مسئلہ ۱۴۲۱: از گلگت مرسلہ سر دار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کو نماز عید کی خبر دی جائے اہل اسلام کو اور وُہ دعوٰی کرتا ہے اسلام کا اور اس کو فرصت بہت ہے، اگر وہ قصداً نہ آئے تو اس کو کیا کیا جائے ؟ بینوا توجروا
الجواب
نماز عید شہروں میں ہر مرد آزاد، تندرست، عاقل ، بالغ، قادر پر واجب ہے ، قادر کے یہ معنی کہ نہ اندھا ہو ،نہ لولا ہو، نہ لنجھا ، نہ قیدی، نہ کسی ایسے مریض کا تیماردار ہو کہ یہ اُسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے ، نہ ایسا بوڑھا کہ چل پھرنہ سکے، نہ اسے نماز کو جانے میں حاکم یا چور یا دشمن کی طرف سے جان یا مال یا عزت کا سچا خوف ہو، نہ اس وقت مینہ یا برف یا کیچڑ یا سردی ا س قدر شدت سے ہو کہ نماز کو جانا سخت مشقت کا موجب ہو،
فی التنویر تجب صلٰوتھما ای العیدین علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا سوی الخطبۃ ۱؎ اھ
تنویر میں ہے عیدین کی نماز ان پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے، خطبہ کے علاوہ شرائط بھی وہی ہیں اھ
(۱؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۴)
و فی جمعۃ الدرالمختار شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر و صحۃ و الحق بالمریض الممرض والشیخ الفانی وحریۃ وذکورۃ وبلوغ وعقل ووجود بصروقدرتہ علی المشی وعدم حبس و خوف ومطر شدید ودحل وثلج و نحوھما ۱؎ اھ ملخصا
درمختار کے باب جمعہ میں ہے کہ اس کی فرضیت کے لئے شہر میں مقیم ہونا اور صحتمند ہونا شرط ہے اور مریض کے ساتھ ممرض ( مریض کا تیمار دار کہ یہ اسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے ) شیخ فانی ملحق ہے ، حریت ، ذکورت، بلوغ، عقل، نظر کا ہونا، چلنے پر قدرت، نہ قیدی ،نہ خوف ، نہ شدید بارش، نہ کیچڑ، نہ برف وغیرہ ہو اھ ملخصاً ،
(۱؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۲)
قولہ وعدم خوف ای من السلطان اولص، منح، قال فی الامداد ویلحق بہ المفلس اذاخاف الحبس کما جاز التیمم بہ قولہ ونحوھما ای کبرد شدید۳؎ اھ ملتقطا
اور ماتن کا قول عدمِ خوف، سلطان کا یا چور کا، منح، امداد میں ہے اس کے ساتھ مفلس بھی لاحق ہے جب اسے حبس کا خوف ہو جیسا کہ اس کے لئے تیمم جائز ہے، ماتن کا قول ونحوہما یعنی دونوں کی مثل یعنی شدید سردی اھ ملتقطا ۔ (ت)
جو شخص شہر میں ان صفات كا جامع اور ان موانع سے خالی ہو اور وہاں عید بروجہ شرعی ہو پھر نہ پڑھے تو گنہگار اور شرعاً مستحق سزا وتعزیر ہوگا لارتکابہ معصیۃ لا حد فیھا ( کیونکہ یہ ایسی معصیت کا ارتکاب ہے جس میں حد نہیں ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۲۲: از رام پور متصل مراد آباد محلہ ملا ظریف گھیرفرنگن محل مرسلہ مولوی ریاست حسین صاحب۴ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ تکبیرات زوائد عیدین بکدام سال مشروع شدہ اندو علتش چہ بود؟
اس بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ عیدین کی تکبیرات زائد کس سال شروع ہوئیں اور ان کی علت کیا ہے ؟
الجواب
تشریع نماز عید درسال اول از ہجرت ست فی الدر شرع فی الاولی من الھجرۃ واو معروف نہ شد درشرع مگر بہمیں نہج و وضع وحکمت در تکبیرات اظہار سرور دینی وامتثال قولِ اوتعالٰی ست عز جلا لہ
ولتکملوا العدۃ ولتکبروا اﷲ علٰی ماھدٰکم ۱؎
نماز عید ہجرت کے سال اول میں شروع ہوئی، در میں ہے کہ نماز عید ہجرت کے پہلے سال شروع ہوئی، اور وہ شرع میں معروف نہ ہوئی تھی، مگر اسی سلوب وطریقہ پر، اور تکبیرات میں حکمت دینی سرور کا اظہار اور اﷲ تعالٰی کے اس فرمان پر عمل ہے کہ تم اس مدت ( رمضان ) کو مکمل کرو اور اللہ کی عطا کردہ ہدایت پر اﷲ کی بڑائی بیان کرو،
یہ عید الفطر میں ہے، اور اللہ تعالٰی کا فرمان ہے تم اﷲ تعالٰی کی عطاکردہ ہدایت پر تکبیر کہو اور محسنین کو بشارت دو، یہ عید الاضحی کے بارے میں ہے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ القرآن ۲۲/ ۳۷)
مسئلہ۱۴۲۲: سائل مذکورہ بالا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بلاعذر عید روز اول نہ پڑھیں تو روز دوم مع الکراہت جائزہے جیسا کہ بعض خطبوں میں لکھا ہے یا اصلاً صحیح نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب
نماز عید الفطر میں جو بوجہ عذر ایک دن کی تاخیر روا رکھی ہے وہاں شرط عذر صرف نفی کراہت کے لئے نہیں بلکہ اصل صحت کے لئے ہے یعنی اگر بلا عذر روز اول نہ پڑھے تو روز دوم اصلاً صحیح نہیں، نہ یہ کہ مع الکراہت جائز ہو، عامہ معتبرات میں اس کی تصریح ہے مصنف خطبہ کہ شخص مجہول ہے قابل اعتماد نہیں اُسے نماز عیدالاضحی سے اشتباہ گزرا کہ وہاں دو روز کی تاخیر بوجہ عذر بلاکراہت اور بلا عذر بروجہ کراہت روا ہے ۔
