸)
(۳) نماز بلاکراہت صحیح ہے،
لما مر ان الارض ﷲ ورسولہ جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
جیسا کہ گزرا کہ زمین اﷲ جل وعلا اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہے ۔(ت)
(۴) محاط ہونا مفہوم مصلی میں داخل نہیں،
لما قد منا ان الصلٰوۃ فی زمنہ و زمن الخلفاء کانت فی ارض بیضاء بدون بناء وما فی القھستانی فلہ علی العادۃ الحادثۃ بناء قصد بہ التعریف لااشتراط بنا ء ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
پیچھے ہم نے بیان کیا کہ نماز عید سرورِ دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفاء کے دور
میں چٹیل میدان میں بغیر کسی عمارت کے ہوتی تھی، اور قہستانی میں جو کچھ ہے وہ عادت معروفہ پر مبنی ہے یہ نہیں کہ بناء کو بطور شرط بیان کیاگیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ۱۴۳۲: قاضی عبدالحمید صاحب از قصبہ کیکڑی ضلع اجمیر شریف ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجدِ عیدگاہ میں جبکہ مسلمانوں میں رنج ہو اور مذہب غیر ہو تواس صورت میں نماز عید کی دونوں گروہ اپنے اپنے امام کے ساتھ علیحدہ علیحدہ نماز و خطبہ ایک مسجد میں ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جواب دو پروردگار اجر دے گا۔
الجواب
نمازِ عید مثل نماز جمعہ ہے نمازِ پنجگانہ کی طرح نہیں جن میں ہر شخص صالح امامت کرسکتا ہے، عیدین اور جمعہ کے لئے شرط ہے کہ امام خود سلطانِ اسلام ہو یا اُس کا نائب یا اس کا ماذون ، اور نہ ہو تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے امامتِ جمعہ وعیدین کے لئے مقرر کیا ہو، ظاہر ہے کہ ایک مسجد میں ایک نماز کے لئے دو (۲) شخص امام مقرر نہیں ہوتے تو جوان میں مقرر نہیں ہے اسکی اور اس کے پیچھے والوں کی نماز نہ ہوگی اور یہاں اختلاف مذہب حنفیت وشافعیت عذر نہیں ہوسکتا، ہاں اگر ایسا اختلاف مذہب ہے کہ ان میں ایک گروہ سُنیّ اور دوسرا وہابی یا غیر مقلد ، تو اس صورت میں اُس امام اور اُس کے مقتدیوں کی نما ز باطل محض ہے، اور سنیوں پر لازم ہے کہ اپنا امام اپنے میں سے مقرر کریں ا نھیں کی نماز نماز ہوگی وبس واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۳۳: از شہر محلہ بازار صندل خاں مرسلہ ہدایت اﷲ صاحب ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
زید عید کی نماز سے پہلے درزی کا کام کرتا رہا ، بکر نے کہا کہ زید نے نماز سے پہلے جتنی مزدوری کی وہ حرام ہے اس لئے کہ اس نے جتنا کام قبل از نمازکیا وہ ناجائز تھا، آیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب
بکر محض غلط کہتا ہے جبکہ زید نے ادائے نماز میں قصور نہ کیا تو نہ قبل نماز کام کرنا حرام تھا نہ بعد نماز نہ اُس اُجرت میں کوئی حرج ہے، ہاں اگر کام کے سبب نمازنہ پڑھتا تو وہ کام حرام ہوتا اُجرت پھر بھی حرام نہ تھی، یہ تو حلت وحرمت کا حکم ہے البتہ مستحب ہے کہ ضرورت نہ ہو تو عید کے دن نماز سے پہلے متعلقات عید کے سوا کوئی دنیوی کام نہ کرے کہ خوشی کا دن ہے نہ کہ محنت کا ، اُس دن کا اور دنوں سے امتیاز چاہئے ، اسی واسطے ہر گروہ میں اپنی اپنی عیدوں کے دن تعطیل کا معمول ہے پھر بھی یہ کوئی واجب نہیں، اور ضرورت ہو جب تو کوئی گنجائشِ کلام ہی نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۴۳۴: نماز عید میں امام نے تکبیر تحریمہ کے بعد سورہ فاتحہ شروع الحمد اﷲ رب العٰلمین کہنے کے بعد مقتدی کے یاد دلانے پر تکبیر ثلٰثہ کہیں اور بعد تکبیرات دوبارہ قرات شروع کی، اس شکل میں نماز ہوئی یا نہیں؟
الجواب
پہلی صورت میں نماز نہ ہوئی دوسری میں ہوگئی، ایسا شخص احق بالامامۃ نہیں ہو سکتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۴۳۵: از پیلی بھیت محلہ شیر مرسلہ حاجی حامد حسین صاحب و عزیز الدین صاحب ۳ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین، زید نے ایک مسجد میں جو شہر میں واقع ہے مقتدی بن کر نماز عید الفطر پڑھی، بعد اس کے زید عیدگاہ کو گیا اور وہاں بکر امام تھا، اُس سے نماز پڑھاتے وقت اخیر رکعت میں تکبیریں چھوٹ گئی تھیں جس سے نماز فاسد ہوگئی، تب زید نے دوبارہ امام بن کر نماز عید الفطر پڑھائی حالانکہ وہ نماز مقتدی کی حالت میں پڑھ کر گیا تھا، ایسی حالت میں زید کو نماز پڑھانا چاہئے تھا یا نہیں؟ آیا زید کی نماز جو اس نے پیشتر مقتدی ہو کر پڑھی تھی صحیح ہے یاامام کی حالت میں ہے ؟ اور دیگر مقتدیان کی نماز جنھوں نے زید کے پیچھے کہ جس نے دوبارہ حالتِ امام میں نماز پڑھائی اُن کی نماز درست ہوئی یا نہیں؟
الجواب
زید کو امامت ہر گز جائز نہ تھی، جن لوگوں نے اُس کے پیچھے نماز پڑھی ان کی نماز باطل ہوئی، اُن میں جو ناواقف تھے ان کی نماز رہ جانے کا وبال بھی زید کے سر رہا،
درمختار میں ہے:
لایصح اقتداء مفترض بمتنفل ولاناذر بمتنفل ۱؎ ۔
فرض پڑھنے والے کی نفل پڑھنے والے کی اقتداء درست نہیں اور نہ نذر پوری کرنیوالے کی متنفل کی اقتدا ۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۴)
ردالمحتار میں ہے:
لان النذر واجب فیلزم بناء القوی علی الضعیف ۲؎ح۔ واﷲ تعالٰی اعلم
کیونکہ نذر واجب ہے لہذا قوی کی ضعیف پر بنا لازم آئے گی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۲۹)