فی الدرلمختار وتأخر کمطر الی الزوال من الغد فقط واحکامھا احکام الاضحی لکن یجوز تاخیرھا الی اٰخرثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراھۃ وبہ ای بالعذر بدونھا فالعذر ھنا النفی الکراھۃ وفی الفطر للصحۃ ۱؎ اھ ملخصا
درمختار میں ہے کہ عذر مثلاً بارش کی وجہ سے فقط دوسرے دن زوال تک مؤخر کی جا سکتی ہے اور عید الفطر کے احکام عید الاضحی کی طرح ہیں لیکن عید الاضحی کو بلا عذر ایامِ نحر کے تیسرے دن تک مؤخر کیا جاسکتا ہے ، ہاں کراہت ہے اور عذر ہوگا تو کراہت نہیں ہوگی، یہاں عذر کا ہونا نفی کراہت کے لئے ہے اور عید الفطر میں صحت کے لئے اھ تلخیصا
(۱؎درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۶)
نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں علامہ شرنبلالی فرماتے ہیں کہ عذر کی وجہ سے عید الفطر کو دوسرے دن تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، عذر کی قید جواز کے لئے ہے نفی کراہت کے لئے نہیں، تو جب عذر نہ ہو تو دوسرے دن میں نماز صحیح نہ ہوگی اھ ملتقطاً،
(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب احکام العیدین مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۳۹۳)
شرح منیہ کبیر للعلامہ حلبی میں ہے کہ عید الاضحی کی نماز دوسرے اور تیسرے دن بھی جائز ہے خواہ عذر کی وجہ سے موخر ہوئی یا بلاعذر، لیکن نماز عید الفطر اگر پہلے دن کسی عذر کی وجہ سے ادا نہ کی جاسکی تو فقط دوسرے دن پڑھی جاسکتی ہے اھ
(۵؎غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی باب العیدین مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۷۱)
وفی الفتاوی الخانیۃ ان فاتت صلٰوۃ الفطر فی الیوم الاول بعذر یصلی فی الیوم الثانی وان فاتت بغیر عذر لا یصلی فی الیوم الثانی فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر اوبغیر عذر لایصلی بعد ذلک واماعید الاضحی ان فاتت فی الیوم الاول بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثانی فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثالث فان فاتت فی الیوم الثالث بعذر او بغیر عذر لایصلی بعد ذلک ۱؎
فتاوٰی خانیہ میں ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے عید الفطر پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن ادا کی جائے اور اگر عذر نہ تھا تو دوسرے دن نہیں پڑھی جاسکتی، اور اگر دوسرے دن بھی نہ پڑھی جاسکی خواہ عذر تھا یا نہیں، تو اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی، باقی نماز عید الاضحی اگر عذر یا بغیر عذر پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن پڑھ لی جائے ، اگر دوسرے دن فوت ہوگئی عذرتہا یا نہ تھا تو تیسرے دن پرھ لی جائے، اور اگر تیسرے دن بھی رہ گئی خواہ عذر تھا یا نہ تھا تو اس کے بعد ادا نہیں کی جاسکتی،
وفی الھندیۃ عن تبیین الامام الزیلعی، العذر ھھنا لنفی الکراھۃ حتی لواخروھا الی ثلاثہ ایام من غیر عذرجازت الصلٰوۃ وقد اساؤ اوفی الفطر للجواز حتی لو اخروھا الی الغد من غیر عذر لایجوز۲؎انتھی ومثلہ فی رمزالحقائق للعلامۃ العینی۔
ہندیہ میں امام زیلعی کی تبیین سے ہے کہ یہاں عذر نفی کراہت کے لئے ہے، حتی کہ اگر بغیر عذر کے تین دن نماز موخر کردی تو اب بھی نماز جائز البتہ تاخیر کرکے بُرا کیا اور فطر میں عذر جواز کے لئے ہے حتی کہ اگر بغیر عذر کے نماز دوسرے دن تک مؤخر کی تو اب اس کی ادائیگی جائز نہ ہوگی انتہی، علامہ عینی کی رمز الحقائق میں اسی طرح ہے ۔(ت)
بالجملہ اس کا خلاف کتب متداولہ میں فقیر کی نظر سے کسی روایت ضعیفہ میں بھی نہ گزرا۔
اللھم الا ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ اذافاتت صلٰوۃ عید الفطر فی الیوم الاول بعذر اوبغیرہ صلی فی یوم الثانی و لم یصل بعدہ اھ
مگر یہ کہ میں نے جواہر اخلاطی میں یہ عبارت دیکھی کہ جب نماز عید الفطر پہلے دن فوت ہو خواہ عذر تھا یا نہ تھا دوسرے دن ادا کی جائے اور اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی اھ
فیظن ان یکون خلطا من الاخلاطی فانی رأیت لہ غیر ما مسئلۃ خالف فیھا الکتب المعتمدۃ والاسفار المعتبرۃ اویکون من خطأ الناسخ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
تو گمان یہ ہے کہ اخلاطی کا خلط ہے کیونکہ میں نے متعدد مسائل میں دیکھا ہے کہ وہ کتب معتمدہ اور اسفار معتبرہ کے خلاف لکھتے ہیں یا یہ کاتب کی غلطی ہوسکتی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)